Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

چالیس برس بعد، ایک آواز سے دوبارہ ملاقات! الطاف حسین کی 73ویں سالگرہ، لندن کی ایک شام اور وقت کے بدلتے ہوئے چہرے !


چالیس برس بعد، ایک آواز سے دوبارہ ملاقات! الطاف حسین کی 73ویں سالگرہ، لندن کی ایک شام اور وقت کے بدلتے ہوئے چہرے !
 Posted on: 9/20/2026

چالیس برس بعد، ایک آواز سے دوبارہ ملاقات! الطاف حسین کی 73ویں سالگرہ، لندن کی ایک شام اور وقت کے بدلتے ہوئے چہرے !

تحریر: راجہ زاہد اختر خانزادہ

وقت کی سب سے بڑی ستم ظریفی شاید یہی ہے کہ وہ انسان سے اس کی جوانی تو چھین لیتی ہے، مگر وہ اس کے ماضی کو نہیں مٹا سکتی۔ چہرے بدل جاتے ہیں، آوازوں میں عمر کی تھکن اتر آتی ہے، یادداشت کے دریچوں پر کبھی کبھی دھند چھا جاتی ہے، لیکن بعض لمحے ایسے ہوتے ہیں جو برسوں بعد بھی انسان کو اسی مقام پر لا کھڑا کرتے ہیں جہاں سے اس کی یادوں کا سفر شروع ہوا تھا۔

لندن کی ایک شام میرے لیے کچھ ایسی ہی تھی۔

ایم کیو ایم کے بانی و قائد الطاف حسین کی تہترویں سالگرہ کی تقریب میں شرکت کی دعوت رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر عاطف شمیم کی جانب سے موصول ہوئی۔ انہیں دوستوں کے ذریعے معلوم ہوا تھا کہ میں ان دنوں اسکاٹ لینڈ میں موجود ہوں۔ عاطف شمیم کا تعلق بھی ہمارے ٹیکساس سے ہے، سو دیارِ غیر کی اس شناسائی نے دعوت میں اپنائیت کا ایک رنگ بھی بھر دیا۔

مصروفیات کا سلسلہ طویل تھا، مگر میں نے سوچا کہ بعض دعوتیں محض کسی تقریب میں شرکت کے لیے نہیں ہوتیں، بلکہ وقت کے دریچوں سے جھانکتی تاریخ کے کسی پرانے کردار کو نئے زمانے میں دوبارہ دیکھنے، سننے اور سمجھنے کا موقع بھی فراہم کرتی ہیں۔

سو مصروفیات سے چند لمحے مستعار لیے اور اپنے دوست ریحان کے ہمراہ گلاسگو سے لندن کی جانب روانہ ہوگیا۔

لندن پہنچ کر پہلے ایم کیو ایم کے سیکریٹریٹ جانے کا موقع ملا، جسے تنظیمی حلقوں میں اس کے پتے کی نسبت سے ’’185‘‘ کہا جاتا ہے۔ یہ عمارت مجھے کراچی کے نائن زیرو کی یاد دلا رہی تھی۔ وہی سیاسی وابستگی کی فضا، وہی تنظیمی سرگرمیوں کا احساس اور ایک ایسی جگہ جہاں دیواریں بھی اپنے اندر کئی دہائیوں کی سیاسی داستانیں سمیٹے ہوئے محسوس ہوتی ہیں۔ وہاں کیا دیکھا، کن رہنماؤں  سے ملاقاتیں ہوئیں، کیا گفتگو ہوئی اور اس عمارت کے اندر مجھے نائن زیرو کے ماضی کی کون سی جھلکیاں نظر آئیں، یہ سب ایک الگ داستان ہے، جسے جلد ایک علیحدہ رپورٹ کی صورت میں آپ کے سامنے لاؤں گا۔

