سانحہ گل پلازہ کے بارے میں تحقیقات کی باتیں سراسر دھوکہ ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
17، جنوری 2026ء کو کراچی کے گل پلازہ میں جو قیامت صغریٰ بپاہوئی اس میں درجنوں افراد جاں بحق ہوگئے، اس غم کی شدت کا اندازہ ان کے گھروالوں کے سوا کوئی دوسرا نہیں کرسکتا۔ 1947ء سے 17، جنوری2026ء تک ہردھماکے، حملے، قتل،دہشت گردی اورآتشزدگی کے بڑے واقعے کے بعد یہ سنتے چلے آرہے ہیں کہ ایک تحقیقاتی کمیٹی بنادی گئی ہے اور تحقیقات جلد سامنے آئیں گی لیکن کیا پاکستان کی78 سالہ تاریخ میں کسی ایک سانحے کی بھی تحقیقاتی رپورٹ عوام کے سامنے لائی گئی؟ علالت کے دوران بانی پاکستان قائداعظم محمدعلی جناح کو پاکستان کے شہر وں میں بڑے بڑے اسپتالوں کی موجودگی کے باوجودبلوچستان کے دوردراز علاقے زیارت کیوں بھیجا گیا، کیا اس کی تحقیقاتی رپورٹ سامنے آئی؟
زیارت سے قائد اعظم کو جان کنی کے عالم میں اسپتال منتقل کرنے کیلئے ایسی ایمبولنس کیوں بھیجی گئی جس میں پیٹرول کم تھااور وہ ایمبولینس راستے میں خراب ہوگئی،کیا اس کی تحقیقاتی رپورٹ سامنے آئی؟
راولپنڈی میں خان لیاقت علی خان کو ایک بھرے جلسے کے دوران گولی مارکر شہید کردیاگیا، کیااس کی تحقیقاتی رپورٹ عوام کے سامنے آئی؟
پاکستان میں مساجد، امام بارگاہوں،بزرگان دین کے مزارات، غیرمسلموں کی عبادت گاہوں پر بم دھماکوں اورخود کش حملوں میں ہزاروں افراد ہلاک وزخمی ہوئے، کیا کسی ایک بھی واقعے کی تحقیقاتی رپورٹ سامنے آئی؟
کیاجی ایچ کیو، ایم آئی اورآئی ایس آئی کے دفاترسمیت فوجی تنصیبات اورائیربیس پرحملوں اور بم دھماکوں کی تحقیقاتی رپورٹ عوام کے سامنے آئی؟
میں عوام کو مستقل آگاہ کررہا ہوں کہ گل پلازہ کی آگ حادثاتی طورپرنہیں لگی بلکہ لگائی گئی ہے، بعض تجزیہ نگاروں کی جانب سے اشارتاً کہابھی گیا ہے کہ کوئی کیمیکل پھینکاگیا جس کی وجہ سے اچانک پوری عمارت میں چاروں طرف آگ پھیل گئی۔یہی کچھ ماضی میں بھی کیاگیا، 14، دسمبر1986ء کوکراچی کی قصبہ کالونی اورعلیگڑھ کالونی میں جو قتل وغارتگری اوربربریت کی گئی، وہاں دورہ کرنے پر ان علاقوں کے عوام نے بھی یہی بتایاتھاکہ حملہ آور قتل وغارتگری کے دوران گھروں پرکوئی پاؤڈر پھینکتے تھے جس سے ایک دم آگ لگ جاتی تھی۔بلدیہ فیکٹری میں بھی یہی ہوا۔
25، مارچ 2023ء کو کراچی کے علاقے راشد منہاس روڈ پر واقع آر جے مال میں آتشزدگی کے واقعے کے بعد عوام نے احتجاج کیاتو پیپلزپارٹی سے تعلق رکھنے والے میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کراچی کی تمام عمارتوں کا فائر سیفٹی آڈٹ کرایا اور اعلان کیاکہ جس عمارت میں فائرس سیفٹی نظام نہیں ہوگا اس عمارت کو رہنے نہیں دیا جائے گا۔ مئیرکراچی کے حکم پر کراچی کی 266 کمرشل عمارتوں کافائرسیفٹی آڈٹ کیاگیا تو پتہ چلا کہ کراچی کی 235 کمرشل عمارتوں میں فائرسیفٹی نظام سرے سے موجود ہی نہیں تھا۔مئیرکراچی نے 2024ء میں یہ رپورٹ وزیراعلیٰ سندھ کو بھیجی مگر 17، جنوری2026ء کو سانحہ گل پلازہ تک وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے یہ رپورٹ دیکھی ہی نہیں۔ آخر کیوں؟آخراس فائرسیفٹی آڈٹ رپورٹ کودیکھنااوراس پر عمل درآمد کرناکس کی ذمہ داری تھی؟ پیپلزپارٹی کی حکومت سندھ اورمیئرکراچی نے اس رپورٹ پر عمل کیوں نہیں کرایا؟