Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

انسان کی بشری کمزوریاں اور نفسیات


انسان کی بشری کمزوریاں اور نفسیات   تحریر : الطاف حسین (قائد متحدہ قومی موومنٹ)
 Posted on: 5/25/2013
انسان کی بشری کمزوریاں اور نفسیات
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر : الطاف حسین (قائد متحدہ قومی موومنٹ)
انسان پر اپنے اردگرد کے ماحول کے اثرات کس طرح پڑتے ہیں اور جس رنگ میں انسان جاتا ہے وہی رنگ اس پر چڑھ جاتا ہے اس کی بہت ساری مثالیں موجود ہیں جب انسان مشکل حالات سے پرسکون حالات میں اور پریشان کن حالات سے آرام دہ حالات میں داخل ہوتا ہے تو عموماً اپنے ماضی کے حالات کو بھول جاتا ہے اور پھر وہ جن پرسکون حالات ،آرام دہ حالات میں جاتا ہے وہ رنگ اس پر غالب آنے لگتا ہے اگر زندگی اتنی سہل اور آسان ہو کہ انسان کو اگر پیاس لگے تو اپنے اطراف موجود کارکنوں کو نوکروں کو دیکھے اور صرف اشارہ کرے تو پانی کا گلاس اس کے سامنے فوراً ہی آجاتاہے اور جب یہ عادت پڑجائے تو پھر انسان پیاس لگنے کے باوجود اگر ارد گرد نوکر چاکر نہ ہوں تو پیاسا رہنا ہی پسند کرتا ہے کہ بس جیسے ہی نوکر آئے گا یا نوکر چاکر آئیں گے تو میں پانی مانگ کر پی لوں گا یعنی وہ پانی کا گلاس بھرنے کی تکلیف اٹھانا بھی پھر وہ پسند نہیں کرتا اور پھر وہ اس زندگی کو اس رہن سہن کے طریقوں کو Taken for Granted کی صورت میں اس طرح لے لیتا ہے کہ جیسے یہ حالات یہ سکون اور یہ سہولتیں اسے ہمیشہ میسر رہیں گی اور اگراس کے حالات اس کے تبدیل ہوجائیں پرسکون اور آرام دہ حالات سے واپس کٹھن ،مشکل اور پریشان کن حالات آجائیں، تمام کاروبار ختم ہوجائے تمام املاک فروخت ہوجائیں اور انسان قرضوں کے بوجھ تلے اتنا دبتا چلا جائے کہ اس کی باقی ماندہ جائیداد حکومت یا انتظامیہ یا حکومتی ادارے ضبط کرلیں اور اسے سڑک پر نکال پھینکیں تو عموماً ایسے لوگ آرام دہ پرسکون زندگی کے ماحول کے اس طرح اسیر ہو جاتے ہیں آرام دہ ماحول کے پرسکون رہن سہن کے طریقوں کے اس طرح عادی ہوجاتے ہیں کہ ان کی محنت مشقت کرنے کی عادت سرے سے ختم ہوجاتی تو آپ نے کہانیوں میں ناول کے اندر افسانوں میں ایسے بہت سے سچے واقعات پڑھے ہوں گے کہ دیکھو کوئی کسی کو اس طرح بتا تا ہے دیکھو فٹ پاتھ کے اوپر میلی چادر کے اوپر بیٹھا آدمی جسے چلتے پھرتے راہ گیر اس کی حالت دیکھ کر چند سکے چادر پر پھینک جاتے ہیں تو پتہ ہے یہ آدمی کون ہے ؟ تومعلوم ہوتا ہے کہ یہ وہ آدمی تھا جس کے کل محلات تھے ،بہت بڑا کاروبار تھا اورآج یہ بھیک مانگنے پر مجبور ہے کیونکہ وہ پرسکون حالات کا اسیر ہونے کی وجہ سے مجبور ہوتا ہے کسی اور وجہ سے مجبور نہیں ہوتا وہ اگر چاہے تو چادر لپیٹ کر بھیک مانگنے کے بجائے محنت، مزدوری اور مشقت کرکے بھیک کے بجائے اپنی محنت کی روزی روٹی کماسکتا ہے تین وقت کی نہ سہی دو وقت کی روٹی کھا کر پیٹ بھر سکتا ہے لیکن یہاں صرف اس کی آرام دہ پرسکون زندگی عیش و آرام والی زندگی کا ہی عمل دخل نہیں ہوتا بلکہ جیسا کہ میں نے کہا کہ وہ عادی ہوجاتا ہے اس ماحول کا وہاں اس ماحول میں رہنے کے ساتھ ساتھ اس کی انا بھی اس مقام پر پہنچ جاتی ہے کہ کام کرتے ہوئے تو اسے شرم آتی ہے کہ.... میں اس مقام پر رہنے والامیرے ہزاروں ،سینکڑوں میرے نوکر چاکرتھے اور میں آج خود محنت مزدوری کروں۔۔۔ تو اس کی انا بھی اس کے آڑے آجاتی ہے اور وہ بھیک مانگنے کو زیادہ بہتر جانتا ہے نسبتاً محنت و مشقت کرنے کے لیکن جو اپنی انا کے یعنی عیش و آرام کی زندگی میں جس مقام پر وہ تھااور اس مقام پر رہ کر اس کی انا جہاں پہنچ گئی تھی اگر وہ اس کا اسیر نہیں ہوتا ہے اور انانیت کا شکار نہیں ہوتا ہے اور انا کا اسیر ،انا کا غلام نہیں بنتا ہے تو ایسا آدمی پریشان کن حالات میں قدم رکھنے کی باوجود بھیک مانگنے کے بجائے محنت و مشقت کرکے حق حلال کی روزی خواہ وہ دو وقت کی روٹی اسے میسر کراسکے وہ محنت و مشقت کرنے میں عار محسوس نہیں کرتا۔ انسانی نفسیات Human psychologyجو ہے ۔انسانی نفسیات کے تحت عموماً ایسا ہی ہوتا ہے خواہ مقام کتنے ہی ایک دوسرے سے مختلف کیوں نہ ہوں مثال کے طورپر انسان جب کسی تحریک کا کارکن بنتا ہے تو وہ دریاں بچھانے ،زمین میں گڑھے کھودنے ،تنظیم کے کسی بھی جلسے کے انتظامات ہوں کسی بھی پروگرام کے انعقاد کا مسئلہ ہو اس میں کام کرتے ہوئے نہ تو اپنے کپڑوں کی پرواہ کرتا ہے نہ ہی اسے یہ محنت کا کام کمتر درجے یا حقارت کا نظر آتا ہے لیکن عموماً دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ جب کارکن ترقی پاکر کسی ذمہ داری کے منصب پر فائز ہوتا ہے اور کچھ عرصے اس منصب پر رہنے کے بعد مزید اس بڑے منصب پر پہنچتا ہے تو اب اس کا ذہن یہ بنتا ہے کچھ اسی طرح کا بنتا ہے کہ اسے اب اگلے مناصب کی اگلی سیڑھی پھر اس کے بعد اس کی اگلی سیڑھی پر جانا ہے کبھی وہ پلٹ کے یہ نہیں سوچتا کہ مجھے واپس نیچے سیڑھی پربھی جاکر واپس کارکن کی سطح پر آنا ہے اور جب الیکشن کی بنیاد پر نئے ذمہ دارآتے ہیں پرانی ذمہ دار یوں پر کام کرنے والو کی اکثریت کارکن کی حیثیت میں واپس آکر وہ دوبارہ کام کرنے کے لئے اس طرح تیار نہیں ہوتی جو کل تک گڑھے کھودنے دریاں بچھانے کے لئے تیار رہا کرتی تھی اور یہ ہی محنت کے کام کرکرکے انہوں نے آگے مناصب حاصل کئے کیونکہ مناصبء Positionکے بڑھتے بڑھتے اس کی انا بھی بڑھنے لگی ہے اورپھر انا اس درجے پر پہنچ جاتی ہے کہ جہاں وہ کارکن بن کر کام کرنے میں اپنی ذلت رسوائی اور بے عزتی تصور کرتا ہے ۔ زبانی طور پر توہرجگہ ہر ذمہ دار یہ ہی کہتا ہے اور آپ کو یہ ہی کہتاہے نظر آتاہوگا یا آتا ہے کہ میں تو صرف ایک ادنیٗ کارکن ہوں لیکن اس کے منہ سے زبانی ادا کئے جانے والے یہ کلمات کی عملی تصویر عملی شکل میں سامنے دیکھنے میں نہیں آتی اگر وہ اونچے منصب سے کارکن کے منصب پر واپس آئے تو اور کسیOrganisation۔پرائیویٹ Organisationمیں مناصب ملنے کی یہ صورتحال ہو یا کسی اور منصب پر کام کرنے کیلئے عموماً انسان جس منصب پر پہنچ جاتاہے وہ اسے اپنے لئے حتمی سمجھنے لگتاہے اورا س سے نیچے آکر کسی اور منصب پر کام کرنے کے لئے عموماً تیار نہیں ہوتا اب تحریک اور نظریہ جو ہے وہ تو سرے سے چلا جاتاہے اب اس کا نظریہ وہ منصب اور پوزیشن بن کر رہ جاتاہے کیونکہ اگر نظریہ اس کے ذہن پر حاوی ہوتو وہ کارکن بنائے جانے پر بھی یہ سمجھے کہ نظریاتی تحریک میں عہدے وقتی ہوتے ہیں ، نظریہ یانظرئیے کا حصول ہی پہلی اور آخری منزل ہوتی ہے ہر تحریکی اورنظریاتی ساتھی کی یہ سوچ ہوجاتی ہے کہ تحریک مجھے کل فلاں منصب پر بٹھایا آج تحریک نے مجھے کارکن کی صف میں بٹھایا تو تحریک ہی نے مجھے منصب پر بٹھایاتھا۔ تحریک ہی نے کارکن سے منصب دیا ،منصب سے تحریک مجھے کارکن پر لے آئی لہٰذا ہر دونوں صورتوں میں مجھے کام کرنا چاہئے کارکن کے عہدے پر رکھا جائے یا کسی ذمہ داری کے عہدے پر رکھاجائے کیونکہ مقصد میرا عہدوں یا مناصب کا حصول نہیں نظرئیے مشن و مقصد کی کامیابی کا حصول میرا مشن ہے میرا نظریہ ہے میری سوچ ہے میری فکر ہے میرا ایمان ہے۔اسے کہتے ہیں انسانی کی بشری کمزوریاں HUMAN WEAKNESSESانسان کی فطری کمزوریاں۔ 1978ء سے جن چند ساتھیوں نے میرے ساتھ کام شروع کیا تھا تورات رات بھر ہم خود ہی ہاتھ سے Stencilsکاٹا کرتے تھے پمفلٹ کے Stencilsکاٹا کرتے تھے پھر اس کو برنس روڈ لے جاکر اس کے پمفلٹ بنواتے تھے وغیرہ وغیرہ کہنے کا مقصد ہم خود ہی رات رات بھر مل کر چند ہی لوگ کام کیا کرتے تھے اور عموماً کام میرے گھر میں ہو اکرتا تھا اس وقت بھی میں ساتھیوں کے لئے چائے بناتا تھا کھانا پکاتا تھا اور آٹا گوندھتا تھا روٹیاں پکاتا تھا اس وقت الطاف حسین کو کوئی نہیں جانتا تھا ماسوائے دس پندرہ افراد کے لہٰذااس وقت تو الطاف حسین یہ کرلیتاتھا لیکن آج الطاف حسین کو اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے Natiionallyاور Internationallyطور پر پہچانا جاتاہے کم از کم ملک میں تو سب ہی الطاف حسین کے نام سے واقف ہیں لیکن 35سال گزرجانے کے باوجود آج بھی الطاف حسین وقتاًفوقتاً اپنے ہاتھ سے کھانا پکا کر انٹرنیشنل سیکریٹریٹ کے ساتھیوں کو بھیجتاہے ایک باورچی کی حیثیت سے سارے کام کرتا ہے ایک باورچی کی حیثیت سے ایک خادم کی حیثیت سے پیاز بھی کاٹتا ہے ،کھانے کے برتن بھی دھوتا ہے سار کام خود کرتا ہے اور وہ کھانا ساتھیوں کو انٹرنیشنل سیکریٹریٹ بھیجتا ہے تو آج جب اسے اتنے لوگ جانتے ہیں تو آج اس مقام کی جو Egoاور انا ہوتی ہے وہ الطاف حسین کو باورچی کا کام کرنے کی راہ میں رکاوٹ کیوں نہیں بنتی۔ اس لئے کہ جب کل میں نے کام شروع کیا تھا تو نظریہ میرے ذہن پر غالب تھا آج پورے پاکستان میں سب ہی میرے نام سے واقف ہیں اس کا مطلب ہے اللہ تعالیٰ نے بڑی عزت دی بڑا مقام دیا لیکن مقام بڑا ہوگیا مگرمیں نے نظرئیے پر مقام ،نام اور شہرت کوغالب نہیں آنے دیا بلکہ ذہن پر نظریہ ہی کل بھی حاوی تھا آج بھی حاوی ہے یہ ہی وجہ ہے کہ آج الطاف حسین ساتھیوں کو غلام نوکر حقیر نہیں سمجھتا ساتھی سمجھتا ہے کل بھی ساتھی سمجھتا تھا آج بھی ساتھی سمجھتا ہے۔پاکستان کا کون سا صدر یا پرائم منسڑ ایسا ہو گا جس سے الطاف حسین کی ملاقات نہ ہوئی ہو۔۔۔جو اپنی مدد کے لئے Political support کے لئے الطاف حسین کے پاس نہ آیا ہو تو الطاف حسین کا دماغ خراب نہیں ہوا۔ اکثریت میں انسان مناصب کی منزلیں طے کرنے کے بعد اناکی بلندیوں پر اورسیڑھیوں پر چڑھ جاتا ہے تو الطاف حسین کا ذہن بلندیوں پر پہنچنے کے باوجود، الطاف حسین کی انا بلندیوں اور بلند سیڑھیوں پر کیوں نہ پہنچی اس لئے کہ الطاف حسین کی نظر میں الطاف حسین کی سوچ و فکرمیں، روح میں، ایمان میں نظریہ کل بھی اول تھا اور آج بھی نظریہ اول ہے۔ ہمارے 35سا لہ تجربات کیا کہتے ہیں مختلف شعبہ جات میں ذمہ داریوں پر پہنچنے کے بعد اکثریت میں ذمہ دارو ں کے دماغ خراب ہوجاتے ہیں گفتگو کا انداز بدل جاتا ہے چا ل میں فرق آجاتاہے لہجے میں فرق آجاتا ہے اور انداز گفتگو تبدیل ہوجاتا ہے،مخاطب کرنے کا انداز ساتھیوں جیسا نہیں بلکہ حاکمانہ ہوجاتا ہے ۔اکثریت کا یہی عمل ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ان کا نظریاتی غلاف بہت باریک جھلی کی مانند ہوتا ہے یا انتہائی خستہ نازک کپڑے کی مانند ہوتا ہے کچے دھاگے کی مانند ہوتا ہے جیسے ہی وہ انسان کسی بلند مقام پر پہنچنا شروع ہوتا ہے یہ مقام ہی اس کے نظریاتی لباس کو تار تار کرڈالتے ہیں۔ اور دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ بڑے بڑے مقام پر پہنچنے والوں کی اکثریت کسی نظریاتی تحریک امتحانات یا مشکلات میں چھوڑ کر یا تو چلی جاتی ہے یا تحریک کے دشمنوں سے جاکرمل جاتی ہے۔حالات سے گھبراکر دشمنوں سے ملنے والوں کی اکثریت وہ ہوتی ہے جو بڑے بڑے مقام رکھتی ہے لیکن عام کارکنوں کی نہیں ہوتی۔کیونکہ کارکن غور سے سنتا ہے اور ذمہ دار جو ہے فکری نشست کے دوران عموماً سو جاتا ہے۔سیکریٹریٹ میں فکری نشست کے دوران کوئی سو گیا تھا اور سارے کارکن جو ہیں وہ بے چارے لکھ رہے ہیں کوئی غورسے سن رہے تھے اور ذمہ دارخواب و خرگوش کے مزے لے رہے ہیں یہی ہے کارکن اور ذمہ دار کا فرق۔۔۔ الطاف حسین جو کہتا ہے قدرت ویسا ہی دکھاتی ہے فوراً دکھاتی ہے۔ تو جب ذمہ داران کی اکثریت سوئے گی تو کڑے اور مشکل وقت میں پہلے وہ ہی بھاگے گی اور کارکن جو غور سے سنتاہے کڑے اور برے وقت میں وہ ہی الطاف حسین کا دست وبازو بنا رہتا ہے۔ 
