بلوچستان کا پاکستان سے الحاق کیسے ہوا؟ تاریخ کیا کہتی ہے؟
مزاحمت کرنے والے بلوچ دہشت گرداورملک دشمن ہیں یافریڈم فائٹر؟
ٹک ٹاک پر 404 ویں فکری نشست سے خطاب
بلوچستان کے حقوق کی جائزجدوجہدکرنے والے بلوچوں کودہشت گرد، ملک دشمن اورفتنہ الہند وستان قرار دینے اوراسے قوم کے سامنے غلط رنگ سے پیش کرنے سے پہلے ہمیں اس کی تاریخی پس منظر کوسمجھنا ہوگااورحقائق کونفرت، تعصب اورعصبیت کی عینک سے دیکھنے کے بجائے اصل حقائق جاننے ہوں گے۔
بلوچستان کی تاریخ یہ بتاتی ہے کہ جب سلطنت برطانیہ نے برصغیرپرقبضہ کیا تو قلات، مکران، خاران اور لسبیلہ میں قبائلی سرداروں کی بادشاہت تھی،1875ء میں سلطنت برطانیہ اوربلوچ قبائل کے درمیان ایک معاہدہ ہواجس کے تحت قلات، مکران، خاران اور لسبیلہ کو برطانوی تحفظ میں آزادریاستوں کادرجہ دیا گیا اوریہ طے پایاکہ یہ علاقے آزاد اورخودمختارہوں گے اور اپنے معاملات خود چلائیں گے۔باقی بلوچستان کے جو علاقے برٹش بلوچستان کہلاتے تھے ان میں کوئٹہ، پشین، ہرنائی اورسبی شامل تھے اور یہاں انگریزسرکارکا قانون چلتا تھا۔ یہ علاقے انگریزوں نے ایک جرگہ کے تحت خان آف قلات میر احمد یار خان سے لیز پر حاصل کئے تھے اور یہ کہا گیا تھا کہ یہاں ترقیاتی کام کرائے جائیں گے لیکن ترقیاتی کاموں کی آڑ میں انگریزوں نے ان علاقوں میں اپنے فوجی اڈے قائم کئے۔
جب قیام پاکستان کامرحلہ آیاتوجون 1947ء میں انگریزوں نے برٹش بلوچستان کے علاقوں کے سرداروں کا جرگہ بلایا جس میں ان چند علاقوں نے پاکستان میں شامل ہونے پر رضامندی ظاہر کی لیکن قلات، مکران، خاران اور لسبیلہ نے پاکستان میں شامل ہونے سے انکارکرتے ہوئے اپنی آزاد حیثیت برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا۔ 15اگست 1947ء کوخان آف قلات میراحمد یارخان نے ریاست قلات کی آزادی کااعلان کیا۔ اس اعلان کے بعد بانی پاکستان قائداعظم محمدعلی جناح کی جانب سے خان آف قلات سے مذاکرات کاسلسلہ شروع ہوا جس کے کئی دور ہوئے لیکن مذاکرات میں کوئی کامیابی نہیں ہوئی اور خان آف قلات میراحمدیار خان ریاست قلات کے پاکستان سے الحاق کے لئے تیارنہ تھے۔
جب خان آف قلات میراحمدیارخان نے پاکستان سے الحاق کرنے سے انکارکردیا توپہلے ان پر شدید دباؤڈالاجانے لگا اورپھر قلات کو پاکستان میں زبردستی شامل کرنے کے لئے 26مار چ 1948ء کو بلوچستان کے علاقوں پسنی، جیوانی اورتربت میں پاکستان کی فوج بھیج دی گئی اورقلات پرحملہ کردیا گیا۔
اس صورتحال میں خان آف قلات میراحمدیارخان کے پاس کوئی اورچارہ نہیں تھاکہ وہ فوج سے جنگ سے بچنے کاراستہ اختیارکریں لہٰذاخان آف قلات میراحمدیارخان نے جنگ وجدل سے بچنے اوراپنے لوگوں کی زندگیاں بچانے کے لئے مجبوری میں پاکستان سے الحاق کرنے پر تیارہوگئے۔
