Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

ایم کیو ایم پر تمام پابندیاں ختم، کارکنان اور عمران خان کو رہا کیا جائے، ملک کو بحران سے نکالنے کیلئے مشاورت کی جائے: الطاف حسین


ایم کیو ایم پر تمام پابندیاں ختم، کارکنان اور عمران خان کو رہا کیا جائے، ملک کو بحران سے نکالنے کیلئے مشاورت کی جائے: الطاف حسین
 Posted on: 9/5/2026 1

کیاپاکستان میں کچھ بڑا ہونے جارہا ہے یا ہونے والا ہے؟آخر کیا ہونے والا ہے اس حوالے سے ہم گزشتہ چند روزکے دوران پیش آنے والے اہم واقعات کو سامنے رکھ کراپنا تجزیہ کرسکتے ہیں، مثال کے طورپرپی ٹی آئی کے بانی عمران خان جو گزشتہ تین برسوں سے جیل میں قید ہیں، ان سے وکلاء، بہنوں اورپارٹی کے لوگوں کی ملاقات پر غیرآئینی وغیرقانونی پابندی لگائی ہوئی ہے۔ عمران خان صاحب کی بہنیں اڈیالہ جیل جاتی ہیں وہاں ان کے ساتھ ظالمانہ وسفاکانہ سلوک کیا جاتا ہے۔ اب طاقتور ممالک کے میڈیا میں خبریں آرہی ہیں کہ عمران خان کا علاج نہیں کرایاجارہاہے اورانہیں طبی سہولیات سے محروم رکھاجارہاہے۔ 18، اگست 2026ء کو سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا کہ دو دن کے اندراندر عمران خان کو شفاء انٹرنیشنل اسپتال شفٹ کیا جائے، ان کا طبی معائنہ کرایا جائے اور میڈیکل بورڈ تشکیل دیا جائے جس میں ان کے ذاتی معالج اور بہن ڈاکٹرعظمیٰ کو بھی شامل کیاجائے لیکن حکومت نے سپریم کورٹ کے اس فیصلے کو ٹھوکر ماردی اورعمران خان کو شفاء انٹرنیشنل اسپتال کے بجائے پمزاسپتال لے جایاگیا جہاں کسی قسم کی سہولیات نہیں ہیں۔توہین عدالت کے معاملے پر پی ٹی آئی کے رہنما ؤں کو اسی دن پٹیشن دائر کرنی چاہیے تھی لیکن وہ مولانا فضل الرحمان اورادھر ادھرملاقاتیں کرتے رہے۔ اسلام آباد ہائی کورٹ نے فیصلہ دیا کہ عمران خان کو اپنے وکلاء اور بہنوں کی ملاقات کرنے دی جائے لیکن ملاقات نہیں کرائی گئی۔ اس دوران انتہائی افسوسناک واقعہ رونما ہوا اور حکومت کی مجرمانہ غفلت کے باعث پمزاسپتال میں 14 معصوم بچے جل کرجاں بحق ہوگئے، اس پر صدرمملکت، وزیراعظم اورمحکمہ صحت کے اعلیٰ حکام کو استعفیٰ دے دینا چاہیے تھا۔
پھر اسلام آباد میں واقع سرحد یونیورسٹی کا واقعہ پیش آیا جس میں یونیورسٹی کی خاتون ڈائریکٹر نے احتجاج کرنے والے طلباوطالبات سے جارحانہ طرز عمل اختیار کیا اورپھر اپنے شوہر کو فون کرکے بلایا جوکہ فوج کے کرنل ہیں، انہوں نے طلباء پر نہ صرف تشدد کیا بلکہ یونیورسٹی میں فائرنگ بھی کی۔
اسی دوران وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے ایک تقریر میں کہا کہ پاکستان کا نظام تباہ ہوچکا ہے لہٰذا ملک میں نئے صوبے بننے چاہئیں تو اس پر بیانات دیئے جانے لگے کہ اگر صوبے بنائے گئے تو ہم یہ کریں گے، وہ کریں گے وغیرہ وغیرہ۔ 
پاکستان میں نئے صوبوں اورانتظامی یونٹس کی بحث زوروشور سے جاری تھی کہ اچانک پی پی پی کے چیئرمین بلاول زرداری کی آسٹریا کی شاہی خاندان کی شہزادی سے رشتے کی خبریں سامنے آنے لگیں، دوروز تک پیپلزپارٹی کی جانب سے کوئی مؤقف سامنے نہیں آیا پھر بلاول زرداری نے وڈیوپیغام جاری کرکے ان خبروں کی تردید کرتے ہوئے کہاکہ وہ تو شہزادی گلوریا کوجانتے تک نہیں ہیں۔ 
پھر خبرملی کہ صدرزرداری اچانک آسٹریاسے لندن پہنچ گئے جس کے بعدان کے بیٹے بلاول زرداری اور بیٹی بھی لندن پہنچ گئیں۔ کیا ملک کی نازک سیاسی اورمعاشی صورتحال اورسنگین حالات میں صدرمملکت کو ملک میں نہیں ہونا چاہیے تھا؟ صدر آصف زرداری کوکس نے مشورہ دیا تھا کہ وہ کسی بہانے سے ملک سے نکل جائیں؟ سوال یہ ہے کہ کیا صدرآصف زرداری پاکستان واپس جائیں گے؟
