Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

عمران خان اور ان کی پارٹی کے خلاف آج جو ہورہا ہے وہ قانون قدرت ہے جسے Karma یا مکافات عمل کہاجاتا ہے۔


 عمران خان اور ان کی پارٹی کے خلاف آج جو ہورہا ہے وہ قانون قدرت ہے جسے Karma یا مکافات عمل کہاجاتا ہے۔
 Posted on: 5/9/2026 1

عمران خان اور ان کی پارٹی کے خلاف آج جو ہورہا ہے وہ قانون قدرت ہے جسے Karma یا مکافات عمل کہاجاتا ہے۔ جب الطاف حسین نے کرپٹ جرنیلوں اور جاگیرداروں کی آمریت اورظالمانہ اقدامات کے خلاف آواز اٹھائی تو ستمبر2015ء میں لاہورہائی کورٹ کے ذریعے الطاف حسین کی تحریر، تقریر، تصویر حتیٰ کہ میڈیا پر میرا نام تک لینے پر پابندی عائد کردی گئی، اس وقت عمران خان آزاد تھے اور ان کی پارٹی صوبہ خیبرپختونخوا میں برسراقتدار تھی، اس وقت عمران خان اور ان کی پارٹی الطاف حسین اوراس کی ایم کیوایم کے بارے میں اسٹیبلشمنٹ کے بیانیہ کو دہرارہے تھے، وہ 34 سال سے جلاوطن بے گناہ الطاف حسین کو دہشت گرد کہا کرتے تھے۔ 2018ء کے انتخابات میں PTI کامیاب ہوئی اور عمران خان وزیراعظم بن گئے تو کیا انہوں نے فوج کےکرپٹ جرنیلوں، افسرشاہی اورقومی خزانہ لوٹنے والے سیاستدانوں کے دور میں الطاف حسین پر لگائی گئی پابندی کی مخالفت کی یا کرپٹ جرنیلوں اور جاگیرداروں کے جھوٹے بیانیے کو دوہرایا؟ حتیٰ کہ عمران خان نے وزیراعظم کی حیثیت سے قومی اسمبلی کے فلور پر بھی الطاف حسین کو ڈرون حملے میں قتل کرنے کی دھمکی دی۔  قدرت کا مکافات عمل دیکھئے کہ عمران خان فوجی جرنیلوں کی خوشامد اور ان کے قریب آنے کیلئے الطاف حسین کو ملک دشمن اور دہشت گرد کہا کرتے تھے، وہی الزامات عمران خان پر بھی لگائے گئے، کل الطاف حسین پر پابندی لگائی گئی، اس کانام تک لینے پر پابندی عائد کی گئی، آج عمران خان پر بھی میڈیا پر پابندی ہے حتیٰ کہ عمران خان کا نام لینے پر بھی پابندی ہے۔ اگر عمران خان صاحب ظلم کو ظلم کہتے اور ایم کیوایم اور الطاف حسین پر مظالم کے خلاف آواز اٹھاتے تو انہیں آج جیل کی سلاخوں کے پیچھے زندگی نہیں گزارنی پڑتی۔ عمران خان سمجھ رہے تھے کہ وہ کرپٹ جرنیلوں کی نظرمیں اچھا بننے کے چکر میں الطاف حسین کے خلاف جھوٹے الزامات دہرا کر قدرت کے مکافات عمل سے بچ جائیں گے لیکن وہ قدرت کے مکافات عمل سے نہیں بچ سکے لیکن افسوس ماضی کے تلخ تجربات سے نہ تو فوج نے کوئی سبق سیکھا اور نہ ہی پی ٹی آئی نے کوئی سبق حاصل کیا۔  تحریک انصاف کے رہنما کہتے تھے کہ MQM والے الطاف حسین کے حق میں باہر نہیں نکلتے تو اگر عمران خان صاحب بہت مقبول ہیں تو PTI کے لیڈران، عہدیداران اور کارکنان ان کے حق میں باہرکیوں نہیں نکلتے؟ وہ اگر عمران خان اور پی ٹی آئی کے خلاف حکومت کے ظالمانہ اقدامات کو ظلم کہیں گے لیکن ایم کیوایم اور الطاف حسین کے خلاف ظلم کو ظلم قرار نہیں دیں گے تو میں یہ واضح کردینا چاہتا ہوں کہ اگر تحریک انصاف کے رہنماؤں کی جانب سے بددیانتی کا یہ عمل جاری رہے گا تو پاکستان میں انصاف کا نظام اور سچی جمہوریت نہیں آسکتی۔  الطاف حسین ٹک ٹاک پر 399ویں فکری نشست سے خطاب 8، مئی 2026ء


5/10/2026 3:51:54 PM