میں واضح الفاظ میں کہتا ہوں کہ میں ملک میں فوج کی موجودگی یا اس کے سپاہی سے جنرل تک کے عہدوں کا مخالف نہیں ہوں، میں صرف فوج کے جرنیلوں یا افسران کے سیاست میں حصہ لینے کا مخالف ہوں، یہ عمل اُن کے اُس حلف کے خلاف ہے جووہ پاسنگ آؤٹ پریڈ کے موقع پروہ اللہ کوگواہ بنا کرلیتے ہیں، انہیں اُس حلف کونہیں توڑنا چاہیے اور اپنی قسم کا پاس رکھنا چاہیے۔
میری جدوجہد یہ ہے کہ پاکستان میں عوام کے سچے، منتخب رہنماؤں کی حکومت ہونی چاہیے جودیانتدارہوں، موروثی نظام کاخاتمہ ہوناچاہیے، جاگیردارانہ، وڈیرانہ نظام کاخاتمہ ہونا چاہیے،آئین کا آرٹیکل 6بے معنی ہوکررہ گیاہے لہٰذا دوبارہ سے قانون بنناچاہیے کہ کسی فوجی جرنیل کی مجال نہ ہوکہ وہ کسی منتخب وزیراعظم کوبرطرف کرناتودور کی بات، اس کے سامنے اونچی آواز یاتحقیر آمیزلہجہ تک اختیار نہ کرسکے۔ یہ قانون پاکستان کے عوام کوبنانا ہوگا، اس کیلئے متحد ہوناہوگا، متحد ہوکرجدوجہد کرنی ہوگی۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ عمران خان کواسٹیبلشمنٹ میدان سیاست میں لائی، اسی نے عمران خان کی پارٹی میں لوگوں کوشامل کرایااور2018ء میں اسٹیبلشمنٹ نے ہی ان کی حکومت بنائی لیکن اللہ تعالیٰ لوگوں کو کسی وقت بھی ہدایت دیتاہے اوران کی سوچ کوبدل دیتاہے۔ عمران خان نے بالآخر ملک میں رائج اس کرپٹ نظام کی خرابیوں کوسمجھا اور اس کے ذمہ داروں کوللکارا۔ میں تین سالوں سے عمران خان کی حمایت اسلئے نہیں کررہاہوں کہ مجھے اُن سے کچھ چاہیے،بلکہ اسلئے کررہاہوں کہ وہ مجھے اوروں سے بہتر اور حق پر لڑتاہوانظرآتاہے۔ میں نے پیش کش کی ہے کہ اگر عمران خان چاہیں تووہ الطاف حسین کی آواز کو شامل کرسکتے ہیں، اس کے ساتھ اتحاد کرسکتے ہیں، ہم ملکر مضبوطی کے ساتھ ملک سے جرنیل شاہی، افسر شاہی، وڈیرہ شاہی، موروثی سیاست کاخاتمہ کرسکتے ہیں۔
میں حکمرانوں سے بھی کہتاہوں کہ وہ ملک کے لئے بھیک مانگنے اوردوسروں کے سامنے ہاتھ پھیلانے سے توبہ کرلیں،اگرہم کرپشن ختم کردیں توملک کی معیشت کو بہتر بنایا جاسکتاہے اور پاکستان کواپنے پیروں پر کھڑاکیا جاسکتاہے، عوام میں بڑی صلاحیت ہے لیکن جب تک ملک سے جاگیردارانہ وڈیرانہ، موروثی نظام کا خاتمہ نہیں کیاجائے گا، ملک کواس کرپٹ نظام سے نجات نہیں ملے گی توپاکستان کاخانہ خراب ہوتا رہے گا۔
الطاف حسین کے خلاف طرح طرح کے جھوٹے مقدمات بنائے گئے لیکن الطاف حسین کے خلاف کوئی ایک بھی ایسامقدمہ کیوں نہیں بنایاگیاکہ الطاف حسین نے کوئی کرپشن کی ہو، الطاف حسین کی 100ایکڑ کی توکجاایک ایکڑکی بھی فلاں جگہ کوئی زمین یاپلاٹ ہو، یااس کالاہور، مری یااسلام آباد میں کوئی بنگلہ ہو۔میں دعاکرتاہوں کہ اللہ کرے کہ ملک میں سچے اورایماندار لوگ میدان سیاست میں آئیں، ملک ترقی کرے اورسچے پاکستانیوں کے خواب پورے ہوں۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 401ویں فکری نشست سے خطاب
10 مئی 2026ء