آقااورغلام کے تصور کے موضوع کو آگے بڑھاتے ہوئے میں یہ کہتاہوں کہ اگرچہ اقوام متحدہ کارکن بننےکےلئےہرملک اس کے چارٹر کو تسلیم کرتاہے اوراس کے تحت وہ ایک آزاد اور خودمختار ملک کی حیثیت سے تسلیم کیاجاتاہے۔پاکستان بھی اقوام متحدہ کا باقاعدہ رکن ملک ہے لیکن یہ تلخ حقیقت ہےکہ بظاہر آزاد اورخودمختار ملک ہونے کے باوجود پاکستان اپنی خارجہ، داخلہ اور معاشی پالیسی بنانے میں آزاد نہیں ہے بلکہ امریکہ کے زیراثر ہے۔
عالمی طاقتوں نے ملکوں کو اور ریاستوں کو اپنی طاقت کی بنیادپرغلام بنایا اور کسی بھی ملک یاجغرافیہ پرقبضہ کرنے کے بعد وہاں کے عوام کوتقسیم کیا۔ ہرخطے میں یہی ہوتا آیاہے۔اگرہم برصغیر کی تاریخ کاجائزہ لیں تو ہم یہ دیکھتے ہیں کہ ہندوستان پر انگریزوں کے قبضے سے قبل وہاں مسلمان اور ہندو صدیوں سے آپس میں مل جل کررہتے آئے تھے، ایک دوسرے کے وجودکو برداشت کرتے تھے اورمذہب کے فرق کے باوجود ایک دوسرے کا احترام کرتے چلے آرہے تھے۔ اگر برصغیرکی صرف گزشتہ ایک ہزارسال کی تاریخ کاہی جائزہ لیاجائےتو ہمیں ہندوستان میں بزرگان دین، اولیائے کرام اوربزرگ صوفی شاعروں کی تاریخ ملتی ہے۔
عظیم صوفی بزرگ شاعرحضرت امیر خسروؒ 1253ء میں اترپردیش کے شہر پٹیالی میں پیدا ہوئےجبکہ بھگت کبیر داس ؒ 1398ء میں بنارس میں پیداہوئے، بزرگان دین میں حضرت خواجہ معین الدین چشتی ؒ 1143ء میں سیستان میں پیدا ہوئےجبکہ حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء ؒ 1238ء میں دہلی میں پیدا ہوئے۔ہندوستان کی تاریخ بتاتی ہےکہ کم وبیش ایک ہزارسال سےہندو اور مسلمان ہندوستان کی سرزمین پر امن وسکون اور بھائی چارگی کےساتھ رہتے چلےآرہے تھے، وہ ایک دوسرے کے مذہبی تہواروں اور خوشی غمی میں شرکت کرتےچلے آرہے تھے۔ان کےدرمیان کوئی نفرت نہیں تھی۔ پھر سوال پیدا ہوتا ہےکہ ہندوؤں اور مسلمانوں میں مذہب کی بنیادپر تفریق کیسےاور کس نے پیدا کی؟ جنگ آزادی کی تحریک کےبعد ہندوؤں اور مسلمانوں میں مذہبی رواداری اچانک دشمنی میں کیسے تبدیل ہوگئی؟
تاریخ کےمطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ 1600ء میں برطانیہ سے انگریزوں کے تجارتی قافلےہندوستان آنا شروع ہوگئے تھے اور انگریزوں نے 1609ء میں تجارت کی غرض سے ہندوستان میں ایسٹ انڈیا کمپنی قائم کی،تاجر بن کرآنے والے انگریز آہستہ آہستہ ہندوستان کےتاجدار بن بیٹھے اور انہوں نے پورے ہندوستان پر مکمل قبضہ کرلیا، اس وقت ہندوستان پر مغل بادشاہ بہادرشاہ ظفر کی حکومت تھی۔ہندوستان پر انگریزوں کے قبضے کے خلاف ہندوستان کے مسلمانوں، ہندوؤں، سکھوؤں اوردیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے حریت پسندوں نے 1857ء میں جنگ آزادی لڑی جسے انگریز نے غداری سے تعبیر کرکے اس جنگ آزادی کو غدر قراردیا۔ برصغیرکے عوام میں آزادی کی جدوجہد سے خوف زدہ ہوکر انگریزوں نے ”لڑاؤ اور حکومت کرو“ کی پالیسی کےتحت ہندوستان کے مسلمانوں میں ایسی نفرت اور مذہبی تفریق پیدا کردی کہ برسوں سے ایک دوسرے کے وجود کو تسلیم کرنے اورایک دوسرے کا احترام کرنے والے مسلمان اور ہندو ایک دوسرے کے دشمن بن گئے۔