فی الحال اس شام کی طرف لوٹتے ہیں، جہاں ہم بعد ازاں الطاف حسین کی سالگرہ کی تقریب میں جا پہنچے، اس محفل کا مرکزی لمحہ الطاف حسین کا تقریباً ڈیڑھ گھنٹے پر محیط خطاب تھا، اور میرے لیے یہ محض ایک تقریر نہیں، چالیس برس پہلے سنی ہوئی ایک آواز سے دوبارہ ملاقات تھی، میں انہیں تقریبناچالیس برس پہلے بھی براہ راست سن چکا ہوں اور ان سے بلمشافہ ملاقات بھی پریس کلب ٹنڈوالہیار میں ہوچکی ہے۔

آج جب میں نے ان کی آواز دوبارہ سنی تو یوں محسوس ہوا جیسے وقت نے اچانک ماضی کی کسی بند الماری کا دروازہ کھول دیا ہو۔ وہی مخصوص خطیبانہ انداز، وہی لہجے کا اتار چڑھاؤ، وہی گفتگو کے درمیان سوال اٹھانے اور پھر خود اس کا جواب دینے کی روش، البتہ چالیس برس کا فاصلہ معمولی نہیں ہوتا، وقت ہر انسان پر اپنے نقوش چھوڑتا ہے۔ گفتگو کے دوران بعض باتوں کی تکرار اور کہیں کہیں تسلسل میں وقفے محسوس ہوئے۔ مگر میرے لیے اس لمحے کا اصل پہلو عمر کا حساب نہیں تھا، بلکہ یہ دیکھنا تھا کہ ایک سیاسی شخصیت پانچ دہائیوں کے فاصلے سے اپنے ماضی، اپنے نظریے اور اپنے فیصلوں کو کس طرح بیان کرتا ہے۔

اور پھر میری نگاہیں اسٹیج سے ہٹ کر ہال میں بیٹھے ہوئے لوگوں کے چہروں پر ٹھہر گئیں۔یہاں صرف ایم کیو ایم کے کارکن اور ذمہ داران موجود نہیں تھے۔ لندن میں تحریکِ انصاف سے وابستہ افراد، کشمیری کمیونٹی کے نمائندے اور دوسرے پاکستانی حلقوں سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی شریک تھے، لیکن اس شام کا ایک منظر مجھے خاص طور پر اپنی طرف متوجہ کر گیا، وہاں کچھ ایسے لوگ بھی موجود تھے جو ماضی میں الطاف حسین کے گھر کے سامنے کھڑے ہو کر ان کے خلاف مظاہرے کیا کرتے تھے، آج وہ اسی رہنما کی سالگرہ کی تقریب میں بیٹھے تھے۔

الطاف حسین نے ان میں سے ایک شخص کو چوہدری صاحب سے پہچانا اور الطاف حسین نے کہا کہ یہ چوہدری صاحب میرے گھر کے باہر میرے خلاف لندن میں مظاہرے کرتے تھے انئوں نے انکو بلایا گلے سے لگایا چوہدری صاحب  نے اسٹیج پر اپنے ماضی کے مؤقف کا ذکر کرتے ہوئے برملا اعتراف کیا کہ وہ پہلے غلطی پر تھے۔

میں اس منظر کو دیکھتا رہا، انسان بھی عجیب مخلوق ہے۔ کبھی کسی خیال کے خلاف دیوار بن کر کھڑا ہو جاتا ہے، پھر زندگی کے تجربات اسے اسی دیوار کے دوسری جانب لے جاتے ہیں۔ کبھی اختلاف قائم رہتا ہے، کبھی رائے بدل جاتی ہے اور کبھی انسان کو اپنے ہی ماضی سے سوال کرنا پڑتا ہے۔

میں سوچ رہا تھا کیا وقت انسان کو بدلتا ہے، یا انسان وقت کے ساتھ اپنے اندر چھپے ہوئے سوالات کے جواب ڈھونڈنے لگتا ہے؟

شاید یہ دونوں باتیں درست ہوں۔

الطاف حسین کی تقریر کا ایک بڑا حصہ پاکستان کے سیاسی اور طبقاتی نظام کے گرد گھومتا رہا۔

