Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

ایگزیکٹ: پہلے کیا، آگے کیا؟


Courtesy: BBC-Urdu ایگزیکٹ: پہلے کیا، آگے کیا؟
 Posted on: 5/25/2015
ایگزیکٹ کیس کے معاملے میں پاکستان کے وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کا کہنا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو امریکی تفتیشی ادارے ایف بی آئی سے بھی مدد لی جاسکتی ہے۔
لیکن ایف بی آئی کے ایک سابق اہلکار کے مطابق ایف بی آئی کی جعلی ڈگریوں کے معاملے میں دلچسپی نہ ہونے کے برابر ہے اور اس کی روک تھام کے لیے باقاعدہ قوانین بھی نہیں۔
سابق ایف بی آئی ایجنٹ ایلن ایزل ماضی میں ایسی تفتیش کا حصہ رہ چکے ہیں۔ انھوں نے بی بی سی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان معاملوں سے منی لانڈرنگ اور پوسٹل فراڈ جیسے قانون استعمال کر کے ہی نمٹا جاتا ہے۔ ’اور یہ بھی تب ہی ممکن ہے جب پاکستان اپنی تفتیش کی مکمل تفصیلات امریکہ کو فراہم کرے۔ اگر پاکستان اس معاملے سے متعلق کون، کیا، کب اور کہاں کی مکمل فہرست فراہم نہیں کرتا تو ایف بی آئی کیا کر سکتی ہے؟‘
ان کے تحفظات کی کئی وجوہات ہیں۔ جعلی ڈگریوں کا سکینڈل کوئی نئی بات نہیں بلکہ اس نوعیت کے فراڈ کی تاریخ سات سو سال سے بھی زیادہ پرانی ہے۔ لیکن انٹرنیٹ آنے کے بعد نہ صرف اسے ایک نئی زندگی ملی بلکہ پھلنے پھولنے کے لیے پہلے سے ایک بہت بڑی دنیا بھی۔
ڈاکٹر جان بئیر فاصلاتی تعلیم کے ماہر ہیں اور ان کی کئی کتابوں میں سے ایک ’ڈگری ملز‘ کے عنوان سے بھی ہے۔ ڈاکٹر بیئر نے بی بی سی اردو کو بتایا: ’انٹرنیٹ نے نہ صرف ڈگری ملوں کے اخراجات کم کر دیے بلکہ ایسی ملیں چلانے والوں کو گمنام رہنے کی سہولت بھی دے دی۔‘
اس کی وجہ سے یہ کاروبار کس قدر پھیلا، اس کا جامع تعین تو ممکن نہیں لیکن ایلن ایزل کے اندازے کے مطابق یہ سالانہ ایک ارب ڈالر سے بھی بڑا کاروبار ہے جس میں دنیا بھر میں ہر سال دس لاکھ سے زائد جعلی ڈگریاں فروخت ہوتی ہیں۔
لیکن ڈاکٹر بیئر کے مطابق اس کے باوجود اس معاملے سے نمٹنا امریکی ترجیحات میں شامل نہیں۔’ہم دہشت گردی یا منشیات کو اپنا اصل دشمن سمجھتے ہیں۔ جعلی ڈگریاں ہمارے لیے کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتیں۔‘
شاید اسی لیے اس معاملے سے نمٹنے کی لیے امریکہ میں نہ تو خاص قوانین ہیں اور نہ ڈپلومہ ملز کی کوئی مخصوص تشریح۔ اگر کوئی ڈگری جعلی ثابت ہو بھی جاتی ہے تو دفاع کے وکیل یہ دلیل دے سکتے ہیں کہ خریدنے والے نے یہ سب کچھ جانتے بوجھتے ہوئے ڈگری خریدی اس لیے اس کو فراڈ نہیں کہا جا سکتا۔
یہ ایک بڑی وجہ ہے کہ امریکہ میں یہ کاروبار بڑے وسیع پیمانے پر کیا جا چکا ہے۔
ایسا ایک مشہور کیس یونیورسٹی ڈگری پروگرام کے نام سے 1990 کی دہائی میں سامنے آیا۔ اس میں جیسن اور کیرولائن ابراہم نامی دو امریکنوں نے رومانیہ اور اسرائیل میں قائم کال سنٹرز کے ذریعے دو لاکھ جعلی ڈگریاں بیچ کر تقریباً 40 کروڑ ڈالر کمائے۔
سینٹ ریجس کے نام سے ایسے ہی ایک اور کاروبار میں ڈکسی اور سٹیو رینڈاک نامی امریکیوں نے 22 ملکوں میں پھیلی 121 جعلی یونیورسٹیوں کے ذریعے 131 ملکوں کے گاہکوں میں 73 لاکھ ڈالر کی ڈگریاں فروخت کیں۔

