Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

تمام وفاپرست کارکنان کے نام


تمام وفاپرست کارکنان کے نام
 Posted on: 12/3/2019
تمام وفاپرست کارکنان کے نام
عزیزتحریکی ساتھیو!!
آداب عرض
آپ، قائد تحریک الطاف حسین بھائی کی 43 سالہ زندگی کے ایک ایک لمحہ کی مصروفیات اورقوم کیلئے ان کی قربانیوں سے نہ صرف اچھی طرح واقف ہیں بلکہ آپ خود گواہ بھی ہیں۔ الطاف حسین بھائی بارہا وقتاً فوقتاً یہ حقائق آپ تمام ساتھیوں کے علم میں بھی لاتے رہے ہیں ۔آج مجبوراً مجھے آپ تمام ساتھیوں کو ایک مرتبہ پھر یہ باتیں انتہائی اختصار کے ساتھ دہرانے کی ضرورت پیش آرہی ہے تاکہ آپ تمام ساتھی معاملے کی نزاکت کو سمجھ سکیں اور اپنا قومی فریضہ ادا کرنے کے بارے میں اپنا اپنا جائزہ لے سکیں اور اپنا اپنا محاسبہ بھی کرسکیں۔
ساتھیو!
 بابائے مہاجرقوم اور بانی وقائد تحریک جناب الطاف حسین نے مہاجرقوم کے حقوق کی جدوجہد میںاپنا گھربار، جوانی کے بہترین ایام ، خواہشات اورتمنائیں ہرچیزکو قربان کردیا۔ 43 سالہ جدوجہد میں قائد تحریک جناب الطاف حسین نے اپنی ذات یا خاندان کے بجائے مہاجرقوم کے اجتماعی مفادات کے حصول پرتوجہ مرکوز رکھی اورآج کے دن تک مرکوز رکھی ہوئی ہے ۔ قائدتحریک جناب الطاف حسین نے 1987ء کے بلدیاتی انتخابات سے لیکر 2013ء کے عام انتخابات تک ہرالیکشن میں اپنے بھائی بہن یا بھانجے بھتیجے کے بجائے تحریک کے تعلیم یافتہ اور باصلاحیت کارکنان کو انتخابات میں حصہ لینے کاموقع دیا ، عام کارکنان کو میرٹ کی بنیاد پر گورنر، وفاقی وصوبائی وزیر،مشیر، رکن قومی اسمبلی ، رکن صوبائی اسمبلی اورمیئر وڈپٹی میئربنایا۔
جناب الطاف حسین بھائی نے لاکھوں کارکنان کو عزت ، شہرت اور مقام دیاجس کے باعث ان کا طرز زندگی تبدیل ہوگیا اور زندگی گزارنے کی آسائشیں میسر آگئیں۔جلاوطنی کے دوران بھی الطاف حسین بھائی نہ صرف شہیدوں کے لواحقین کی کفالت کرتے رہے بلکہ شادی بیاہ، تعلیمی اخراجات، رہائش یا دیگر معاملات میں ہرضرروت مند ساتھی کی اپنافرض سمجھ کر مدد بھی کرتے رہے ۔اسی طرح تحریک کی بدولت ہزاروں کارکنان کواپنے بیوی بچوں سمیت امریکہ، کینیڈا،برطانیہ ، آسٹریلیا، ساؤتھ افریقہ، بیلجئم، جرمنی اور دنیا کے دیگر ترقی یافتہ ممالک میں زندگی گزارنے کا موقع ملا۔آج وہ تمام ساتھی بیرون ملک اچھی ملازمت یابحسن وخوبی محنت ومشقت کررہے ہیں اور ان کے بچے بہترین اسکولوں میں اعلیٰ تعلیم حاصل کررہے ہیں ۔
اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر ایمانداری سے بتائیں کیا اس کے بدلے میں کبھی قائد تحریک جناب الطاف حسین نے کسی ایک بھی شخص سے اپنے یا اپنے خاندان کیلئے کوئی مفاد حاصل کیا؟کیا جن ساتھیوں کو ترقی یافتہ ممالک میں آنے اور بہترین زندگی گزارنے کا موقع مل رہا ہے ان سے الطاف حسین بھائی نے اپنی ذات کیلئے کبھی کوئی مطالبہ کیا؟
1992ء میں الطاف حسین بھائی کو تحریک اور قوم کی خاطر برطانیہ میں جلاوطنی کی کربناک زندگی گزارنے پر مجبور ہونا پڑالیکن الطاف حسین بھائی نے جلاوطنی کے دوران بھی دیگر سیاسی رہنماؤں کی طرح پرتعیش اورآرام دہ زندگی گزارنے کے بجائے صرف مہاجرقوم کیلئے اپنا گھربار، آرام سکون ہرچیز قربان کردی، جلاوطنی میں رہتے ہوئے بھی الطاف حسین بھائی نے اپنے کارکنان وعوام سے ایک لمحہ کیلئے بھی اپنارابطہ منقطع نہیں کیا اور مہاجرقوم کے حقوق کی جدوجہد جاری رکھی جوکہ آج کے دن تک جاری ہے ۔مہاجرقوم کے حقوق کی جدوجہد کی پاداش میں ہی الطاف حسین بھائی پر برطانیہ میں جھوٹے مقدمات قائم کیے گئے، الطاف حسین بھائی نے پاکستان میں جن ذمہ داران پربھروسہ کیاانہوںنے22 اگست 2016ء کے بعد الطاف حسین بھائی سے لاتعلقی اختیارکرلی اور تحریک کے اثاثوں پر قابض ہوگئے اسی طرح برطانیہ میں بھی بعض ذمہ داران نے تحریک کے اثاثوں پر قبضہ کررکھا ہے لیکن ان حالات میں بھی الطاف حسین بھائی پرعزم اور حوصلہ مند ہیں اوران کی جدوجہد جاری ہے۔مالی مشکلات کے باعث وکلاء کی فیس کی ادائیگی، شہداء کے لواحقین کی خبرگیری، لاپتہ اور اسیر 
2
ساتھیوں کے اہل خانہ کی دیکھ بھال اور تنظیمی اخراجات کی تمام تر ذمہ داری قائد تحریک الطاف حسین بھائی کے کاندھوں پر ہے، جب آمدنی کا کوئی ذریعہ نہ ہو تو الطاف حسین بھائی تنظیمی اخراجات پورے کرنے کایہ سلسلہ کب تک جاری رکھ سکتے ہیں؟ ایک جانب آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں اور دوسری جانب تنظیمی اخراجات کا وہی سلسلہ ہو تو آپ خود سوچیں کہ مالی مشکلات کی نوعیت کیا ہوسکتی ہے؟آج صورتحال یہ ہے کہ انٹرنیشنل سیکریٹریٹ میں فرائض ادا کرنے والے ساتھیوں کو گزشتہ سات ماہ سے وظیفہ نہیں دیاجارہا ہے ،مالی بحران کے سبب الطاف حسین بھائی نے اپنے ذاتی اخراجات میں بھی بڑی حد تک کٹوتی کردی ہے حتیٰ کہ اپنی حفاظت پر مامور سیکوریٹی گارڈز ہٹادیے ہیں ، سیکوریٹی کے فرائض رابطہ کمیٹی کے ارکان اور ایم کیوایم برطانیہ یونٹ کے ساتھی انجام دے رہے ہیں، تنظیمی اخراجات کے سلسلے میں ایم کیوایم امریکہ ، کینیڈا، برطانیہ اوردیگر ممالک میں ملازمت کرنے والے وفاپرست ساتھی ہرمہینے اپناپیٹ کاٹ کراپنی بساط کے مطابق بھرپور تعاون کررہے ہیں جوکہ لائق تحسین ہے لیکن بیرون ملک پرآسائش زندگی گزارنے والے ان حالات میں بھی بے حسی کا مظاہرہ کررہے ہیں ۔
ساتھیو!!
