Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

نظام تبدیل کئے بغیرملک بہتر نہیں ہوسکتا۔ الطاف حسین


 نظام تبدیل کئے بغیرملک بہتر نہیں ہوسکتا۔ الطاف حسین
 Posted on: 8/16/2026

نظام تبدیل کئے بغیرملک بہتر نہیں ہوسکتا۔ الطاف حسین 

پاکستان کوبنے ہوئے 79 سال ہوچکے ہیں، آج ہمیں اس بات پر سنجیدگی سے غورکرناچاہیے کہ ان 79 سالوں میں پاکستان اپنے پیروں پر کیوں کھڑانہیں ہوسکا۔ ہم دیکھتے ہیں کہ پاکستان کے وزیراعظم،  فیلڈمارشل،نائب وزیراعظم،وزیر خزانہ اوردیگروزراء مالی امداداورقرضوں کے لئے اکثر خلیجی ممالک سمیت دنیا کے مختلف ممالک کے دورے کرتے ہیں، آئی ایم ایف، ورلڈبینک اوردیگرمالیاتی اداروں کے پاس جاتے ہیں، خبریں آتی ہیں کہ پاکستان کاقومی خزانہ خالی ہے، اگرامداد یاقرضہ نہ ملاتوملک ڈیفالٹ کرجائے گا۔ پاکستان اور انڈیاایک ساتھ ہی آزادہوئے لیکن اگرہم پاکستان اورانڈیاکاموازنہ کریں توہم دیکھتے ہیں کہ معیشت، ٹیکنالوجی، سوفٹ ویئرانجینئرنگ،میڈیکل اوراقتصادی لحاظ سے انڈیاآگے نظرآتاہے، ہمیں سوچناچاہیے کہ ایساکیوں ہے؟ ہمارے صدر،وزیراعظم یاوزراء جن ممالک کے دورے کرتے ہیں،وہاں کے حکمرانوں کاان کے ساتھ کیارویہ ہوتاہے اورانڈیاکے رہنماؤں کے ساتھ رویہ کیاہوتاہے۔
اوورسیزمیں رہنے والے پاکستانی خوداپنے مشاہدوں کے ذریعے بتاتے ہیں کہ خلیجی ممالک ہوں، امریکہ،کینیڈااوردیگریورپی ممالک میں تمام بڑی کمپنیوں میں زیادہ ترانڈین نظرآتے ہیں جبکہ خلیجی ممالک اوردیگرممالک میں زیادہ ترپاکستانی ٹیکسیاں چلاتے ہیں۔ آخر ایساکیوں ہے؟ ہم ایجوکیشن، ٹیکنالوجی اورصنعتی ومعاشی میدان میں پیچھے کیوں رہ گئے؟اگرہم اپنے مرض کی تشخیص نہیں کریں گے تواس کاعلاج کیسے کریں گے؟اگرہم دشمن دشمن کاکھیل کھیلنے کے بجائے پڑوسیوں سے بہترتعلقات قائم کرتے اور تعلیم، صنعت،معیشت اورٹیکنالوجی پر توجہ دیتے جس کاعوام کافائدہ ہوتاتوکیابہترنہ ہوتا؟ہمیں ان وجوہات اوراسباب کوتلاش کرناہوگا آخر پاکستان کب تک امریکہ،آئی ایم ایف اورورلڈ بینک کی امداد اورقرضوں پر چلتا رہے گا؟
انڈیانے آزادی کے فوری بعداپنے ہاں جاگیردارانہ، زمیندارانہ اورنوابی نظام ختم کردیا، سب کی جاگیریں چھین کرسرکارکی تحویل میں لے لیں جبکہ پاکستان میں آج تک یہ فرسودہ جاگیردارانہ نظام رائج ہے، وڈیروں، جاگیرداروں اورسرداروں کے چند خاندانوں کے پاس ہزاروں لاکھوں ایکڑزمینیں ہیں جو نسل درنسل ملک پر حکمرانی کررہے ہیں۔ 
انڈیامیں آج تک مارشل لانہیں لگا جبکہ پاکستان میں آدھاعرصہ مارشل لاء نافذ رہا۔قیام پاکستان کے فوری بعد بانی پاکستان قائداعظم محمدعلی جناح کوقتل کردیاگیا، پہلے وزیراعظم لیاقت علی خان کوقتل کردیاگیا، بانی پاکستان کی ہمشیرہ محترمہ فاطمہ جناح کوقتل کردیاگیا۔ 1947ء سے 1958ء تک 9وزرائے اعظم تبدیل ہوئے،ہمیں یہ سوچناہوگاکہ پاکستان کے ساتھ یہ مذاق کیوں ہوتارہا؟پاکستان میں کبھی جمہوری وسیاسی استحکا م کیوں نہیں آیا؟ ملک میں چارمارشل لاء کیوں نافذ ہوئے؟ 
ہم کہتے ہیں کہ ہمارے دشمن انڈیانے 1971ء میں پاکستان کوتوڑدیا، کیاہماراملک پلاسٹک کاتھاکہ دشمن کی کسی دھمکی یاکسی عمل سے ٹوٹ گیا؟ اگرہم اپنی غلطیوں کوتسلیم نہیں کریں گے توبہتری کس طرح ہوسکتی ہے؟ اگرہم نے مشرقی پاکستان سے سبق حاصل کیاہوتاتوآج بلوچستان کی یہ صورتحال نہ ہوتی، خیبر پختونخوا میں یہ حالات نہ ہوتے اورآزادکشمیر کے عوام فوج کے مخالف نہ بنتے۔ 
