Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

چاہے سندھی ہمیں تسلیم نہ کرے،چاہے کوئی ہمارے ساتھ نہ آئے، ہم سندھ کوآزاد کرائیںگے۔الطاف حسین


  چاہے سندھی ہمیں تسلیم نہ کرے،چاہے کوئی ہمارے ساتھ نہ آئے، ہم سندھ کوآزاد کرائیںگے۔الطاف حسین
 Posted on: 9/19/2021

 چاہے سندھی ہمیں تسلیم نہ کرے،چاہے کوئی ہمارے ساتھ نہ آئے، ہم سندھ کوآزاد کرائیںگے۔الطاف حسین
 میراجینامرناسندھ سے وابستہ ہے، سندھ ہمارا وطن ہے ، ہماری دھرتی ماں ہے 
ہم سندھ کی آزاد ی کیلئے سائیں جی ایم سید کے خواب کی تکمیل کے لئے بڑی سے بڑی قربانی دینے کے لئے تیارہیں 
 مجھے اپنے لئے کچھ نہیں چاہیے، مجھے مقبوضہ پاکستان سے آزادی چاہیے
مہاجروںکوبھی سمجھناہوگاکہ سندھ کے علاوہ ہماری کوئی دوسری زمین نہیں ہے
بہتر ہے سندھی اورمہاجردونوں اس بات کوسمجھ لیں اورمتحد ہوجائیں
 سندھیو !آؤ الطاف حسین کاساتھ دو،الطاف حسین کے ہاتھ مضبوط کرو
 الطا ف حسین کے علاوہ پاکستان کاکوئی ایسا لیڈرنہیں جو اسٹیبلشمنٹ کاایجنٹ نہ ہو،
 فوج مجھے غدارقراردیتی ہے کیونکہ میں ملک پر فوج کے قبضہ کے خلاف علم بغاوت بلند کررہاہوں،
 میں غدارنہیں باغی ہوںاوراپنی مادروطن سندھ کوفوج کے قبضہ سے آزاد کراناچاہتاہوں
میں فوج کی قبضہ گیری کے خلاف پہلے دن سے ڈٹاہواہوںاورآخر ی دم تک ڈٹارہوںگا۔
 اگرآج اقوام متحدہ کے تحت ریفرنڈم کرایاجائے توساری زبانیںبولنے والے آزادی کے حق میں فیصلہ دیں گے
 جو اپنی مادر وطن پر قبضہ کرنے والوںاو راسے غلام بنانے والوں کا ایجنٹ بنتاہے، وہ غدار کہلاتا ہے جبکہ جواپنی   مادروطن پرقبضہ اورغلامی کے خلاف علم بغاوت بلند کرتا ہے اوراس کی آزادی کے لئے جدوجہد کرتا ہے وہ باغی ہوتا ہے
 پاکستان کی عدلیہ اورپارلیمنٹ فوج کے بوٹوںتلے دبی ہوئی ہے، پوراپاکستان فوج کے قبضہ میں ہے
 فوج نے مجھ پر دہشت گردی کے بے شمار مقدمات قائم کئے لیکن مجھ پر کرپشن ، چوری چکاری ، غیرقانونی جاگیریں اورمحلات بنانے کاکوئی ایک بھی مقدمہ نہیں بنا
 اگرمیںچاہتاتو میں بھی اپنے محلات اورجاگیریں بناسکتاتھالیکن میری مٹی زرداری اورنوازشریف کی طرح نہیں ہے
 فوج نے ایک فقیر منش شخص کے گھرپر تالہ ڈالاہے، اب پورے ملک پر تالاپڑے گااوریہ تالا پڑنا شروع ہوگیاہے
 پاکستان کے مقبوضہ لوگ اب جاگ اٹھیں، اب مقبوضہ پاکستان کے مظلوم لوگوںکی آزادی ناگزیرہوگئی ہے
 68ویں سالگرہ کے موقع پر برطانیہ میں منعقد ہ اجتماع سے وڈیو خطاب

لندن …  19 ستمبر 2021ئ
