Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

مرکز اور مرکزیت


مرکز اور مرکزیت
 Posted on: 4/27/2026

یہ تحریر17ستمبر2015کو
قائدِ تحریک الطاف حسین بھائی
کی 62 ویں سالگرہ کےموقع پرلکھی گئی
قائدِ تحریک کےچاہنےوالوں کی نذر
مرکز اور مرکزیت
تحریر: ڈاکٹر ندیم احسان
اللّہ ربّ العزت اس کائنات کاخالق ہے۔ ایسی کائنات، جو لامتناہی ہے۔ جواپنےاندر لامحدود اسرار و رموز، علم کےخزانےاور نشانیاں رکھتی ہے۔ انسان روزِ اوّل سےہی کائنات کی ان "گتھیوں" کو سلجھانے میں مصروفِ عمل ہے۔
اللّہ سبحانہ و تعالیٰ نےاس پوری کائنات کوتوازن اورترتیب میں رکھاہے۔ "خالقِ کائنات مرکزِ کامل ہےاورصرف اسے ہی کامل مرکزیت و وحدانیت حاصل ہے"۔ خالقِ کائنات کی تمام مخلوقات و تخلیقات بھی اسی کلیئے پرقائم اوراس کاشاہکار ہیں کہ ہرمخلوق اورتخلیق کابھی اپنا اپنا ایک مرکزہوتا ہے، جسےکہیں انفرادی اورکہیں اجتماعی مرکزیت حاصل ہوتی ہے۔
یہ کلیہ جہاں کائنات کی سب سےچھوٹی تخلیق یعنی ذرّہ یعنی ایٹم اوراس کےحصوں سےلےکر کائنات کےسب سےبڑے جُثّہ یعنی کہکشاں پر لاگو ہوتاہے، اسی طرح یہی کلیہ کسی ایک مخلوق اورتمام مخلوقات پربھی اسی اندازمیں لاگوہوتاہے۔ انسان اب تک کےتمام علوم رکھنے کےباوجود، ذرّہ یعنی ایٹم کی ہیئت کےاجزائے ترکیبی کو بھی مکمل طور پر سمجھ نہیں پایاہے۔ بحیثیت اپنےخالق کی ایک ادنیٰ سی مخلوق کے، میرا یہ ماننا اورایمان ہےکہ ایک ایٹم سےلےکرایک مخلوق اپنےاپنےمرکزکےگرد، اپنے اپنےمحور و دائرےمیں اوراسی طرح اوراسی اندازمیں تمامتر مخلوقات اور تخلیقات، کہکشائیں غرض تمام کائنات، سب مل کر، اپنے خالق، ایک کامل مرکز، کامل مرکزیت و کامل وحدانیت یعنی اللّہ عزّوجل کے گرد طواف کررہےہیں۔
خالقِ کائنات کاتخلیق کردہ نظام، اس کےوضع کردہ اصولوں، ضابطوں اورقانون کےتابع ہے۔اورکوئی بھی مخلوق یا تخلیق اگراس نظام کے برخلاف جائےگی تو وہ نظامِ قدرت کاحصہ نہیں رہتی۔ یہی کلیہ تمام مخلوقات اورتخلیقات کا احاطہ کیئےہوئےہے۔مالکِ کائنات نےاصول وضح بھی کیئےہیں اورواضح بھی۔ دوسرےالفاظ میں، جوقدرت کےبنائےہوئےنظام کےمطابق ہے، وہ حق ہےاوردائرےمیں ہےاورجوخلافِ نظامِ قدرت ہے، وہ باطل ہےاور دائرےسےخارج۔
خالقِ برحق نے، اسی طرح انسانوں کےلیئے زندگی گزارنےکےاصول وضح کررکھےہیں اورحق اور باطل، سچ اور جھوٹ، صحیح اورغلط کے درمیان فرق بھی واضح کرکےبیان کردیا ہے۔
انسان روحانی، ذہنی یا قلبی لحاظ سےاپنی زندگی میں کسی نہ کسی کواپنامرکز ومحور ضروربناتا ہے۔ مذہبی، خاندانی، علمی، سماجی، ثقافتی، تحریکی یاکہہ لیجیئےکہ مختلف طبقہ/ شعبۂ ہائےزندگی سےتعلق رکھنےوالی کسی شخصیت سے متاثرہوکر، اسےاپنامرکزبناتا ہے۔ کسی بھی انسان کےایک سےزائد مراکز بھی ہوسکتےہیں۔ جیسےمذہبی خیالات میں کوئی ایک شخصیت اورعلمی میدان میں کوئی اور شخصیت۔ یعنی انسان نظریاتی طورپرزندگی کےکسی بھی شعبہ میں جس شخصیت کا پیروکار ہوتا ہے، وہ شخصیت اس شعبہ میں، اس کیلیئےمرکز اور مرکزیت رکھتی ہے۔ اورکتنےہی نامساعدحالات کیوں نہ ہوں، وہ انسان، اپنےمرکز یعنیNUCLEUSکے گرد اپنےدائرے یعنی ORBITمیں رہتےہوئےاپناسفر جاری رکھتا ہے۔ اس سفرمیں جوانسان جتنےمصائب و مشکلات کاسامنا کرتاہےاور ثابت قدم رہتےہوئے اپنی جدوجہد جاری رکھتاہے، اسےاس شعبہ میں اتنی ہی فضیلت اوربلند واہم مقام حاصل ہوتا ہے۔
