Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

مسائل پر آوازاٹھاتا تھا تواسٹیبلشمنٹ نے لاہورہائیکورٹ کے ذریعے ستمبر 2015ء میں میری تحریر وتقریرکی نشرواشاعت پر غیرآئینی وغیرقانونی پابندی عائد کردی


 مسائل پر آوازاٹھاتا تھا تواسٹیبلشمنٹ نے لاہورہائیکورٹ کے ذریعے ستمبر 2015ء میں میری تحریر وتقریرکی نشرواشاعت پر غیرآئینی وغیرقانونی پابندی عائد کردی
 Posted on: 8/29/2026

پمزاسپتال اسلام آباد میں نومولو د بچوں کی ہلاکتوں کے سانحے کی ابھی تک تحقیقات سامنے نہیں آئی ہیں کہ 14 معصوم بچے کیسے اورکیوں جل کر جاں بحق ہوگئے؟ نرسری کے دروازے کیوں بند تھے؟ فائرایگزٹ کیوں بند تھے؟ Fire Extinguisher سمیت فائرسیفٹی کے انتظامات کیوں نہیں تھے؟ اہم نکتہ یہ ہے کہ کیا پمز اسپتال اسلام آباد میں آتشزدگی کے واقعے کی اطلاع دینے والا فائرالارم سسٹم موجود تھا؟ اگرتھا تواس وقت اس کااستعمال کیوں نہیں ہوا؟ آتشزدگی کے اس المناک واقعہ کی صورت میں ڈاکٹروں، پیرا میڈیکل اسٹاف اوراسپتال کے دیگر عملے کا کیا فرض تھا؟ اسپتال میں آگ لگنے کے واقعے کے بعد ڈاکٹروں، نرسز اور دیگر اسٹاف کو سب سے پہلے بچوں کے وارڈ کی جانب بھاگنا چاہیے تھا یا نومولود بچوں کوچھوڑکرباہر بھاگ جانا چاہیے تھا ؟ بڑی عمر کے مریض تو مدد کیلئے آواز دے سکتے ہیں، چل پھر سکتے ہیں لیکن نومولود بچے نہ تو کسی کو پکارسکتے ہیں اورنہ ہی چل پھر سکتے ہیں، پھراسپتال کے ڈاکٹروں اوراسٹاف میں سے کسی کویہ خیال کیوں نہ آیا کہ نومولود بچوں کو آگ سے بچایاجائے؟ اتنے بڑے سانحے کے باوجودپمز اسپتال کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی، کیونکہ معلوم ہوا ہے کہ وہ موجود ہ حکومت کی بہت ہی بااثر شخصیت کے لاڈلے ہیں، تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کیلئے سپریم کورٹ آف پاکستان احکامات دیئے کہ انہیں دو دن کے اندرشفاانٹرنیشنل اسپتال میں شفٹ کیا جائے، ان کا مکمل طبی معائنہ کرایا جائے اورماہرڈاکٹروں پر مشتمل میڈیکل بورڈ تشکیل دیا جائے لیکن حکومت نے سپریم کورٹ کے احکامات کی واضح خلاف ورزی کرتے ہوئے انہیں پمزاسپتال لے گئے جہاں نہ بجلی تھی، نہ ای سی جی مشین دستیاب تھی اور سی ٹی اسکین مشین خراب تھی۔ اسپتال کی انتظامیہ نے عمران خان کا بلڈ پریشر چیک کیا اوران کی آنکھ میں انجیکشن لگاکر دوبارہ جیل منتقل کردیا۔ پمزاسپتال لے جانا عمران خان کونقصان پہنچانے کی سازش تھی، اللہ کا کرم ہوا کہ لوگوں کواس سازش کا پتہ چل گیا اور انہوں نے وہاں پہنچ کر سازش کو ناکام بنادیا۔ عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال سے پمزاسپتال کیوں لے جایا گیا اوردوبارہ اڈیالہ جیل کیوں منتقل کیا گیا یہ بظاہر چھوٹے چھوٹے سوالات ہیں لیکن کیا یہ قابل غورنہیں ہیں؟
کشمیرکا مسئلہ سامنے ہے، پرامن احتجاج کرنے والے کشمیریوں پر گولیاں چلا کرکس طرح 100 سے زائد کشمیریوں کو قتل کردیا گیا اوراب عوامی جوائنٹ ایکشن کمیٹی کو بھارت اوررا کا ایجنٹ کہا جارہا ہے۔ اسی قسم کے الزامات پی ٹی آئی اورعمران خان پر بھی لگائے گئے۔ 
گزشتہ روز بلوچستان کی 9 خواتین کے سروں کی دس دس لاکھ روپے قیمت مقرر کی گئیں لیکن پھربھی بلوچوں کاعزم ہے کہ،