متحدہ قومی موومنٹ کے بانی وقائدجناب الطاف حسین نے کہاہے کہ اب میرا جینامرناسندھ دھرتی سے وابستہ ہے، سندھ ہمارا وطن ہے ، ہماری دھرتی ماں ہے ، چاہے سندھی ہمیں تسلیم نہ کرے،چاہے کوئی ہمارے ساتھ نہ آئے، ہم سندھ کوآزاد کرائیںگے اورسندھ دھرتی کواپنی دھرتی ماں تسلیم کرتے ہوئے سندھ کی آزاد ی کیلئے، سائیں جی ایم سید کے خواب کی تکمیل کے لئے بڑی سے بڑی قربانی دینے کیلئے تیارہیں ۔ مجھے اپنے لئے کچھ نہیں چاہیے، مجھے مقبوضہ پاکستان سے آزادی چاہیے۔انہوں نے ان خیالات کااظہار گزشتہ روز اپنی 68ویں سالگرہ کے موقع پر برطانیہ میں منعقد ہ اجتماع سے وڈیو خطاب کرتے ہوئے کیا۔ جناب الطاف حسین کایہ خطاب سوشل میڈیا کے ذریعے پاکستان سمیت دنیابھرمیںنشر کیا گیا۔برطانیہ میں اجتماع ایم کیوایم کے انٹرنیشنل سیکریٹریٹ لندن میں منعقدہواجس میں کارکنوں اور ہمدردوںکی بڑی تعداد نے شرکت کی ۔ 
جناب الطاف حسین نے کہا کہ پاکستان میں کہنے کوسویلین حکومت ہے لیکن درحقیقت پوراپاکستان فوج کے قبضہ میں ہے ،فوج نے سندھ کے وڈیروں ، پنجاب کے زمینداروں، بلوچستان کے سرداروں، نوابین اورخیبرپختونخوا کے خوانین کے ذریعے ہاریوں، کسانوں، مزارعوںاورمحنت کشوںکواپناغلام بنایا ہوا ہے۔ جس طرح انگریزیوں نے ہندوستان پر قبضہ کرنے کے لئے ہندوستان کے نوابوں، جاگیرداروں ،راجاؤںاوربااثرخاندانوںکواپنے ساتھ ملایا۔جنہوں نے اپنی مادروطن ہندوستان سے غداری کرتے ہوئے انگریزوںکاساتھ دیا، انہی لوگوںکی غداریوںکی وجہ سے ہندوستان انگریزوں کے قبضہ میں گیا جبکہ جنہوںنے ہندوستان پر انگریزوں کے قبضہ کے خلاف آواز اٹھائی ان حریت پسندوں کو انگریزوں نے توپوںکے دہانوںپر باندھ کربموں سے اڑادیا۔ اگر غداریاں نہ ہوتیں توانگریز کبھی ہندوستان پر قبضہ نہیں کرسکتے تھے۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ جو اپنے مادر وطن پرحملہ کرنے والوں،اس پر قبضہ کرنے والوںاو راسے غلام بنانے والوں کا ایجنٹ بنتاہے، وہ مادروطن کا غدار کہلاتا ہے جبکہ جواپنی دھرتی ، اپنی مادروطن پرقبضہ اورغلامی کے خلاف علم بغاوت بلند کرتا ہے اوراس کی آزادی کے لئے جدوجہد کرتا ہے وہ باغی ہوتا ہے۔باغی قابل احترام ہوتاہے جبکہ جو دھرتی ماںکوغلام بنانے والے قبضہ گیروں کاایجنٹ بنتاہے، جو غدارہوتاہے وہ سزاکامستحق ہوتاہے۔ انہوںنے کہاکہ دنیامیںجہاںجہاںبھی قوموںکوغلام بنایاگیاہے وہ غداروںکی وجہ سے ہی ممکن ہوا۔ غدارہرقوم میں پیداہوتے ہیں، مہاجروںمیںبھی غدارپیدا ہوئے ، میں نے ماضی میںاپنی فکری نشستوںمیںبتایاتھاکہ دنیاکی کوئی طاقت ایم کیوایم کوختم نہیںکرسکتی، اگرکبھی ایم کیوایم کوکوئی نقصان پہنچاتواندر سے ہی پہنچے گا۔ ایم کیوایم کے بعض لوگوںنے فوج کے ہاتھوںاپنا سوداکرکے اپنی قوم اورتحریک سے غداری کی ، جب انہیں تحریک سے نکالاگیاتولوگوںکویقین نہیں آیالیکن جب وہ حقیقی دہشت گرد 19جون 1992ء کوفوج کے ٹرکوںپر بیٹھ کرآئے اورفوج کے ساتھ ملکر اپنی ہی قوم پر حملہ آور ہوئے تو دنیاکویقین آیا۔ 