انہوں نے سندھ، پنجاب، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے جاگیردارانہ نظام کو اپنی تنقید کا موضوع بنایا۔ ان کے بقول پاکستان میں طاقت اور وسائل پر مخصوص طبقات کی گرفت نے عام آدمی کی سیاسی شرکت اور معاشی امکانات کو محدود کر رکھا ہے۔

اسی گفتگو میں انہوں نے سندھ میں کچے اور پکے کے ڈاکوؤں کی تمثیل استعمال کی۔

کہنے لگے، کچے کے ڈاکو تو جنگلوں اور دشوار گزار علاقوں میں چھپے ہوتے ہیں، مگر پکے کے ڈاکو وہ ہیں جو اختیار اور اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھ کر ملک کے وسائل لوٹتے ہیں۔

یہ ان کا سیاسی استعارہ تھا، جس کے ذریعے وہ سندھ سمیت ملک کے حکمران طبقات پر تنقید کر رہے تھے۔

اپنی جماعت کے ماضی کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کا مقصد ایسے لوگوں کو سیاست میں لانا تھا جن کے پاس نہ جاگیریں تھیں، نہ بڑے بڑے کارخانے اور نہ ہی موروثی اقتدار کی کوئی سند۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایم کیو ایم نے اپنے امیدواروں کے انتخابی اخراجات اٹھائے، عام پس منظر سے تعلق رکھنے والے افراد کو اسمبلیوں، سینیٹ اور وزارتوں تک پہنچایا اور ایک زمانے میں پاکستان کی تیسری بڑی سیاسی قوت بن کر ابھری۔

ان کے بقول یہ ان کے نظریے کو عملی شکل دینے کی کوشش تھی۔

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں ایم کیو ایم کی کامیابیوں، تنازعات اور مختلف ادوار کے بارے میں یقیناً الگ الگ آرا موجود ہیں۔ مگر اس شام میں بحیثیت ایک صحافی ان کی اپنی زبانی ان کے سیاسی سفر کی تعبیر سن رہا تھا۔

انہوں نے بار بار کہا کہ انہیں کبھی کسی وزارت، حکومتی منصب یا وزارتِ عظمیٰ کی خواہش نہیں رہی، ان کے نزدیک، ان کے اپنے بیان کے مطابق، اصل مقصد ایک سیاسی فکر کو جنم دینا اور اسے عوام تک پہنچانا تھا۔ جسمیں وہ کامیاب بھی ہوئے اور متوسط طبقہ کے افراد کو قومی صوبائی اسمبلیوں اور سینٹ تک پہنچایا،

الطاف حسین نے اپنی گفتگو میں سیاسی اختلاف، ریاستی طاقت اور انسانی حقوق کے سوال کو ایک دوسرے سے جوڑتے ہوئے کہا کہ عمران خان ان کے سخت سیاسی مخالف رہے ہیں، لیکن آج جب ان کے اور ان کی جماعت کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے تو وہ ان کے حق میں آواز بلند کر رہے ہیں۔ انہوں نے مریم نواز شریف کی گرفتاری کا حوالہ بھی دیا اور کہا کہ اس وقت بھی انہوں نے اس اقدام کے خلاف آواز اٹھائی تھی۔

ان کی گفتگو سنتے ہوئے یوں محسوس ہوتا تھا جیسے وہ اپنے ماضی کے زخموں کو آج کے سیاسی حالات کے آئینے میں دیکھ رہے ہوں۔ ان کا کہنا تھا کہ ظلم کی شناخت مظلوم کے نام، جماعت، صوبے یا نظریے سے نہیں ہونی چاہیے۔ اگر کل کسی مخالف کے ساتھ ناانصافی ہوئی تھی تو آج اس کے حق میں بولنا اپنے مؤقف سے انحراف نہیں، بلکہ اسی اصول پر قائم رہنے کا تقاضا ہے۔

پھر ان کی گفتگو وقت کی ان تاریک گلیوں میں داخل ہوئی جہاں تاریخ کے بعض واقعات آج بھی سوال بن کر کھڑے ہیں۔