بالکل اسی طرح جیسے فوج نے 19جون 1992ء کوایم کیوایم کے خلاف آپریشن شروع کیا توایم کیوایم کے کارکنان بہت جذبات میں تھے اورمزاحمت کرناچاہتے تھے لیکن الطاف حسین نے اپنے ساتھیوں کو سمجھایا کہ ہم فوج سے مقابلہ نہیں کرسکتے،الطاف حسین کے پاس بھی کوئی اورچارہ نہیں تھا لہٰذامیں نے اپنے ساتھیوں اورقوم کوبچانے کی خاطر اپنے ساتھیوں کوروپوشی اختیارکرنے کی ہدایت کی۔
جب 1948ء میں بلوچستان کوطاقت کے زورپرپاکستان میں شامل کرایا گیا تو خان آف قلات کے چھوٹے بھائی پرنس کریم خان نے بلوچستان پر قبضے کے خلاف مزاحمت شروع کردی۔
بلوچستان پر اس جبری الحاق کے لئے کی جانے والی فوج کشی میں پاکستان کی فوج کے ساتھ ساتھ برٹش بلوچستان میں پہلے سے موجود انگریزفوج نے بھی پاکستان کی فوج کاساتھ دیاتھا کیونکہ اس وقت پاکستان کی فوج کے سربراہ جنرل سرفرینک والٹرمیسروی تھے جوبرطانوی فوج سے تعلق رکھتے تھے جن کے بعد جنرل ڈگلس گریسی پاکستانی فوج کے سربراہ مقرر ہوئے، وہ بھی انگریز جنرل تھے۔
جس سے واضح تھا کہ پاکستان 14 اگست 1947ء کوبظاہرآزاد ہوگیا تھا لیکن وہ مکمل طورپرآزاد نہیں ہوا تھا۔ جس کاسب سے بڑاثبوت یہ بھی ہے کہ جب بانی پاکستان قائداعظم محمدعلی جناح نے پاکستان کے پہلے گورنر جنرل کی حیثیت سے اپنے عہدے کاحلف اٹھایا تھا تو اس حلف کے بھی الفاظ یہی تھے کہ،
”میں گورنرجنرل کی حیثیت سے بادشاہ جارج ششم اوران کے جانشینوں کا وفاداررہوں گا“ ۔ سوال یہ ہے کہ جب پاکستان آزاد ہوگیا تھا توقائداعظم محمدعلی جناح نے گورنرجنرل کی حیثیت سے سلطنت برطانیہ کے بادشاہ البرٹ فریڈرک آرتھر جارج اوران کے جانشینوں سے وفاداری کاحلف کیوں اٹھایا تھا؟ یہ ثابت کرتا ہے کہ پاکستان آزادی کے بعد بھی انگریزوں کاماتحت اوروفادار رہا۔ آج بھی پاکستان بظاہرآزاداورخودمختار ملک ہے لیکن درحقیقت وہ وہ اپنی پالیسی بنانے میں آزادنہیں ہے اورسپرطاقتوں کے زیراثر ہے۔
الطاف حسین نے پاکستان کو انگریزوں کے وفادارجاگیرداروں اوروڈیروں سے نجات دلانے،ملک کوبیرونی طاقتوں اوران کے آلہ کاروں سے نجات دلاکراسے حقیقی معنوں میں ایک آزاد اورخودمختارملک بنانے کی جدوجہد کی تواس پر قاتلانہ حملے کرائے گئے، 21دسمبر 1991ء کو الطاف حسین پر دستی بموں سے حملہ کرایاگیااورپھر مجھے جلاوطن ہونے پر مجبورکردیاگیا۔ عمران خان نے حقیقی آزادی کانعرہ لگایا توان کی حکومت ختم کرکے انہیں گرفتارکرلیا گیااورآج وہ تین سال سے جیل میں قید ہے۔
بلوچستان کے حوالے سے میراسوال یہ ہے کہ تاریخی طورپر یہ واضح ہے کہ بلوچستان کا پاکستان سے الحاق جبری طورپر ہواتھا۔ میں عوام سے سوال کرتا ہوں کہ اگرکوئی آپ کے گھرپرقبضہ کرلے، آپ کو عدالت سے بھی انصاف نہ ملے اورآوازاٹھانے پرآپ کوماراجائے توآپ کیاکریں گے؟ بلوچوں نے بلوچستان پرقبضہ کے خلاف آوازبلند کی اوراپنی آزادی وخودمختاری کاحق مانگا توان کوریاستی جبروستم کانشانہ بنانے کا سلسلہ شروع کردیا گیا۔ بلوچوں نے”مرتا کیا نہ کرتا“ کے مصداق بندوق اٹھالی توانہیں دہشت گرد، ملک دشمن اورفتنہ الہندوستان کہا جارہا ہے۔ہمیں سمجھناچاہیے کہ کوئی بھی خوشی سے بندوق نہیں اٹھاتا، اگرکسی بلی یا چڑیا کوبھی آپ کمرے میں بندکرکے ماریں گے تووہ پہلے تواپنی جان بچانے کی کوشش کرے گی لیکن پھر جب اس کابس چلے گاوہ تواپنی جان بچانے کے لئے آپ کوبھی کاٹے گی۔