بحیثیت انسان، ہمارااپنےخالق، مذہب، جغرافیہ سےایک اٹوٹ رشتہ ہے، مرکز اورمرکزیت کا۔ اسی طرح دیگر شعبۂ ہائےزندگی میں بھی ہمارےاپنےاپنےمرکز و محورہیں۔
ہم ایک نظریاتی تحریک سےبھی وابستہ ہیں اور اس تحریک کے قائد جناب الطاف حسین ہیں۔ جوحق پرستوں کے واحد ومتفقہ قائد اوران کا مرکز و محورہیں۔ الطاف حسین جوکروڑوں حق پرستوں کے دلوں میں دھڑکتےہیں۔ جو37برسوں سےزائد عرصےسےحق پرستی کی تحریک کےقائد ہیں۔ جوپاکستان کےفرسودہ وڈیرانہ نظام کے سامنےسیسہ پلائی ہوئی دیوارہیں۔ جن کےدیئے ہوئےنظریۂ حق پرستی کی حفاظت اور راہ میں 16ہزارسےزائدکارکنان نےشہادتوں کی انمٹ داستانیں تحریرکی ہیں۔ حق پرستی کی اس تحریک میں سینکڑوں کارکنان لاپتہ، ہزاروں اسیر، معذور، بےگھراور جلاوطن کردیئےگئے۔
آج ایک دفعہ پھرشہرِکراچی میں آپریشن کےنام پرمہاجروں کی نسل کشی کی جارہی ہے۔ حق پرستوں پران کی زندگی و زمین تنگ کردی گئی ہے۔ نفرت و تعصب کےنشےمیں بدمست حکمران، پورےپاکستان میں موجود مستند ملکی وبین الاقوامی دہشت گردوں کوچھوڑکر، صرف قائدِ تحریک کے پیروکاروں کو بدترین ریاستی دہشت گردی کانشانہ بنارہےہیں۔ آج ملک کےحکمران، مقتدرحلقے، سیاسی ومذہبی ولسانی جماعتیں، عدلیہ، میڈیاسب مل کر،مہاجروں کی نسل کشی اورقائدِ تحریک کی کردارکشی اور زباں بندی کےمکروہ دھندے میں مصروف و ملوث ہیں۔ ان عقل کےاندھوں کو اتنانہیں معلوم کہ یہ کوئی حساب یا الجبرا کا قانون نہیں کہ ان کے مائنس یا پلس کرنے سے اوراپنےفارمولے لگانےسے، اپنی مرضی کاجواب حاصل کرلیاجائے۔ یہ اللّہ ربّ العزت کابنایا ہوا قانونِ قدرت ہے کہ حق کوجتنا دباؤگے، وہ اتناہی ابھرکر سامنے آئے گا۔
قائدِ تحریک الطاف حسین کی شخصیت اور قیادت، حق پرستوں کیلیئے مرکز اور مرکزیت کی حیثیت وعلامت رکھتی ہے۔ بحیثیت تحریکی کارکن، ہمیں اپنےاپنےمدارمیں رہناہے۔ اپنےمرکز اورمرکزیت کواپنامرکزِنگاہ بناتےہوئے۔ ایک ہی رفتار، ایک ہی انداز، ایک ہی منزل کی جانب۔ ہم میں سےجس کی رفتار تیز یا سُست ہوگی، وہ اپنے مدار میں نہیں رہ پائےگا۔
ہم آج،17ستمبر،2015ء کےدن کوگواہ بناکر اپنے عہد اور وفا کی تجدید کرتےہیں کہ ہمیں ایٹم کے الیکٹرون، پروٹان اور نیوٹرون کی مانند اپنی اپنی ہیئت اورکمیت رکھتےہوئے، اپنےحصےکے فرائض انجام دینےہیں۔ ایک مخصوص رفتار سےاپنے مرکزNUCLEUS اور مرکزیت یعنی قائدِ تحریک الطاف حسین کےگرد اپنا تحریکی سفر جاری رکھناہےاور حق پرستوں کی کہکشاں ترتیب دینی ہے۔
یہ خالقِ کائنات کا بنایاہوا نظام و کہکشاں ہے۔ حق پرستی کی اس تحریک میں مرکزاور مرکزیت صرف قائدِ تحریک الطاف حسین کو حاصل ہے۔ جواس نظام کےخلاف جائےگا، تو اللّہ ربّ العزت کا قانونِ قدرت اوراس کا انصاف حرکت میں آئے گا اور باطل پرستوں کا وہی عبرتناک انجام ہوگا جواللّہ کےبنائے ہوئے نظام سے کھلواڑ کرنے والوں کا ہوا کرتا ہے۔
اللّہ ربّ العزّت، قائدِ تحریک الطاف حسین کو صحت و طویل عمرعطافرمائے۔ آمین۔ اللّہ تعالیٰ قائدِ تحریک کو نظرِ بد سےاورحاسدوں کےحسد سےبچائے۔ آمین۔ اللّہ عزّوجل، تحریک کےتمام شہداء کےدرجات کوبلند فرمائے۔ آمین۔ مالکِ کائنات، جلد تمام لاپتہ کارکنان کی بازیابی، اسیروں کی رہائی اور زخمیوں کو صحتیابی عطا فرمائے۔ آمین۔ مالکِ دو جہاں، ہم سب کو اپنی آخری سانس تک، صرف قائدِ تحریک الطاف حسین بھائی کا وفادار رکھے۔ آمین۔
تمام حق پرستوں کو
قائدِ تحریک
الطاف حسین بھائی کی62ویں
سالگرہ مبارک ہو
میری ہر تجدیدصرف تجھ سےوابستہ ہے
تیری نظر و قدم میری منزل کا رستہ ہے

