Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

جنگ آزادی کامقصد: ہندوستان کی آزادی یا قیام پاکستان؟ تاریخی حقائق کیا ہیں۔ (2) ( الطاف حسین )


 جنگ آزادی کامقصد: ہندوستان کی آزادی یا قیام پاکستان؟ تاریخی حقائق کیا ہیں۔  (2) ( الطاف حسین )
 Posted on: 7/13/2026

جنگ آزادی کامقصد: ہندوستان کی آزادی یا قیام پاکستان؟ تاریخی حقائق کیا ہیں۔ (2) ( الطاف حسین )  دوقومی نظریئے کو پاکستان کی اساس کہاجاتا ہے جبکہ ہندوستان پر700 سال تک مسلمان حکمرانوں نے حکومت کی تھی۔ پھرسوال یہ پیداہوتاہے کہ یہ دوقومی نظریہ 700 سال قبل کیوں سامنے نہیں آیا؟ میں پہلے بھی یہ بات بارثابت کرچکاہوں اور آج پھرکہتاہوں کہ 23مارچ 1940ء کولاہور کے منٹوپارک میں آل انڈیامسلم لیگ کےکنونشن میں جوقرارداد منظور ہوئی تھی وہ قرارداد لاہور تھی، اسے قرارداد پاکستان کہناتاریخ کو مسخ کرنا اور سراسر جھوٹ اور فریب ہے۔افسوس کہ ہمارے ہاں قوم کوتاریخ مسخ کرکے پڑھائی جاتی ہے اوربتایاجاتاہے کہ 23 مارچ 1940ء کو قرارداد پاکستان منظور ہوئی تھی اسی لئے 23مارچ کو یوم پاکستان منایا جاتا ہے۔جب قرارداد پاکستان منظورہی نہیں ہوئی تھی تو پھر 23 مارچ کو یوم پاکستان کیوں منایا جاتاہے؟  دسمبر1906ء میں ڈھاکہ میں سرآغاخان، نواب وقارالملک، نواب سلیم اللہ اوردیگر کی جانب سے آل انڈیا مسلم لیگ کاقیام عمل میں لایاجاتا ہے، اگرآزاد اورخودمختار مملکت کامطالبہ کرنا بھی تھا تو ڈھاکہ میں کرنا چاہیے تھا، موجودہ پاکستان میں قیام پاکستان کی کوئی جدوجہد نہیں ہوئی، یہاں نہ کوئی جلسے جلوس کیے، نہ جانی ومالی قربانیاں دیں اورنہ ہی یہاں کے بڑے بڑے اکابرین نے جیلوں کی سختیاں جھیلیں۔  1600ء میں برطانیہ میں ایسٹ انڈیا کمپنی قائم کی گئی تھی، 1608ء میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے نام سے انگریز تجارت کی غرض سے ہندوستان آنا شروع ہوئے، انگریز خالی جہاز لاتے اور ہندوستان سے جہازوں میں مال بھربھر کے برطانیہ اور یورپ لاتے تھے۔17 ویں صدی کے آخر تک ہندوستان میں مضبوط ہونے لگے اور وہ اتنے منظم ہوگئے کہ انہوں نے ہندوستان کے حکمرانوں سے کمپنی بنانے کی اجازت اورجگہ مانگی تاکہ وہاں ہندوستان کے چپے چپے سے سامان جمع کرکے پیک کرسکیں اورپھر جہازوں پر لاد سکیں۔لہٰذ ا انگریزوں نے ایسٹ انڈیا کمپنی کے نام سے تجارت کی غرض سے ہندوستان کے ہرعلاقے کا سفر کرنا شروع کردیا، ہندوستان ایک ایسا خطہ تھاجوکہ ہرطرح کی دولت سے مالامال تھا، انگریز جس علاقے میں جاتے وہاں مال ودولت دیکھ کر ان کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جاتی تھیں۔  آپ نے امریکہ، برطانیہ، آسٹریلیا، کینیڈا اور یورپی ممالک سمیت ہرملک میں چائنیز، اٹالین، ترکش، فرنچ، لبنانی، انڈین، ایرانی،جاپانی، کورین اورتھائی ریسٹورنٹ دیکھے ہوں گے لیکن آپ کو کسی بھی ملک میں انگلش ریسٹورنٹ نہیں ملے گاکیونکہ ثقافتی لحاظ سے انگریز صرف Fish and Chips کھاتے تھے۔ انگریزوں کو کاٹن، ململ، مصالحہ جات اورلونگ الائچی کے بارے میں کچھ علم نہیں تھا۔جب انگریزوں نے دیکھا کہ ہندوستان میں انگنت تہذیبوں،ثقافتوں، معاشرتوں اورمذاہب کاخزانہ ہے اوراگر ہندوستان پر قبضہ کرلیا جائے تو برطانیہ کی دولت میں اتنا اضافہ ہوجائے گا کہ وہ پوری دنیا سے سلطنتوں کا خاتمہ کرکے ہرجگہ برطانوی سلطنت قائم کرسکتا ہے۔ بالآخر ایسٹ انڈیا کمپنی تجارتی کمپنی سے جنگی کمپنی میں تبدیل ہوگئی،برطانیہ کی آبادی اتنی نہیں تھی کہ وہ ہندوستان اوراس کی دولت پرقبضہ کرسکے اورانہیں افرادی قوت کی ضرورت تھی لہٰذا انگریزوں نے مقامی افرادکوفوج میں بھرتی کرنا شروع کردیا۔ میں یہ بات چیلنج کے ساتھ کرتا ہوں کہ پورے ہندوستان میں جس خطے سے سب سے زیادہ لوگ انگریزوں کی فوج میں شامل ہوئے وہ اسی علاقے کے لوگ تھے جہاں قرارداد لاہور منظور کی گئی۔  1857ء کی جنگ آزادی میں حریت پسندوں کے خلاف لڑنے اوران کی مخبریاں کرنے والے انہی علاقوں کے لوگ تھے جہاں پاکستان قائم کیاگیا، بعدمیں انگریزوں نے اپنے انہی سب سے زیادہ وفادار اورفرمانبردارفوجیوں کیلئے ہندوستان کو تقسیم کرکے اس خطے میں پاکستان بناکردیا اور اس کیلئے23 مارچ 1940ء کو قرارداد منظورکروائی گئی۔  پہلی جنگ عظیم اوردوسری جنگ عظیم کے دوران موجودہ پاکستان سے تعلق رکھنے والے لوگ ہی انگریزوں کی فوج میں فرنٹ لائن ہواکرتے تھے جنہوں نے عرب علاقوں کوفتح کرنے کےلئے انگریز فوج کاساتھ دیا، حتیٰ جب عرب کوفتح کرنے کے لئے مکہ فتح کرنے کامعاملہ آیا تو فوج میں شامل ہندو، عیسائی، سکھ اور دیگرمذاہب کےفوجیوں نے خانہ کعبہ پر گولی چلانے سے صاف انکار کردیا کہ یہ مسلمانوں کی مقدس عبادت گاہ ہے ہم یہاں گولی نہیں چلاسکتے لیکن برطانوی فوج میں شامل موجودہ پاکستان کے فوجیوں نے انگریزوں کی وفاداری میں خانہ کعبہ پربھی گولیاں چلادیں۔ انگریزوں نے1757 ء کی جنگ پلاسی کے بعد ہی ہندوستان میں تقسیم کی سازشیں شروع کردی تھیں، جب نوابین انگریزوں کی گرفت میں آگئے توانہیں ان کی جاگیروں پراقتدارمیں رہنے دیاگیا اور انہیں انعام واکرام سے بھی نوازاگیا، ہندوستان پر قبضے کے بعد صورتحال یہ تھی کہ برصغیرکے ہندو تواپنے بچوں کو مشنری اسکولوں میں بھیج رہے تھے اور اعلیٰ تعلیم دلوارہے تھے جبکہ زیادہ تر مسلمان اپنے بچوں کو انگریزوں کے قائم کردہ دارالعلوم دیوبند اوربریلوی مسلک کے مدرسوں میں دینی تعلیم کے لئے بھیجتے تھے،جس کی بدولت مسلمانوں میں اعلیٰ تعلیم کے حصول اورجدید شعبوں کے ماہرین کے بجائے مفتی اور مذہبی میدان میں عالم پیداکئے جارہے تھے۔ ایسے میں سرسید احمدخان نے مسلمانوں کوجدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنے کےلئے جدید تعلیم کی طرف راغب کرنے کی مہم چلائی، علی گڑھ کالج، علی گڑھ یونیورسٹی قائم کی۔لیکن اس کے بعدانگریزوں نے ہندوستان کے عوام میں تقسیم کابیج ڈالنے کےلئے دو قومی نظریہ پیش کیااوراس کاپرچارشروع کردیا۔ ہندوؤں اورمسلمانوں کے فرق کو بڑھانے میں علامہ اقبال کابھی بڑاکردار ہے۔ اسی طرح مولانامحمدعلی جوہر اور مولانا شوکت علی جیسی شخصیات نے بھی مسلمانوں کے جذبات کوابھارنے میں کرداراداکیا، جس کی ایک بڑی مثال یہ ہے کہ ترکی کی خلافت عثمانیہ کے خلیفہ نے انگریزوں سے جنگ میں شکست کے بعد ایک معاہدہ کے تحت خلافت عثمانیہ کوختم کرنے کااعلان کردیالیکن ہندوستان میں مولانا محمد علی جوہر اورمولاناشوکت علی تحریک خلافت چلاتے رہے۔  اس وقت کے حالات کاحقیقت پسندانہ تجزیہ کیاجائے تو دیکھنے میں آتاہے کہ ہندوؤں میں اس طرح  مذہبی جنونیت پیدانہیں ہوئی جس طرح مسلمانوں میں مذہبی جنونیت پیداہوئی۔ مذہبی جنونیت وہاں آسانی سے پھیل جاتی ہے یا آسانی سے غلبہ حاصل کرتی ہے یافروغ پاتی ہے جہاں کسی مذہب کے ماننے والوں کی اکثریت علم کی دولت سے محروم ہو۔  دوقومی نظریہ ہندوستان کے جن علاقوں میں زیادہ پھیلا ان میں یوپی، سی پی، بہار، حیدرآباد دکن اورمشرقی بنگال کے علاقے شامل ہیں۔ یہیں مسلم لیگ کے بڑے بڑے کنونشن ہوئے، آل انڈیامسلم لیگ کاقیام بھی ڈھاکہ میں ہوا اورعلامہ اقبال نے اپناخطبہ بھی الہ آباد میں ہونے والے اجتماع میں دیا۔ انگریزوں نے ہندوستان کے عوام کوہندواورمسلمان کی بنیادپر تقسیم کرنے کے لئے فسادات کرائے، مسجد کے آگے سؤر اورمندروں کے آگے گائے کاٹ کرپھینکی گئیں۔ اگردوسری جنگ عظیم میں جرمنی کو شکست نہ ہوتی توہندوستان پر انگریزوں کاقبضہ برقراررہتا۔اگر ہٹلر پورے یورپ پر قبضہ کے بعد روس میں اپنی فوجیں نہ بھیجتاتوجرمنی کوشکست نہ ہوتی لیکن حقیقت یہ ہے کہ absolute power corrput the minds of the rulers   یعنی مکمل یا بھرپور طاقت حکمرانوں کے ذہنوں کو خراب کردیتی ہے اورپھروہ اسی طرح کے غلط فیصلے کرتے ہیں، آج 50سے زائد اسلامی ممالک ہیں، اسلامی ممالک کی تنظیمیں ہیں اور امریکہ نے تمام ملکوں پر حملے کئے، وہ طاقت کے نشے میں یہی سمجھے کہ ایران پربھی 24سے 48گھنٹوں میں قبضہ کرلیں گے، لیکن آج پانچ مہینے ہوچکے ہیں،وہ ایران کوفتح نہیں کرپائے۔ انگریزوں کودوسری جنگ عظیم کے بعد خطے میں ایک گیریژن اسٹیٹ کی ضرورت تھی جہاں سے وہ اس خطے میں اپنااثررسوخ قائم رکھ سکے، اس مقصد کےتحت دوقومی نظریے کی بنیاد پر ہندوستان میں نفرت کی آگ بھڑکائی گئی اوربرطانوی مفادات کے لئے ہندوستان کوتقسیم کیاگیا۔پاکستان پہلے کئی دہائیوں تک برطانیہ کی گیریژن اسٹیٹ بنارہااوراب اس کی ڈور امریکہ کے ہاتھوں میں ہے اوروہ امریکہ کی گیریژن اسٹیٹ بناہواہے۔  پاکستان میں مذہبی جنونیت اورملائیت بھی اسی بین الاقوامی منصوبے کے تحت پھیلائی گئی جس کے لئے فنڈنگ بھی باہرسے آئی۔  میں نوجوان نسل سے کہتاہوں کہ وہ صحیح تاریخ کامطالعہ کریں اوراس پر غورکریں۔  الطاف حسین  ٹک ٹاک پر 429  ویں فکری نشست سے خطاب (مکمل فکری نشست سننے کے لئے اس لنک پر کلک کیجئے ۔)

7/13/2026 7:34:42 PM