Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

لاپتہ افراد…ادارے…اور عدالتیں چند تلخ سوالات اور حقائق


لاپتہ افراد…ادارے…اور عدالتیں چند تلخ سوالات اور حقائق
 Posted on: 6/25/2023
لاپتہ افراد…ادارے…اور عدالتیں
چند تلخ سوالات اور حقائق
-----------------------------
پاکستان کے محترم دانشور، صحافی ، اینکر، کالم نگار، سیاسی ودفاعی تجزیہ نگارخواتین وحضرات!!
آداب عرض
میں چند تلخ سوالات اور حقائق پر مبنی ان کے جوابات آپ محترم خواتین و حضرات کے سامنے رکھنے کی بصد ادب جسارت کررہا ہوں ۔ 
سوال نمبر 1…کیا ہمارے ہاں کی چھوٹی سے لیکر بڑی عدالتیں آزاد ہیں؟ اور کیا وہ آئین اور قانون کے مطابق ماسوائے اشرافیہ کے عام اور غریب عوام کو انصاف فراہم کررہی ہیں؟
جواب …اس سوال کا جواب میری نظر میں بہت تلخ تو ضرور ہوسکتا ہے مگر ملک کے زمینی حقائق(Ground realities)اور معروضی حالات (Objective conditions) کی روشنی میں دیکھیں تو میں یہ کہنا چاہوں گا کہ ہماری چھوٹی سے لیکر بڑی عدالتیں قطعی اور قطعی طورپر نہ تو آزاد ہیں اور نہ ہی عوام کو انصاف فراہم کررہی ہیں جس کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ کیا آپ حضرات اور عوام یہ سب کچھ نہیں دیکھ رہے ہیں کہ سپریم کورٹ میں صرف دوفیصد اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے افراد جس میں سیاسی جماعتوں کے ارب پتی رہنماؤں کے مقدمات تو صبح وشام چلتے نظر آتے ہیں مگر عام عوام کے مقدمات چلتے نظر نہیں آتے ۔ جس کے بارے میں سپریم کورٹ نے آج تک غریب یا عام عوام کو وہ طریقہ کار ہی نہیں بتائے  جس کے تحت انصاف کے حصول کیلئے غریب اور عام افراد کی پہنچ بھی سپریم کورٹ تک ہوسکے ۔ چونکہ غریب اور عام آدمی تو سپریم کورٹ تک پہنچنے اور وکیلوںکی خدمات حاصل کرنے کیلئے کروڑوں روپے کہاں سے لائے ؟مثلاً آپ اگر صرف میری ہی مثال لے لیں تو آپ دیکھیں کہ میری تحریر، تقریر، تصویر حتیٰ کہ میرا نام تک ذرائع ابلاغ پر لینے پر پابندی لاہورہائی کورٹ نے ماہ ستمبر 2015ء میں چھ ماہ کیلئے لگائی تھی مگر وہ پابندی سات سال سے زیادہ عرصہ گزرجانے کے باوجود آج تک قائم ہے ۔ اس پابندی کے خلاف جو شخص بھی عدالت میں درخواست داخل کرتا ہے اسے گرفتارکرلیا جاتا ہے 
اور عدالتیں تاریخ پر تاریخ اور وہ بھی لمبی لمبی تاریخیں دیے چلی جارہی ہیں جبکہ دوسری طرف دوفیصد اشرافیہ سے تعلق رکھنے والے افراد کیلئے سپریم کورٹ رات کے 12 بجے بھی عدالت کے دروازے کھول کران افراد کے مقدمات سن کر فیصلے کرتی رہی ہیں۔ 
سوال نمبر2 …لاپتہ افراد کے معاملات ۔ 
ہماری عدالتیں لاپتہ کیے جانے والے افراد کے مقدمات ایک تو سننے سے ہی انکارکردیتی ہیں اور اگرجو عدالتیں کچھ لاپتہ افراد کے مقدمات قبول کرتے ہوئے اسے سن بھی لیں تو کیا وہ عدالتیں ، لاپتہ افراد کو بازیاب کرانے اور لاپتہ کرنے والوںکو کیفرکردار تک پہنچانے میں کامیاب ہوئیں؟
جواب …نہیں، ہرگز ہرگز نہیں ۔ کیونکہ لوگوںکو لاپتہ کرنے والے افراد کے'' ادارے''، عدالتوں سے زیادہ طاقتور ہیں ، اگرعدالتیں آزاد ہوتیں تو کیابلوچستان ، کے پی کے ، سندھ دیہی اور شہری علاقوں کے ہزاروں لاپتہ افراد 31 سال، 20سال، 15سال، 10سال، 5 سال یا چار سالوں سے لاپتہ کیے گئے افراد بازیاب نہ ہوجاتے ؟ اور اگرلاپتہ افراد بازیاب ہوبھی جائیں تو وہ مسخ شدہ لاشوں کی شکل میں ویرانوں اور جنگلوں جیسے دیگر مقامات سے ملتے ہیں۔ 
