Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

دنیا میں پیدا ہو نے والا ہربچہ لامذہب پیدا ہوتا ہے الطاف حسین


دنیا میں پیدا ہو نے والا ہربچہ لامذہب  پیدا ہوتا ہے الطاف حسین
 Posted on: 4/22/2026

دنیا میں پیدا ہو نے والا ہربچہ لامذہب  پیدا ہوتا ہے الطاف حسین 

کوئی بھی مذہب کسی سے نفرت کادرس نہیں دیتا لیکن بدقسمتی سے ہردور کی سپرپاورنے عوام کی حمایت حاصل کرنے کے لئے مذہب کوبطورہتھیار استعمال کیا ہے۔کسی بھی ملک میں جس مذہب کو مانا جاتا ہے،عموما اس ملک کی حکمراں اشرافیہ اپنی خواہشات کی تکمیل اور جائز وناجائز مقاصد کے حصول کے لئے اس مذہب کوبطور ڈھال استعمال کرتی رہی ہے۔ اسی طرح کسی بھی ملک کی حکمراں اشرافیہ مذہب کواستعمال کرکے رائے عامہ کو اپنے حق میں ہموار کرتی چلی آئی ہے۔ 
میں مذہب کیغلط استعمال کے موضوع کو آگے بڑھانے سے قبل ماضی بعید اور ماضی قریب کی چند مثالیں پیش کرنا چاہوں گا تاکہ قارئین بالخصوص نوجوان نسل (Gen Z) اس اہم اور حساس موضوع کو اس کی روح کے مطابق آسانی سے سمجھ سکیں۔ 
مثال کے طورپر 1857 کی جنگ آزادی میں ہندوستانیوں کی شکست کے بعد انگریزوں کا پورے ہندوستان پر مکمل قبضہ ہوگیا تھا، آہستہ آہستہ ہندوستان کے لوگوں نے ہندوستان پرانگریزوں کے ناجائز قبضے کے خلاف منظم ہونا شروع کیا، اس سلسلے میں کئی حریت پسند گروپوں نے بھی جنم لیا اور آزادی آزادی کے نعروں کی گونج ہرگزرتے دن کے ساتھ بڑھنے لگی تو ہندوستان کے لوگوں کے اتحاد کو توڑنے، انہیں تقسیم کرنے اور کمزور کرنے کیلئے انگریزوں نے مذہب کے نام کو اِس شاطرانہ طریقے سے استعمال کیا کہ ہندواورمسلمان جو لگ بھگ ایک ہزار سال سے اپنے اپنے مذہب پرقائم رہتے ہوئے ایک ساتھ رہتے چلے آرہے تھے، ایک دوسرے کے سکھ دکھ میں شرکت کرتے رہے تھے اور ایک دوسرے کے مذہبی تہوار کااحترام کرتے چلے آرہے تھے، انگریزوں نے انہیں مذہب کی بنیاد پر تقسیم کردیا۔ اس تقسیم کو یقینی بنانے کیلئے انگریز حکمراں اشرافیہ نیہندوستان کے مولویوں اور پنڈتوں کو استعمال کیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ ہندو اور مسلمان جو ملکر انگریزوں کے خلاف آزادی کے لئیلڑرہے تھے، وہ اس طرح تقسیم ہوگئے کہ انگریزوں سیلڑنے کے بجائے آپس میں ہی لڑنے لگے، یہ سلسلہ بالآخر ہندوستان کے جغرافیے کی تقسیم کا سبب بنا۔ 