یہ غورطلب نکات ہیں کہ ملک میں صوبوں کامعاملہ چل رہا ہے اور پیپلزپارٹی والوں کو کس نے کہاکہ اشتعال انگیز تقاریرکروکہ اگر سندھ تقسیم کیا گیا توخون کی ندیاں بہہ جائیں گی، صوبے کی بات کرنے والوں کو چیر کررکھ دیا جائے گا؟ اگریہ لوگ چیرنے والے ہوتے تو جب ذوالفقارعلی بھٹو کوپھانسی دی جارہی تھی اسی وقت یہ کچھ کرگزرتے جوآج کہہ رہے ہیں۔ پھر سپریم کورٹ نے کس کے کہنے پر فیصلہ دیا اورکس کے کہنے پر عمران خان کو شفاء انٹرنیشنل اسپتال کے بجائے پمز اسپتال لے جایا گیا؟ کس نے سپریم کورٹ سے فیصلہ دلوایا کہ عمران خان کو اسپتال شفٹ کرو؟اور کس نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہ کیا جائے؟ کیونکہ حکومت تو سپریم کورٹ کے فیصلے پر عملدرآمد نہ کرنے کا تصورتک نہیں کرسکتی۔ پھرکس نے کہاکہ عمران خان کوشفااسپتال کے بجائے پمزاسپتال لے جایا جائے؟ یہ حکم دینے کی طاقت کس کی تھی؟ توہین عدالت کے بعد اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھی وہی فیصلہ دیا توپھرکون سی طاقت تھی جس نے عدالتوں کے فیصلوں پر عملدرآمد ہونے نہیں دیا؟
اسی دوران آج یہ اطلاع آئی ہے کہ آئی ایس آئی کے ڈی جی سی فیصل نصیرصاحب کا نیکٹا میں تبادلہ کردیا گیا ہے۔  وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی صاحب نے لندن میں صدرآصف زرداری سے ملاقات کی، انہوں نے ملک میں نئے صوبوں کے معاملے پر بات چیت کی، انہوں نے ملاقات میں کس کا پیغام پہنچایا؟ آصف زرداری نے یہ کیوں کہا کہ قومی معاملات اتفاق رائے اورہم آہنگی کے بغیر ممکن نہیں؟ آخر آصف زرداری کی جانب سے لندن میں دوہفتوں کی قیام کی بات کیوں کی گئی؟ وہ ایسے نازک حالات میں ملک چھوڑ کرلندن کیوں آگئے ہیں؟ اس دوران وزیراعظم، آرمی چیف، مسلح افواج کے اعلیٰ حکام، وفاقی وزرا ریاستی امور کے بارے میں صدر مملکت سے کیسے ملیں؟ آخرملک میں کیا ہونے جارہاہے؟ سندھ اسمبلی میں پیپلزپارٹی کے ارکان نے جس قسم کی دھمکی آمیز اوراشتعال انگیز زبان استعمال کی ہے وہ پارلیمانی آداب، تہذیب، شرافت، اخلاقیات اورہرلحاظ سے غلط اورغیرمناسب ہے۔
وفاقی وزیرراناثناء اللہ نے بھی سندھ اسمبلی میں کی جانے والی تقاریر کوغیرضروری اورغیرمناسب قراردیا۔ جبکہ وفاقی وزیراحسن اقبال نے کہاکہ ہم سندھ اسمبلی کی قرارداد کا احترام کرتے ہیں لیکن ملک میں بہتری کے لئے 15 صوبے بنا دینے چاہئیں۔
میں آج پاکستان کی مسلح افواج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیرصاحب، کورکمانڈرصاحبان اورفوج کے دیگرپالیسی ساز اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ ایم کیوایم پرعائد تمام پابندیاں ختم کی جائیں اورایم کیوایم کوملک کی سیاست میں حصہ لینے کی اجازت دی جائے، ایم کیوایم کے تمام گرفتارکارکنوں کورہا کیا جائے، لاپتہ کارکنوں کو بازیاب کیاجائے، اسی طرح پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان کوبھی رہاکیا جائے،ملک کواس نازک صورتحال سے نکالنے کے لئے مشاورت میں شامل کیا جائے۔ میں فیلڈ مارشل عاصم منیرصاحب، کورکمانڈرز، آپریشنل کمانڈرز، آئی ایس آئی اورایم آئی چیفس سمیت تمام اعلیٰ حکام سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اس معاملے پر سنجیدگی سے توجہ دیں۔ 

الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 464  ویں ہنگامی فکری نشست سے خطاب 
4، ستمبر2026ء


9/6/2026 10:50:15 AM