دوقومی نظریہ کیسے وجود میں آیا؟
تقسیم کی سازش
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
برطانوی سلطنت نے جن جن ممالک کوقبضہ کرکے اپنی کالونی بنایاوہاں اس کا قبضہ کہیں 300 سال اور کہیں 200 سال تک برقراررہاتاہم پہلی جنگ عظیم جو 1914ء سے 1918ء تک اور دوسری جنگ عظیم جو 1939ء سے 1945ء تک جاری رہی، دوسری جنگ عظیم کے بعد سلطنت برطانیہ اس پوزیشن میں نہیں رہی کہ وہ دنیاپر اپنا قبضہ برقراررکھ سکے۔دوسری جنگ عظیم کے دوران ایک ایسا وقت بھی آگیا تھاکہ برطانیہ کی سلامتی بھی داؤ پر لگ چکی تھی، جرمنی نے پورا یورپ فتح کرلیا تھا اور وہ برطانیہ کوبھی فتح کرنے کے لئے اس پر شدیدحملے کررہاتھالیکن برطانیہ فتح نہیں ہوسکا۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد جب سلطنت برطانیہ نے اپنا قبضہ ختم کیا تو جاتے جاتے ہرخطے میں کوئی نہ کوئی مسئلہ پیدا کردیا تھاتاکہ ان ممالک کے حکمراں برطانیہ کاقبضہ ختم ہونے کے باوجود انگریزوں کے وفاداراورزیراثر رہیں۔دوسری جنگ عظیم کے بعد انگریزوں کو جب یہ یقین ہوگیا کہ اب اسے ہندوستان سے بھی جاناہے تو اس نے ایک سازش کے تحت مذہب کاہتھیاراستعمال کیا اور پاکستان بناکر اسے اپنے وفادار وں کے حوالے کردیا تاکہ برطانیہ کے مفادات کاتحفظ کیاجاتارہے۔
دوقومی نظریہ:۔
ہمارے سول اور عسکری اکابرین اور علماء عوام کو یہ بتاتے ہیں کہ پاکستان ایک نظریاتی مملکت ہے اوروہ دوقومی نظریئے کی بنیاد پرقائم ہواتھا۔ اہم سوا ل یہ ہے کہ ہندوستان میں دوقومی نظریہ کیسے وجود میں آیا؟
میں نے گزشتہ فکری نشست میں بزرگان دین حضرت خواجہ معین الدین چشتی ؒ، خواجہ نظام الدین اولیاء ؒ، حضر امیر خسروؒ، بھگت کبیرداس ؒاورمولانا حسرت موہانی کے بارے میں بیان کیاگیا تھا کہ انگریزوں کے قبضے سے قبل ہندوستان پر مسلمان اور ہندوحکمرانوں کی حکومت تھی، دونوں کی حکومتوں میں مسلم، ہندو اوردیگر مذاہب کے لوگ امن وسکون سے زندگی گزاررہے تھے، ایک ہزارسال سے ہندوستان کی سرزمین پر ہندو، مسلم، عیسائی، سکھ، جین مت، بدھ مت اور دیگر مذاہب کے ماننے والے مل جل کررہتے چلے آئے تھے تو پھرسوال یہ ہے کہ برصغیرمیں اچانک دوقومی نظریہ (Two Nation Theory) کیسے وجودمیں آیا؟
حقیقت خواہ کتنی ہی تلخ کیوں نہ ہو، انسان اس تلخ حقیقت کو یاد کرکے، اوررو دھوکر خود کو تلخ حقیقت میں تبدیل نہیں کرتا۔مثال کے طورپر اگر کسی گھرمیں کسی کا انتقال ہوجائے تو گھروالے اس کی تدفین کردیتے ہیں لیکن مرنے والے کے ساتھ دفن نہیں ہوتے اور اس صدمے پر صبر کرکے اپنے روزمرہ کے کاموں میں مصروف ہوجاتے ہیں۔
تقسیم ہند کے بعد بھارت اور پاکستان دوعلیحدہ علیحدہ ممالک کی شکل میں دنیا کے نقشے پر ابھرے ہیں لہٰذا اب وہ کسی بھی وجہ سے معرض وجودمیں آئے ہوں، اس تقسیم پرتنقید کاہرگزیہ مطلب نہیں ہے کہ ہندوستان کے جغرافیے کو دوبارہ پرانی شکل میں لایاجاسکے کیونکہ اب برصغیرکی جغرافیائی تقسیم کو پرانی شکل میں لانااب ناممکن ہے۔