یہ نہایت افسوس کی بات ہے کہ وزیراعلیٰ سندھ، ان کے وزراء اور رہنمااپنی ناکامی اورمجرمانہ غفلت کااعتراف کرنے کے بجائے دوسروں پرالزام تراشی کررہے ہیں اورسانحہ گل پلازہ کے معاملے کارخ موڑنے کے لئے سانحہ بلدیہ ٹاؤن کی بات کررہے ہیں۔ میں آج ایک بار پھر حکومت پاکستان سے مطالبہ کرتا ہوں کہ سانحہ بلدیہ ٹاؤن فیکٹری کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کے لئے عدالتی کمیشن قائم کیاجائے،فیکٹری کے مالکان، مینیجر، چوکیداراورتمام حکام کو عدالتی کمیشن کے روبرو لازمی بلایا جائے اوران سے پوچھا جائے کہ فیکٹری میں آگ کیسے لگی، کس نے لگائی۔اس کے ساتھ ساتھ بلدیہ ٹاؤن فیکٹری میں مشینری فراہم کرنے والی جرمنی کی کمپنی کے ذمہ داروں کوبھی طلب کیاجائے۔سارے حقائق سامنے آجائیں گے۔ یہ کارروائی کھلی عدالت میں چلائی جائے اور نیشنل میڈیا پرعدالتی کارروائی براہ راست نشر کی جائے۔
میں واضح طورپر کہتاہوں کہ اگرمجھے 6 ماہ مکمل اختیار دیاجائے، تحقیقات کے لئے آئی ایس آئی، ایم آئی کے ایماندار افسران مجھے دیئے جائیں تو میں سانحہ بلدیہ ٹاؤن کی ایسی ایماندارانہ اورغیرجانبدارانہ تحقیقات کروں گا کہ اگر اس کے نتیجے میں میرا سگا بھائی یا ایم کیوایم کاکوئی رہنما بھی اس واقعہ میں ملوث ہوا اورتحقیقات کی روشنی میں اس کاجرم ثابت ہوگیا تومیں اسے قانون کے مطابق پھانسی کی سزا دلواؤں گا۔
مجھے اس پربھی حیرت ہے کہ سانحہ گل پلازہ کی غیرجانبدارانہ تحقیقات اور ذمہ داروں کا تعین کرنے کے بجائے اس حوالے سے مجھ پر بہتان تراشی کی جارہی ہے۔میراسوال ہے کہ کیاراولپنڈی میں بے نظیرکاقتل بھی الطاف حسین نے کرایاہے؟ کیاسانحہ اوجھڑی کیمپ الطاف حسین نے کرایاہے؟کیاجنرل ضیاء الحق کے طیارے کے حادثے میں بھی الطاف حسین ملوث ہے؟کیامساجد، امام بارگاہوں اوربازاروں میں بم دھماکے الطاف حسین نے کرائے؟
جب جب کراچی کے حقوق کی بات کی جاتی ہے تواس کولسانی رنگ دیدیاجاتاہے اور بہتان تراشی کاسلسلہ شروع کردیا جاتا ہے، کراچی پاکستان کا معاشی حب ہے لیکن اس شہرکے ساتھ1947ء سے تعصب اور کھلی دشمنی کی جارہی ہے، جوشہر پورے ملک کو پال رہا ہے اس کاگلا کاٹا جارہاہے، اس شہرمیں آگ وخون کی ہولی کھیلی جارہی ہے اوراس شہر کی آواز دبانے کے لئے یہاں باربار فوجی آپریشن کیے جارہے ہیں، کراچی کو لاوارث بنادیاگیا ہے جس پر الطاف حسین بہت دکھی ہے۔
ہمارے قتل عام پرآوازاٹھانے کے بجائے آج بھی مجھ سے پوجھاجاتا ہے کہ آپ نے لوگوں سے اسلحہ خریدنے کی بات کی۔ میں پوچھتاہوں کہ اگرکوئی مسلح حملہ آور آپ کے گھر، محلے یا بستی پر حملہ کرے، کوئی آپ کاتحفظ کرنے والا نہ ہواورآپ کے پاس اپنے گھروالوں کاتحفظ کرنے کیلئے کچھ نہ ہوتو آپ کیاکریں گے؟میں آج بھی کہتا ہوں کہ اپناتحفظ کرناہرشخص کا حق ہے۔ پاکستان کا آئین وقانون اور اقوام متحدہ کا چارٹر بھی لوگوں کو اپنے دفاع کا حق دیتا ہے، دین اسلام بھی اپنے ہمیں اپنادفاع کرنے کی ترغیب دیتاہے۔ میں آج بھی عوام خصوصاًلاوارث کراچی کے شہریوں سے کہتا ہوں کہ اپنااور اپنے گھروالوں کی جان،مال اورعزت وآبروکا تحفظ کرناآپ کاحق ہے، لہٰذااپنے تحفظ کے لئے اسلحہ کے لائسنس بنواؤ، اسلحہ حاصل کرو۔ اگر عزت وآبروکے ساتھ زندہ رہنا ہے تو آپ کواپنے تحفظ کے لئے عملی اقدام کرناہوگااورآپ کی جان ومال اورعزت وآبروپر حملہ کی صورت میں حق دفاع استعمال کرنا ہوگا۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 381 ویں فکری نشست سے خطاب
23، جنوری 2026ء