Home
 
Altaf Hussain
 
English News
 
Urdu News
Sindhi News
Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
Events
Blogs
Fikri Nishist
Study Circle
Songs
Videos Gallery
Manifesto 2013
Philosophy
Poetry
Online Units
Media Corner
RAIDS/ARRESTS
About MQM
Social Media
Pakistan Maps
Education
Links
Poll
Web TV
Feedback
KKF
Contact Us
بلوچستان کی داستانِ غم اورتاریخ
Posted on: 5/18/2026
بلوچستان کی داستانِ غم اورتاریخ
(2) ٹک ٹاک پر 405 ویں فکری نشست سے خطاب ————————— گزشتہ فکری نشست میں بلوچستان کے تاریخی حقائق کے سلسلے میں بتایا تھا کہ 14، اگست1947ء کو پاکستان قائم ہوا تو اس وقت برٹش بلوچستان کے علاقےکوئٹہ، چمن، سبی، ہرنائی، نصیرآباد اور بولان پاکستانی فوج کے کنٹرول میں تھےجبکہ قلات، خاران، مکران اور لسبیلہ ایسی ریاستیں تھیں جہاں سرداروں، نوابوں اورخوانین کاکنٹرول تھا اور 75 سے 80 فیصد بلوچستان کے علاقوں پر پاکستان کاکنٹرول نہیں تھا۔ 15، اگست1947ء کو خان آف قلات میر احمد یار خان نے ریاست قلات کی آزادی کااعلان کردیا تھا۔ 15، اگست سے 27، مارچ 1948ء تک ساڑھے سات ماہ تک ریاست قلات ایک آزاد اور خودمختار ریاست کی حیثیت سے کام کررہی تھی اور ریاست کے تمام امور خان آف قلات کے تشکیل کردہ نظام کے ماتحت چل رہے تھے۔ پاکستان کی جانب سے قلات، خاران، مکران اورلسبیلہ کی ریاستوں سے کہا گیاکہ وہ پاکستان کے ساتھ الحاق کریں۔ خاران،مکران اورلسبیلہ کی ریاستوں نے تودباؤمیں آکرپاکستان سے الحاق پر آمادگی ظاہر کردی۔خان آف قلات نے پاکستان سے الحاق کا معاملہ اپنی ریاست کی پارلیمنٹ کےسامنے رکھا جس نے پاکستان کے ساتھ الحاق نہ کرنے کافیصلہ کیا۔جس کے بعد پاکستان کی جانب سے 26مارچ 1948ء کو فوج بھیج کرقلات کا محاصرہ کرلیا گیا اور قلات پر حملہ کیا گیا۔27، مارچ1948ء کو خان آف قلات نے اپنے لوگوں کی جانوں کے تحفظ کیلئے مجبوراً پاکستان سے الحاق کرلیا۔لیکن بلوچ عوام میں بلوچستان پر فوج کشی اور قبضے کے خلاف لاوا پکتا رہا۔ خان آف قلات کے چھوٹے بھائی پرنس عبدالکریم نےقلات کے پاکستان کے ساتھ الحاق کے فیصلے کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا تھا، وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ افغانستان چلے گئےتھے اور انہوں نے وہاں سے منظم ہوکرمسلح مزاحمت شروع کردی۔ انہیں بھی گرفتارکرکے جیل میں ڈالا گیا۔ 