میری باتوں سے اختلاف کیاجاسکتا ہے لیکن میری علمی معلومات کے مطابق دوقومی نظریہ قدرتی طریقے سے پیدا نہیں ہوا تھا بلکہ ٹیسٹ ٹیوب بے بی کی طرح پیدا کیاگیا تھا۔ انگریزوں نے اپنے مفادات کیلئے مذہب کاسہارا لیکر دوقومی نظریئے کو اس طرح پروان چڑھایا کہ ہندوستان میں ہندومسلم تفریق پیدا ہوگئی، مسلمانوں کی جماعت آل انڈیا مسلم لیگ بنادی گئی جبکہ ہندوؤں نے مذہب کانعرہ نہیں لگایاتھا، انہوں نے آل انڈین ہندو کانگریس کے بجائے آل انڈین نیشنل کانگریس قائم کی تھی۔
مسلم نوابین نے انگریزوں کی سازش کا شکار ہوکر دوقومی نظریئے کوبڑھاوا دیکر مسلمانوں کو مذہب کے نام پر جھونک دیا جبکہ یہ دوقومی نظریہ سراسر فراڈ اور دھوکہ تھاکہ مسلمان اور ہندو الگ الگ قومیں ہیں، ان کی تہذیب وثقافت اور رہن سہن الگ الگ ہیں اور وہ ایک ساتھ نہیں رہ سکتے۔ میراسوال یہ ہے کہ اگر ہندوستان کے ہندواورمسلمان ایک ساتھ نہیں رہ سکتے تھے تو وہ ایک ہزارسال سے ایک ساتھ کیسے رہتے چلے آرہے تھے؟
مسلمانوں کوگمراہ کرنے کے لئے کہاگیاکہ ہندواکثریت میں ہیں اگرانگریز ہندوستان سے چلے گئے تو مسلمان اقلیت میں رہ جائیں گے اورانہیں ناانصافی کانشانہ بنایاجائے گا لہٰذا مسلمانوں کیلئے ایک علیحدہ وطن وجود میں لانا ضروری ہے جہاں وہ اپنے مذہب، ثقافت،تہذیب اور اسلامی تعلیمات کے مطابق زندگی گزارسکیں۔
پاکستان کی تحریک برصغیرکے مسلم اقلیتی صوبوں بہار، سی پی، یوپی، لکھنو، حیدرآباددکن میں چلائی گئی لیکن پاکستان برصغیرکے مسلم اکثریتی علاقوں پنجاب، سرحد(موجودہKPK) اور سندھ میں قائم کیاگیا۔جہاں تک بلوچستان کاتعلق ہے تو جب پاکستان قائم ہوا اس وقت صوبہ بلوچستان پاکستان کاحصہ نہیں تھا اور ریاست قلات برطانوی پریزیڈنسی کاحصہ تھی۔ ان علاقوں میں نہ پاکستان کی تحریک چلی اور نہ پاکستان بنانے کا کوئی مطالبہ ہواتھا۔
موجودہ پنجاب سب سے بڑاصوبہ تھا وہاں انتخابات میں آل انڈیا مسلم لیگ اورقائداعظم محمد علی جناح کے چاہنے والوں کو بدترین شکست ہوئی تھی۔جیسا کہ گزشتہ نشست میں بتایاگیاتھاکہ انگریزوں نے ہندوستان پر قبضہ کرکے مقامی افراد کو اپنی فوج میں شامل کرلیاتھا اورانگریزوں کی فوج کے سب سے وفادار اورتابعدار لوگوں کی بڑی تعداد کا تعلق موجودہ پنجاب اور سرحد سے تعلق رکھتی تھی۔ جب انگریز وں کی فوج سعود ی عرب پر قبضہ کیلئے مکہ پہنچی تو فوج میں شامل غیرمسلموں نے یہ کہہ کر خانہ کعبہ پر گولیاں چلانے سے انکارکردیا کہ کعبہ مسلمانوں کی سب سے بڑی مقدس عبادت گاہ ہے،ہم خانہ کعبہ پرگولیاں نہیں چلاسکتے تو ہمارے موجودہ پنجاب اور KPK سے تعلق رکھنے والے فوجیوں نے کعبے پر گولیاں چلانے کیلئے اپنی خدمات پیش کردی تھیں۔