میرے ساتھیوں اپنے نظریاتی لباس کو اپنے نظریاتی غلاف کو ایسے مضبوط دھاگے کے بنے کپڑے جیسا بنائیے جو نہ بارش سے متاثر ہوسکے اور جس میں آگ نہ لگ سکے جس کو کوئی پھاڑ نہ سکے جس کو کوئی توڑنہ سکے اتنے مضبوط اور نظریاتی غلاف میں اپنے آپ کو بند کرلیجئے تاکہ کوئی سازشی آندھی ہو ،سازشی آگ ہو،سازشی طوفان ہو، سیلاب ہو وہ نہ آپکوبہا کے لے جاسکے نہ آپ کی نظریاتی سوچ کو آگ لگاسکے۔ ساتھیوں 35سالوں سے آپ نے سب کو دیکھ لیا ہے ساری چیزیں ساری آزمائشیں آپ کے سامنے آچکی ہیں کس طرح سہل پسند اور آرام دہ زندگی میں آجانے والے افراد تحریک کو اپنے مفاداور ذاتی مفاد کا ذریعہ بنانے والے تو حالات کے جبر کا سامنا کرنیکے کے بجائے بک جایا کرتے ہیں لیکن نظریاتی مشن اورکو مقصد کو اپنا ایمان بنانے والے جان دے دیتے ہیں مگر اپنے ضمیر کا اور اپنے نظرئیے کا سودا نہیں کرتے جس طرح بہت سے ساتھیوں کی اکثریت ماضی یعنی 19،جون 1992ء کو جو آپریشن ہوا اور اس کے بعد Extra judicial killingساتھیوں کے ماورائے عدالت کے قتل ہوئے ہزاروں ساتھی شہید کئے گئے بے گھر کئے گئے بیدخل کئے گئے لاپتہ کئے گئے لیکن ساتھیوں نے تمام سازشوں کا مقابلہ کیا اورشہید ساتھیوں کے لہو کا سودا نہیں کیا۔نظریاتی مشن کا جو ایمان ہے اسے اور زیادہ مضبوط کرو کیونکہ ہمارا نظریہ سچائی کا نظریہ ہے ،ہمارا نظریہ وہ نظریہ ہے جو اللہ کے تمام نبیوں نے انسان کی فلاح اور بقاء کے لئے انسانوں تک اللہ کا پیغام پہنچایا انہی انبیاء کی تعلیمات عام کرنے کا مشن ایم کیوایم لے کر چل رہی ہے سچائی کی تبلیغ انصاف کے نظام کا قیام سب کے ساتھ مساویانہ سلوک اور چھوٹے بڑے کی تفریق کا خاتمہ سب کی عزت برابر ہو سارے نیک لوگوں کا، انبیاء اکرام کااور صوفیاء اکرام کا یہی پیغام رہا ہے کہ انسانیت کی عزت ،انسانیت کی فلاح ،انسانیت کی خدمت بلا امتیاز رنگ و نسل و زبان و مذہب کی جائے۔
آپ جس مقام پوزیشن پر جس منصب پر کیوں نہ ہوں آپ سے میں requestکرتا ہوں اپیل کرتا ہوں کہ اپنا نظریاتی حصار اتنا مضبوط بنالیں کہ آپ کا مقام منصب کتنا ہی بلند کیوں نہ ہوں مگر اس کے ساتھ آپ کی انا کبھی بلند نہیں ہونی چاہئے آپ کسی بھی منصب ٓ پر ہو ںآپ کا نظریاتی عمل یہی ہونا چاہئے کہ آپ کارکن تھے اور کارکن رہیں میں سمجھتا ہوں کہ اگر آپ اس پر عمل کریں گے تو اپنے منصب کے ساتھ ساتھ اپنی آخری سانس تک ثابت قدم رہنے والوں کی فہرست میں شامل رہیں گے۔

12/7/2016 6:30:15 AM