میراپاکستان کے عوام سے سوال ہے کہ کیا وہ اپنے حقوق کے حصول کے لئے اورریاستی مظالم کے خلاف مزاحمت کرنے والے بلوچوں کو دہشت گرد، ملک دشمن سمجھتے ہیں یا فریڈم فائٹرسمجھتے ہیں؟
میں یہاں یہ واضح کرنا ضروری سمجھتاہوں کہ میں اس مزاحمت میں معصوم وبے گناہ پنجابیوں، پختونوں یاکسی بھی قوم سے تعلق رکھنے والے افراد کے قتل کوہرگزسپورٹ نہیں کرتا لیکن میں معصوم بلوچوں کودہشت گرد اورملک دشمن قراردیکرقتل کرنے کے عمل کوبھی ظلم سمجھتا ہوں۔
میں پی ٹی آئی کے کارکنوں سے بھی سوال کرتا ہوں کہ جب 26نومبر 2024ء کواسلام آباد میں احتجاج کرنے والے پی ٹی آئی کے درجنوں کارکنوں کوسیکوریٹی فورسز نے گولیاں مارکرشہید وزخمی کیااورپی ٹی آئی والوں نے اپنے ساتھیوں کی لاشیں اٹھائیں تواس وقت ان کے کیا جذبات تھے؟ کیابہت سے پی ٹی آئی والوں کے دلوں میں اس ظلم کے خلاف مزاحمت کے جذبات پیدانہیں ہوئے تھے؟کیاا س وقت پی ٹی آئی کے لوگوں کودہشت گردقرارنہیں دیا گیا تھا؟ کیاعمران خان کواسرائیلی ایجنٹ نہیں کہا گیا تھا؟ کیاپی ٹی آئی کے کارکنوں کوگھروں سے نہیں اٹھایا گیا تھا؟ کیا ان کارروائیوں پر ان کے جذبات نہیں بھڑکتے تھے؟
پی ٹی آئی کے کارکنوں کواسٹیبلشمنٹ کی ”سہ جہتی حکمت عملی“ Three Pronged Strategy of the Establishment کوسمجھناچاہیے جوآئسولیشن، کرمنلائزیشن، ڈی مورالائزیشن پر مشتمل ہے۔
آئسولیشن کا مطلب، کوئی جماعت یا قوم اپنے حق کے لئے یاسسٹم کی تبدیلی کے لئے جدوجہد کر ے توانہیں جبر کے ہتھکنڈوں کے ذریعے دیگرجماعتوں یا قوموں سے کاٹ دیا جائے۔
کرمنلائزیشن،یعنی جدوجہد کرنے والوں کو کرمنل یادہشت گرد بنا کرپیش کیا جائے، اورڈی مورالائزیشن، یعنی اپنے حق کے لئے جدوجہد کرنے والوں پر اتنا ظلم کیا جائے کہ ان میں خوف یامایوسی پیدا ہو، ڈی مورالائزیشن پیدا ہوجائے۔
اس کوسمجھنے کے لئے میری کتاب ” اسٹیبلشمنٹ کی سہ جہتی حکمت عملی“ بھی موجود ہے، اس کا مطالعہ بھی کیا جاسکتا ہے۔
میں جبروستم کانشانہ بننے والے پی ٹی آئی کے کارکنوں اوران کے اہل خانہ سے اظہارہمدردی کرتا ہوں اور ان سے کہتا ہوں کہ وہ بلوچوں پر ڈھائے جانے والے ظلم وستم پر ان کے دکھ کوبھی محسوس کریں اوران سے بھی ہمدردی کریں، ان کے زخموں پر مرہم رکھیں ۔
میں پاکستان کے ارباب اختیار سے کہتا ہوں کہ بلوچ آج اپنی آزادی کے لئے جدوجہد کررہے ہیں، آج نہیں توکل، ایک دن ایسا آئے گاکہ فوج کو بلوچوں سے مذاکرات کرنا ہوں گے کیوں کہ ہرجنگ کااختتام بالآخر مذاکرات کی میزپرہوتا ہے۔
میں اپنی آئندہ نشستوں میں بھی بلوچوں کی داستانِ غم بیان کرنے کاسلسلہ جاری رکھوں گا۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 404 ویں فکری نشست سے خطاب
16مئی 2026ء