آپ حضرات ذرا یہ بھی غورکریں کہ نامور افراد کے لاپتہ ہونے کی خبریں تومیڈیا پر آجاتی ہیں مگر ہزارہا ہزار بلوچوں، سندھیوں، پشتونوں اور مہاجروں کے لاپتہ کیے جانے کی خبریں ذرائع ابلاغ پر آتی ہی نہیں ہیں۔ 
آپ حضرات ذرا یہ غورکریں کہ ایک فرد کے لاپتہ ہونے سے اس کا پورا خاندان نہ صرف متاثر ہوتا ہے بلکہ لاپتہ افراد کے اہل خانہ سالہا سال سے کس قیامت کے عذاب سے گزررہے ہیں۔
آپ حضرات ذرا یہ بھی غور کریں کہ لاپتہ کیے جانے والے افراد کہاں ہیں اور کس حال میں ہیں ، وہ زندہ بھی ہیں یا ماردیے گئے ہیں ، اس حساس اور انتہائی کربناک صورتحال سے ان کے اہل خانہ آج تک لاعلم ہیں ۔ 
آج لاپتہ کیے جانے والے بلوچوں، پشتونوں، سندھیوں اور مہاجروں کے اہل خانہ بشمول ان کے بچے اوربچیوں کی ترستی ہوئی نگاہیں ہر روز صبح گھر کے مرکزی داخلی دروازے پر لگی ہوتی ہیں کہ شائد آج ہمارے بیٹے ، بھائی، 
شوہر، بچے بچیوں کے والد گھرواپس آجائیں ۔ لاپتہ کیے جانے کے بعد سے آج تک انکے گھر کا ایک ایک فرد اسی انتظار میں رہتا ہے کہ آج ہمارا بچھڑا ہوا پیارا واپس آجائے گا۔ آج لاپتہ افراد کے گھروں میں آہیں ہیں، سسکیاں ہیں، آنسو ہیں مگر ان کے زخمی دلوں پرمرہم رکھنے والا کوئی حکمراں،کوئی ادارہ یاکوئی عدالت نہیں ہے… بس ہے توصرف ماتم اور ماتم ہی ہے ۔ 
آپ حضرات اپنے دلوں پر ہاتھ رکھ کر ذرا ایک لمحہ کیلئے سوچئے کہ خدانخواستہ آپ کے گھر کا کوئی فرد لاپتہ کردیاجاتا اور آپ کو کئی ماہ اور سالوں تک یہ بھی پتہ نہ چلتا کہ وہ کہاں ہیں ، کس حال میں ہیں ، زندہ ہیں یا ماردیے گئے ہیں تو آپ لوگوں اورآپ کے گھروالوں کی کیاحالت ہوتی ؟اوراگر آپ عدالت کا دروازہ کھٹکھٹا بھی لیتے اور آپ کو انصاف نہ ملتا تو آپ کا نفسیاتی ردعمل (Psycho Reactionary Action) کیاہوتا؟ کیا آپ کو آپ کے پیاروں کے لاپتہ کیے جانے اور باربار کی التجائیں، فریادیں، پرامن احتجاج کرنے پر بھی حکومت اورعدالتیں کوئی توجہ نہ دیتیں تو آپ کے دل پر مزید کیا گزرتی ؟کیا آپ کے جذبات غصے میں تبدیل ہوکر باغیانہ نہ بن جاتے ؟ میں کہتا ہوں اگر پاکستان میں عدالتیں بااختیار اور آزاد ہوتیں اورلوگوں کو لاپتہ کرنے والے افراد کے ''اداروں'' کے زیراثر نہ ہوتیں تو شائد کوئی بھی ادارہ کسی بھی فرد کو لاپتہ کرنے کی جرات نہ کرتا۔ 
سوال نمبر3…آپ حضرات!! مجھے براہ کرم یہ بتائیں کہ ملک کے کس ادارے کو آئین اورقانون کی کس شق کے مطابق افراد کو لاپتہ کرنے کی اجازت ہے ؟
جواب …میری معلومات کے مطابق تو لاپتہ کیے جانے کا عمل نہ صرف غیرآئینی وغیرقانونی ہے بلکہ یہ عمل سراسر غیرانسانی ، انتہائی سفاکانہ اور ظالمانہ ہے جس پر کم ازکم سپریم کورٹ کو ضرور فوری سوموٹو(Suo moto ) نوٹس لینا چاہیے تھا مگر ہماری سپریم کورٹ تو پکوڑوںاور سموسوں کی مہنگائی ، کہیں شراب کی ایک بوتل نکل آنے اور غریبوں کی برسوں سے بسی بسائی بستیاں گرانے کیلئے تو فوری سوموٹونوٹس لے لیتی ہیں مگر مظلوم خاندانوں کو انصاف فراہم کرنے یا کسی شہری کو لاپتہ کرنے پر کوئی نوٹس کیوں نہیں لیتیں؟ 

الطاف حسین
 25، جون2023ء (لندن)

3/2/2024 6:19:05 AM