انگریزوں نے قائداعظم کو آگے رکھ کر برصغیرکے مسلمانوں کو بے وقوف بنایااورجب دوقومی نظریئے کی سازش کے تحت پاکستان قائم کردیا گیاتو پاکستان کی باگ ڈور پنجاب اور سرحد سے تعلق رکھنے والے اپنے وفادار فوجیوں کے حوالے کردی تاکہ پاکستان برطانیہ اورامریکہ کے مفادات کے تحفظ کیلئے کردار ادا کرتا رہے۔ یہ ایسی کڑوی حقیقت ہے جس سے کوئی بھی غیرجانبدار تاریخ داں یا مؤرخ انکار نہیں کرسکتاکہ 14، اگست1947ء کومعرض وجود میں آنا والا ملک پاکستان برصغیرکے 10 کروڑ مسلمانوں کا سائبان نہیں بن سکا کیونکہ دوقومی نظریہ کے نام پر ہندوستان کے مسلمانوں کویہ بتایاگیاتھاکہ پاکستان برصغیرکے تمام مسلمانوں کاوطن ہوگالیکن قیام پاکستان کے بعد1952ء میں ہندوستان کے مسلمانوں پر پاکستان کی سرحدیں بندکردی گئیں۔
قیام پاکستان کے بعد برطانوی فوج سے تعلق رکھنے والے جنرل، سر فرینک والٹر میسرویGen. Sir Frank Walter Messervy کو پاکستانی فوج کاپہلا آرمی چیف مقررکیاگیا۔ اس کے بعدجنرل ڈگلس گریسی Gen. Sir Douglas Gracey دوسرے آرمی چیف بنے۔
یہاں سوال یہ پیداہوتاہے کہ یہ دونوں فوجی جرنیل براہ راست احکامات کہاں سے لیتے ہوں گے؟کیونکہ ان کاتعلق برطانوی فوج سے تھا تووہ آیا پاکستان کے مفادات کاتحفظ کرتے تھے یا برطانوی مفادات کا تحفظ کرتے تھے؟ان کے بعد بھی پاکستان میں فوج کے جوسربراہ مقررکئے گئے وہ امریکہ برطانیہ کی مرضی اورمنظوری سے ہی مقررکئے گئے۔پاکستان میں آرمی چیف کا تقرر فوجی جرنیل، کورکمانڈرزاورآپریشنل کمانڈرز کے بجائے امریکہ کی مرضی سے ہوتا ہے۔پاکستان کے ایک ممتاز جرنیل اورانٹرسروسزانٹیلی جنس (ISI) کے سابق سربراہ جنرل حمید گل کا یہ بیان ریکارڈ پر موجود ہے جس میں انہوں نے واضح الفاظ میں کہاہے کہ”آرمی چیف کے عہدے کیلئے سنیارٹی کے لحاظ سے میرا پہلا نمبرتھا جبکہ جنرل آصف نواز جنجوعہ چھٹے نمبر پرتھے مگرانہیں آرمی چیف بنادیاگیا۔ یہ بات طے ہے کہ امریکہ کی منظوری کے بغیرآرمی چیف نہیں بنتا،ہماری آزادی برائے نام ہے، ہمیں ملک دیاگیا، ہمیں آزادی نہیں دی گئی“۔
انگریزوں نے پاکستان کے نام پر علیحدہ وطن اس لئے بنایاتاکہ ساؤتھ ایشیا ریجن میں یہ ملک100 سال تک برطانیہ، امریکہ اوریورپ کے مفادات کاتحفظ کرتا رہے۔ آج پاکستان کو قائم ہوئے 79 سال ہوچکے ہیں لیکن کیاپاکستان آج بھی اپنی خارجہ پالیسی بنانے میں آزاد اورخودمختار ہے؟