1952ء میں فوج نےقلات، خاران، مکران، لسبیلہ اور اور دیگر ریاستوں کو ملا کر بلوچستان یونین تشکیل دیدی تھی لیکن اکتوبر 1955ء میں پاکستان نے ایک اسکیم کے تحت یہ شاہی ریاستیں ختم کرکے پاکستان کودویونٹوں میں تقسیم کیا، مشرقی پاکستان کوایک یونٹ اور باقی مغربی پاکستان (موجودہ پاکستان) کے تمام صوبوں اوریہاں موجودریاستوں کی جغرافیائی حیثیت ختم کرکے سب کو ملاکر ون یونٹ بنادیا۔ اس فیصلے کے سبب خان آف قلات کا رہاسہا اختیار بھی ہمیشہ کیلئےختم کردیاگیا۔ بلوچستان پر فوج کے قبضے کے خلاف بلوچوں نے مزاحمت کاآغاز کیا اور خان آف قلات میر احمدیارخان صاحب بھی اس مسلح مزاحمت کو سپورٹ کرنے لگے تو فوج نے جنرل ایوب خان کے دورمیں اکتوبر 1958ء میں بلوچستان پر تیسرا بڑا فوجی آپریشن شروع کردیا اور خان آف قلات کو گرفتارکرلیا۔ جنرل ایوب خان کے مارشل لاء دورمیں بلوچستان کی تاریخ کاانتہائی دردناک اور المناک واقعہ 1959ء سے 1960ء کے درمیان پیش آیا، جب اکتوبر1958ء میں جنرل ایوب خان نے مارشل لاء لگاکر خان آف قلات کو گرفتارکرلیا تو خان آف قلات کے 80 سالہ بزرگ رشتے دار نواب نوروز خان جنہیں بابو نوروز بھی کہاجاتا ہے، انہوں نے خان آف قلات کی گرفتاری کے خلاف مزاحمت شروع کردی، وہ اپنے بیٹوں اور دیگر ساتھیوں کے ہمراہ قلات اور جھلاوان کی پہاڑیوں پر چلے گئے اور انہوں نے بلوچستان پر فوج کے قبضے کے خلاف مسلح بغاوت کاآغاز کردیا۔ نواب نوروز خان نے جنرل ایوب خان کے نام ایک کھلا خط بھی تحریر کیا تھا جو میری کتاب ”مسئلہ بلوچستان…تاریخ کے آئینے میں“ میں بھی موجود ہے۔ نواب نوروز خان کا یہی مطالبہ تھا کہ خان آف قلات کو رہا کیاجائے اور بلوچستان کی پرانی حیثیت بحال کی جائے۔ فوج نے نواب نوروزخان سے بات چیت کرنے کے بجائے ان کے خلاف فوجی آپریشن شروع کردیا لیکن وہ مزاحمت کاروں کو شکست نہیں دے سکی۔جب فوج نے دیکھا کہ نواب نوروز خان اور ان کے ساتھی بہادری سے مزاحمت کررہے ہیں اور فوج مزاحمت کاروں کو شکست دینے میں ناکام ہورہی ہے تو فوج نے مذاکرات کیلئے پیغام رسانی کرنے والے اپنے مہروں کوبلوچ مزاحمت کاروں کے پاس بھیجاتاکہ انہیں بات چیت پر آمادہ کیا جاسکے۔ یہ بات قابل غور ہے کہ طاقتور مذاکرات پر اسی وقت تیار ہوتا ہے جب اس کے سامنے کوئی گروہ، جماعت یا تنظیم ڈٹ جائے۔ نوروزخان اوران کے ساتھی بھی ڈٹ گئے تھےلہٰذا فوج نے اپنے نمائندوں کو نواب نوروز خان کے پاس بھیجاکہ ہم آپ سے بات چیت کرنا چاہتے ہیں۔فوج نے نواب نوروز خان کو مذاکرات پر آمادہ کرنے کے لئے قرآن مجید کاواسطہ دیا اور قرآن پر حلف لیکر یہ یقین دہانی کرائی کہ نوروزخان اپنے بیٹوں اور ساتھیوں کے ہمراہ پہاڑوں سے نیچےاتر آئیں،کسی کو بھی گرفتارنہیں کیاجائے گا، ہم ان سے مذاکرات کریں گے،ان کے مطالبات پر غور کریں اور بات چیت کےذریعے بلوچستان کے مسئلہ کا حل نکالیں گے۔