انہوں نے جنرل آصف نواز جنجوعہ کے آرمی چیف بننے کے دور کا ذکر کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس وقت وہ حکومت میں شریک تھے اور انہیں بتایا گیا تھا کہ بہتر ایسی شخصیات کے خلاف کارروائی کی جائے گی جنہیں مبینہ طور پر بدعنوانی اور دیگر الزامات کے تحت نشانہ بنانا مقصود تھا۔ ان کے بیان کے مطابق اس فہرست میں آصف علی زرداری، محترمہ بے نظیر بھٹو، پیر پگارا اور دیگر سیاسی شخصیات کے نام شامل تھے، مگر بالآخر آپریشن کا رخ ایم کیو ایم کی جانب موڑ دیا گیا ،اس کے بعد ان کے لہجے میں ماضی کی تلخی نمایاں ہونے لگی۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایم کیو ایم کے خلاف آپریشن کے دوران ان کے کارکنوں اور حامیوں کے ساتھ ایسا سلوک روا رکھا گیا جسے انہوں نے بنگالیوں کے ساتھ ہونے والے تاریخی جبر سے تشبیہ دی۔ ان کے مطابق گھروں پر چھاپے مارے گئے، کم عمر بچوں کے علاوہ مختلف عمر کے افراد کو گرفتار کیا گیا، لوگوں کی قمیضیں اتار کر انہی سے ان کی آنکھوں پر پٹیاں باندھی گئیں اور انہیں میدانوں میں گھسیٹا گیا۔

الطاف حسین کا کہنا تھا کہ جب وہ ان کارروائیوں کے خلاف آواز اٹھاتے تھے تو جواب میں انہیں اور ان کی جماعت کو دہشت گرد قرار دیا جاتا تھا، انہوں نے موجودہ سیاسی حالات، بالخصوص خیبر پختونخوا اور پنجاب میں تحریکِ انصاف کے خلاف ہونے والی کارروائیوں کا حوالہ دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایم کیو ایم کے خلاف ماضی میں ہونے والے آپریشن کی شدت اس سے کہیں زیادہ تھی۔ ان کے بقول، ان کے ہزاروں کارکن آج بھی لاپتا ہیں اور یہ تعداد سات ہزار تک پہنچتی ہے۔ان کی گفتگو کا حاصل یہ تھا کہ جب ریاستی طاقت کسی دوسرے کے خلاف استعمال ہو رہی ہو تو اسے دیکھنے والے اکثر خاموش رہتے ہیں، لیکن جب وہی طاقت ان کے اپنے دروازے پر دستک دیتی ہے تو انصاف، قانون اور شہری آزادیوں کے معنی اچانک بدلنے لگتے ہیں۔

اسی تناظر میں انہوں نے کہا کہ ماضی میں بعض لوگ ایم کیو ایم کے خلاف کارروائیوں پر فوج کے حق میں نعرے لگاتے تھے اور مارے جانے والوں کو دہشت گرد قرار دے کر ان کارروائیوں کا خیرمقدم کرتے تھے، مگر آج انہی سیاسی حلقوں سے وابستہ بعض افراد اپنے تجربات کے بعد ان سے معذرت کرتے ہیں، انہوں نے اپنی بات کو ایک جملے میں سمیٹ دیا کہ آگ جب اپنے گھر میں لگتی ہے تو اس کی تپش کا احساس بھی ہوتا ہے۔

شاید انسانی معاشروں کا ایک المیہ یہی ہے کہ دوسروں کے گھروں سے اٹھتا ہوا دھواں ہمیں اکثر موسم کی دھند معلوم ہوتا ہے، یہاں تک کہ آگ ہمارے اپنے دروازے تک پہنچ جائے۔

انہوں نے کہا کہ ان کی مخالفت کسی فرد، صوبے یا جماعت سے نہیں، بلکہ اس نظام سے ہے جس میں طاقت قانون سے بالاتر ہو جائے۔ ان کے مطابق وہ سندھ کے وڈیرانہ نظام، پنجاب اور دیگر صوبوں کے جاگیردارانہ ڈھانچوں، بدعنوانی اور ایسے سیاسی انتظام کے مخالف ہیں جس میں جمہوری ادارے عسکری اختیار کے تابع ہوں۔