قیام پاکستان کے ایک سال بعد بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کو قتل کردیاگیا، پھرقائداعظم کے دستِ راست اورملک کے پہلے وزیراعظم نوابزادہ خان لیاقت علی خان کو راولپنڈی کے بھرے جلسے میں گولی مارکرقتل کردیا گیا، اور 1958ء میں پاکستان میں جنرل ایوب خان نے ملک میں مارشل لاء نافذ کردیا۔جب قائداعظم کی ہمشیرہ محترمہ فاطمہ جناح نے جنرل ایوب خان کی آمریت کو چیلنج کیاتو سازش کے تحت انہیں بھی قتل کردیا گیا۔ اس طرح انگریزوں کی وفاداری نبھانے والے فوجی جرنیلوں کیلئے میدان صاف ہوگیا،یوں ملک پر فوج کے کرپٹ جرنیل قابض ہوگئے۔جنرل ایوب خان، جنرل یحییٰ خان، جنرل ضیاء الحق اورجنرل پرویز مشرف نے اپنے اپنے وقت میں دیگرجرنیلوں کے ساتھ ملکر پاکستان پر مارشل لاء نافذ کئے۔بدقسمتی سے پاکستانی فوج کے جرنیل پاکستان کے بجائے بیرونی مفادات کوفوقیت دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ فوج کے جرنیل، بریگیڈئیرز اوردیگراعلیٰ افسروں کی اکثریت ریٹائرمنٹ کے بعد اپنے بیوی بچوں کے ساتھ پاکستان میں رہنے کے بجائے بیرون ملک میں رہتی ہے۔ کیاپاکستان میں جمہوریت ہے؟ کیاپاکستان میں عوام یا عوامی مینڈیٹ کی کوئی حیثیت ہے؟ کیا پاکستان کی عدالتوں کی کوئی طاقت وحمیت ہے؟
بانی پاکستان قائداعظم محمدعلی جناح خوب واقف تھے کہ پاکستان جن علاقوں میں بننے جارہا ہے وہاں ہندوستان کے تمام مسلمان آبادنہیں ہوسکتے اورتقسیم کے بعد برصغیرکے مسلمانوں کی ایک بڑی اکثریت بھارت میں رہ جائے گی۔ تقسیم ہند کے بعد قائداعظم کا یہ بیان ریکارڈ پر موجود ہے جس میں انہوں نے بھارت میں رہ جانے والے مسلمانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہاتھا کہ اب وہ بھارت کے وفادار شہری بن کررہیں اوربھارت کے قانون کا احترام کریں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ قائداعظم محمدعلی جناح نے برصغیرکے مسلمانوں کو یہ ہدایت قیام پاکستان سے پہلے کیوں نہیں دی تھی؟
بانی پاکستان قائداعظم محمدعلی جناح خوب واقف تھے کہ پاکستان جن علاقوں میں بننے جارہا ہے وہاں ہندوستان کے تمام مسلمان آبادنہیں ہوسکتے اورتقسیم کے بعد برصغیرکے مسلمانوں کی ایک بڑی اکثریت بھارت میں رہ جائے گی۔ تقسیم ہند کے بعد قائداعظم کا یہ بیان ریکارڈ پر موجود ہے جس میں انہوں نے بھارت میں رہ جانے والے مسلمانوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہاتھا کہ اب وہ بھارت کے وفادار شہری بن کررہیں اوربھارت کے قانون کا احترام کریں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ قائداعظم محمدعلی جناح نے برصغیرکے مسلمانوں کو یہ ہدایت قیام پاکستان سے پہلے کیوں نہیں دی تھی؟
قائداعظم محمد علی جناح پاکستان کو ایک لبرل،سیکولراور صحیح معنوں میں ایک جمہوری ملک بنانا چاہتے تھے جس میں تمام مذاہب کے ماننے والے پاکستانیوں کوبرابرکے حقوق حاصل ہوں۔