Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

فوج کشی کی پالیسی سے پاکستان کے مسائل حل نہیں ہوں گے۔


فوج کشی کی پالیسی سے پاکستان کے مسائل حل نہیں ہوں گے۔
 Posted on: 10/25/2026

فوج کشی کی پالیسی سے پاکستان کے مسائل حل نہیں ہوں گے۔  باقیماندہ پاکستان کوقائم رکھنا ہے تو حقائق تسلیم کرنا ہوگا۔ حقائق بیان کرنے پر مجھے غدار قرار دینا درست نہیں  —————————- پاکستان کی داخلی اوربین الاقوامی صورتحال بہت نازک ہوتی جارہی ہے، پاکستان کی مشکلات بڑھتی جارہی ہیں، تیسری عالمی جنگ کی باتیں بھی ہورہی ہیں مگرپاکستان میں عوام سے حقائق چھپائے جاتے ہیں۔بالکل ایسے ہی جیسے کہ 1971ء، میں چھپائے گئے،جب سابقہ مشرقی پاکستان میں جنگ کے دوران 16 دسمبر 1971ء کوپاکستان کی فوج انڈیاکی فوج کے سامنے ہتھیارڈال رہی تھی لیکن مغربی پاکستان میں اخبارات میں یہ شہ سرخیاں شائع کی جارہی تھیں کہ ہماری فوجیں دشمن کو ہر محاذ پر شکست دے رہی ہیں۔مشرقی پاکستان کی طرح آج بلوچستان کی جوسنگین صورتحال ہے اس سے بھی عوام کو بےخبر رکھا جارہا ہے، دو روزقبل بلوچستان کے علاقے گوادرمیں جو واقعہ ہوااس بارے میں بھی عوام سے حقائق چھپائے جارہے ہیں۔  ہمیں بحیثیت قوم یہ سوچناہوگا کہ بنگالیوں نے توتحریک پاکستان میں صف اول میں حصہ لیا تھا، غیر منصفانہ سلوک کے باوجود انہوں نے پاکستان کا سو فیصد ساتھ دیا تھا، پھر مشرقی پاکستان ہم سے الگ کیوں ہوا؟ مشرقی پاکستان بنگلہ دیش کیوں بنا؟یہ پاکستان کی تاریخ کے تلخ حقائق ہیں، آخرنئی نسل کویہ حقائق کیوں نہ بتائے جائیں؟ نئی نسل کو حقائق بتانے پر مجھے غدارکہاجاتا ہے، میں نے بعض سوشل میڈیابراڈ پر حقائق بیان کئے تو بعض متعصب لوگوں نے مجھے غداراوربی ایل اے کاحمایتی کہا، میں حقائق بیان کرتا ہوں، میراسوال یہ ہے کہ بی ایل اے جیسی تنظیمیں کیوں وجود میں آئیں؟کسی قوم کے لوگ ا گر ہتھیار اٹھاتے ہیں توکیوں اٹھاتے ہیں؟ کیا امریکیوں نے سلطنت برطانیہ کی کالونی سے آزادی حاصل کرنے کے لئے ہتھیارنہیں اٹھائے تھے؟ اگرمیں تاریخی حقائق بیان کرتاہوں اوراس کی روشنی میں پالیسیاں درست کرنے کی بات کرتاہوں توآپ میرے بیان کردہ نکات سے اختلاف کرسکتے ہیں، میرے پیش کردہ حقائق کوثبوت وشواہد اوردلائل کی بنیاد پر مجھے غلط ثابت کرسکتے ہیں، اگرآپ مجھے غلط ثابت کردیں تومیں اس پرمعافی مانگ لوں گا، لیکن حقائق بیان کرنے پرآپ مجھے غدارقرار نہیں دے سکتے۔ کیا یہ حقائق نہیں کہ جب 14 اگست 1947ء کوپاکستان وجود میں آیا تو اس وقت بلوچستان پاکستان کا حصہ نہیں تھا بلکہ آزادریاست تھی،اس وقت کا پاکستان کانقشہ دیکھ لیں،اس میں بلوچستان نہیں ملے گا، 4 اگست 1947ء کوسلطنت برطانیہ کے نمائندے کی موجودگی میں قائداعظم محمدعلی جناح اور خان آف قلات میراحمدیارخان کے درمیان ایک معاہدہ طے پایا جسے Standstill agreement  کہا جاتاہے جس کے تحت پاکستان نے ریاست قلات کوایک آزاد اور خودمختارریاست تسلیم کرلیا تھا۔ اس حوالے سے 11 اگست 1947ء کوباقاعدہ اعلان ہوگیا تھا۔ریاست قلات ایک آزاد اور خودمختار ریاست تھی لیکن بعد میں قلات کوپاکستان میں شامل ہونےکے لئے دباؤڈالا گیا،جب خان آف قلات نے پاکستان میں شامل ہونے سے انکارکردیا تو ان کومجبور کرنے کےلئے مارچ 1948ء میں پاکستان کی فوج بلوچستان میں داخل ہوگئی۔27مارچ 1948ء کو قلات پرفوج کشی کردی گئی،خان آف قلات کے محل پر حملہ کردیاگیا، اورخان آف قلات میراحمد یارخان پر دباؤ ڈال کران سے جبری الحاق نامے پر دستخط لےلئے گئے۔جسے ”جبری الحاق“ کہا جاتا ہے، خان آف قلات کے چھوٹے بھائی پرنس کریم نےاس الحاق کو تسلیم نہیں کیااوربلوچستان کے عوام کے ساتھ ملکر جدوجہدشروع کردی۔ اس جبری الحاق کےخلاف بلوچوں کی یہ جدوجہد 1948سے آج تک جاری ہے۔  اسی طرح ریاست کشمیرکابھی معاملہ ہے کہ وہ 14  اگست1947ء میں ایک آزاد اور خودمختارریاست تھی، وہاں مہاراجہ ہری سنگھ کی حکومت تھی۔ کشمیرنہ انڈیا کا حصہ تھا اورنہ ہی پاکستان کا، انڈیا ہو یا پاکستان، دونوں نے کشمیرپر قبضہ کیا، اسی لئے کشمیری آج بھی ایک آزاد اور خودمختار کشمیرکی بات کرتے ہیں۔ یہ تاریخی حقائق ہیں، ان حقائق کے بیان کرنے پر مجھ پر غداری کے الزامات لگانا درست نہیں۔