جناب الطا ف حسین نے کہاکہ الطا ف حسین کے علاوہ پاکستان کاکوئی ایک بھی ایسا لیڈرنہیںہے جو اسٹیبلشمنٹ کاایجنٹ نہ ہو، پاکستان کی فوج مجھے ملک کاغدار قرار دیتی ہے ، اسلئے کہ میں ملک پر فوج کے قبضہ کے خلاف علم بغاوت بلند کررہاہوں، میں غدارنہیں باغی ہوںاوراپنی مادروطن سندھ کوفوج کے قبضہ سے آزاد کرانا چاہتا ہوں، میں فوج کی قبضہ گیری کے خلاف پہلے دن سے ڈٹاہواہوںاورآخر ی دم تک ڈٹارہوںگا۔
جناب الطا ف حسین نے کہاکہ پاکستان میںجس نے بھی فوج کے قبضہ کے خلاف بغاوت کی اسے غدار قرار دیدیا گیا۔ خان عبدالغفار خان نے تقسیم برصغیرکی مخالفت کی توانہیں غدارقراردیدیاگیا۔ سائیں جی ایم سید نے سندھ کی غلامی کے خلاف آوازبلند کی توانہیںبھی غدارقراردیدیاگیا۔ میں نے 8  اگست 1986ء کوکراچی کے نشتر پارک میں ایم کیوایم کے پہلے عوامی جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھاکہ خان عبدالغفارخان اور سائیں جی ایم سید غدارنہیں ہیں، غفارخان نے ساری زندگی انگریزوں کے خلاف لڑائی کی ، سائیںجی ایم سید بھی قبضہ گیری کے خلاف تھے۔یہ سوچنے کی بات تھی کہ جی ایم سید جنہوں نے قرارداد پاکستان کے حق میں ووٹ دیاتھاوہ پاکستان کے خلاف کیوںہوئے۔ انہوںنے سمجھ لیاتھاکہ پاکستان پر کالے انگریزوںنے قبضہ کرلیاہے جوگورے انگریزوں سے بدترہیں۔ انہوںنے کہاکہ سندھ ، بلوچستان ، پختونخوا، گلگت  بلتستان اورکشمیر پر فوج کاقبضہ وہاںکے جاگیرداروں ، وڈیروں، نوابین اورخوانین نے کروایا، یہ لوگ ہی درحقیقت مادروطن کے غداراورقابل سزاہیں۔ آج یہ سب علاقے فوج کے قبضہ میں ہیں، وہاں اپنے حق اورآزادی کے لئے علم بغاوت بلندکرنے والوںکاقتل عام کیاجارہا ہے، حتیٰ کہ فضائیہ کے ذریعے بمباری تک کروائی جارہی ہے۔ مقبوضہ علاقوںکے عوام اب اس غلامی سے نجات اورآزادی چاہتے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ اگرآج اقوام متحدہ کے تحت ریفرنڈم کرایاجائے اورلوگوںسے پوچھا جائے کہ وہ آزادی چاہتے ہیںیا پاکستان کے ساتھ رہناچاہتے ہیں توساری زبانیںبولنے والے آزادی کے حق میں فیصلہ دیں گے۔ حتیٰ کہ جنوبی پنجاب کے سرائیکی عوام بھی تخت لاہور سے آزادی کے لئے رائے دیںگے۔