حقیقت یہ ہے کہ مذہب، انسان کی سب سے بڑی اورجذباتی کمزوری ہوتا ہے اور انگریزوں نے برصغیرپر اپنے قبضے کو برقرار رکھنے کیلئے مذہب کو ہی بنیاد بناکر ہندوستان کے عوام کو تقسیم کردیا۔
برصغیر پرانگریزوں کے قبضے کے خلاف 1885ء میں ایک سیاسی تحریک آل انڈیا نیشنل کانگریس قائم کی گئی۔ جس میں ہندوؤں کے علاوہ مسلمان، سکھ اور دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے ہندوستان کے رہنماشریک تھے۔انگریزوں نے اس سیاسی تحریک کا اثر کمزورکرنے کیلئے ہندوستان کے مسلم نوابوں کو جمع کیا اور ان کے ذریعے 1906ء میں ڈھاکہ میں آل انڈیا مسلم لیگ کی بنیاد رکھوائی جس کے بانی رہنماؤں میں نواب سلیم الملک، نواب وقارالملک، سرآغاخان، نواب سلیم اللہ، حکیم اجمل اوردیگر نوابین شامل تھے۔
جب آل انڈیامسلم لیگ قائم ہوئی اس وقت قائداعظم محمدعلی جناح آل انڈین نیشنل کانگریس میں شامل تھے۔ تاہم انہوں نے 1920ء میں کانگریس سے استعفیٰ دیدیا اور آل انڈیامسلم لیگ میں شامل ہوگئےبعد میں قائداعظم آل انڈیا مسلم لیگ کے سربراہ مقرر ہوئے۔
مورخین بتاتے ہیں کہ انگریزوں نے آل انڈیا مسلم لیگ کےقیام کیلئے اُس وقت ایک لاکھ روپے کا فنڈ دیا جوکہ آج ایک ارب روپے سے بھی زائد بنتے ہیں۔انگریزوں نےمسلم لیگ میں شامل نوابین کو وفاداری کے عوض بطور انعام مال ودولت، جاگیریں، اختیارات اور بڑی بڑی مراعات بھی دیں۔انگریزوں کی سازش کے تحت ایک طرف مسلم رہنما مذہبی تفریق پیدا کرنے میں پیش پیش تھے۔ جبکہ دوسری جانب انگریزوں نے ”لڑاؤ اورحکومت کرو“ کی پالیسی کے تحت کچھ ہندو پنڈتوں کو خرید کر ان کے ذریعے ہندوستان میں ہندو ازم اور مسلمانوں کےخلاف نفرت کا پرچار کرایا تاکہ ہندوستان کے عوام تقسیم ہوں اور انگریزوں سے آزادی کی تحریک کو کمزورکیاجاسکے۔
پاکستان کے طلبہ کو پڑھایاجاتا ہے کہ تحریک پاکستان کے دوران یہ نعرہ لگایا جاتا تھا کہ”پاکستان کامطلب کیا، لاالہ الااللہ“ جبکہ حقیقت میں تحریک پاکستان کے دوران اس نعرے کا کوئی ذکرنہیں تھا۔آج بھی بعض مذہبی رہنماؤں اور علماء کی جانب سے یہی چورن بیچا جارہا ہے۔بعض مذہبی رہنماؤں اورعلماء کی جانب سے یہ بھی کہاجاتا ہے کہ پاکستان اللہ نے بنایا ہے اور پاکستان تاقیامت قائم رہے گا لیکن وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ پاکستان 1971ء میں دولخت ہوچکا ہے، پاکستان کا ایک بازو مشرقی پاکستان ٹوٹ کر بنگلہ دیش بن چکا ہے لیکن پھر بھی یہ مذہبی رہنمااور علماء قوم سے جھوٹ بولتے ہیں۔
اگرتاریخی حقائق کاحقیقت پسندانہ جائزہ لیاجائے توہم دیکھتے ہیں کہ برصغیرکی تقسیم کانقصان سب سے زیادہ مسلمانوں کو ہوا خواہ وہ پاکستان کے ہوں یاہندوستان کے ہوں۔ انگریزوں نے اپنے مفادات کے لئے ہندوستان کو تقسم کیا اورانگریز آج کے دن تک اپنے مفادات کیلئے پاکستان کو اپنے اشاروں پرچلاتے آرہے ہیں۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 399 ویں فکری نشست سے خطاب
9، مئی 2026ء