Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

پاکستان کامطلب کیا …لاالہ الا اللہ '' کانعرہ ، تحریک پاکستان کانعرہ نہیں تھا۔الطاف حسین


پاکستان کامطلب کیا …لاالہ الا اللہ ''  کانعرہ ، تحریک پاکستان کانعرہ نہیں تھا۔الطاف حسین
 Posted on: 4/19/2021

 '' پاکستان کامطلب کیا …لاالہ الا اللہ ''  کانعرہ ، تحریک پاکستان کانعرہ نہیں تھا۔الطاف حسین
 اس نعرہ کوتحریک پاکستان سے جوڑناتاریخی حقائق کومسخ کرناہے 
 عمران خان نے سب سے بڑا جھوٹ بولاہے کہ '' پاکستان کامطلب کیا ,لاالہ الا اللہ ''  تحریک پاکستان کانعرہ تھا
 سیالکوٹ کے ایک شاعر نے اپنی نظم میں '' پاکستان کا مطلب کیا… لاالہ الا اللہ '' کاشعر کہاتھا
 جنرل ضیاء الحق کے زمانے میں نصابی کتابوں میں یہ شامل کردیا گیا کہ '' پاکستان کامطلب کیا… لاالہ الا اللہ '' تحریک پاکستان کانعرہ تھا،اس طرح تاریخ کومسخ کیاگیا
کوئی بھی اس وقت تک مسلمان نہیں ہوسکتاجب تک وہ لاالہ الا اللہ کے ساتھ محمدرسول اللہۖ  پر ایمان نہ لائے
 اگرعمران خان فرانس کے سفیر کوملک بدرنہیں کرسکتے تھے توپھرتحریک لبیک سے اس کاتحریری معاہد ہ کیوں کیاتھا؟
 کل تک ہروفاقی وزیر کہہ رہا تھا کہ تحریک لبیک ایک کالعدم جماعت ہے، آج اسی سے مذاکرات کررہے ہیں  
عمران خان قوم کو بیوقوف نہ بنائیںان کاناموس رسالتۖ سے کوئی تعلق نہیں
 تحریک لبیک والے فرانس کوبرابھلاکہنے سے پہلے ان کرپٹ فوجی جرنیلوں کے بارے میں بات کریں جو
اپنے عمل سے حضوراکرم ۖ  کی تعلیمات کی کھلی نفی کررہے ہیں،
 پاکستان کے کرپٹ فوجی جرنیل خودکوزمین پر خدااورہرقسم کے قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں
 پاکستان کے عوام کو خوشخبری دیتاہوں کہ انہیں کرپٹ جرنیلوںکی غنڈہ گردی سے نجات ضرور حاصل ہوگی
ایم کیوایم کے بانی وقائدجناب الطاف حسین کاسوشل میڈیا کے ذریعے کارکنان وعوام سے خطاب

لندن  …  19  اپریل 2021ئ
ایم کیوایم کے بانی وقائدجناب الطاف حسین نے کہاہے کہ '' پاکستان کامطلب کیا …لاالہ الا اللہ ''  کانعرہ تحریک پاکستان کانعرہ نہیں تھا، اس نعرہ کوتحریک پاکستان سے جوڑناتاریخی حقائق کومسخ کرناہے ۔کوئی بھی فرد اس وقت تک مسلمان نہیں ہوسکتاجب تک وہ ''  لاالہ الا اللہ '' کے ساتھ ''  محمدرسول اللہ ۖ  '' نہ کہے اوراس پر ایمان نہ لائے۔ جناب الطاف حسین نے یہ بات آج کارکنان وعوام سے اپنے ایک ہنگامی خطاب میں کہی۔ جناب الطاف حسین نے ناموس رسالت ۖ کے بارے میں وزیراعظم پاکستان عمران خان کے قوم سے خطاب میں بیان کئے گئے تمام اہم نکات کے دلائل کے ساتھ جواب دیے ۔ انہوں نے کہاکہ عمران خا ن نے آج قوم سے اپنے نشریاتی خطاب میں جھوٹ بیان کیاہے اورجھوٹ بولنے والوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایاہے '' لعنت اللہ علی الکاذبین ''  ، ''  لعنت اللہ علی المنافقین ''  ، '' لعنت اللہ علی الشیاطین  ''  یعنی جھوٹوں پر اللہ کی لعنت ہو، منافقین پر اللہ کی لعنت ہو، شیاطین پر اللہ کی لعنت ہو ۔ انہوں نے کہاکہ عمران خان نے اپنی تقریر میں سب سے بڑا جھوٹ یہ بولاہے کہ '' پاکستان کامطلب کیا …لاالہ الا اللہ ''  کانعرہ تحریک پاکستان کا نعرہ تھا۔ میری نظر میں یہ نعرہ ہی سرکاردوعالم، تاجدارمدینہ، امام الانبیا، نبی آخرالزماں حضرت محمدمصطفےٰ  ۖ کی نفی اوران کی شان میں گستاخی کے مترادف ہے ۔ '' پاکستان کامطلب کیا …لاالہ الا اللہ ''  کانعرہ عمران خان اوراسے اقتدارمیں لانے والے فوجی جرنیلوں اور ان جیسوں کانعرہ تو ہوسکتا ہے لیکن سرکاردوعالم ۖ  کے ماننے اورچاہنے والوں اور عاشقان رسول ۖ کانعر ہ نہیں ہوسکتا۔ عاشقان رسولۖ کانعرہ ''لاالہ الا اللہ محمدرسول اللہ '' ہے۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ چاہے حضرت ابراہیم علیہ السلام ہوں، حضرت اسماعیل السلام ہوں ، حضرت یعقوب علیہ السلام ہوں، حضرت یوسف علیہ السلام ہوں، حضرت موسیٰ علیہ السلام ہوں یاحضرت عیسیٰ علیہ السلام ،یااللہ کاکوئی نبی یارسول ہو، تمام انبیائے اکرام نے لوگوںکو اللہ کی وحدانیت کاہی پیغام دیا،ان میں سے کوئی بھی اللہ کی وحدانیت کامنکرنہیں تھا۔ایمان مفصل کے مطابق ہمارا ایمان اس وقت تک مکمل نہیںہوسکتاجب تک ہم اللہ تعالیٰ ، اس کے فرشتوں، اللہ کی نازل کردہ کتابوں، اللہ کے بھیجے گئے رسولوںاوریوم آخرت پرایمان نہ رکھتے ہوں ۔ انہوںنے کہاکہ اگرچہ اللہ تعالیٰ کے سارے نبیو ںاوررسولوںپرہماراایمان ہے ، سب ہی ہمارے لئے محترم ہیں لیکن سرکار دوعالم حضرت محمدمصطفےٰ  ۖ کواللہ تعالیٰ نے صرف مسلمانوں ہی کے لئے نہیں بلکہ سارے جہانوںکے لئے رحمت بناکربھیجا ، آپ ۖ  اللہ تعالیٰ کے محبوب، امام الانبیا اوراللہ تعالیٰ کے آخری نبی ہیں۔ عیسائی ہوں، یہودی ہوں، یااللہ کے کسی اورنبی کے ماننے والے ہوں، وہ''لاالہ الا اللہ ''  پر ایمان رکھ کر اپنے مذہب کے ماننے والے توہوسکتے ہیں لیکن کوئی بھی فرد اس وقت تک مسلمان نہیں ہوسکتاجب تک وہ ''  لاالہ الا اللہ ''  کے ساتھ ''  محمدرسول اللہ ۖ  ''  نہ کہے اوراس پر ایمان نہ لائے۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ عمران خان نے آج اپنی تقریرمیں یہ دعویٰ کیاہے کہ '' پاکستان کامطلب کیا… لاالہ الا اللہ '' کانعرہ تحریک پاکستان کی بنیاد تھا۔ یہ بات سراسرجھوٹ، غلط اورتاریخی حقائق کومسخ کرنے کی کوشش ہے۔انہوںنے کہاکہ اگر تحریک پاکستان میں مسلمانوں کایہ نعرہ ہوتاتو آدھانعرہ نہیں ہوتابلکہ مسلمانوں کی جانب سے یہ نعرہ لگایاجاتاکہ  '' پاکستان کامطلب کیا … لاالہ الا اللہ محمدرسول اللہ ۖ  '' ۔ انہوں نے کہاکہ پوری تحریک پاکستان میںآل انڈیا مسلم لیگ نے یہ نعرہ نہیں لگایا، اس نعرہ کوتحریک پاکستان سے جوڑناتاریخی حقائق کومسخ کرناہے ۔انہوںنے کہاکہ اصل حقیقت یہ ہے کہ سیالکوٹ کے ایک بزرگ شاعر نے تحریک پاکستان کے دوران اپنی نظم میں '' پاکستان کا مطلب کیا… لاالہ الا اللہ '' کاشعر کہاتھا۔ ان بزرگ شاعرکاانتقال 92 سال کی عمر میں ہوا۔ جنرل ضیاء الحق کے زمانے میں نصابی کتابوں میں یہ بات شامل کردی گئی کہ '' پاکستان کامطلب کیا… لاالہ الا اللہ '' تحریک پاکستان کانعرہ تھا،اس طرح تاریخ کومسخ کیاگیا۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں نے اس بات کی تصدیق خود ان مستندمؤرخین اوربزرگ دانشوروں سے کی ہے جوتحریک پاکستان کی تاریخ کے مستنداورمعتبرمؤرخین تسلیم کئے جاتے ہیں، جوآج بھی زندہ ہیں،میں ان مؤرخین اوربزرگ دانشوروں کی دل سے عزت اوراحترام کرتا ہوںاوران کی درازی عمر اور صحت وتندرستی کی دعاکرتاہوں۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ عمران خان نے آج اپنی تقریرمیں ایک طرف تویہ کہاکہ جوتحریک لبیک کامقصد ہے وہی ہمارامقصد ہے لیکن دوسری طرف عمران خان نے ناموس رسالت ۖ کے معاملے پر تحریک لبیک کو جلوس نکالنے اوردھرنادینے پرشدیدتنقید کانشانہ بنایا۔انہوں نے کہا کہ ٹی ایل پی نے دھرنااوراحتجاج اسلئے کیاکہ حکومت اورفوج نے تحریک لبیک سے تحریری معاہدہ کیا تھا کہ فرانس کے سفیرکوپاکستان سے نکالاجائے گااوراس حوالے سے پارلیمنٹ میں قرارداد منظور کرائی جائے گی لیکن معاہدے سے پھرگئے۔ آج وزیراعظم عمران خان کہہ رہے کہ اگر فرانس کے سفیر کو نکال دیں گے توفرانس اوریورپی یونین سے تعلقات خراب ہوجائیں گے اوراگرایساہوا تویورپی ممالک سے پاکستان کی تجارت رک جائے گی اورملک کی معیشت پر اثرپڑے گا۔انہوں نے کہاکہ عمران خان کی نظرمیں ناموس رسالت ۖ  کی اہمیت ہوتی تووہ ایسی بات نہیں کرتا کیونکہ اگرکوئی سچا عاشق رسول ۖ ہوتووہ کسی بھی قیمت پرناموس رسالت ۖ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرسکتا۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ اگرفرانس کے سفیر کوملک بدرنہیں کرسکتے تھے توپھرتحریک لبیک سے اس بات کاتحریری معاہد ہ کیوں کیاتھا؟اوراگراس بات کاتحریری عہد کرلیاتھا تو پھر اپنے عہد کوکیوں توڑا؟ کیاعہد کوتوڑنے والامنافق نہیںہوتا؟جناب الطاف حسین نے کہاکہ پہلے حکومت اور فوج نے تحریک لبیک سے معاہدے کئے ، جب معاہدے پر عمل نہ ہواتوانہوں نے احتجاج کیا، جب اس پر ملک اوربیرون ملک کہرام مچا تو اسی حکومت نے تحریک لبیک پر پابندی لگادی ۔ کل تک وفاقی وزیرداخلہ سمیت ہروفاقی وزیر کہہ رہا تھا کہ تحریک لبیک ایک کالعدم جماعت ہے، ہم اس کوتحلیل کردیںگے، اس کی اینٹ سے اینٹ بجادیںگے، تحریک لبیک سے کوئی مذاکرات نہیں ہوسکتے اورآج اسی تحریک لبیک سے مذاکرات کررہے ہیں اوران سے مذاکرات کے لئے لوگ بھیج رہے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ عمران خان نے اپنے خطاب میں حالیہ پرتشدد واقعات میںشہید ہونے والے پولیس والوںکاذکر تو کیالیکن پولیس کی فائرنگ سے شہید ہونے والے تحریک لبیک پاکستان کے حامیوں کا ذکرنہیںکیا ۔ریاست مدینہ کی بات کرنے والے خلیفہ عمران خان جواب دیں کہ ان کی نظر میں ایک شہید اوردوسراشہید کیوں نہیں ہے؟جناب الطاف حسین نے کہاکہ عمران خان کاکہناہے کہ وہ یورپ کواچھی طرح جانتے ہیںاورجب 1991ء میں سلمان رشدی نے اپنی کتاب میں حضورۖ کی شان میں گستاخی کی تو پاکستان میں عوام سڑکوں پر نکل آئے اور شدید احتجاج کیالیکن اس کے بعدبھی دیگر یورپی ملکوں میں حضورۖ کی شان میں گستاخی کی گئی۔ عمران خان نے اپنی کاوشوںکو بڑے فخریہ اندازمیں بیان کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے 2019ء میںیورپ میں اسلاموفوبیاکے بارے میںاقوام متحدہ میں معاملہ اٹھایا، فیس بک کے بانی کو توہین رسالتۖ کے معاملے پرخط لکھا ۔ جناب الطاف حسین نے عمران خان سے سوال کیاکہ کیاعمران خان کے اقدامات کے بعد یورپ میں اسلاموفوبیا ختم ہوگیا؟ کیا یورپ میں حضور ۖ  کی شان میں گستاخی کاعمل رک گیا؟