جناب الطا ف حسین نے کہاکہ بعض لوگ کہتے ہیں کہ جولوگ پاکستان کے خلاف ہیں وہ انصاف کے حصول کے لئے عدالتوںسے رجو ع کریں یاپارلیمنٹ میں جاکر آئینی اصلاحات کے ذریعے فوج کے سیاست میں عمل دخل کوختم کرائیں۔ انہوںنے کہاکہ پاکستان میں عدالتوںسے انصاف نہیںملتا، پارلیمنٹ آزادانہ قانون سازی نہیں کرسکتی ، پاکستان کی عدلیہ اورپارلیمنٹ فوج کے بوٹوںتلے دبی ہوئی ہے۔عدلیہ فوج کے خلاف کوئی فیصلہ نہیں دے سکتی ،پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت آئین توڑ ناسنگین غداری کے زمرے میں آتاہے اور اس کی سزا موت ہے ، پاکستان میں اتنے مارشل لاء لگے لیکن سپریم کورٹ نے آئین توڑنے پر کسی آرمی چیف کو سزانہیں دی بلکہ سپریم کورٹ نے ہرمارشل لاء کوجائزقراردیا۔ اسی طرح پاکستان کی پارلیمنٹ خواہ قومی وصوبائی اسمبلی ہویاسینیٹ ہووہ فوج کے 
غیرآئینی وغیرقانونی اقدامات کے خلاف ایک لفظ تک نہیں لکھ سکتی۔ انہوںنے کہا کہ دنیاکی ہرملک کی فوج ہوتی ہے لیکن پاکستان واحد ملک ہے جس کی فوج کااپناملک ہے۔ 
 جناب الطا ف حسین نے کہاکہ میں آج سے آزادی کی جدوجہد کرنے والے تمام حریت پسندوںسے کہتاہوںکہ وہ آئندہ پاکستان کو '' مقبوضہ پاکستان '' لکھیں کیونکہ جب پاکستان آرمی کے قبضے میں ہے توپورا پاکستان ہی مقبوضہ پاکستان ہوا۔ہم ڈبل مقبوضہ ہیں۔ پنجاب کے عوام کوڈبل فائدہ ہے، وہاں کے صحافی بھی اگر کبھی فوج پر تنقید کریں اورفوج کی جانب سے ان کے خلاف اگرکوئی ایکشن کیا بھی جاتاہے توانہیںاس جگہ تین گولیاں ماری جاتی ہیں کہ وہ مرے نہیں لیکن سندھ ، بلوچستان اورپختونخوا کے صحافیوںکوتومارکر ان کی لاشوں کو دریا برد کردیا جاتاہے۔ 
 جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں آج خصوصاًمہاجروںسے کہتاہوں کہ آج فوج کے کہنے پر بہت واویلا ہورہا ہے اور کہاجارہاہے مہاجرتحریک کیااسلئے بنائی گئی تھی کہ سندھودیش کی بات کی جائے۔انہوں نے کہاکہ کان کھول کر سن لیجئے کہ اب میراجینامرناسندھ دھرتی سے وابستہ ہے، سندھ صرف سندھیوںکی نہیں ہماری بھی سرزمین ہے، سندھ ہمارا وطن ہے ، ہماری دھرتی ماں ہے ، چاہے سندھی ہمیں تسلیم نہ 
کرے،چاہے کوئی ہمارے ساتھ نہ آئے، ہم سندھ دھرتی کواپنی دھرتی ماں تسلیم کرتے ہوئے سندھ کی آزاد ی کے لئے، سائیں جی ایم سید کے خواب کی تکمیل کے لئے بڑی سے بڑی قربانی دینے کے لئے تیار ہیں ۔ مجھے اپنے لئے کچھ نہیں چاہیے، مجھے مقبوضہ پاکستان سے آزادی چاہیے۔مہاجروںکوبھی سمجھناہوگاکہ سندھ کے علاوہ ہماری کوئی دوسری زمین نہیں ہے۔بہتر ہے سندھی اورمہاجردونوں اس بات کوسمجھ لیں اورمتحد ہوجائیں۔