قائداعظم نے قیام پاکستان کے وقت 11 اگست1947 ء کودستور ساز اسمبلی سے اپنے خطاب میں واضح طورپر کہاتھا ”اب پاکستان بن گیاہے،اب مسلمان آزادہیں کہ وہ مسجدوں میں جائیں، ہندو آزادہیں کہ مندروں میں جائیں، سکھ آزاد ہیں کہ وہ گردوارے میں جائیں، عیسائی آزادہیں کہ وہ گرجاگھروں میں جائیں،اسی طرح پارسی، بدھ مت وغیرہ بھی اپنی اپنی عبادت گاہوں میں جانے اور عبادت کرنے میں آزاد ہیں، ریاست کو ان کے مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہے، وہ ریاست پاکستان کے برابر کے شہری ہیں“۔ دستورسازاسمبلی سے قائداعظم کی تقریراس وقت کی فوج کے جرنیلوں کو بہت بری لگی، جرنیلوں اورفتوے دینے والے ملاؤں پر مشتمل ”ملا ملٹری الائنس“ قائداعظم کے کی سوچ وفکر کے مطابق پاکستان کو ایک لبرل اور سیکولرملک نہیں بننے دیااور ہراس عمل کی حمایت کی جو برصغیر کے کروڑوں مسلمانوں کیلئے نقصان دہ تھا۔ لہٰذا ایک سازش کے تحت قائداعظم کو راستے سے ہٹادیاگیا،اس کے بعد خان لیاقت علی خان اورمحترمہ فاطمہ جناح کو بھی قتل کردیاگیا۔قائداعظم کے تمام قریبی رہنماؤں کوایک ایک کرکے راستے سے ہٹادیا گیااورملک پر آمریت مسلط کردی گئی۔
جب الطاف حسین نے سیاست میں فوج کی مداخلت کی مخالفت کی اورپاکستان میں حقیقی جمہوریت کے قیام کیلئے غریب ومتوسط طبقے کی قیادت کی بات کی تو مجھ پر قاتلانہ حملے کرکے میرا پاکستان میں رہنا ناممکن بنادیاگیا اور مجھے جلاوطن ہونا پڑا۔ اسی طرح جب عمران خان نے فوجی اسٹیبلشمنٹ پر تنقید کی اور اس کے آمرانہ اقدامات کو چیلنج کیاتو ان پر بھی قاتلانہ حملہ کیاگیا اور پھر جھوٹے مقدمات میں ملوث کرکے جیل میں قیدکرڈالا۔
اگرہم مان لیں کہ پاکستان ایک نظریاتی ملک ہے تو بتایاجائے کہ نظریہ کیاتھا؟اگرسیاسی، مذہبی اورعسکری رہنماؤں کی یہ بات مان لی جائے کہ پاکستان ایک نظریاتی مملکت ہے تو کیااس نظریاتی مملکت نے برصغیرکے تمام مسلمانوں کیلئے جغرافیائی حل پیش کیا؟یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ ہندوستان میں سی پی، یوپی، بہار، حیدرآباددکن، اوربمبئی کے مسلمانوں نے تحریک پاکستان کی سیاسی، اخلاقی اورمالی معاونت کی مگرجب ہندوستان کاجغرافیہ تقسیم ہوا تو مسلم اقلیتی صوبوں کے مسلمان اقلیت میں ہی رہ گئے اور جن علاقوں میں مسلمان اکثریت میں تھے ان کا ملک بن گیا اور دوقومی نظریہ کی بنیادپر مسلم اکثریتی علاقوں میں پاکستان بنادیاگیا۔ یہ تاریخ کاکربناک المیہ نہیں تو پھر کیاہے؟برصغیرکی تقسیم نے مسلمانوں کو ایک علیحدہ ملک تو دیدیا لیکن آزادی نہیں دی۔ دوسری طرف ہندوستان کے کروڑوں مسلمانوں کو ایک دوسرے سے جدا کردیا اوربھارت میں رہ جانے والے مسلمانوں کو اقلیت بنادیا۔ دوقومی نظریئے کی بنیاد پر برصغیرکے مسلمانوں کی طاقت دوحصوں میں تقسیم ہوگئی، پھرپاکستان دولخت ہوا تو یہی طاقت تین حصوں میں بٹ گئی۔ اگرہندوستان تقسیم نہ ہوتا تو اس وقت برصغیرمیں مسلمانوں کی تعداد 55 سے 60کروڑہوتی اور اتنی بڑی اکثریت کو ہندوستان کے جغرافیے میں نظرانداز کرناکسی بھی طرح ممکن نہ ہوتا۔