جناب الطاف حسین نے کہاکہ عمران خان ٹی وی پرآکرقوم کو بیوقوف نہ بنائیںکیونکہ عمران خان کاناموس رسالتۖ سے کوئی تعلق نہیں، ان
کاتعلق صرف حکومت ،سیاست اوراپنے مفادات سے ہے۔انہوں نے کہاکہ عمران خان اٹھتے بیٹھتے ریاست مدینہ اورخلفائے راشدین کی زندگی کاذکرکر تے ہیں، وہ قوم کوجواب دیںکہ ان کے پاس بنی گالہ کی اتنی بڑی جاگیرکہاںسے آئی؟ عمران خان نے اقتدارمیںآنے سے پہلے جتنے بھی وعدے اور دعوے کئے تھے کیاان میں سے کسی ایک پر بھی عمل کیا؟عمران خان نے وعدہ کیاتھاکہ وہ اقتدارمیں آئے تو وزیراعظم ہاؤس کویونیورسٹی بنادیںگے، بڑے بڑے گورنرہاؤس ختم کرکے ان کی دیواریں گرادیںگے، کیااس وعدے پر عمل ہوا؟عمران خان نے کہاتھاکہ وہ قوم سے کبھی جھوٹ نہیں بولیںگے ، تواگروہ سچے ہیں توقوم کوبتائیں کہ فوج کے جرنیل جسے چاہتے ہیں صادق اورامین بنادیتے ہیں اورجسے چاہتے ہیں غداربنادیتے ہیں۔یہ پاکستان کی 74سالہ تاریخ یہی بتاتی ہے کہ جوفوج کے جرنیلوں کے آگے سجدہ نہ کرے یہ اس کوملک کوغدارقراردے کراس پر ملک کی زمین تنگ کردیتے ہیں، میں نے بھی ان کرپٹ جرنیلوںکے آگے سجدہ کرنے سے انکارکردیاتوانہوں نے مجھ پرغداری کاالزام لگادیا، مجھے ایسی غداری پرناز ہے ۔
جناب الطاف حسین نے کہاکہ عمران خان کے بارے میں لاس اینجلس کورٹ کافیصلہ موجود ہے کہ عمران خان سیتاوہائٹ سے نکاح کے بغیر ایک ناجائز بچی کاباپ ہے ، اس کا جوعمل وکردار ہے اس سے دنیاواقف ہے لیکن پاکستان کے بعض مولوی عمران خان کی تعریفیں کرتے ہیں، خصوصاً ایک مولوی صاحب تومیڈیاپر روروکر کہتے ہیںکہ عمران خان کی شکل میں اللہ نے پہلی مرتبہ صادق اورامین وزیراعظم عطاکیاہے، اسی طرح وہ پاکستان کے کرپٹ فوجی جرنیلوں کی تعریف میں زمین وآسمان ملادیتے ہیں اورانہیںصاد ق وامین اورشیردل قراردیتے ہیں جبکہ یہ جرنیل ایسے شیردل ہیں کہ انڈیانے کشمیرکواپنے ساتھ ملالیا لیکن پاکستان کے آرمی چیف خاموش رہے، فوج نے نہ غوری میزائل چلایا نہ کوئی اورمیزائل چلایا۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ تحریک لبیک والوں کوچاہیے کہ وہ فرانس کوبرابھلاکہنے سے پہلے پاکستان میں موجود ان کرپٹ فوجی جرنیلوں کے بارے میں بات کریں جو منکرین ہیں، جواپنے عمل سے حضوراکرم ۖ  کی تعلیمات کی کھلی نفی کررہے ہیں،حضوراکرم  ۖ تو فرماتے تھے کہ میری بیٹی فاطمہ بھی چوری کرتی تومیںاس کوبھی سزادیتالیکن پاکستان کے کرپٹ فوجی جرنیل خودکوزمین پر خدااورہرقسم کے قانون سے بالاتر سمجھتے ہیں ، جو اپنے منصب کاناجائزاستعمال اورامانت میں خیانت کرنے والے ہیں۔جونبی  ۖ کاماننے والاہوگاوہ امانت میں خیانت نہیں کرے گا۔ پاکستان کے کرپٹ فوجی جرنیلوں کودیکھیں جوبھاری بھاری تنخواہیں اورمراعات لیتے ہیں ، ا س کے ساتھ ساتھ ناجائزذرائع سے بھی دولت حاصل کرتے ہیں، ریٹائرہونے کے بعد بیرون ملک جاکر بڑی بڑی جائیدادیں بناتے ہیں،پاپاجونزکی چینز، زمینوں کی خریدو فروخت اورطرح طرح کے کاروبارکرتے ہیں۔ یہ ملک میں سچ اورحق بات کہنے والوںکوتوغدارقراردیتے ہیں لیکن خود ریٹائرہونے کے بعد ملک میں رہ کر ملک اورعوام کی خدمت کرنے کے بجائے ملک سے باہررہ کر غیرملکوں کے لئے کام کرتے ہیں۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ پاکستان میں بدقسمتی سے سپریم کورٹ ہویانیب ، ریاست کاکوئی بھی ادارہ آزادنہیں بلکہ فوج کے بوٹوںتلے دباہواہے، کہتے ہیں آئین سپریم ہے لیکن فوج کے جرنیلوں نے باربارآئین کواپنے بوٹوںتلے روندااس کے باوجود ان جرنیلوںسے کوئی جواب طلبی نہ ہوئی۔ میں نے اپنے کارکنوں کے ماورائے عدالت قتل، ان کی مسلسل جبری گمشدگیوں اوران کی مسخ شدہ لاشیں ملنے اورریاستی اداروںکے ظلم وجبر سے تنگ آکرشدت جذبات میں پاکستان مردہ باد کہہ دیاتومجھے غدارقراردیکرمیری تقریراورتصویرپرپابندی لگادی گئی اورمیری جماعت کے خلاف بدترین ریاستی آپریشن شروع کردیاگیالیکن فوج کے جن جرنیلوںنے ملک کوتوڑدیاان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ میرے پاکستان مردہ بادہ کہنے پر مجھ پر توپابندی عائد کردی گئی لیکن ایم کیوایم کے جن لوگوں نے میری بات کی تائید میں تالیاں بجائیں انہیں عمران خان نے اپنی حکومت میں شامل کیاہواہے، اگرعمران خان سچے ہیں توایسے لوگوںکوبھی حکومت سے کیوں نہیں نکال دیتے؟ انہوں نے کہاکہ الطا ف حسین نے ہمیشہ سچ اورحق بات کی ہے اوروہ سچ اورحق بات کہنے میں کبھی بھی پیچھے نہیں ہٹے گا ۔ جناب الطاف حسین  نے کہاکہ پاکستان میں بدقسمتی سے حکومت کسی بھی جماعت کی ہو، وہ اپنی مرضی سے کابینہ بنانے اورفیصلے کرنے میں آزاد نہیںہوتی، وزیراعظم بھی اپنی جماعت کے رہنماؤں کے بجائے فوج سے مشورے کرتاہے،انہی کے مشورے پر فیصلے کرتاہے جس کے نتائج ملک کے عوام بھگتتے ہیں۔ فیصلے کرنے والے فوج کے جرنیل آرام سے عیش کرتے ہیں جبکہ ملک کے غریب عوام،مزدور، ہاری ، کسان، لوئر مڈل کلاس ، مڈل کلاس عوام اوران کے بچوں کی قسمت یہ ہے کہ وہ غربت وافلاس اورتنگدستی کی زندگی گزارنے پرمجبورہوتے ہیں۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ پاکستان میں اگر ایمانداری اوردیانتداری سے کام کیاجاتاتو آج ملک میں بڑے بڑے جاگیرداروں، وڈیروں ، سرداروں، سرمایہ داروں کے چند خاندان ہی حاکم اورعوام ان کے محکوم نہ ہوتے اورآج ملک کی یہ حالت نہ ہوتی۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ گزشتہ 74برسوںسے فوج کے کرپٹ جرنیلوںاوران کے جاگیرداروںاوروڈیروںکاتسلط اورغنڈہ گردی کاسلسلہ جاری ہے لیکن میں پاکستان کے عوام کوآج یہ خوشخبری دیتاہوں کہ انہیں اس غنڈہ گردی سے نجات ضرور حاصل ہوگی، اس کے لئے جہاں 74سال انتظار کیاہے تو مزید 74مہینے بھی انتظارکرناپڑے توکرلیں ، اللہ بہتر انصاف کرنے والا ہے۔ 

٭٭٭٭٭










12/4/2021 7:26:51 PM