اسی گفتگو میں انہوں نے برطانیہ کی تاریخ سے اولیور کرامویل کی مثال پیش کی، جس کی باقیات کو اس کی وفات کے بعد قبر سے نکال کر علامتی طور پر پھانسی دی گئی تھی۔ انہوں نے اس تاریخی واقعے کو انتخابی نتائج میں مبینہ ردوبدل، بالخصوص فارم 47 کے تنازعے سے جوڑتے ہوئے برطانیہ اور پاکستان کے سیاسی و آئینی نظام کا تقابل کیا۔

پھر انہوں نے پنڈال میں موجود صحافیوں اور سامعین کو مخاطب کرکے ایک سوال کیا کہ کوئی انہیں برطانیہ کے موجودہ آرمی چیف کا نام بتائے۔

ان کے سوال کے جواب میں پنڈال سے کوئی نام سامنے نہ آیا، الطاف حسین نے اس لمحے کو اپنے سیاسی استدلال کا حصہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان میں بھی ایسا نظام دیکھنا چاہتے ہیں جہاں ریاستی ادارے اپنی آئینی حدود میں رہ کر کام کریں اور سیاسی اقتدار کا مرکز منتخب شہری نمائندے ہوں، انہوں نے پاکستانی نظام کے لیے ایک نئی اصطلاح استعمال کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے ہاں ڈیموکریسی نہیں بلکہ اسٹیٹوکریسی ہے، جہاں ان کے بقول ریاستی طاقت کے مراکز منتخب اداروں پر غالب آ جاتے ہیں۔انہوں نے مذہبی انتہاپسندی اور طالبانائزیشن کا ذکر کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ ماضی میں مذہب اور اسلام کے نام کو مخصوص سیاسی و تزویراتی مقاصد کے لیے استعمال کیا گیا، جس کے اثرات بالخصوص خیبر پختونخوا کے عوام نے برداشت کیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان پالیسیوں کے نتائج آج بھی ملک کے سامنے موجود ہیں۔ مگر اس طویل سیاسی گفتگو کا ایک جملہ میرے ذہن میں خاص طور پر محفوظ رہ گیا۔

الطاف حسین نے بتایا کہ جب انہوں نے عمران خان کے حق میں بیانات دیے تو ایم کیو ایم کے بعض کارکنوں نے ان سے سوال کیا کہ جس شخص نے ماضی میں آپ کی شدید مخالفت کی، آپ آج اس کے حق میں کیوں بول رہے ہیں؟

ان کے بقول، انہوں نے اپنے کارکنوں کو جواب دیا: بیٹا! کیا تم میری دی ہوئی تربیت بھول گئے؟ یہ مت دیکھو کہ کس نے تمہارے ساتھ برا کیا تھا، یہ دیکھو کہ تم کسی کے لیے اچھا کیا کر سکتے ہو۔

میں اس جملے کو سنتے ہوئے سوچ رہا تھا کہ سیاست میں اصول کی اصل آزمائش شاید اسی وقت ہوتی ہے جب انصاف کا سوال اپنے دوست کے بجائے اپنے مخالف کے لیے اٹھانا پڑے۔

اپنے لیے انصاف مانگنا ایک فطری خواہش ہے، مگر مخالف کے لیے بھی وہی حق تسلیم کرنا ایک مختلف اخلاقی امتحان ہے۔

لندن کی اس شام میں الطاف حسین اپنی سیاسی زندگی کے واقعات، شکایات اور مؤقف بیان کر رہے تھے۔ ان کے ہر دعوے کی تاریخی جانچ اور ان سے اختلاف کی گنجائش اپنی جگہ موجود ہے، مگر ان کی گفتگو نے ایک بنیادی سوال ضرور سامنے رکھا۔