ان حالات میں انتہائی افسوس سے کہناپڑتا ہے کہ جن افراداور ان کے خاندانوں کی الطاف حسین بھائی نے زندگیاں بدل دیں وہ کٹھن ، مشکل اورآزمائش کے مرحلے میں اس طرح بدل گئے جیسے الطاف حسین بھائی ، تحریک اور قوم سے ان کاکوئی واسطہ ہی نہ ہو۔ جس شخص نے ماں اورباپ بن کرجن لوگوں کو اولادوں کی طرح پالا پوسا، پڑھایالکھایا، قابل بنایااور مقام دیا آج وہ اولادیں اپنی اپنی زندگیوں میں مگن ہوکر اپنافرض بھول گئی ہیں۔ خدا کی قسم یہ بات کہتے ہوئے دل خون کے آنسو رونے لگتا ہے اور کلیجہ منہ کو آنے لگتا ہے کہ جس شخص نے اپنے ہاتھوں سے اربوں کھربوں روپے تقسیم کیے انہیں آج اپنے ساتھیوں سے مالی تعاون کی اپیل کرنی پڑرہی ہے ۔الطاف حسین بھائی وفاپرست ساتھیوں سے اپنی ذات کیلئے تو کچھ نہیں مانگ رہے ہیں۔ برطانیہ میں جن مقدمات کاالطاف حسین بھائی کو آج سامنا کرنا پڑ رہا ہے یہ تمام مقدمات مہاجرقوم کے حقوق کی جدوجہد کرنے کی پاداش میں ہی قائم کیے گئے ہیں ،ایک لمحہ کیلئے تصور کریں کہ اگر الطاف حسین بھائی اپنے نظریہ، کاز، مشن ومقصداور قوم کا سودا کرلیتے اوراسٹیبلشمنٹ کی ہرناجائز بات مان لیتے اوردیگر سیاستدانوں کی طرح زندگی گزارنے پر راضی ہوجاتے تو کیا انہیں برطانیہ میں جلاوطنی کی کربناک زندگی گزارنے کی ضرورت پیش آتی؟ کیا الطاف حسین بھائی کے پورے خاندان کو دربدری کی زندگی گزارنی پڑتی؟کیا ان کے بھائی اور بھتیجے کو شہید کیاجاتا؟کیا الطاف حسین بھائی پرمقدمات قائم ہوتے؟برطانیہ میں الطاف حسین بھائی کو جن مقدمات کا سامنا ہے وہ ان کے ذاتی نہیں ہیں ، الطاف بھائی نے اپنی ذات کو فنا کرکے پوری زندگی قوم کا مقدمہ لڑا ہے کیا اب قوم کا فرض نہیں کہ وہ ان مشکل حالات میں اپنے محسن الطاف حسین بھائی کا مقدمہ لڑے اور وکلاء کی فیس کی ادائیگی میں اپنابھرپورکردار ادا کرے ؟
میری تمام وفاپرست ساتھیوںسے ہاتھ جوڑ کر درخواست ہے کہ وہ تنظیمی اخراجات کے سلسلے میں نہ صرف اپنے اپنے ذمہ داران سے بات کریں بلکہ خود بھی بھرپورتعاون کریں کیونکہ ہم سب کو فرمانبردار اولاد کا فرض نبھاناچاہیے اور فرمانبرداری کا تقاضا ہے کہ اب الطاف حسین بھائی کا مقدمہ پوری قوم لڑے اور اس سلسلے میں بھرپورمالی تعاون کرے۔مجھے اللہ تعالیٰ کی ذات سے امید ہے کہ تمام وفاپرست ساتھی میری اس مؤدبانہ درخواست پر ہمدردی سے غور کریں گے ۔ اگر میرے کسی جملے یا لفظ سے کسی ساتھی کی دل آزاری ہوئی ہو تو میں پیشگی معذرت خواہ ہوں۔آپ کے بھرپورتعاون کا پیشگی شکریہ۔
قاسم علی رضا
ڈپٹی کنوینر،رابطہ کمیٹی 
ایم کیوایم انٹرنیشنل سیکریٹریٹ  لندن
3، دسمبر2019ئ


8/5/2020 8:08:49 PM