Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

9، مئی کوعمران خان کی جائے وقوعہ پر عدم موجودگی کے باوجود انہیں سزا کیوں دی گئی ؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


 9، مئی کوعمران خان کی جائے وقوعہ پر عدم موجودگی کے باوجود انہیں سزا کیوں دی گئی ؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 Posted on: 8/18/2025

9، مئی کوعمران خان کی جائے وقوعہ پر عدم موجودگی کے باوجود انہیں سزا کیوں دی گئی ؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان صاحب کو9،مئی 2023ء کے واقعات کا ذمہ دار قراردیا گیا کہ وہ جی ایچ کیو،کورکمانڈرہاؤس لاہور پر حملے اوردیگر فوجی تنصیبات پر حملوں کے ذمہ دار ہیں اور انہیں سزا دیکرجیل میں قید کردیاگیا۔ مجھے تعجب ہوتاہے کہ بانی پی ٹی آئی نے نامور وکلاء ، بیرسٹرز،قانون دانوں، معیشت ، فارن افیئرز کے نامی گرامی ماہرین کو نہ صرف اپنی پارٹی میں عہدے دیئے بلکہ انہیں پارلیمنٹ کا رکن بھی بنایالیکن جب عمران خان کو عدالت سے سزا دیکر پارٹی قیادت سے محروم کیاگیا تو ان رہنماؤں کی جانب سے اُس اہم قانونی نکتے کو نظرانداز کردیا گیا جو میں یہاں بیان کرنا چاہتا ہوں۔ میں اس اہم قانونی نکتہ کی جانب پاکستان کے اصل حکمرانوں،سیاستدانوں،ججوں،ماہرقانون ، دانشوروں، صحافیوں،کالم نگاروں،اینکرپرسنز،سیاسی تجزیہ نگاروں اورپی ٹی آئی کے کارکنان سمیت ملک کے ایک ایک شہری کی توجہ مبذول کرانا چاہتا ہوں۔ گزشتہ دنوں انسداد دہشت گردی کی عدالتوں نے لاہور ، سرگودھا اور فیصل آباد میں پی ٹی آئی کے رہنماؤں کے خلاف9، مئی 2023ء کے مقدمات کی سماعت کی تو کےمتعددرہنماؤں اور کارکنوں کو 10,10 سال قید کی سزائیں سنائیں اور ان کی جائیدادیں ضبط کرنے کا حکم بھی دیا لیکن ان عدالتوں نے شاہ محمود قریشی اور ان کے صاحبزادے زین قریشی سمیت پی ٹی آئی کے کئی رہنماؤں کو ان مقدمات میں بری کردیا ۔ان اراکین کی بریت کیلئے یہ قانونی نکتہ بیان کیاگیا کہ شاہ محمود قریشی سمیت دیگر رہنماء 9، مئی کو جائے وقوعہ پر موجود نہیں تھے ۔ اگر اس بنیاد پرپی ٹی آئی کے ان رہنماؤں کو بری کیاجاسکتا ہے تو پھر قوم کوبتایاجائے کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان کو دی گئی سزاؤں کا کیاقانونی جواز باقی رہ جاتا ہے؟ کیاعمران خان 9، مئی 2023ء کے واقعات کے دوران لاہور، اسلام آباد سمیت کسی بھی جگہ موجود تھے؟ جائے وقوعہ پرعمران خان کی عدم موجودگی کے باوجود انہیں سزا کیوں دی گئی ؟پی ٹی آئی کے قانونی ماہرین اوروکلاء کے ذہن میں یہ اہم قانونی نکتہ کیوں نہیں آیا؟ مئی 2025ء میں پاکستان اوربھارت کے درمیان چارروزہ جنگ ہوئی تو پی ٹی آئی کے لیڈروں حتیٰ کہ بیرون ملک جلاوطنی کاٹنے والے اینکرپرسنز اوریوٹیوبرز میں بھی اتنی جرات نہیں تھی کہ وہ عوام کوصحیح بات سے آگاہ کریں۔ یہ اینکرز پاکستان کے یوم آزادی کے موقع پر جشن فتح منانے کی حمایت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ پاکستان نے بھارت کے پانچ طیارے تباہ کرکے اُسے دھول چٹادی لیکن وہ یہ نہیں بتاتے کہ بھارت نے پاکستان میں دہشت گردوں کے کتنے ٹھکانے تباہ کیے ، کتنے ہوائی اڈے تباہ کیے اوربھارتی حملوں میں کتنے لوگ مارے گئے ۔ بھارت کی جانب سے پاکستان میں تباہ کیے گئے ٹارگٹ کی سیٹلائٹ تصاویر جاری کی گئیں جبکہ پاکستان نے اپنی کامیابی کے دعوؤں کے ثبوت کے طورپر کوئی سیٹلائٹ تصاویر جاری نہیں کیں۔  جوجلاوطن اینکرزیہ کہہ رہے ہیں کہ وہ فوج کے نہیں بلکہ چند جرنیلوں کے خلاف ہیں تو وہ بتائیں کہ سیاسی کارکنوں کے گھروں پرڈالے لیکرآنے والے نقاب پوش لوگ کون ہوتے ہیں؟وہ کون لوگ ہیں جوسیاسی کارکنوں کے گھروں پر غیرقانونی چھاپے مارتے ہیں ، گھروں کی خواتین کی بے حرمتی کرتے ہیں اور َمردوں کو اٹھاکر لاپتہ کردیتے ہیں ، کیا یہ زیادتیاں کرنے والے فوج کےجرنیل ہوتے ہیں یا فوج کے نچلے درجے کے افسران اور اہلکار ہوتے ہیں ؟کیانچلے درجے کے یہ افسران اور اہلکار فوج کا حصہ نہیں ہوتے؟ سپرطاقتیں کہتی ہیں کہ وہ انسانی حقوق کے احترام اورحقیقی جمہوریت پر یقین رکھتی ہیں،اور جب ہم بھی یہ کہتے ہیں کہ پاکستان میں بھی حقیقی جمہوریت ہونی چاہیے اور انسانی حقوق کااحترام کیاجانا چاہیے تو اس پر یہ سپر طاقتیں کیوں خاموش تماشائی بنی رہتی ہیں؟ عوام سوچیں کہ پاکستان میں 1947ء سے جمہوریت کے نام پر کیاکھیل کھیلا جارہا ہے ؟تاریخی حقائق یہ ہیں کہ  1947ء سے 1958ء تک کی محض 11 سال کی مدت کے دوران پاکستان میں 7 وزیراعظم بنائے اورہٹائے گئے، کسی وزیراعظم کو اس کی مدت پوری نہیں کرنے دی گئی اور یہ سب کچھ فوجی اسٹیبلشمنٹ کرتی رہی ہے اوران غیرجمہوری اقدامات پر فوجی اسٹیبلشمنٹ کو جمہوریت کےعلمبرداربااثراورطاقتور ممالک کی حمایت حاصل رہی ہے ۔  امریکہ ، کینیڈا اوربرطانیہ میں بغیر سرچ وارنٹ کسی گھرکی تلاشی نہیں لی جاسکتی اور نہ ہی گرفتاری کے وارنٹ کے بغیرکسی شہری کو گرفتارکیاجاسکتا ہے ، ان ممالک نے اپنے اپنے شہریوں کیلئے قوانین بنارکھے ہیں ہم بھی پاکستان میں شہریوں کیلئے وہی قوانین مانگ رہے ہیں تو پھر امریکہ ، کینیڈا ،برطانیہ اوردیگر مغربی ممالک عوام کے بنیادی حقوق سلب کرنے والے پاکستانی آمروں کا ساتھ کیوں دیتے ہیں؟ پاکستانی فوج کا ہرافسر آئین پاکستان کے احترام کاحلف اٹھاتا ہے اور اللہ کو گواہ بناکر عہد کرتا ہے کہ وہ کبھی آئین کے خلاف کسی بھی ایسی سرگرمی میں حصہ نہیں لے گا جو سیاست میں حصہ لینے کے مترادف ہو۔ یہ مسلمہ امر ہے کہ فوج کے وجود سے انکارکرنا سراسر حماقت ہے ، ہرملک کوفوج کے وجود کی ضرورت ہوتی ہے لیکن فوج کا یہ مطلب ہرگزنہیں ہوتا کہ وہ سیاست میں مداخلت کرے ۔پاکستان کا ہرذی شعور شہری اس حقیقت سے بخوبی واقف ہے کہ فوج قیام پاکستان کے بعد سے ہی سیاست میں مداخلت کرتی چلی آرہی ہے اور وہ سیاست میں مداخلت کے جو جواز پیش کرتی ہے اس میں فوج کے کرنل سے لیکر لیفٹننٹ جنرل تک سب شریک ہوتے ہیں ۔پھرجلاوطن اینکرز صرف ایک آدمی پر الزام کیوں لگارہے ہیں ؟ اگر غیرآئینی اقدامات فیلڈ مارشل کررہے ہیں تو باقی جرنیل کیوں خاموش ہیں؟ اگر وہ آئین کے منافی اقدامات اورعوام پر ظلم کے عمل میں شریک نہیں ہوتے تو اپنے عہدوں سے استعفیٰ کیوں نہیں دیتے؟فارم 47کے تحت جعلی حکومت بنانے کیلئے کیافیلڈ مارشل عاصم منیر اکیلئے ملک بھرکے ہرپولنگ اسٹیشن پر گئے تھے ؟کیا انتخابی نتائج تبدیل کرانے والے فوجی افسران اس گناہ میں برابرکے شریک نہیں تھے؟ میں متعدد بار بتا چکا ہوں کہ اگربلوچ عوام اپنی آزادی کیلئے مزاحمت کررہے ہیں تو وہ کون سا غیرقانونی عمل کررہے ہیں؟یہ تاریخی حقیقت ہے کہ 1947ء سے ہی پاکستانی فوج نے بلوچستان پر مستقلاً فوج کشی کاعمل جاری رکھا اور بالآخر 1948ء میں بلوچستان کو زبردستی پاکستان میں شامل کرلیا۔یعنی اس کا مطلب واضح  ہے کہ 1947ء میں قیام پاکستان کے وقت بلوچستان ، پاکستان کا حصہ نہیں تھا۔جسے فوجی آپریشنوں کے ذریعے زبردستی پاکستان میں نہ صرف شامل کیاگیا بلکہ بلوچستان کے تمام تر معدنی وسائل ، تیل ، گیس اور سونے کے ذخائرپربھی قبضہ کرلیاگیا۔قدرتی گیس بلوچستان سےنکلتی ہےاور پورے ملک کوفراہم کی جارہی ہے لیکن بلوچستان کےعوام کوہی بندوق کی نوک پر برسہابرس تک سوئی گیس کی سہولت سے محروم رکھا گیا، ظلم وستم اوراحساس محرومی کے اسی مسلسل عمل نے بلوچ عوام کو مزاحمت کاراستہ اختیار کرنے پرمجبور کردیا ۔ بیرون ملک جلاوطنی کاٹنے والے معروف یوٹیوبر شہباز گل صاحب نے میری گزشتہ فکری نشست کے اہم نکات کا خلاصہ اپنے 17، اگست کے وڈیولاگ میں بیان کیا ہے جس پر میں ان کاشکریہ ادا کرتا ہوں۔ الطاف حسین ٹک ٹاک پر 301ویں فکری نشست سے خطاب 17،اگست2025ء (مکمل فکری نشست سننے کیلئے درج ذیل لنک پر کلک کیجئے ) youtu.be/ExU6OGSK_fc?fe

8/31/2025 3:51:41 AM