کیا ہم انصاف کو ایک مستقل اصول سمجھتے ہیں، یا اس کا مفہوم ہر بار اس شخص کے نام کے ساتھ بدل دیتے ہیں جس کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہو؟

کیونکہ ظلم کی تاریخ صرف ان ہاتھوں سے نہیں لکھی جاتی جو اسے انجام دیتے ہیں؛ اس میں ان آنکھوں کی خاموشی بھی محفوظ رہتی ہے جو اسے دیکھ کر دوسری جانب دیکھنے لگتی ہیں

انہوں نے کہا کہ وہ ہمیشہ مظلوم کے حق میں اور ظلم کے خلاف آواز بلند کرتے رہے ہیں، خواہ مظلوم کا تعلق کسی بھی جماعت، صوبے یا مکتبِ فکر سے ہو۔

انہوں نے پی ٹی آئی کے 27 ستمبر کے مارچ کیلئے کہا کہ اب نہیں تو پھر کب بھی نہیں، پی ٹی آئی کے کارکنوں کو چائیے وہ باہر نکلیں، انہوں نے کہا کہ کارکن ہی کسی تنظیم کا اصل سرمایہ ہوتے ہیں۔

اسی دوران ایک لمحہ ایسا بھی آیا جب لندن کی اس محفل میں ماضی کا ایک پرانا منظر اچانک زندہ ہوگیا۔

الطاف حسین نے پنڈال میں موجود ایم کیو ایم کے ساتھیوں کو مخاطب کیا اور اپنے مخصوص انداز میں انگلیوں کے اشارے کے ساتھ گنتی شروع کی، ’’ون، ٹو، تھری، فور!‘‘ اور پھر خاموشی چھا گئی۔

میں یہ منظر دیکھ رہا تھا اور میری یادداشت مجھے کئی دہائیاں پیچھے لے گئی، جب الطاف حسین کے ایک اشارے پر لاکھوں افراد کے اجتماعات میں یکایک ایسی خاموشی طاری ہو جاتی تھی کہ گویا کسی نے شور کے سمندر کو ایک لمحے میں ساکت کر دیا ہو۔

آج لندن میں اسی پرانے انداز کی ایک جھلک دوبارہ دیکھنے کو ملی۔ مجمع چھوٹا تھا، زمانہ بدل چکا تھا، مگر اشارہ وہی تھا اور اس کے جواب میں خاموشی کا منظر بھی ماضی کی یاد دلا رہا تھا۔

خطاب کے دوران وہ کبھی سنجیدہ سیاسی گفتگو میں ڈوب جاتے، کبھی طنز کا سہارا لیتے اور کبھی کوئی شگوفہ چھوڑ کر محفل میں مسکراہٹیں بکھیر دیتے۔ یوں تقریباً ڈیڑھ گھنٹے کی یہ گفتگو سیاسی شکایات، ذاتی یادداشتوں، تلخ واقعات اور ہلکے پھلکے مزاح کے درمیان سفر کرتی رہی۔

فوج کے حوالے سے بھی انہوں نے اپنے مؤقف کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ان کی مخالفت فوج کے ادارے یا اس کے عام جوانوں سے نہیں، بلکہ ان چند جرنیلوں کی پالیسیوں سے ہے جن کے فیصلوں کے نتیجے میں، ان کے بقول، ملک اور قوم کو نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ انہوں نے جماعت سے علیحدہ ہونے والے اپنے سابق ساتھیوں کا ذکر بھی کیا۔ ان کی گفتگو میں ان ساتھیوں کے حوالے سے شکوہ اور ماضی کی تلخی نمایاں تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ سیاسی سفر میں لوگ ساتھ چھوڑ سکتے ہیں، راستے بدل سکتے ہیں اور وفاداریاں بھی تبدیل ہو سکتی ہیں، مگر وہ آج بھی اپنے اسی نظریے پر قائم ہیں جس کی بنیاد انہوں نے کئی دہائیاں پہلے رکھی تھی۔

