Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

حقیقت کوتسلیم کرناحقیقت پسندی ہے اوراس حقیقت کوتسلیم کرنے کے بعداس کے مطابق عمل کرناعملیت پسندی ہے


حقیقت کوتسلیم کرناحقیقت پسندی ہے اوراس حقیقت کوتسلیم کرنے کے بعداس کے مطابق عمل کرناعملیت پسندی ہے
 Posted on: 8/31/2026

حقیقت پسندی اور عملیت پسندی: الطاف حسین نے”حقیقت پسندی اور عملیت پسندی“ کانیانظریہ دیا ہے اورمیری تمام گفتگو اسی نظریئے پر مبنی ہوتی ہے،کسی حقیقت کوتسلیم کرناحقیقت پسندی ہے اوراس حقیقت کوتسلیم کرنے کے بعداس کے مطابق عمل کرناعملیت پسندی ہے۔  مثال کے طورپر تحریک انصاف کے بانی عمران خان صاحب تین برسوں سے جیل میں قید ہیں، ان پر قائم کیے گئے مقدمات جھوٹے ہیں اورانہیں جیل میں ناجائز قید کیاگیا ہے، اس بات کو تسلیم کرناحقیقت پسندی کہلائے گا، جب  اس حقیقت کو مان لیاگیا ہے کہ عمران خان صاحب کو جیل میں غلط قید کیاگیا ہے تو عملیت پسندی کا تقاضا ہوگا کہ عمران خان کی رہائی کیلئے جدوجہد کی جائے، ان کے کارکنان اورہمدردعوام میدان عمل میں آئیں، احتجاج کریں اور ان کا یہ عمل الطاف حسین کی فلاسفی حقیقت پسندی اورعملیت پسندی کے عین مطابق ہوگا۔  لیکن اگراس حقیقت کوصرف مان لیاجائے کہ عمران خان کو ناجائز قید کیاگیا ہے مگر ان کی رہائی کیلئے کوئی جدوجہد  نہ کی جائے تو ”حقیقت پسندی اورعملیت پسندی“ کی فلاسفی کے مطابق نہیں ہوگا۔ اگرحقیقت کو تسلیم کرنے کے باوجود پاکستان کے عوام بالخصوص PTI کی لیڈرشپ اور کارکنان عمران خان کی رہائی کیلئے میدان عمل میں نہیں آتے، چھاپے اورگرفتاریوں سے ڈرتے ہیں تواس کامطلب یہ ہوگا کہ صرف حقیقت کو تسلیم کرنے والے پی ٹی آئی کے کارکنان آدھے سچے ہیں اورآدھا سچ پورے جھوٹ سے زیادہ بدتر ہوتا ہے۔ جبکہ عمران خان متعدد مرتبہ اپنے لوگوں سے کہہ چکے ہیں کہ آپ کو”ڈرنا نہیں ہے، خوف کے بت توڑ دو“تو ان کے چاہنے والوں کو اپنے عمل سے ثابت کرنا ہوگا کہ وہ عمران خان کے فالور ہیں۔  اسلامی جمہوریہ پاکستان: پاکستان کواسلامی جمہوریہ پاکستان کہاجاتا ہے،ایک اہم سوال یہ ہے کہ کیاپاکستان واقعتا ایک اسلامی ملک ہے؟ اکثریت کاجواب ”نہیں“ میں ہے کیونکہ کسی بھی مملکت کو مذہب سے جوڑنا اس لئے غلط ہے کہ اگرہم لفظ ”اسلامی“ لگادیں گے تو اس سے غیرمسلموں کی نفی ہوجاتی ہے جن کے اجداد دہائیوں سے پاکستان میں رہتے چلے آرہے ہیں۔ اگرپاکستان واقعتا اسلامی ملک نہیں ہے تو پھر پاکستان کے نام کو صرف جمہوریہ پاکستان تک محدود کرلیا جائے اوراسلامی نام لگاکر اسلام کامذاق نہ اڑایا جائے۔  