ہم کشمیرکی صورتحال کاالزام بھی انڈیاپرلگاتے ہیں توسوال یہ ہے کہ انڈین کشمیرایک متنازعہ علاقہ تھالیکن جب انڈیانے 2019ء میں اپنے آئین کے آرٹیکل 370کوختم کرکے انڈین کشمیرکواپنے ساتھ ملایاتو ہم نے فوجی طاقت کے ذریعے اسے انڈیاکے قبضہ سے آزادکیوں نہیں کرالیا؟ اگرہم صرف دشمن کوگالیاں دیتے رہیں گے اورحقائق تسلیم نہیں کریں گے تواس سے کچھ حاصل نہیں ہوگا۔
پاکستان میں ٹیلنٹ کی کمی نہیں ہے توپھر ہم زندگی کے ہرشعبے میں انڈیاسے پیچھے کیوں رہ گئے؟ پاکستان میں امن وسلامتی کی صورتحال بہترکیوں نہیں ہے؟ ملک بھرمیں بچیوں کی زندگی اورعزت محفوظ کیوں نہیں ہے؟ پورے ملک کا کوئی کونا ایسا نہیں ہے جہاں بچیوں کوسفاکانہ سلوک کا نشانہ نہیں بنایاجاتا ہو، ملک میں خواتین کو حقوق سے محروم رکھاگیا ہے، نجانے یہ کیوں سمجھ لیاگیا ہے کہ خواتین صرف روٹی پکانے،بچے پیدا، بچوں کو پرورش کرنے کیلئے ہے اورخواتین پیر کی جوتی ہے۔ ہمیں اس قسم کے فرسودہ تصورات سے نکلنا ہوگا تبھی ہم ایک اچھے معاشرے کے قیام کیلئے بہتر سے بہتر کوشش کرسکتے ہیں۔ 
ملک کے دیگر شہروں کے مقابلے میں کراچی میں امن عامہ کی صورتحال بہترخراب ہے، شہریوں کی جان ومال اورعزت وآبروعدم تحفظ کا شکار ہے، تہذیب یافتہ جمہوری ممالک میں ”مقامی پولیس“ کا اصول ہے یعنی کسی تھانے کی حدود میں جو علاقہ آتا ہے وہاں کے لوگوں کو پولیس میں بھرتی کیاجائے کیونکہ وہ اپنے علاقے کی گلیوں اور لوگوں کے مزاج سے واقف ہوتے ہیں اور انہیں بخوبی علم ہوتا ہے کہ کون کون سے علاقوں میں امن وامان کے مسائل ہیں۔یہ قابل غورسوال ہے کہ پاکستان میں امن وامان کی صورتحال کیوں بہتر نہیں ہوسکی؟ 
دنیا میں کسی بھی ملک کی ترقی وخوشحالی اورگڈ گورننس کا دارومدار وہاں کے تعلیمی نظام پر ہوتا ہے،ہماراتعلیمی نظام خراب کیوں ہے؟ پاکستان میں جتنا بجٹ ہم اپنی فوج پرلگاتے ہیں اگر اس بجٹ کو کم کرکے آدھابجٹ تعلیم کے شعبے پر لگادیں، ملک بھرمیں اسکولوں کاجال بچھادیں، تعلیم کاحصول ہربچے کیلئے لازم کردیں تو محض پانچ سال میں ملک میں تبدیلی کے اثرات رونما ہونا شروع ہوجائیں گے۔یہ صرف ایک قوم کامسئلہ نہیں ہے، ہمیں اپنی قوم کیلئے کام کرنے کے ساتھ ساتھ ملک کی دیگرقوموں کی بہتری کیلئے بھی کام کرنا چاہیے، اگرہمیں ملک کیلئے کام کرنے کاموقع دیا جائے تو ہم خلوص نیت سے کام کرکے ملک کی قسمت بدل سکتے ہیں، انصاف ومساوات کے اصول پر کام کرتے ہوئے پاکستان میں قومی یکجہتی اوربھائی چارہ قائم کرسکتے ہیں اور ایسا نظام حکومت ترتیب دے سکتے ہیں کہ کسی سرائیکی، پختون،بلوچ اوردیگرقوموں کو تکلیف نہ ہو، سب کو ان کے جائز حقوق میسر ہوں اورسب امن وسکون سے زندگی بسر کرسکیں۔
میری جدوجہد اپنی ذات یااپنے خاندان کے مفاد کے لئے نہیں بلکہ عوام کے اجتماعی حقوق کے حصول اور ملک کے نظام کی تبدیلی کے لئے ہے۔ میری جدوجہد اقتدار کیلئے نہیں بلکہ فرسودہ نظام کی تبدیلی کیلئے ہے،میں سمجھتاہوں کہ جب تک پاکستان سے فرسودہ جاگیردارانہ نظام ختم نہیں کیاجائے گا،جب تک ملک کانظام تبدیل نہیں کیاجائے گا،  پاکستان کو ترقی نہیں کرے گا۔ 

الطاف حسین
ٹک ٹاک پر فکری نشست نمبر449 سے خطاب
15،اگست2026ء



8/16/2026 10:52:23 AM