اور میں سوچ رہا تھا کہ سیاست کی تاریخ صرف نعروں، جلسوں اور اقتدار کی کہانی نہیں ہوتی۔ اس میں ساتھ چلنے والوں کے بچھڑنے، تعلقات کے بدلنے اور پرانی یادوں کے نئے معنی اختیار کرنے کی داستانیں بھی پوشیدہ ہوتی ہیں۔ وقت کے ساتھ محفلیں بدل جاتی ہیں، چہرے بدل جاتے ہیں، مگر کبھی کبھی ایک پرانا اشارہ اچانک یادداشت کے بند دریچے کھول دیتا ہے اور انسان کو احساس ہوتا ہے کہ ماضی گزرتا ضرور ہے، مگر ہمیشہ پیچھے نہیں رہ جاتا۔

اس موقع پر انکی گفتگو ابتدا میں انپر حالیہ حملے اور ماضی کی ان گلیوں میں داخل ہوئی جہاں سیاست کے ساتھ زندگی اور موت کے سوال بھی موجود تھے۔

الطاف حسین نے خود پر ہونے والے قاتلانہ حملوں کا تذکرہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں گرینیڈ حملوں اور جان کو لاحق خطرات کے بعد رابطہ کمیٹی نے انہیں بیرونِ ملک جانے کا مشورہ دیا،انہوں نے اپنی ایک ذاتی روداد بھی بیان کی۔

ان کے بقول، امریکہ میں ان کے بھائی مقیم تھے اور انہیں اسوقت امریکی مستقل رہائش حاصل کرنے کا موقع بھی پیش کیا گیا تھا، لیکن انہوں نے اسے قبول کرنے کے بجائے صرف ویزے کی خواہش ظاہر کی۔

ان کا کہنا تھا کہ لندن آنا بھی ابتدا میں ایک عارضی فیصلہ تھا۔ وہ پاکستان واپس جانا چاہتے تھے، مگر رابطہ کمیٹی نے ان کی سلامتی کے خدشات کے پیش نظر واپسی کی مخالفت کی۔ ان واقعات کی یہ تفصیلات انہوں نے خود بیان کیں۔میں انہیں سنتا رہا اور سوچتا رہا کہ جلاوطنی بھی کتنی عجیب کیفیت ہے۔انسان کسی شہر سے نکلتا ہے تو سمجھتا ہے کہ چند دنوں بعد واپس آ جائے گا، مگر کبھی کبھی وہ چند دن برسوں میں بدل جاتے ہیں۔ گھر کا راستہ یاد رہتا ہے، مگر واپسی کی تاریخ کہیں وقت کی گرد میں گم ہو جاتی ہے۔

انسان اپنے وطن سے ہزاروں میل دور رہ سکتا ہے، لیکن کیا وہ اپنے ماضی سے بھی اتنا ہی دور جا سکتا ہے؟

شاید نہیں۔

اسی تقریب میں ایک ایسا لمحہ بھی آیا جو میرے لیے ذاتی طور پر خوش گوار اور یادگار بن گیا۔

الطاف حسین نے اسٹیج سے میرا نام لیتے ہوئے کہا کہ راجہ زاہد اختر خانزادہ امریکہ سے آئے ہیں، ایک اچھے صحافی اور کالم نگار ہیں، اور وہ میرے کالم باقاعدگی سے پڑھتے ہیں۔

بعد ازاں انہوں نے مجھے اسٹیج پر مدعو کیا اور اپنی کتاب اپنے دستخطوں کے ساتھ پیش کی، جس پر انہوں نے میرے لیے یہ دعا بھی تحریر کی تھی:

’’آپ سدا سلامت رہیں، آمین۔‘‘

صحافت کے طویل سفر میں بے شمار شخصیات سے ملاقاتیں ہوتی ہیں، گفتگو ہوتی ہے اور یادوں کے کئی باب رقم ہوتے ہیں، مگر بعض لمحے محض ملاقات نہیں رہتے، یادداشت کا مستقل حصہ بن جاتے ہیں۔ میرے لیے یہ بھی ایسا ہی ایک لمحہ تھا۔ ایک لکھنے والے کے لیے یہ احساس کہ اس کے الفاظ اپنے قاری تک پہنچ رہے ہیں، اور پھر وہی قاری اپنی کتاب پر دستخط کرتے ہوئے اس کے لیے سلامتی کی دعا لکھ دے، ایک خوش گوار انسانی تجربہ ہے۔