انہوںنے سندھیوںکومخاطب کرتے ہوئے کہا کہ خداکے واسطے آپ سمجھیں،ہم سندھ کوآزاد کرائیںگے ، جس طرح سندھیوں نے 1947ء کے بعد ہماری بہت مدد کی اورہم ملکر رہتے تھے ، ہم اسی طرح ملکر رہیں گے ،آؤ الطاف حسین کاساتھ دو،الطاف حسین کے ہاتھ مضبوط کرو۔ماضی میں فوج نے وڈیروںکے ذریعے سندھی مہاجر فساد کرایالیکن انشاء اللہ اب سندھیوں اور مہاجروںمیں لڑائی نہیں ہوگی کیونکہ سندھودیش میں نہ کوئی جاگیردار ہوگا ،نہ وڈیرہ ہوگا اور ہم ان سب وڈیروںکوایک جہازمیں بٹھا کر صوبہ پنجاب یاجی ایچ کیوبھیج دیںگے کہ رکھواپنے ایجنٹوںکو۔ انہوںنے کہاکہ سندھ میں کب سے بلاشرکت غیرے پیپلزپارٹی کی حکومت ہے ۔یہ وڈیرے جئے بھٹوکانعرہ لگاکر غریب سندھی ہاریوں، کسانوںسے بھٹوکی لاش پرووٹ حاصل کرتے ہیں۔ لیکن 
بھٹو کے لاڑکانہ ، نوڈیرومیں جاکردیکھ لیں کہ وہاں غریبوں کے لئے پینے کاصاف پانی نہیں ہے، تعلیمی ادارے نہیں ہے،صحت کی سہولتیں نہیں ہیں، تھر کے علاقے میں بھی پانی اگرپہنچایاتوالطاف حسین نے پہنچایا۔ 
جناب الطا ف حسین نے کہاکہ فوج نے مجھ پر دہشت گردی کے بے شمار مقدمات قائم کئے لیکن مجھ پر کرپشن ، چوری چکاری ، غیرقانونی جاگیریں اورمحلات بنانے کا کوئی ایک بھی مقدمہ نہیں بنا۔جبکہ آصف زرداری، نوازشریف کے خلاف نیب میں اربوںکھربوں روپے کی کرپشن اورجاگیریں،محلات بنانے کے مقدمات چل رہے ہیں،اگرمیںچاہتاتو میں بھی اپنے محلات اورجاگیریں بناسکتاتھالیکن میری مٹی زرداری اورنوازشریف کی طرح نہیں ہے، کرپشن میرے ڈی این اے میں شامل نہیں ہے ، میں نے ملک کی دولت نہیں لوٹی اسی لئے پاکستان میں واحد الطاف حسین ہے جس کے گھرپر فوج نے تالہ ڈال رکھاہے۔
انہوں نے کہاکہ فوج نے ایک فقیر منش شخص کے گھرپر تالہ ڈالاہے، اب پورے ملک پر تالاپڑے گااوریہ تالا پڑنا شروع ہوگیاہے۔انہوں نے مظلوم قوموں کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ پاکستان کے مقبوضہ لوگ اب جاگ اٹھیں، اب مقبوضہ پاکستان کے مظلوم لوگوںکی آزادی ناگزیرہوگئی ہے، اب سندھ، بلوچستان، 
پختونخوا، ہزار وال، گلگت  بلتستان اورپاکستانی مقبوضہ کشمیر بھی آزادہوگا۔ انہوں نے اپنی سالگرہ پر پاکستان سمیت دنیا بھر میں تقریبات کرنے والے کارکنوں، نوجوانوں، بزرگوں، ماؤں، بہنوںاوربچوں کوسلام تحسین پیش کیااوردعاکی کہ اللہ تعالیٰ شہیدوں کے درجات بلندفرمائے، لاپتہ ساتھیوں کی بازیابی کے اسباب پیدا کرے ، اسیرساتھیوں کی جلد رہائی ممکن بنائے اورتمام وفاپرست ساتھیوںکو ثابت قدم اوراپنی امان میں رکھے ۔ جناب الطاف حسین نے اپنے خطاب کا اختتام '' آزادی …آزادی …آزادی کے نعروںپر کیا۔ 

٭٭٭٭٭







10/22/2021 12:31:58 AM