Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

27دسمبر 2007کو آگ اورخون کی ہولی ایک طے شدہ سازش کاحصہ تھاجس میں آصف زرداری، طالبان کا بیت اللہ محسودگروپ اورآئی ایس آئی ملوث تھے۔الطاف حسین


 27دسمبر 2007کو آگ اورخون کی ہولی ایک طے شدہ سازش کاحصہ تھاجس میں آصف زرداری،  طالبان کا بیت اللہ محسودگروپ اورآئی ایس آئی ملوث تھے۔الطاف حسین
 Posted on: 12/29/2019

27دسمبر 2007کو آگ اورخون کی ہولی ایک طے شدہ سازش کاحصہ تھاجس میں آصف زرداری، 
طالبان کا بیت اللہ محسودگروپ اورآئی ایس آئی ملوث تھے۔الطاف حسین
 آگ اورخون کی ہولی کھیلنے کیلئے پیپلزپارٹی کے دہشت گردوںاورآئی ایس آئی کے ایجنٹوںمیں مخصوص کیمیکلز، پاؤڈر
 اوراسلحہ پہلے ہی فراہم کردیاگیاتھا
 تین روز تک آگ اورخون کی ہولی کھیلی جاتی رہی لیکن حسب روایت فوج ،رینجرز سارے ادارے غائب تھے
  بینظیربھٹوکاقتل راولپنڈی میں ہواتھا پھر کراچی ، حیدرآباداورسندھ کے شہری علاقوںمیں آگ اورخون کی ہولی کیوں کھیلی گئی؟ 
سندھی وڈیرے سندھ کے دوست نہیں بلکہ اسٹیبلشمنٹ کے ایجنٹ ہیں،یہ سندھیوںکے خیرخواہ نہیں ہیںتو
مہاجروں کے خیرخواہ کس طرح ہوسکتے ہیں۔الطاف حسین
اللہ تعالیٰ سندھیوںاورمہاجروںکوعقل سلیم عطا فرمائے کہ وہ پنجابی اسٹیبلشمنٹ سے نجات کیلئے مشترکہ جدوجہد کریں 
اورایک دوسرے کے زخموںپر مرہم رکھیں۔الطاف حسین
 قائدتحریک الطاف حسین کی 27دسمبر 2007ء کے سانحہ کی بارہویں برسی پر پیغام اور '' وی آر الطافسٹ '' کے پروگرام میں خصوصی گفتگو