قانون صرف غریبوں کیلئے ہے: قانون سب کیلئے برابر ہونا چاہیے،اسلام میں شراب پینے اورشراب کی بوتلیں گھرمیں رکھنے کی اجازت نہیں ہے لیکن پاکستان میں فوجی جرنیل، دیگرافسران، بیوروکریٹس، جج حضرات، فوج کے پے رول پر کام کرنے والے صحافیوں، پوڈ کاسٹرز اوربڑے بڑے سیاستدانوں کی اکثریت کے گھروں میں نہ صرف قیمتی شراب موجود ہوتی ہے بلکہ محافل سجاکر شراب نوشی بھی کی جاتی ہے لیکن ایسا کرنے والے بااثر افراد کے خلاف قانون حرکت میں نہیں آتا جبکہ کسی غریب کی جیب سے ہیروئن کی پڑیا نکل جائے تو اسے حوالات میں بند کردیا جاتاہے۔ اسی طرح بااثرافراد اپنے گھروں میں شادی بیاہ اوردیگرتقاریب کے موقع پر مجرے کااہتمام کرتے ہیں اور دولت مندافراد رقص کرنے والی خواتین پر نوٹوں کی گڈیاں پھول کی پتیوں کی طرح نچھاور کرتے ہیں مگر قانون حرکت میں نہیں آتا جبکہ 98 فیصد عوام میں سے کوئی فرد شادی بیاہ کے موقع پر ایسی تقاریب منعقد کرلے تو فوراً پولیس پہنچ کرکارروائی کرتی ہے، گھرکے افراد کو گرفتارکرلیاجاتا ہے اورپھر رشوت لیکرمعاملہ رفع دفع کرلیاجاتا ہے۔ ایم کیوایم اورپی ٹی آئی پر الزامات: یہ الزام لگایاجاتا رہاہے کہ ایم کیوایم کے پاس ایک لاکھ کلاشکوفیں ہیں، اگرایم کیوایم کے پاس ایک لاکھ کلاشنکوفیں ہوتیں تو فوج کبھی مہاجروں کے خلاف آپریشن نہیں کرتی۔ اگرایک لمحے کیلئے مان لیاجائے کہ ایم کیوایم کے پاس اتنی کلاشنکوفیں تھیں تو بتایاجائے کہ کراچی میں تو اسلحہ نہیں بنتا، جہاں اسلحے کی فیکٹریاں ہیں وہ کراچی سے ہزاروں میل کے فاصلے پر ہیں تویہ اسلحہ ہزاروں میل سفرکرکے اورسینکڑوں چیک پوسٹوں سے گزرکرکراچی کیسے پہنچ جاتا ہے؟ اسی طرح کے الزامات تحریک انصاف کے بانی عمران خان صاحب پر بھی لگائے گئے کہ پی ٹی آئی والوں نے 9مئی کوکورکمانڈر لاہورکے گھرپرحملہ کیا، فوجی تنصیبات پر حملے کیے،فوجی شہیدوں کے مجسمے مسمار کیے۔ان واقعات پر مجھے بھی افسوس ہے، عمران خان نے بھی کہاکہ کھلی عدالت لگاکرCCTV کیمروں کی ریکارڈنگ براہ راست نشر کی جائے اور9، مئی کے واقعات میں جو نظرآئے اسے سخت سزا دی جائے چاہے وہ پی ٹی آئی کاکارکن ہویامخصوص ہیرکٹنگ رکھنے والاکسی ادارے کا کوئی فرد ہو۔ پاکستان میں 80 برسوں سے دوفیصد حکمراں اشرافیہ کی بدمعاشی، غنڈہ گردی اوررشوت خوری کا عمل جاری ہے جوخود کو آئین اورقانون سے ماوراء تصورکرتا رہا ہے۔ ماضی کی طرح میرا آج بھی یہی مؤقف ہے کہ پاکستان میں قانون صرف غریبوں کیلئے ہے جبکہ امیروں کیلئے کوئی قانون نہیں ہے۔ کسی بھی افسوسناک واقعے پرفائلوں کاپیٹھ بھرنے کیلئے چند افسران کو معطل تو کردیاجاتا لیکن بعد میں دوسری بڑی پوسٹ پرتعینات کردیاجاتا ہے۔ جیسے پمزاسپتال کے سانحہ میں کیاگیا۔پمزاسپتال میں 14 نومولود بچوں کی سفاکانہ ہلاکتوں کے بعد محکمہ صحت کی جانب سے جاں بحق بچوں کے ورثاء کو لاکھوں روپے معاوضہ دینے کااعلان کیاگیا ہے اوریہ معاوضہ بطور دیت دیاجارہا ہے۔  الطاف حسین ٹک ٹاک پر 460ویں ہنگامی فکری نشست سے خطاب 30، اگست 2026ء 

9/1/2026 3:18:56 PM