ہم ماضی قریب کی مثال کو سامنے رکھیں کہ 70 کی دہائی میں امریکہ اور روس کی سردجنگ چل رہی تھی اور جب روس افغانستان تک پہنچ گیا تو امریکہ نے روس کا براہ راست مقابلہ کرنے کے بجائے مذہب کے نعرے کو استعمال کیا۔ افغانستان اور پاکستان میں مجاہدین تیار کرنے کیلئیبمعہ جنگی ساز وسامان کھربا کھرب ڈالرز استعمال کیے اور پاکستان کو روس سیلڑنے کا مرکزی مقام بنادیا۔ اس سلسلے میں پاکستان کی حکمراں اشرافیہ نے پاکستان میں سینکڑوں جہادی مدرسے قائم کرکے سادہ لوح عوام بالخصوص نوجوانوں کو نہ صرف جہاد کی تعلیم دی بلکہ انہیں جنگ لڑنے کی تربیت دینے کے لئے تربیتی مراکز بھی قائم کیے۔ 
 پورے پاکستان میں جگہ جگہ بڑے بڑے بینرز آویزاں اور وال چاکنگ ہونے لگی کہ ان مجاہدین کی مدد کریں جو کافروں یعنی روسیوں کے خلاف اللہ کے نام پر جہاد کررہے ہیں۔ یہ سب کچھ حکمراں اشرافیہ کی سرپرستی میں کیا گیا اوراس مقصد کیلئے بھی پاکستان کی حکمراں اشرافیہ نے عوام کی ذہن سازی کیلئے مذہبی جماعتوں اور مذہبی جغادریوں کو استعمال کیا۔ اسی طرح حکمراں اشرافیہ کے مفادات کے حصول کے لئے تحریک طالبا ن پاکستان (TTP) کا وجود عمل میں لایا گیا اورملک میں مذہبی انتہا پسندی کوفروغ دیا گیا۔ 
اس کے بعد سے لیکرآج 18، اپریل 2026 کے دن تک پاکستان کے عوام کی ایک بڑی تعداد مذہبی انتہا پسندی میں مبتلا ہوچکی ہے اورآئیدن ایسیواقعات سامنے آتے ہیں کہ فلاں شخص نے قرآن مجید کی بے حرمتی کی ہے یا نبی آخرالزماں حضرت محمد مصطفی ۖکی شان میں گستاخی کا عمل کیا ہے۔اس قسم کے جھوٹے الزامات عائد کرکے کسی بھی مذہب سے تعلق رکھنے والے فرد کو قتل کرنے، زندہ جلانے یا مذہبی اقلیتوں کی عبادت گاہوں اوراملاک کو نذرآتش کرنے کے واقعات رونماہوتے رہے۔ اس طرح کے افسوسناک واقعات کا ایساسلسلہ شروع ہوا ہے جوآج تک ختم نہ ہوسکا اور یہ سب کچھ حکمراں اشرافیہ کی سرپرستی میں ہوا۔ 
میں اس موضوع کی مزیدوضاحت اس طرح کرناچاہوں گا کہ کسی بھی مذہب کے مولوی،پادری،پنڈت یامبلغین مذہب کی آڑ میں اشرافیہ کیمفادات کیلئے کام کرتے ہیں اور اشرافیہ کیاقدامات کو اس مذہب کی تعلیمات کیعین مطابق قرار دیکرلوگوں کو حکمراں اشرافیہ کی اطاعت وحمایت، فرمابرداری اور پیروی کرنیکی تلقین کرتے ہیں۔ 
اِس مقصد کیتحت لوگوں میں مذہبی جنونیت پھیلانے کیلئے عوام کے سامنے ایسے ایسیموضوعات لائیجاتے ہیں جو مذہبی انتہاپسندی اورعوام کیدرمیان انتشار کوفروغ دینے کاسبب بنتے ہیں۔ مثال کیطورپرفقہی اختلافات کو کفر سے تعبیرکردیا جاتا ہیاوراس مخالف فقہ یامسلک کے ماننے والوں کوکافرحتی کہ واجب القتل قراردیدیا جاتا ہے، بعض درس گاہوں میں بچوں کو باقاعدہ تعلیم وتربیت دیکر کسی مخصوص فقہ یا مسلک کیماننے والوں کو کافرکہنے کی تسبیحات تک پڑھائی جاتی ہیں۔بعض عناصر کی جانب سیمذہبی اجتماعات، جلسے جلوسوں یا سیمینارز میں مخالف فقہ، مسلک یاکسی مذہب کے پیروکاروں یا کسی مخصوص طبقہ فکرکے ماننے والوں کیخلاف لوگوں کو بھڑکایا جاتا ہے۔یہ انتہا پسندانہ طرز عمل معاشرے کے مختلف طبقات کے درمیان شدید نفرت وعداوت، عدم برداشت اور انتشار کوفروغ دیتا ہے۔ 
