Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

سعودی عرب اوریمن کی جنگ میں پاکستان کی فوج کوبالکل استعمال نہ کیا جائے۔ الطاف حسین


  سعودی عرب اوریمن کی جنگ میں پاکستان کی فوج کوبالکل استعمال نہ کیا جائے۔ الطاف حسین
 Posted on: 9/14/2026

 سعودی عرب اوریمن کی جنگ میں پاکستان کی فوج کوبالکل استعمال نہ کیا جائے۔ الطاف حسین

سعودی عرب اوریمن کے حوثیوں کے درمیان جنگ میں نہایت شدت آگئی ہے اور صورتحال اس قدر  نازک ہوچکی ہے کہ امریکہ کے صدرڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اس جنگ میں حوثیوں کے خلاف سعودی عرب کی مدد کرنے سے انکار کردیا ہے۔ لہٰذا میں عوام کا مطالبہ فیلڈ مارشل عاصم منیرصاحب کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں کہ سعودی عرب اوریمن کی جنگ میں پاکستان کی فوج کوبالکل استعمال نہ کیا جائے۔ 
میں سمجھتا ہوں کہ سعودی عرب اوریمن کے حوثیوں کے درمیان جنگ کے باعث پاکستان بھی ایک طرح کے بھنورمیں پھنس گیا ہے کہ کیونکہ پاکستان، سعودی عرب اورترکی کے ساتھ مکہ معاہدہ (Mecca Accord) پر دستخط کرچکا ہے جس کی رو سے  اگرکسی تینوں میں سے کسی بھی ملک پر کوئی حملہ ہوتا ہے تووہ تینوں ملکوں پر حملہ تصور ہوگا۔ پاکستان کے لئے مسئلہ یہ آن پڑا ہے کہ اب سعودی عرب اس مکہ معاہدے کے تحت پاکستان سے کہہ رہا ہے کہ وہ یمن کے حوثیوں کے خلاف جنگ میں سعودی عرب کا ساتھ دے۔ میں نے اپنی نشست میں بھی عوام سے رائے لی ہے، آج کوئی بھی محب وطن پاکستانی نہیں چاہتا کہ پاکستان سعودی عرب اوریمن کی جنگ کا حصہ بنے اورپاکستان کی افواج یمن میں حوثیوں پر حملہ آور ہو ں۔ پاکستان کوسعودی عرب سے کئے گئے معاہدے پر بھی دوبارہ غورکرنا چاہیے۔ پاکستان کوسب سے پہلے اپنے مفاد کودیکھنا ہوگا۔
ہمیں سوچنا ہوگا کہ امریکہ اورروس کے درمیان سرد جنگ کے دوران بھی ایسی ہی صورتحال آئی تھی،اس وقت پاکستان کے جرنیلوں نے اس سردجنگ میں افغانستان میں روس کے خلاف امریکہ کا ساتھ دیا، روس کے خلاف جنگ کا مرکز پاکستان بنا، امریکہ کے کہنے پر پاکستان میں افغان مجاہدین تیار کئے گئے، جہادی مدرسے قائم کئے گئے جہاں نوجوانوں کی برین واشنگ کرکے اورانہیں جنگی تربیت دیکر روس کے خلاف افغانستان بھیجا گیا، جہادی تنظیمیں بنائی گئیں، طالبان بنائے گئے، جہادی مدرسوں میں ان کی برین واشنگ کرکے انہیں خودکش حملوں کے لئے تیار کیا گیا، الطاف حسین نے اس وقت بھی اس پالیسی کی مخالفت کی تھی اورکہا تھا کہ پاکستان کوپرائی جنگ میں نہ جھونکیں، میں نے متنبہ کیا تھا کہ اس پالیسی سے پاکستان پر بہت بھیانک اثرات پڑیں گے، آپ جو طالبان بنارہے ہیں، وہ کل مونسٹربن کرآپ ہی کوکھائیں گے۔ یہی ہواکہ اس افغان جنگ کے دوران پاکستان میں کلاشنکوف اورجدید اسلحہ آیا، ہیروئن اورمنشیات عام ہوئی۔ روس کی شکست کے بعد امریکہ تو افغانستان سے واپس چلا گیا اس کے بعد وہی طالبان جوکل تک افغانستان میں خودکش دھماکے کررہے تھے انہوں نے فرینکسٹائن مونسٹربن کر پاکستان میں بڑے پیمانے پر خودکش حملے، بم دھماکے اور دہشت گردی کی کارروائیاں شروع کردیں، مساجد، امام بارگاہیں اورداتا دربارسمیت بزرگان دین کا کوئی بھی مزارخودکش حملوں سے محفوظ نہ رہا اوران حملوں میں سینکڑوں جانیں ضائع ہوئیں، صرف یہی نہیں بلکہ طالبان نے فوج کے مراکز تک کوبھی نشانہ بنایا۔
ہم نے طالبان کی طرزپر دیگرجہادی تنظیمیں بنائیں انہیں کشمیربھیجتے رہے،وہ وہاں جانیں دیتے رہے لیکن جب انڈیا نے انڈین کشمیرکواپنے ساتھ ملالیا توہم نے خاموشی اختیارکرلی۔ اسی پالیسی کے نتیجے میں پاکستان پر انگلیاں اٹھتی ہیں۔ انڈیا میں ہونے والی BRICS کانفرنس میں بھی چائنا سمیت تمام ممالک نے پہلگام واقعہ کی مذمت کی ہے۔ انڈیا، پاکستان کی حالیہ جنگ میں پاکستان کا بھی نقصان ہوا لیکن عوام کوتصویرکا ایک ہی رخ دکھایا گیا۔ آج افغانستان میں طالبان کی حکومت ہے لیکن افغانیوں کے بارے میں موجودہ پالیسی کی وجہ سے افغان طالبان سے بھی ہماری لڑائی جاری ہے، میں سمجھتا ہوں کہ ہمیں برسوں تک ایک دوسرے سے جنگیں کرنے والے یورپی ممالک کی مثال کوسامنے رکھنا چاہیے اور یورپی یونین کی طرزپر جنگوں کا خاتمہ کرکے پڑوسی ممالک کی یونین بنانی چاہیے تاکہ خطے میں امن قائم ہوسکے۔ 

الطاف حسین 
ٹک ٹاک پر 470  ویں فکری نشست سے خطاب
13 ستمبر 2026ء



9/15/2026 12:05:49 PM