بلوچوں کی یہ روایت ہے کہ وہ اپنی زبان کا پاس رکھتے ہیں، اگر کسی کودوست بناتے ہیں تو اس کے خلاف کبھی سازش نہیں کرتے، بلوچوں کے جرگے میں جو معاملات طے ہوتے تھے انہیں سب تسلیم کرتے تھے اور قرآن پر حلف لیکر یقین دہانی کرانے والوں پر اعتبار کرتے تھے۔ لہٰذا نواب نوروز خان نے فوج کی جانب سے قرآن مجید پر حلف لیکر یقین دہانی پر بھروسہ کرلیا اورمذاکرات کے لئے پہاڑوں سے نیچے اتر آئے ۔لیکن یہ انتہائی افسوس کی بات ہے کہ فوج نے قرآن پر حلف لیکر نواب نورو ز خان کوجویقین دہانی کرائی تھی اور مذاکرات کا جو عہد کیاتھا اس کی قطعی پاسداری نہیں کی بلکہ بدعہدی کا مظاہرہ کرتے ہوئے نواب نوروز خان، ان کے بیٹوں اور دیگرساتھیوں کو گرفتارکرلیا، ان پر غداری کے مقدمات درج کرلئے اورحیدرآباد جیل میں ان پر فوجی عدالت میں مقدمات چلائے گئے۔ فوج کی اس بدعہد ی پر نوروز خان نے تاریخی جملہ ادا کرتے ہوئےکہا تھا کہ ”ہم نے قرآن مجید پر حلف لیکر مذاکرات کا وعدہ کرنے والے فوجی جرنیلوں پر بھروسہ کیا تھا، اگر مجھے معلوم ہوتا کہ ہم سے وعدہ خلافی کی جائے گی تو ہم کبھی پہاڑوں سے نہیں اترتے، یہ پھانسی مجھے اور میرے ساتھیوں کو نہیں بلکہ قرآن مجید کو دی گئی ہے“۔جولائی 1960ء میں فوجی عدالت کے فیصلے کے تحت80 سالہ نواب نوروز خان، ان کے بیٹوں اوردیگر ساتھیوں سمیت سب کو پھانسی کی سزا سنادی گئی۔ نواب نوروز خان،ان کے بیٹوں اور ساتھیوں کوتوپھانسی دیدی گئی تاہم نواب نوروز خان کی پھانسی کی سزا کو عمرقید میں تبدیل کردیاگیا۔ ان کاانتقال 1964ء میں جیل میں قید کے دوران ہوا۔بلوچ ثقافت میں قرآن مجید پر حلف لیکر وعدہ کرکےتوڑنا سب سے بڑا دھوکہ سمجھا جاتا ہے لہٰذانواب نوروز خان، ان کے بیٹوں اورساتھیوں کی گرفتاری اور پھانسی کے المناک اوردردناک واقعے نے بلوچ عوام میں پاکستانی فوج کے خلاف نفرت اوربداعتمادی کومزید گہرا کر دیا۔ بلوچ عوام اس بدعہدی پر شدید غصے میں آگئے اور اسی وقت سے بلوچستان میں آزادی کے نعرے گونجنے لگے۔ میراسوال یہ ہے کہ کیانواب نوروزخان اور ان کے ساتھیوں کو قرآن مجید کا واسطہ دیکر پہاڑوں سے نیچے اتار کر بدعہدی کرنے والے فوجی جرنیل کے خلاف کوئی کارروائی ہوئی؟ پاکستان کے عوام کو بلوچستان پر قبضے اوربلوچوں پر مظالم کی تاریخ سے آگاہ ہونا چاہیےکہ وہ مسلح مزاحمت پرکیوں مجبور ہوئے۔ اگرکوئی طاقت کے ذریعے آپ کے گھرپر زبردستی قبضہ کرلے، آپ فریادیں کرتے رہیں، انصاف کی دہائیاں دیتے رہیں، آپ کو عدالتوں سے انصاف فراہم کرنے کے بجائے ریاستی ظلم وستم کانشانہ بنایا جائے اوراپنے حقوق کی جدوجہد کرنے کی پاداش میں آپ کو دہشت گرد کہا جائے تو آپ کے کیاجذبات ہوں گے؟