ہمیں یہ سمجھناچاہیے کہ مذہب ایک عقیدے، faith اورBelief system کا نام ہے۔حقیقت یہ ہیکہ دنیا میں پیدا ہونے والاہربچہ لامذہبپیدا ہوتا ہے، ماں کی کوکھ سے جنم لینے والے بچے کا کوئی مذہب نہیں ہوتا، وہ بغیرمذہب کے پیدا ہوتا ہے۔البتہ جوبچہ مسلمان گھرانے میں پیدا ہوتا ہے وہاں بچے کو مسلمان بنانے کیلئے اس کے کان میں اذان دی جاتی ہے، عیسائی گھرانے میں پیدا ہونے والے بچے کوچرچ لیجاکر اسے Baptise کیا جاتا ہے یعنی مقدس پانی سیاس کے سر کو دھویا جاتا ہییا نہلایا جاتا ہے، اسی طرح دیگرمذاہب کے ماننے والے بھی اپنے اپنے مذہبی عقائد کے مطابق رسومات ادا کرکے اپنے بچے کواپنے مذہب کے دائرے میں لاتے ہیں۔آگے چل کرمسلمان اپنے بچوں کو مسجد لیکر جاتے ہیں، عیسائی اپنے بچوں کو چرچ لے کرجاتے ہیں،یہودی اپنے بچوں کو اپنی عبادت گاہ synagogue لے کرجاتے ہیں۔ ہندو اپنے بچوں کومندرلے کرجاتے ہیں اورسکھ اپنے بچوں کو گردوارے لیکر جاتے ہیں۔اسی طرح دیگرمذاہب کے ماننے والے اپنے بچوں کو اپنی عبادت کی ان جگہوں پرلے کرجاتے ہیں جو ان کے مذہب میں مقدس ومعتبرتصورکی جاتی ہیں۔ یوں وہ بچہ جس گھرانے میں پرورش پاتا ہے، وہ اپنے ماں باپ  یا گھر والوں کو جو مذہبی عبادات ادا کرتے دیکھتا ہے، وہی کرنے لگتا ہے، اس طرح وہ بچہ وہی مذہب اختیارکرتا ہے جواس کے ماں باپ اورگھر والوں کا مذہب ہوتاہے۔
گویا یہ بات ثابت ہوئی کہ کوئی بھی مذہب موروثی ہوتا ہے۔ یعنی ہرمذہب کا ماننے والاعموما وہی مذہب اختیار کرتا ہے جو اس کے والدین اور آبااجداد کا مذہب ہوتاہے اور اس مذہب کواختیار کرنے میں اس انسان کااپنا کوئی کریڈٹ نہیں ہوتا۔ 
ہرفرد کوشروع سے یہی بتایا جاتا ہے کہ اس کامذہب سب سے اچھا اور سچا مذہب ہے۔ لہذا وہ اپنے مذہب کو ہی صحیح اورسچامذہب مانتاہے اوریہ سوچ اس کے ایمان کاحصہ بن جاتی ہے۔ غورکیاجائے تو کسی بھی مذہب یامذہبی عقیدے، faith  اورBelief system  کی کوئی سائنسی حقیقت نہیں ہوتی اوراسے سائنسی بنیادوں پر کسی لیبارٹری میں درست ثابت نہیں کیا جاسکتا۔ اگر کوئی مذہب سائنسی بنیاد پرکسی لیبارٹری میں ثابت کیاجاسکتا تووہ ایک سائنسی حقیقت کی طرح ہرگھر میں موجود ہوتا۔
مثال کے طورپر بلب ایک سائنسی ایجاد ہے، سائنسی حقیقت ہے اورسائنسی بنیاد پر ثابت ہیلہذا وہ بلاامتیازِ مذہب ومسلک وعقیدہ ہرعبادت گاہ اورہر گھر میں جل رہا ہوتا ہے۔ 