کچھ اندازوں کے مطابق ’ڈگری ملز‘ سالانہ ایک ارب ڈالر سے بھی بڑا کاروبار ہے جس میں دنیا بھر میں ہر سال دس لاکھ سے زائد جعلی ڈگریاں فروخت ہوتی ہیں۔
اس کے باوجود تین برس پر پھیلی تفتیش کے بعد رینڈاکس کو جعل سازی کے الزام میں محض تین برس قید ہوئی۔
ان مشکلات کی ایک بنیادی وجہ انٹرنیٹ دور میں اپنے نقش قدم چھپانے کی آسانی ہے۔ آپ سائبر سپیس میں جعلی یونیورسٹی تو بنا سکتے ہیں لیکن اسے ختم کرنے کے لیے عدالتوں کو حقیقی دنیا میں ٹھوس ثبوت چاہیے ہوتے ہیں۔
اس کے علاوہ یہ بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ جعلی ڈگریاں حاصل کرنے والے اعلیٰ سرکاری عہدوں پر جا پہنچتے ہیں۔ مثلاً ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق سینٹ ریجس سے ڈگری حاصل کرنے والوں میں سے کم از کم ایک سو پینتیس افراد وفاقی حکومت کے ملازم تھے جن میں سٹیٹ ڈپارٹمنٹ، جسٹس ڈپارٹمنٹ اور وہائٹ ہاؤس کے ملازمین بھی شامل تھے۔
اسی طرح دو ہزار تین میں ہونے والے انکشافات میں پتہ چلا کہ امریکہ میں چار سو چونسٹھ وفاقی ملازمین کی ڈگریاں بوگس تھیں۔ ان میں ہوم لینڈ سیکیورٹی کی ڈپٹی چیف انفارمیشن آفیسر لارا کیلیہن بھی شامل تھیں۔
یونیورسٹی آف الینوئے کے پروفیسر جارج گولن ڈپلوما ملز کے خلاف جدوجہد میں پیش پیش ہیں۔ انھوں نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ وفاقی اہلکاروں کی جعلی ڈگریوں پر بھی کم ہی کوئی کارروائی ہوتی ہے۔ ’جب بھی کسی وفاقی اہلکار کی ڈگری جعلی نکلتی ہے تو سب ہی کی کوشش اس پر پردہ ڈالنے کی ہوتی ہے کیونکہ مزید تفتیش ان لوگوں کو نوکریاں دینے والوں کے لیے بھی شرمندگی کا باعث بن سکتی ہے۔‘

نارویجئین آندریس بریوک، جس نے 2011 میں ناروے کے ایک جزیرے پر 77 نوجوان قتل کر دیے تھے، نے واردات سے پہلے جعلی ڈگریاں بیچ کر دس لاکھ ڈالر کمائے تھے
اس سے کہیں زیادہ تشویش ناک بات یہ ہے کہ خود انتہاپسندوں نے بھی پیسے کمانے کے لیے جعلی ڈگریوں کے کاروبار کا سہارا لیا ہے۔ آندریس بریوک نے، جس نے 2011 میں ناروے کے ایک جزیرے پر 77 نوجوان قتل کر دیے تھے، واردات سے پہلے جعلی ڈگریاں بیچ کر دس لاکھ ڈالر کمائے تھے۔
لیکن اس کے باوجود اس فراڈ کے خلاف موثر کاروائی انتہائی مشکل ہے۔ ایگزیکٹ سے منسلک ویب سائٹوں کی تعداد 370 بتائی جا رہی ہے اور اس کے ملازمین دو ہزار سے بھی زیادہ۔ اسی لیے سابق ایف بی آئی ایجنٹ ایلن ایزل کہتے ہیں کہ ایگزیکٹ ایک نئی ہی قسم کا موذی ہے۔ ’یہ کوئی عام ڈپلوما مل نہیں۔ یہ اس نوعیت کا سب سے بڑا کیس ہے۔‘
ڈاکٹر بیئر کے مطابق سو ملکوں میں پھیلے اس کاروبار کے خلاف شواہد اکٹھے کرنا آسان نہیں کیونکہ ان میں سے بہت سے ملکوں کو اس کے ذریعے لاکھوں ڈالر کا فائدہ ہوا ہے۔ اس کے علاوہ ہر ملک کے اپنے قوانین ہیں اور ان سے تعاون حاصل کرنے کے لیے ایک انتہائی مضبوط عزم اور لمبا عرصہ درکار ہے۔
یہ کسی طاقتور کو ڈھیر ہوتے ہوئے دیکھنے کا لطف ہے یا معاشرے میں بدعملی کم کرنے کی خواہش؟ جو بھی ہے، لیکن ایگزیکٹ کے معاملے میں انصاف کی دہائی جس طرح سے پاکستانی میڈیا پر گونج رہی ہے اس کی شاید ہی کوئی مثال ملتی ہو۔
اس میں شک نہیں کہ اپنے کاروباری مفاد اور ’بغض‘ کے باعث ایگزیکٹ کیس کی پیشرفت میں حکومت سے کہیں زیادہ میڈیا دلچسپی لے رہا ہے۔ اور دلچسپ بات یہ ہے کہ جہاں اس کیس کی لمحہ بہ لمحہ رپورٹوں کے علاوہ میڈیا میں اس معاملے پر حکومتی عزم پر تشویش نظر آتی ہے وہیں یہ امید بھی اس معاملے کی بین الاقوامی نوعیت کی وجہ سے ملزم کو مجرم ثابت کرنے کا یا تو کوئی نہ کوئی رستہ نکل آئے گا یا نکال لیا جائے گا۔
تاہم اگر ماضی میں سامنے آنے والے اسی نوعیت کے سکینڈلوں پر نظر ڈالی جائے تو یہی لگتا ہے کہ ابھی جزا سزا کا تعین کرنے میں بہت وقت لگے گا۔ جعلی ڈگریوں کے اس گدلے تالاب میں قانونی پیچیدگیوں کا ایک ایسا سمندر ہوتا ہے جس کی تہہ میں چھپے ثبوت تلاش کرنے کے لیے مہینے نہیں سالہاسال درکار ہوتے ہیں۔
اور اگر آخرکار کسی کو سزا ہو بھی جائے تو وہ سکینڈل کی باز گشت کے مقابلے میں محض ایک سرگوشی سی ہوتی ہے۔

12/3/2016 7:42:13 AM