لہٰذا خدارا ! بلوچوں کو دہشت گرد یا غدار نہ سمجھاجائے، بلوچستان کے وسائل پر بھی فوج کا کنٹرول ہے، بلوچ عوام اپنی سرزمین کی آزادی اور اپنے حقوق کیلئے مزاحمت کررہے ہیں، اگر بلوچوں کی جگہ دوسرے صوبے کے عوام کے ساتھ اسی طرح ظلم وستم کیاجاتا تو پھر وہ کیا کرتے؟ میں پاکستان کے تمام فوجی جرنیلوں، حکمرانوں، علمائے کرام اور تاریخ دانوں کو دعوت فکر دیتا ہوں کہ وہ میرے بیان کردہ حقائق کو غلط ثابت کرکےدکھائیں۔ ایران کی مثال ہمارے سامنے ہے کہ جب امریکہ اوراسرائیل نے ایران پرحملہ کیا تو ایران کے عوام نے شترمرغ کی طرح ریت میں منہ نہیں چھپایا بلکہ جارحیت کا ڈٹ کرمقابلہ کیا، 78 دن گزرچکے ہیں لیکن ایران آج بھی اپنے مؤقف پرڈٹا ہوا ہے۔ ایران نے فیصلہ کرلیا ہے کہ وہ اپنے دفاع کیلئے کسی بھی قسم کی قربانی سے دریغ نہیں کرے گا۔ تحریک انصاف کے رہنماؤں اورکارکنوں کو بھی معلوم ہونا چاہئےکہ ان کے لیڈر عمران خان تین سال جیل میں قید ہیں، اطلاعات ہیں کہ اسیری کے دوران عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی ایک ایک آنکھ ضائع ہوچکی ہے
@PTIofficial
کے رہنماؤں اورکارکنوں نے عمران خان کا ساتھ نبھانے کی قسمیں کھائی تھیں مگر کیا انہوں نے عمران خان کا ساتھ دیا؟ تحریک انصاف کےلوگوں کو بھی بلوچ عوام کی طرح غیرت وحمیت کا مظاہرہ کرنا چاہیے، اگر عمران خان کی رہائی کیلئے پی ٹی آئی والے پانچ لاکھ کی تعداد میں نکل آئیں اورپرامن لانگ مارچ کریں تو عمران خان باعزت طریقے سے جیل سے رہا ہوجائیں گے۔ میں بلوچ عوام، عمران خان، قبائلی عوام اور خیبرپختونخوا کے عوام پر مظالم کے خلاف اپنے ضمیرکے مطابق آواز اٹھاتا ہوں ، یہ سب انسان ہیں اورمیں ان پر مظالم کے خلاف آواز اٹھانا اپنی اخلاقی ذمہ داری سمجھتا ہوں۔
https://
پاکستان کے عوام کو غورکرناچاہیے کہ جب افغانیوں نے افغانستان پر روسی قبضے کے خلاف مزاحمت شروع کی تو انہیں مجاہدین کہاگیا تھا اسی طرح اپنے گھرپر قبضے کے خلاف مزاحمت کرنے والے بلوچ عوام بھی مجاہد ہیں، پھر انہیں دہشت گرد، ملک دشمن اور غدار کیوں قراردیاجاتاہے؟ ان کے خلاف عوام کے ذہنوں میں نفرتیں کیوں پھیلائی جارہی ہیں؟ جب امریکہ برطانیہ کی کالونی تھاتوکیابرطانیہ کے قبضے کے خلاف ا مریکیوں نے مزاحمت نہیں کی تھی؟ کیاامریکیوں نے پھولوں کے ہار لیکر برطانیہ سے آزادی حاصل کی تھی؟ ہمیں یہ سمجھناچاہیے کہ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ جب اپنے حق کے لئے آوازجدوجہد کرنے والی کسی قوم یاگروہ پر مظالم ڈھائے جائیں اوران کے لئے پرامن جدوجہد اور افہام وتفہیم کے تمام راستے بند کردیئے جائیں توپھر اس قوم یاگروہ کے لئے مزاحمت کے سوا کیا راستہ باقی رہ جاتا ہے؟ یہ حقائق صوبہ پنجاب کی Gen Z کو بتانی ضروری ہیں، کیونکہ جب تک انہیں تاریخی حقائق نہیں بتائے جائیں گے تووہ حقائق کو نہیں سمجھیں گے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ پاکستان کے عوام بلوچوں کی جدوجہد میں شامل ہوجائیں مگروہ مسئلہ بلوچستان کی تاریخ سے آگاہی حاصل کریں اورکم ازکم بلوچوں کو ملک دشمن اور غدارکہنےکا سلسلہ بند کردیں کیونکہ جو اپنے حق کیلئے آوازاٹھاتاہے وہ ملک دشمن کیسے ہوسکتا ہے؟ میں چاہتا ہوں کہ مسئلہ بلوچستان کا حل مذاکرات کے ذریعے تلاش کیاجائے لیکن اس کی ضمانت کون دے گا کہ ماضی کی طرح بلوچ عوام کو مذاکرات کی آڑ میں دھوکہ نہیں دیا جائے گا۔ میں اپنے فکری لیکچرز کے ذریعے بلوچ عوام کامقدمہ لڑتا رہوں گا تاکہ پاکستان بالخصوص صوبہ پنجاب کے عوام کو علم ہوسکے کہ بلوچستان کامسئلہ کیا ہے اور بلوچ عوام پر کیاکیا قیامتیں ڈھائی ہیں۔ الطاف حسین ٹک ٹاک پر 405 ویں فکری نشست سے خطاب 17، مئی 2026ء
youtu.be/LNs-m0lm9nI?si
=hqYVzLmJMJbkPIX4
5/18/2026 12:29:51 PM
بلوچستان کا پاکستان سے الحاق کیسے ہوا؟ تاریخ کیا کہتی ہے؟
...
17 May 2026
دوقومی نظریہ کیسے وجود میں آیا؟
...
16 May 2026
پیپلزپارٹی کی کرپٹ اورنااہل حکومت نے گزشتہ18برسوں میں نہ صرف کراچی، ح
...
15 May 2026
برصغیرکی جنگ آزادی……آل انڈین نیشنل کانگریس اورآل انڈیامسلم لیگ کاقیام
...
14 May 2026
اگرایٹمی ہتھیار ایران کے لئے غلط ہیں توپھرایٹمی ہتھیارامریکہ،روس، چین،
...
11 May 2026
میں صرف فوج کے جرنیلوں یا افسران کے سیاست میں حصہ لینے کا مخالف ہوں، ی
...
11 May 2026
سندھ میں پیپلز پارٹی کی بربریت کا خاتمہ وقت کی اہم ضرورت ہے — رکن رابط
...
10 May 2026
پاکستان بھی اقوام متحدہ کا باقاعدہ رکن ملک ہے لیکن یہ تلخ حقیقت ہےکہ ب
...
10 May 2026
عمران خان اور ان کی پارٹی کے خلاف آج جو ہورہا ہے وہ قانون قدرت ہے جسے
...
09 May 2026
ایم کیوایم شاہ فیصل کالونی سیکٹرکے وفاپرست کارکن ریحان احمد کی جبری گ
...
09 May 2026
Muttahida Quami Movement (MQM) Copyright © 2014 (ver 3.0)
Home
Videos Gallery
Links
KKF
Feedback
Altaf Hussain
Photo Gallery
Study Circle
Online Units
Media Corner
News Archive
Manifesto 2013
Fikri Nishist
Songs
Social Media
Urdu News
Philosophy
Poetry
Education
Web TV
Events
RAIDS/ARRESTS
Poll
Pakistan Maps
Contact us