آخر لفظوں کا سفر بھی کتنا عجیب ہے؛ ہم انہیں کاغذ کے حوالے کرتے ہیں، مگر کبھی کبھی وہ برسوں بعد کسی دوسرے کے ہاتھوں سے دعا بن کر ہمارے پاس لوٹ آتے ہیں۔

صحافت کے طویل سفر میں بے شمار لوگوں سے ملاقات ہوتی ہے۔ بعض لوگ آپ کی تحریر سے اتفاق کرتے ہیں، بعض اختلاف، مگر ایک لکھنے والے کے لیے یہ جاننا ہمیشہ خوش گوار ہوتا ہے کہ اس کے لفظ اپنے قاری تک پہنچ رہے ہیں۔

میں نے اپنی صحافتی زندگی میں سیاسی جماعتوں کو بنتے اور بکھرتے دیکھا ہے، اقتدار کے ایوانوں میں چہروں کو بدلتے دیکھا ہے، دوستیوں کو دشمنیوں میں اور دشمنیوں کو مصالحت میں تبدیل ہوتے دیکھا ہے۔

مگر اس سارے سفر میں ایک سوال ہمیشہ میرے ساتھ رہا ہے۔

کسی سیاسی شخصیت کی اصل تاریخ کیا ہوتی ہے؟

وہ تاریخ جو اس کے حامی لکھتے ہیں؟

وہ تاریخ جو اس کے مخالفین بیان کرتے ہیں؟

یا وہ تاریخ جو وقت گزرنے کے بعد دستاویزات، فیصلوں، واقعات اور ان کے نتائج سے سامنے آتی ہے؟

شاید تاریخ کا اصل چہرہ ان سب کے درمیان کہیں موجود ہوتا ہے، اور صحافت کا کام اسی چہرے کو تلاش کرنا ہے۔

لندن کی اس شام میں بھی میرے سامنے صرف ایک سالگرہ کی تقریب نہیں تھی، یہ چالیس برس کی یادوں، بدلتے ہوئے سیاسی رشتوں، ماضی کے دعوؤں اور حال کے سوالات کا ایک منظر تھا۔

ایک طرف تہترویں سالگرہ کا کیک تھا، دوسری طرف ڈیڑھ گھنٹے کی تقریر۔ ایک جانب وہ لوگ تھے جو برسوں سے ان کے ساتھ کھڑے ہیں، تو دوسری جانب ایسے چہرے بھی تھے جو کبھی ان کے خلاف کھڑے ہوا کرتے تھے۔

اور میں، ایک صحافی کی حیثیت سے، اس پورے منظر کو اپنی یادداشت کے صفحات پر محفوظ کر رہا تھا، آج سوچتا ہوں کہ سالگرہ محض عمر میں ایک سال کے اضافے کا نام نہیں، یہ زندگی کی کتاب کا ایک اور ورق پلٹنے کا لمحہ ہے، جب انسان اپنے پیچھے رہ جانے والے راستوں کو دیکھتا ہے اور دنیا اس سے پوچھتی ہے کہ اس سفر میں اس نے کیا پایا، کیا کھویا اور کیا کچھ ابھی تاریخ کے فیصلے کا منتظر ہے۔

وقت کسی کے لیے نہیں رکتا۔ وہ نہ محبت کی بنیاد پر کسی کو بری کرتا ہے، نہ نفرت کی بنیاد پر کسی کا مقدمہ ہمیشہ کے لیے بند کرتا ہے۔ وہ صرف واقعات محفوظ کرتا رہتا ہے، یہاں تک کہ آنے والی نسلیں اپنے سوالات کے ساتھ ان کے سامنے آ کھڑی ہوتی ہیں۔


9/20/2026 6:00:17 PM