دوقومی نظریئے کی بنیاد پر ہندوستان کا جغرافیہ تقسیم نہیں ہوا بلکہ برصغیرکے مسلمانوں کی طاقت کو تقسیم کیاگیا تھا، 1971ء میں پاکستان دولخت ہوگیا، سابقہ مشرقی پاکستان الگ ہوکر بنگلہ دیش بن گیا، بنگلہ دیش کے قیام کے بعد دوقومی نظریئے کو کیانام دیاجائے گا؟
تحریک آزادی کے عظیم رہنمامولاناابوالکلام آزاد اپنی مشہور کتاب India wins freedom میں لکھتے ہیں کہ مذہب کی بنیاد وطن کی نفی ہے، مذہب کی بنیاد پر کوئی ملک پائیدار نہیں رہ سکتا اور اس کاثبوت یہ ہے کہ 1971ء میں پاکستان دولخت ہونے کے ساتھ ہی دوقومی نظریئے کے پرخچے اڑ گئے۔ مولاناابوالکلام آزاد آل انڈیامسلم لیگ کے رہنماؤں اور ہندوستان کے مسلمانوں سے کہتے رہے کہ عقل سے کام لو، جب ہندوستان تقسیم ہوگا تو مسلمان تقسیم ہوجائیں گے اورہندوستان سے جانے والے مسلمانوں کاکوئی والی وارث نہیں ہوگا جبکہ ہندوستان میں رہ جانے والے مسلمان ہندوؤں کے رحم وکرم پررہ جائیں گے۔ مولانا ابوالکلام آزاد کی یہ پیش گوئی درست ثابت ہوئی لیکن اس وقت ہمارے بزرگوں نے مولانا ابوالکلام آزاد کی بات نہیں مانی۔
انگریزوں نے ساؤتھ ایشیاریجن میں اپنی گیریژن اسٹیٹ تشکیل دینے کیلئے پاکستان بنایاتھا اور اس مقصد کیلئے دوقومی نظریہ کو بنیاد بناکر مذہب کا نام استعمال کیا۔ قیام پاکستان کے بعد پاکستان ایک آزادملک کے بجائے امریکہ، برطانیہ اور یورپ کے مفادات کا تحفظ کرنے والاخطہ بن گیااورآج تک بناہواہے۔ جب 70ء کی دہائی میں امریکہ اور روس کے درمیان سردجنگ چل رہی تھی تو اس وقت بھی امریکہ، برطانیہ اوردیگرمغربی طاقتوں کے مفادات کے لئے پاکستان کااستعمال کیاگیا، سوویت یونین کے خلاف لڑنے کے لئے اسلام کے نام پر پاکستان میں مجاہدین تیارکیے گئے اورلشکرتیارکرکے افغانستان بھیجے گئے۔
فقہ مسلک کی تفریق:
پاکستان میں آئے دن شیعہ سنی جھگڑا رہتا ہے اور انتہاء یہ ہے کہ فقہ اور مسلک کی تفریق کے باعث اہل تشیع کو کافر تک کہاجاتا ہے۔ میں کفرکے فتوے لگانے والوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ بانی پاکستان قائداعظم محمدعلی جناح خود بھی خوجہ اثنائے عشری شیعہ تھے،اگرشیعہ کافر ہیں توپھراس طرح بانی پاکستان قائداعظم محمدعلی جناح بھی کافر ہوئے اوراگر قائداعظم کوکافرقراردیاجائے گاتوکیا ان کی سربراہی میں قائم ہونے والے ملک کوکافرستان کہا جائے گا؟
انصاف کا دہرامعیار:۔