ہمیں باقیماندہ پاکستان کی فکرہے توہمیں اس پرسوچنا ہوگا کہ پاکستان کے دولخت ہونے کی وجوہات کیا تھیں؟ بنگالیوں نے اپنا حق مانگا،ہم نےنہیں دیا،سابقہ مشرقی پاکستان آبادی کے لحاظ سے 56 فیصد تھا، انہوں نے اپنی آبادی کے تناسب سے ہر شعبہ میں اپناحق مانگا لیکن ہم نے آبادی کے تناسب سے ان کاحق دینے کے بجائے پیرٹی (Parity) یا برابری کاغیرمنصفانہ قانون بنایا، بنگالیوں نے اس کوبھی قبول کرلیا لیکن ہم نے اس قانون کے مطابق بھی بنگالیوں کوان کاحق نہیں دیا۔ کیایہ حقیقت نہیں کہ 1970ء کے عام انتخابات میں شیخ مجیب الرحمن کی عوامی لیگ نے بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کی تھی لیکن اس وقت کی ملٹری لیڈرشپ اورذوالفقارعلی بھٹو نے عوامی لیگ کو ملنے والے مینڈیٹ کوتسلیم نہیں کیا، اقتدارکی منتقلی کے لئے اسمبلی کااجلاس تک نہیں بلایا گیا، شیخ مجیب نے ڈھاکہ میں اسمبلی کااجلاس بلایا توبھٹو نے دھمکی دی کہ جو رکن اجلا س میں شرکت کرنے ڈھاکہ جائے گااس کی ٹانگیں توڑدی جائیں گی، ہم نے عوامی لیگ کو اقتدار دینے کے بجائے مشرقی پاکستان میں فوج کشی کی اوربنگالیوں کا قتل کیا؟ اس کانتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان ٹوٹ گیا اورمشرقی پاکستان الگ ہوکربنگلہ دیش بن گیا۔ آج بھی پاکستان میں جہاں بھی لوگ اپنا حق مانگ رہے ہیں تووہاں بات چیت کرنے اور ڈائیلاگ کرنے کے بجائے فوج کشی کا عمل کیا جارہا ہے،اس پالیسی سے پاکستان کے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس کے بھیانک نتائج برآمد ہوں گے۔ اگر باقیماندہ پاکستان کوقائم رکھنا ہے تو ہمیں حقائق تسلیم کرنا ہوگا۔ آج بھی بلوچستان میں فوج کشی کی جارہی ہے، خیبرپختونخوا میں پشتونوں نے تحریک انصاف کواپنا مینڈیٹ دیا لیکن پشتونوں کے مینڈیٹ کااحترام کرنے کے بجائے وہاں گورنرراج اورایمرجنسی نافذ کرکے پشتونوں کے مینڈیٹ کاخون کردیا گیا۔ یہ پشتونوں کے مینڈیٹ کی توہین ہے۔ خیبر پختونخوا کے منتخب وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے وفاقی حکومت کویہی کہا تھا کہ ان کےصوبے میں جوبھی آپریشن کرنا ہے وہ صوبائی حکومت کرے گی لیکن اس بات پر سہیل آفریدی کی حکومت کو اڑا کرپھینک دیا گیا۔ منظور پشتین پاکستان کے آئین وقانون کے تحت پشتونوں کے حقوق مانگ رہاتھا، لیکن ان کی تنظیم پر پابندی لگادی گئی۔حکمرانوں کو سوچنا چاہیے کہ ایسے اقدامات سے پشتونوں میں کیا جذبات پیدا ہورہے ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ اب وقت آگیا ہے کہ ایک آزاداورخودمختارالیکشن کمیشن قائم کیاجائے جس کے تحت آزادانہ اورمنصفانہ الیکشن کرائے جائیں اورفارم 47 میں نتائج تبدیل کرنے کے بجائے عوام جسے منتخب کریں، اقتدارعوام کے حقیقی منتخب سویلین نمائندوں کےحوالے کیا جائے، سویلین کوحکومت چلانے دی جائے، فوج بیرکوں میں واپس جائے، ملک کے تمام اداروں کوچلانا فوج کا کام نہیں ہے، البتہ فوج کی ایجنسیوں کے پاس کسی بھی سیاستدان کے کرپشن اورلوٹ مار میں ملوث ہونے کی رپورٹس ہوں تو وہ ثبوت وشواہد کے ساتھ حکومت کوپیش کردیں۔ اسی طرح ملک میں آئین وقانون کی حکمرانی ہوسکتی ہے اور ہم ملک کو حقیقی معنوں میں مضبوط ومستحکم کرسکتے ہیں۔ الطاف حسین ٹک ٹاک پر489  ویں فکری نشست سے خطاب 24، اکتوبر2026ء

10/28/2026 2:07:14 PM