لندن۔۔۔29، دسمبر2019ئ
متحدہ قومی موومنٹ کے بانی وقائد جناب الطاف حسین نے کہاہے کہ 27دسمبر کاسانحہ ایک طے شدہ سازش کاحصہ تھاجس میں تین قوتیں ملوث تھیں جن آصف زرداری، طالبان کا بیت اللہ محسودگروپ اورآئی ایس آئی شامل تھیں۔ 27دسمبر2007ء کو تین ر وز تک قتل وغارتگری اورآگ اورخون کاجوکھیل کھیلاگیاوہ ایک گہری سازش کاحصہ تھاجس میں پیپلزپارٹی کے دہشت گردوں کے ساتھ ساتھ آئی ایس آئی کے تربیت یافتہ ایجنٹ بھی شریک تھے ۔انہوں نے یہ بات 27دسمبر 2007ء کے سانحہ کی بارہویں برسی کے موقع پر اپنے ایک پیغام اورسوشل میڈیا چینل '' وی آر الطافسٹ '' میں خصوصی گفتگوکرتے ہوئے کہی ۔ انہوں نے کہا کہ زندہ اورباشعور قومیں اپنی تاریخ اورتاریخ کے کڑے اورافسوسناک واقعات اورایام کویادرکھاکرتی ہیں۔ اسی طرح 27دسمبر 2007ء کوپیش آنے والے واقعات بھی ناقابل فراموش ہیں، پیپلزپارٹی کی سربراہ بینظیربھٹوکو 27دسمبر 2007ء کوراولپنڈی کے لیاقت باغ میں جلسہ عام کے بعدایک حملے میں شہید کردیا گیا لیکن ان کے قتل کے بعد پیپلزپارٹی کے دہشت گردوں نے کراچی ، حیدرآباد،میرپورخاص ،سکھر اور دیگر مہاجر اکثریتی شہروں میں دہشت گردی کا بازار گرم کیا، 1200سے زائد گاڑیاں، اس کے علاوہ سینکڑوںدکانیں، مارکیٹیں، بینکس، فیکٹریاں اورسرکاری ونجی املاک جلاکرراکھ کردیں، معصوم وبے گنا ہ شہریوں کوگولیاں مارکرشہیدکیا، خواتین کی بے حرمتی کی ، ایم کیوایم کے دفاتراور ایم کیوایم کے رہنماؤںاورکارکنوں کے گھروںپرحملے کئے ۔ تین روز تک آگ اورخون کی ہولی کھیلی جاتی رہی، قیامت صغریٰ بپا کی جاتی رہی لیکن شہریوں کی جان ومال کوبچانے کوئی پولیس، رینجرز، فوج اورسیکوریٹی فورسزنہیں آئی۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ بینظیربھٹوکاقتل توراولپنڈی میں ہواتھا پھرآخراس کے ردعمل میں کراچی ، حیدرآباد اور سندھ کے شہری علاقوںمیں یہ آگ اورخون کی ہولی کیوں کھیلی گئی؟ کیابینظیربھٹوکوکراچی اورسندھ کے شہری علاقوں کے لوگوں نے مارا تھا ؟ انہوںنے کہاکہ 2008ء میں جب پیپلزپارٹی کی حکومت آئی تواس نے اس دہشت گردی میںملوث تمام افرادکورہاکردیا اوربیک جنبش قلم تمام مقدمات ختم کردیے۔ انہوں نے کہاکہ سندھی بولنے والے تمام باشعورعوام کوبھی یہ سوچناچاہیے کہ بینظیربھٹوکے قتل پر کراچی اورسندھ کے شہری علاقوںمیں قتل وغارتگری اورآگ اورخون کا کھیل کیوں کھیلاگیا؟انہوںنے 27، 28، 29دسمبر2007ء کواس دہشت گردی میں شہید ہونے والوں کوخراج عقیدت پیش کیا اورکہاکہ جب ایم کیو ایم کے پاس اقتداراوراختیارآیاتو 27دسمبر کودہشت گردی میں ملوث افرادکے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ 
شل میڈیا چینل '' وی آر الطافسٹ '' کے پروگرام میں خصوصی گفتگوکرتے ہوئے جناب الطاف حسین نے 27دسمبر کے سانحہ پرروشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ میں پوری ذمہ داری سے پوری قوم کو یہ بتاناچاہتاہوں کہ 27دسمبر کاسانحہ ایک طے شدہ سازش کاحصہ تھاجس میں تین قوتیںملوث تھیں جن آصف زرداری، طالبان کا بیت اللہ محسودگروپ اورآئی ایس آئی شامل تھیں، آئی ایس آئی جنہوںنے یہ سازش تیارکی اوراس پرعمل درآمد کے لئے یہ سارے انتظامات کئے کہ جیسے ہی آئی ایس آئی اوران کے پروکسیز طالبان بینظیرکوقتل کردیں توفوراً ہی گاڑیوںاوراملاک کونذرآتش کرنے کے لئے مسلح افراد حرکت میں آجائیں، اس مقصد کے لئے پیپلزپارٹی کے دہشت گردوںاورآئی ایس آئی کے تربیت یافتہ افرادمیں مخصوص کیمیکلز، پاؤڈر اوراسلحہ پہلے ہی فراہم کردیاگیاتھا۔ انہوں نے کہاکہ عام لوگ توصدمہ کی حالت میں ماتم کرتے ہیں لیکن 27دسمبرکوراولپنڈی میں بینظیرکوقتل کیاجاتاہے اچانک کراچی ، حیدرآباد،دیگرشہروںمیں دہشت گردی کابازارگرم کردیاگیا، گاڑیوں، دکانوں، مارکیٹوں، فیکٹریوں اوردیگراملاک کونذرآتش کیاگیا، خواتین کی بے حرمتی کی گئی ۔ انہوںنے کہاکہ صرف کراچی میں 1200 سے زائد گاڑیاں جلائی گئی جوایک ریکارڈ ہے ، آج تک کسی ایک واقعہ میں ایک ہی روز اتنی گاڑیاں کسی بھی شہرمیں نہیں جلائی گئیں۔انہوںنے کہاکہ یہ بات قابل غور ہے کہ تین روز تک یہ آگ اورخون کی ہولی کھیلی جاتی رہی لیکن حسب روایت فوج ،رینجرز سارے ادارے غائب تھے جبکہ دوسری جانب ہماری مائیں بہنیں 9دسمبر کویادگار شہدا فاتحہ پڑھنے جاناچاہیں تو یہی فوج رینجرز پورے علاقے کوسیل کردیتی ہے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ یہ سارا ڈرامہ آئی ایس آئی اور ایم آئی نے ترتیب دیاتھا ، کیونکہ اگریہ عوامی ردعمل ہوتاتوراولپنڈی میں ہوتاجہاں بینظیرکے قتل کاواقعہ ہواتھا، ردعمل پنجاب میں ہوتا لیکن کراچی میں کیوں ہوا؟ حیدرآبادمیں کیوں ہوا؟ سندھ جانے والے تمام راستوںپرکیوں ہوا؟ انہوںنے کہاکہ آنے والی تاریخ ثابت کرے گی کہ بینظیرکے قتل میں آئی ایس آئی ، آصف زرداری اورپیپلزپارٹی کے وڈیرے اورآئی ایس آئی کے ایجنٹ شامل تھے ۔انہوںنے کہاکہ ایک دن یہ حقائق بھی عوام کے سامنے آئیںگے کہ 27دسمبر کوآگ اورخون کی ہولی کھیلنے والوںمیں صرف پیپلزپارٹی کے دہشت گرد ہی شامل نہیں تھے بلکہ ان کے ساتھ آئی ایس آئی، فوج اوررینجرز کے لوگ بھی سادہ لباس میں شریک تھے لہٰذا لوگوںکوگمراہ نہیں ہوناچاہیے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ 27دسمبر 2007ء کے سانحہ کے بعدبھی ہم نے سندھیوںاورمہاجروںکوقریب لانے کیلئے پیپلزپارٹی سے اتحاد کیا لیکن یہ وڈیرے ہمیشہ سے اسٹیبلشمنٹ کے ایجنٹ ہیں اورانہی کے لئے کام کرتے ہیں، یہ نہ سندھ کے دوست ہیں اورنہ ہی سندھیوںکے خیرخواہ ہیں تویہ مہاجروں کے خیرخواہ کس طرح ہوسکتے ہیں، یہ توآئی ایس آئی کے پے رول پر ہیںلہٰذا میں سندھیوںاورمہاجروں کوآج کے دن یہ پیغام دیناچاہتاہوں کہ لاکھ دکھ سہی، غم سہی،اللہ شہید وںکی مغفرت فرمائے، ان کے تمام لواحقین اورہم سب کوصبر عطافرمائے اورمڈل کلاس، لوئرمڈل کلاس سندھیوںاورمہاجروںکوعقل سلیم عطا فرمائے کہ وہ آپس میں ملکرپنجابی اسٹیبلشمنٹ سے نجات کیلئے مشترکہ جدوجہد کریں اورایک دوسرے کے زخموںپر مرہم رکھیں۔ انہوںنے دعاکی کہ اللہ تمام مظلوم مہاجروں، سندھیوں، بلوچ، پشتون، سندھی سرائیکی، گلگتی  بلتستانی، ہزارے وال سب مظلوموں کوباعزت آزادی عطافرمائے اورانہیں انکی زمین عطافرمائے ۔ انہوں نے 27دسمبر کے سانحہ کے حوالے سے خصوصی پروگرام نشرکرنے پر '' وی آر الطافسٹ '' کے ایک ایک فردکوخراج تحسین پیش کیااوردعاکی کہ اللہ انہیں اس کااجرعطافرمائے ۔ 
٭٭٭٭٭



2/23/2020 7:36:46 AM