پاکستان میں انصاف کا دہرامعیار اپناجاتارہا ہے۔ کیاپاکستان کے عوام نہیں جانتے کہ پیپلزپارٹی کے کوچیئرمین آصف علی زرداری پرکرپشن کے درجنوں مقدمات درج ہیں؟ کیان لیگ کے صدر میاں نوازشریف پر کرپشن کے الزامات نہیں ہیں؟ کیا سپریم کورٹ نے نوازشریف کی تحریر تقریراور سیاست میں حصہ لینے پر پابندی نہیں لگائی تھی؟ آج سے پچاس سال قبل الطاف حسین نے سیاست میں فوج کے کردار کے خلاف آواز اٹھائی اورآج کے دور میں پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان صاحب نے سیاست میں فوج کی مداخلت کے خلاف آواز بلند کی، حقیقی آزادی کا نعرہ بلند کیا،انہوں نے امریکہ، اسرائیل اور فوج کے جرنیلوں کو للکارا تو عمران خان کی اس حق گوئی کا انہیں کیاانعام دیاگیا؟جھوٹے مقدمات قائم کرکے انہیں جیل میں قید کردیا کہ تم نے امریکہ، اسرائیل اور فوجی جرنیلوں کے خلاف آواز کیوں اٹھائی، آج تین سال گزرنے کے باوجود عمران خان جیل میں قید ہے،عمران خان کے میڈیا پربیانات کی نشرواشاعت پرپابندی لگا دی گئی، تحریک انصاف سے الیکشن چھین لیاگیا۔
میرا سوال ہے کہ پاکستان میں انصاف کہاں ہے؟ جمہوریت کہاں ہے؟ عدالتیں کہاں ہیں؟ آج عمران خان اور ان کی پارٹی کے لوگ جنرل شاہی سے نجات، ظلم کے نظام سے آزادی اور عدالتوں کی آزادی کے نعرے لگاتے ہیں، انصاف کے نظام کیلئے نعرے لگاتے ہیں۔ عمران خان اور ان کے دیگر بزرگ ساتھی بشمول ڈاکٹر یاسمین راشد جوکہ کینسر کی مریضہ رہ چکی ہیں وہ بھی جیل میں قیدہیں۔ وہ انصاف کس سے حاصل کریں؟
پاکستان کے عوام کو سوچنا ہوگا کہ آیاوہ غلام رہ کر زندگی گزارنا چاہتے ہیں یا انہیں حقیقی آزادی چاہیے، حقیقی آزادی کیلئے انہیں میدان عمل میں آکر جدوجہد کرنی ہوگی اورقربانیاں دینی ہوں گی کیونکہ قربانیوں اورعملی جدوجہد کے بغیرآزادی کے نعرے محض نعرے ہی رہ جائیں گے۔
کیا بلوچستان پاکستان کاحصہ تھا؟
صوبہ بلوچستان کبھی بھی پاکستان کا حصہ نہیں تھا،بلکہ خاران، مکران اورلسبیلہ کی طرح ریاست قلات میں شامل تھا جو کہ سلطنت برطانیہ کی پریذیڈنسی کاحصہ تھی۔1948ء میں بلوچستان پر فوج کشی کرکے بلوچستان کو زبردستی پاکستان میں شامل کیاگیا، بلوچستان پر آج تک فوج کا قبضہ ہے۔بلوچستان اپنے بنیادی حقوق سے محروم ہے،
بلوچستان کے لوگ بدترین مظالم سے تنگ آکر آج آزادی کانعرہ لگارہے ہیں۔ اگر کوئی آپ کے گھرپرقبضہ کرلے تو آپ کے پاس دوہی راستے ہوں گے یا تو آپ اس قبضے کے خلاف آئینی وقانونی جدوجہد کریں گے اور عدالت میں جائیں گے اور جب آپ کو انصاف نہیں ملے گا تو آپ مزاحمت کا راستہ اختیارکرنے پرمجبورہوجائیں گے۔
میرا ماننا ہے کہ انسانیت کاتقاضہ ہے کہ مظلوموں کے زخموں پر مرہم رکھاجائے، بلوچ بھی انسان ہیں، ان کے جائز مطالبات کو غداری سے تعبیر کرنا سراسر ظلم اورانسانیت کی کھلی نفی ہے۔ ڈاکٹرماہ رنگ بلوچ پاکستان کے آئین کے دائرے میں رہتے ہوئے بلوچوں کے حقوق کیلئے جدوجہد کررہی ہیں لیکن انہیں اوران کے ساتھیوں کو جھوٹے مقدمات اورایم پی او کے تحت قیدرمیں رکھا ہوا ہے۔یہ عمل بند ہونا چاہیے۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 403 ویں فکری نشست سے خطاب
15، مئی 2026ء