اگرہم تاریخ کاجائزہ لیں توہم یہ دیکھتے ہیں کہ ہرسائنسی نظریہ یاسائنسی ایجاد کومذہب کے خلاف قرار دیا گیا اوراس کے استعمال کو مذہبی بنیاد پرحرام تک قرار دے دیا گیا۔مثال کے طورپر لاڈ اسپیکر جو ایک سائنسی ایجادہے،جب برصغیر میں لاڈ اسپیکرکومتعارف کرایا گیا تو مذہبی بنیادپر اس کی مخالفت کی گئی، اس کااستعمال حرام قرار دیا گیا، لاڈ اسپیکرپر اذان دیناحرام قرار دیا گیا لیکن آج ہر مذہب و مسلک کے ماننے والے لاڈ اسپیکر کا استعمال کرتے ہیں۔ اسی طرح پہلے کیمرے، ٹیلیوژن، وی سی آر کو مختلف مذہبی عقائد کے ماننے والوں کی جانب سیحرام قراردیا گیا،طالبان اور دیگر بعض مذہبی انتہا پسند  عناصر نے تو ٹی وی اور کیمرے توڑ کر کھمبوں تک پر لٹکادیے لیکن آج تمام مذہبی عقائد کے ماننے والے اپنے عقائد کی ترویج و تشہیر اور اشاعت کے لئے ٹی وی اور کیمروں کا خوب استعمال کرتے ہیں، ان کے اپنے اپنے ٹی وی چینلز تک ہیں۔یعنی کل تک جو چیز حرام قرار دے دی گئی تھی آج وہ حلال ہوگئی ہے۔گویا جب انسانوں کا شعور بڑھتا ہے اوروہ غورکرتے ہیں تو بالآخر سائنسی ایجادات کی حقیقت اور افادیت کوتسلیم کرتے ہوئے ان کا استعمال شروع کردیتے ہیں۔
پس جوچیزایک سائنسی حقیقت ہو، سائنسی بنیاد پر ثابت شدہ ہو اورانسانوں کی فلاح وبہبود اور اس کے مقاصد کی اشاعت و ترویج کے لئے مفید ہووہ بالآخر بلاامتیازِ مذہب ومسلک مانی جاتی ہے۔ 
میں پاکستانیوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ آپ بحیثیت مسلمان کسی بھی فقہ یا مسلک کے ماننے والے ہوں، میں نہیں کہتا کہ آپ اپنامسلک یاعقیدہ چھوڑ دیں، آپ بے شک اپنے اپنے مسلک وعقیدے پر قائم رہیں لیکن دوسرے کے فقہ، مسلک وعقیدے میں کیڑے نہ نکالیں، آپ اپنے طریقے سے نماز پڑھیں، دوسرے مسلک کے ماننے والے کواس کے طریقے سے نماز پڑھنے دیں، آپ اوروہ نمازمیں اللہ کو ہی سجدہ کررہے ہیں، اسی کی عبادت کررہے ہیں۔ لہذانماز کی ادائیگی کے طریقے میں اختلاف اورعقائد کی بنیاد پرآپس میں ایک دوسرے سینفرت نہ کریں بلکہ ایک دوسرے کااحترام کریں، ایک دوسرے کے ساتھ پیارمحبت سے پیش آئیں۔آپس میں دوستی کریں، آپس میں گھلیں ملیں۔آپ کسی بھی مذہب یاکسی بھی مسلک کے ماننے والے ہوں، آپ انسان ہیں اورانسانی رشتہ تمام رشتوں پر مقدم ہوتا ہے۔ مذہب یاعقیدے کی بنیاد پر لوگوں سے نفرت کرناانسانیت اورانسانی رشتے کی صریحا نفی ہے۔ 
