سندھ میں کرپٹ وڈیرہ سسٹم نافذ ہے، پیپلزپارٹی کی کرپٹ اورنااہل حکومت نے گزشتہ18برسوں میں نہ صرف کراچی، حیدرآباداورسندھ کے شہری علاقوں کوتباہ و برباد کرکے رکھ دیا ہے بلکہ لاڑکانہ، نوڈیرو اورپورے دیہی سندھ کوبھی جا کردیکھ لیں تووہاں کا بھی بہت برا حال ہے۔ وہاں کے غریب ہاری اورسندھ کے غریب عوام بہت برے حال میں زندگی گزاررہے ہیں، وہ بنیادی سہولیات سے محروم ہیں، سندھ میں ترقیاتی کاموں کابجٹ ترقیاتی کاموں پر خرچ ہونے کے بجائے پیپلزپارٹی کی حکومت کے وڈیروں کی بے انتہا کرپشن کی نذرہورہا ہے۔ وڈیروں کی دولت اورجاگیروں، جائیدادوں میں بے پناہ اضافہ ہورہا ہے جبکہ سندھ تباہی وبربادی کی تصویر بنا ہوا ہے۔ ایک طرف توکراچی کوتباہ کردیا گیا ہے، شہر کا انفرااسٹرکچر تباہ کردیا گیا ہے، سندھ کے دیہی علاقوں کوترقی دیکر شہری علاقوں کے برابر لانے کے بجائے سندھ کے دارالحکومت کراچی، حیدرآباد اوردیگرشہروں کے پہلے سے موجود انفرااسٹرکچر کوتباہ کرکے ان کی حالت دیہی علاقوں سے بھی بدتر کردی گئی ہے۔ ترقیاتی کاموں کے لئے ورلڈ بینک اور دیگرعالمی اداروں سے ملنے والی رقم بھی کرپشن کی نذرہورہی ہے۔ وقت کا تقاضہ ہے کہ کرپشن کا یہ بازار بند کیاجائے اورعوام کے ٹیکسوں کا پیسہ شہری اوردیہی علاقوں کے انفرااسٹرکچر کوبہتر بنانے اورعوام کو سہولتوں کی فراہمی پر توجہ دی جائے۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 401 ویں فکری نشست سے خطاب