تاریخ ہماری شاہدہے #الطاف_ہمارا_قائد_ہے (پہلی تحریر) بانی و قائدِتحریک الطاف حسین بھائی کےکارکن کی حیثیت سےاپنی تحریکی یادوں کوقلم بندکرنےکاآغازکررہاہوں -یہ17ستمبر2015کی تحریرہے اس تحریرکی خاص بات یہ ہےکہ اس تحریرمیں،میں نےقائدِمحترم کےعلاوہ کسی کانام نہیں لکھاتھا۔جبکہ نہ22اگست ہوئی تھی اور نہ ہی کسی بھی ٹولے کی جبری ولادت با مروت کروائی گئی تھی۔ بحیثیت ایک تحریکی کارکن میری تنظیمی چھٹی حس مجھ سےیہ کہہ رہی تھی کہ ” مرکز اور مرکزیت “ کےموضوع پرلکھو اورپھرمیں ایک ہی قلمی نشست میں اسے تحریرکرتاچلاگیا۔ اپنی اگلی تحریرمیں یہ بتاؤں گا کہ میں نے آل پاکستان مہاجراسٹوڈنٹس آرگنائزیشن میں کب اورکیوں شمولیت اختیار کی اورسب سے اہم یہ کہ بانی و قائدِتحریک الطاف حسین بھائی سےکب اورکہاں میری پہلی ملاقات ہوئی اوراس ملاقات میں کیا گفتگوہوئی تھی۔ ۔ ” مرکز اور مرکزیت “ یہ تحریر تحریکی ساتھیوں، قارئین اور تاریخ کےطالبعلموں کی نذر اس تحریر کو آپ ٹوئٹ میں دیئے گئے تینوں اسکرین شاٹس یا فیس بک👇کے👇لنک پر پڑھ سکتےہیں facebook.com/share/1Wjtpns3


5/1/2026 5:54:36 PM