اسی طرح کسی بھی شہری کامذہب کوئی بھی ہو، اگروہ آپ کے مذہب کا ماننے والا نہیں ہے تواس بنیاد پر اس سے لڑائی کرنا، علاقے میں فساد برپا کرنا، لوگوں کو فسادپر اکسانا، مذہب کی بنیاد پر کسی کوقتل کردینا،اس کی عبادت گاہ، اس کے گھر کو جلا دینا سراسر غلط فعل ہے۔ اگرآپ مذہب کی بنیاد پر کسی دوسرے مذہب کے ماننے والے کو قتل کررہے ہیں، اس کی عبادت گاہ یا گھر کو جلا رہے ہیں اوراس عمل کو اپنے مذہب کی بنیاد پردرست قراردے رہے ہیں تو اس کامطلب ہے کہ آپ اس عمل کو اپنے مذہب کی تعلیمات کے عین مطابق قرار دے رہے ہیں جبکہ کوئی بھی مذہب قتل وغارتگری، اشتعال انگیزی اوراس طرح کے کاموں کا درس نہیں دیتا۔ 
اسی طرح زبان،قومیت یاعلاقے کا معاملہ آجاتا ہے، اس بنیاد پر بھی آپس میں ایک دوسرے سے نفرت یا تعصب نہیں ہونا چاہیے۔ میراپیغام یہی ہے کہ ہر زبان، ہر علاقے، ہرقوم کے انسان سے محبت کرو، کسی سے نفرت نہ کرو۔اسی طرح مذہب ومسلک اورعقیدے کی بنیاد پر کسی سے نفرت اورجنگ وجدل نہ کرو بلکہ ایک دوسرے کے مذہب ومسلک کااحترام کرو۔ 
 میں سمجھتا ہوں کہ دنیا کی بہتری اور فلاح اسی میں ہے کہ ہم خودبھی جئیں اور دوسرے کوبھی جینے دیں،ہم اپنے معاشرے کو ایسامعاشرہ بنائیں جہاں جنگل کا قانون نہ ہو جہاں ہر طاقتور جانور کمزور جانور کوکھا جاتا ہے بلکہ ہمارامعاشرہ انسانوں کا ایسا معاشرہ ہو جہاں انسانیت کااحترام کیاجائے، انسانوں کے ساتھ مذہب، فقہ، مسلک، عقیدے، زبان، علاقے، یا کسی بھی بنیاد پر نفرت، تعصب، تفریق یا امتیاز نہ کیا جائے۔ 

الطاف حسین 
ٹک ٹاک پر 397 ویں فکری نشست سے خطاب
18اپریل 2026

انسان کااپنا کوئی کریڈٹ نہیں ہوتا۔ 
ہرفرد کوشروع سے یہی بتایا جاتا ہے کہ اس کامذہب سب سے اچھا اور سچا مذہب ہے۔ لہذا وہ اپنے مذہب کو ہی صحیح اورسچامذہب مانتاہے اوریہ سوچ اس کے ایمان کاحصہ بن جاتی ہے۔ غورکیاجائے تو کسی بھی مذہب یامذہبی عقیدے، faith  اورBelief system  کی کوئی سائنسی حقیقت نہیں ہوتی اوراسے سائنسی بنیادوں پر کسی لیبارٹری میں درست ثابت نہیں کیا جاسکتا۔ اگر کوئی مذہب سائنسی بنیاد پرکسی لیبارٹری میں ثابت کیاجاسکتا تووہ ایک سائنسی حقیقت کی طرح ہرگھر میں موجود ہوتا۔
مثال کے طورپر بلب ایک سائنسی ایجاد ہے، سائنسی حقیقت ہے اورسائنسی بنیاد پر ثابت ہیلہذا وہ بلاامتیازِ مذہب ومسلک وعقیدہ ہرعبادت گاہ اورہر گھر میں جل رہا ہوتا ہے۔ 
اگرہم تاریخ کاجائزہ لیں توہم یہ دیکھتے ہیں کہ ہرسائنسی نظریہ یاسائنسی ایجاد کومذہب کے خلاف قرار دیا گیا اوراس کے استعمال کو مذہبی بنیاد پرحرام تک قرار دے دیا گیا۔مثال کے طورپر لاڈ اسپیکر جو ایک سائنسی ایجادہے،جب برصغیر میں لاڈ اسپیکرکومتعارف کرایا گیا تو مذہبی بنیادپر اس کی مخالفت کی گئی، اس کااستعمال حرام قرار دیا گیا، لاڈ اسپیکرپر اذان دیناحرام قرار دیا گیا لیکن آج ہر مذہب و مسلک کے ماننے والے لاڈ اسپیکر کا استعمال کرتے ہیں۔ اسی طرح پہلے کیمرے، ٹیلیوژن، وی سی آر کو مختلف مذہبی عقائد کے ماننے والوں کی جانب سیحرام قراردیا گیا،طالبان اور دیگر بعض مذہبی انتہا پسند  عناصر نے تو ٹی وی اور کیمرے توڑ کر کھمبوں تک پر لٹکادیے لیکن آج تمام مذہبی عقائد کے ماننے والے اپنے عقائد کی ترویج و تشہیر اور اشاعت کے لئے ٹی وی اور کیمروں کا خوب استعمال کرتے ہیں، ان کے اپنے اپنے ٹی وی چینلز تک ہیں۔یعنی کل تک جو چیز حرام قرار دے دی گئی تھی آج وہ حلال ہوگئی ہے۔گویا جب انسانوں کا شعور بڑھتا ہے اوروہ غورکرتے ہیں تو بالآخر سائنسی ایجادات کی حقیقت اور افادیت کوتسلیم کرتے ہوئے ان کا استعمال شروع کردیتے ہیں۔
پس جوچیزایک سائنسی حقیقت ہو، سائنسی بنیاد پر ثابت شدہ ہو اورانسانوں کی فلاح وبہبود اور اس کے مقاصد کی اشاعت و ترویج کے لئے مفید ہووہ بالآخر بلاامتیازِ مذہب ومسلک مانی جاتی ہے۔ 
میں پاکستانیوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ آپ بحیثیت مسلمان کسی بھی فقہ یا مسلک کے ماننے والے ہوں، میں نہیں کہتا کہ آپ اپنامسلک یاعقیدہ چھوڑ دیں، آپ بے شک اپنے اپنے مسلک وعقیدے پر قائم رہیں لیکن دوسرے کے فقہ، مسلک وعقیدے میں کیڑے نہ نکالیں، آپ اپنے طریقے سے نماز پڑھیں، دوسرے مسلک کے ماننے والے کواس کے طریقے سے نماز پڑھنے دیں، آپ اوروہ نمازمیں اللہ کو ہی سجدہ کررہے ہیں، اسی کی عبادت کررہے ہیں۔ لہذانماز کی ادائیگی کے طریقے میں اختلاف اورعقائد کی بنیاد پرآپس میں ایک دوسرے سینفرت نہ کریں بلکہ ایک دوسرے کااحترام کریں، ایک دوسرے کے ساتھ پیارمحبت سے پیش آئیں۔آپس میں دوستی کریں، آپس میں گھلیں ملیں۔آپ کسی بھی مذہب یاکسی بھی مسلک کے ماننے والے ہوں، آپ انسان ہیں اورانسانی رشتہ تمام رشتوں پر مقدم ہوتا ہے۔ مذہب یاعقیدے کی بنیاد پر لوگوں سے نفرت کرناانسانیت اورانسانی رشتے کی صریحا نفی ہے۔ 
اسی طرح کسی بھی شہری کامذہب کوئی بھی ہو، اگروہ آپ کے مذہب کا ماننے والا نہیں ہے تواس بنیاد پر اس سے لڑائی کرنا، علاقے میں فساد برپا کرنا، لوگوں کو فسادپر اکسانا، مذہب کی بنیاد پر کسی کوقتل کردینا،اس کی عبادت گاہ، اس کے گھر کو جلا دینا سراسر غلط فعل ہے۔ اگرآپ مذہب کی بنیاد پر کسی دوسرے مذہب کے ماننے والے کو قتل کررہے ہیں، اس کی عبادت گاہ یا گھر کو جلا رہے ہیں اوراس عمل کو اپنے مذہب کی بنیاد پردرست قراردے رہے ہیں تو اس کامطلب ہے کہ آپ اس عمل کو اپنے مذہب کی تعلیمات کے عین مطابق قرار دے رہے ہیں جبکہ کوئی بھی مذہب قتل وغارتگری، اشتعال انگیزی اوراس طرح کے کاموں کا درس نہیں دیتا۔ 



4/22/2026 2:16:21 PM