 ہمارے سر کی عزیزو!  لگا کرے قیمت
ہمارا پھربھی یہ نعرہ ہے سراٹھا کے چلو
اسلام آباد میں سرحد یونیورسٹی میں طلبہ وطالبات کے ساتھ مارپیٹ کرنے اوران پر گولی چلانے والے فوجی افسر کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے پرامن احتجاج کرنے والے طلباء کے خلاف ایف آئی آر کاٹ دی گئی اور انہیں گرفتارکرکے پابند سلاسل کردیا گیا۔اس صورتحال میں کون پاکستان اور اس نظام کے حق میں نعرہ لگائے گا؟
 ریاست ماں کی طرح ہوتی ہے لیکن دنیا میں وہی ملک قائم رہتے ہیں جواپنے شہریوں کو ماں کی طرح تحفظ فراہم کرتے ہیں اورماں اپنے بچوں کے تحفظ کیلئے جان کی بازی لگا دیتی ہے لیکن ہمارے ہاں ایسا عمل نہیں ہوتا۔ 
صوبہ خیبرپختونخوا کے پشتون عوام کوسوچنا چاہیے کہ ان کے صوبے میں کالج اوریونیورسٹی بنانے کے بجائے جہادی  مدرسے کس نے کھولے؟ KPK میں ڈرون حملے کیے گئے اوردہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی آڑ میں مختلف ناموں سے فوجی آپریشن کیے گئے،جن کے دوران لاکھوں پشتونوں کو ان کے بسے بسائے گھروں سے بیدخل کرکے اپنے ہی وطن میں IDPs بناکر کیمپوں میں رہنے پر مجبور کیا گیا، KPK میں آپریشن کے دوران فوج نے بمباری کرکے ہزاروں پشتونوں کو شہید کردیا گیا مگرابھی تک صوبے سے دہشت گردی ختم نہیں ہوئی، آخر کیوں؟تازہ ترین اطلاعات ہیں کہ KPK کی پولیس کی اکثریت نے متعدد جگہوں پر کسی قسم کی کارروائی کرنے سے معذرت کرلی ہے کیونکہ وہ کہتے ہیں کہ ہم دہشت گردوں کو پکڑتے ہیں تو فوج کے اعلیٰ افسران ہم سے کہتے ہیں کہ انہیں چھوڑدیا جائے کیونکہ یہ پاکستان کے مفاد کیلئے کام کررہے ہیں۔ آخر ملک میں یہ کیا ہورہا ہے؟
ہم نے مہاجروں کے ساتھ کی جانے والی ناانصافیوں، حق تلفیوں اور ظالمانہ ریاستی آپریشن کے خلاف 1994ء میں بیرسٹرڈاکٹرفاروق حسن کے ذریعے سپریم کورٹ میں آئینی پٹیشن دائر کی تھی لیکن آج تک اس کی سنوائی نہیں کی گئی۔ 
میں انہی مسائل پر آوازاٹھاتا تھا تواسٹیبلشمنٹ نے لاہورہائیکورٹ کے ذریعے ستمبر 2015ء میں میری تحریر وتقریرکی نشرواشاعت پر غیرآئینی وغیرقانونی پابندی عائد کردی۔یہ پابندی چھ ماہ کیلئے تھی لیکن 11 سال ہونے کے باوجود یہ پابندی آج تک جاری ہے۔ عمران خان کے دور حکومت میں بھی یہ پابندی جاری رہی۔ دوسری طرف جب سے عمران خان کی حکومت ختم ہوئی اورانہیں عدالت کے کمرے سے گرفتارکیا گیا، میں آج تک اپنی ہر تقریرمیں عمران خان اورانکے رہنماؤں کی رہائی کے لئے مطالبہ کرتا ہوں۔ آج بھی عمران خان اوران کی فیملی کے ساتھ کی جانے والی زیادتیوں اورانتقامی کارروائیوں کے خلاف اگرپورے پاکستان میں کوئی ڈٹ کرآواز اٹھاتا ہے تو وہ الطاف حسین ہے۔حالانکہ پی ٹی آئی کے کسی لیڈرکویہ آج تک توفیق نہیں ہوئی کہ وہ اس کااعتراف کرتے۔میں نے اپنی پوری زندگی پاکستانی عوام کے حقوق کے لئے جدوجہد میں گزاردی۔ میں 34سالوں سے لندن میں جلاوطن ہوں لیکن آج تک پاکستان کے کسی سیاسی لیڈرنے اس پرآوازنہیں کہ الطاف حسین کا پاکستانی پاسپورٹ بنایا جائے اوراس پر عائد تمام پابندیاں ختم کی جائیں۔ 


الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 458  ویں ہنگامی فکری نشست سے خطاب
28، اگست2026ء



8/30/2026 10:48:24 AM