Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

عمران خان Absolutely not کہنے کے جرم میں قید ہیں۔ الطاف حسین


عمران خان Absolutely not کہنے کے جرم میں قید ہیں۔ الطاف حسین
 Posted on: 8/17/2026

عمران خان Absolutely not کہنے کے جرم میں قید ہیں۔ الطاف حسین   پاکستان کی حقیقی آزادی کی جدوجہد کی پاداش میں الطاف حسین 34 سال سے جلاوطن ہے #یہ_کیسی_آزادی_ہے تحریک انصاف کےسربراہ عمران خان صاحب کو فوج کے جرنیلوں سے بڑی محبت تھی، یہ فوجی جرنیل الطاف حسین کی اس فلاسفی کے خلاف تھےکہ پاکستان سے فرسودہ جاگیردارانہ، وڈیرانہ اورسردارانہ نظام کا خاتمہ کیاجائے، ملک کی 2 فیصد حکمراں اشرافیہ کے بجائے 98 فیصد عوام کو اقتدار ملنا چاہیے کیونکہ پاکستان صرف دوفیصد حکمراں اشرافیہ کا نہیں بلکہ 98 فیصد غریب ومتوسط طبقے کے عوام کاملک ہے، اس وقت عمران خان صاحب فوجی جرنیلوں اور ان کے غلط فیصلوں کودرست سمجھتے رہے، فوجی جرنیلوں نے کہاکہ الطاف حسین غدار اورملک دشمن ہےتوعمران خان صاحب بھی ان کی باتوں میں آگئے اور انہوں نے اسمبلی کے فلور پر تقریرکرتے ہوئے کہا کہ پانچ ہزارمیل دور ایک دہشت گرد الطاف حسین بیٹھا ہے اگراجازت ملے تو میں اس پر ڈرون حملہ کردوں۔ جب عمران خان کاصبح شام فوجی جرنیلوں، آئی ایس آئی اورایم آئی کے چیفس اورآرمی چیف کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا ہوا تو انہیں اندازہ ہوا کہ پاکستان آزاد ملک نہیں ہے اورانہوں نے اپنی درجنوں تقاریر میں اعتراف کیاکہ ہم آزادقوم نہیں ہیں، پاکستان پر کالے انگریز مسلط ہیں ہمیں ان سے آزادی حاصل کرنی چاہیے۔ عمران خان کو علم ہوگیا کہ یہ پورا نظام ہی گھپلا ہے، یہاں امریکہ کے مفادات کے فیصلے ہوتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ایک امریکی چینل کو انٹرویو میں جب ان سے امریکہ کو اڈے دینے کے حوالے سے سوال پوچھا گیا تو انہوں نے جواب میں Absolutely not کہا۔اس کے بعد امریکہ سے حکم آگیا کہ اب عمران خان کیلئے بھی Absolutely not ہے، عمران خان کی حکومت کے خاتمےکا فیصلہ ہوگیا، انہیں سبق سکھانے کیلئےان پر قاتلانہ حملہ کیا گیا، اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم سے وہ قاتلانہ حملے میں محفوظ رہے۔ عمران خان نے کہا کہ پاکستانی فوج کے جرنیل امریکہ کے ایجنٹ ہیں، انہوں نے سائفر لہراکر کہا کہ صرف فوجی جرنیل ہی ہماری آزادی کے دشمن نہیں ہیں بلکہ ان جرنیلوں کوامریکہ تحفظ فراہم کرتاہے۔ قوم کو سچ بتانے کے جرم میں عمران خان جیل میں قید ہیں، انہیں اپنی بہنوں اور وکلاء سے ملاقات کی اجازت نہیں ہے، اسیری میں بھی عمران خان کی زندگی تنگ کردی گئی لہٰذا آزادی کہاں ہے؟ میں نے40 سال پہلے ملک کو دو فیصد طاقتور اشرافیہ اوران کے آقاؤں کے تسلط سے نجات دلانے کی آوازبلند کی توپنجاب اور خیبرپختونخوا کے لوگوں نے مجھے غدارقرار دیدیا، وہ میری باتیں نہیں سمجھ سکے لیکن عمران خان نے فوجی جرنیلوں اور امریکہ کی اجارہ داری کاپول کھول دیا کہ پاکستان کے عوام کبھی آزادتھے نہ ہیں،اسی لئے انہوں نے نعرہ دیا کہ ”ہم لے کے رہیں گے آزادی“ ”تمہیں دینی پڑے گی آزادی“۔  عمران خان نے پاکستان کے فوجی جرنیلوں اور ان کے آقاؤں سے حقیقی آزادی کانعرہ لگایا تھا لیکن وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ تین سال سے جیل میں قید ہیں اورعمران خان کے نام پر سینیٹ، قومی اسمبلی اورصوبائی اسمبلیوں کی رکنیت حاصل کرنےوالے عمران خان کی رہائی کیلئے احتجاج کرنے کے بجائے بہانے تراش رہے ہیں، اگرپی ٹی آئی کے منتخب نمائندے ہی احتجاج کیلئے جمع ہوجائیں تو ان کی تعداد ہزاروں میں ہوسکتی ہے۔ اب عمران خان کو بھی پتہ لگ رہا ہوگا کہ الطاف حسین پر فوجی جرنیلوں اور ایجنسیوں نے دہشت گرد ی کا جھوٹاالزام کیوں لگایا تھا کیونکہ اب عمران خان پر بھی یہودیوں کا ایجنٹ ہونے اوردہشت گردی کے الزامات لگائے جارہے ہیں۔  الطاف حسین کا کیا گناہ ہے؟ پاکستان کے مظلوم عوام کے جائز حقوق اورحقیقی آزادی کی جدوجہد کی پاداش میں الطاف حسین 34 سال سے جلاوطن کیوں کیا ہوا ہے؟ ملک میں لوگ کھلے عام پاکستان اورفوج کے خلاف کیا کچھ نہیں کہتےلیکن ان پر ہاتھ نہیں ڈالاجاتا لیکن انہیں الطاف حسین منظور نہیں۔ میراجرم یہ ہے کہ میں نے اپنے نظریہ اوراپنے ضمیرکا سودا نہیں کیا، اگر میں نے بھی اپنے آپ کوبیچ دیا ہوتا توآج میں بھی قبول ہوتا، مجھے جلاوطنی میں نہ آنا پڑتا اورمیں بھی ملک میں آزادی سے گھومتا، خود بھی اقتدار میں ہوتا اورمیرا خاندان بھی اسمبلیوں میں ہوتااورآج میں بھی کھرب پتی ہوتا۔لیکن میں نے نظام کی تبدیلی کے لئے جدوجہدکی اور خود اسمبلیوں کا ممبربننے کے بجائے اپنے غریب کارکنوں کواسمبلیوں میں بھیجا۔ میں نے جلاوطنی میں رہ کر بھی تمام ترآزمائشوں کے باوجود اپنی جدوجہد جاری رکھی اورجاری رکھوں گا۔  الطاف حسین ٹک ٹاک پر 450 ویں فکری نشست سے خطاب 16، اگست 2026ء

8/20/2026 1:05:58 PM