Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

پاکستان کاپورانظام حکومت اور ادارے حکمراں اشرافیہ اوران کی اولادوں کی لونڈی بنے ہوئے ہیں


 پاکستان کاپورانظام حکومت اور ادارے حکمراں اشرافیہ اوران کی اولادوں کی لونڈی بنے ہوئے ہیں
 Posted on: 7/6/2026 1

پاکستان کاپورانظام حکومت اور ادارے حکمراں اشرافیہ اوران کی اولادوں کی لونڈی بنے ہوئے ہیں 
 98 فیصد غریب ومتوسط طبقے کے عوام 2 فیصد حکمراں اشرافیہ کے غلام بنے ہوئے ہیں 
ملک میں تبدیلی صرف مشترکہ عملی جدوجہد سے ہی آسکتی ہے

پاکستان کاپورا نظام حکومت اورتمام ادارے رولنگ ایلیٹ یا2 فیصد حکمراں اشرافیہ اوران کی اولادوں کی لونڈی بنے ہوئے ہیں جبکہ ملک کے 98 فیصد غریب، لوئرمڈل کلاس اورمڈل کلاس عوام غیراعلانیہ طورپر 2  فیصد حکمراں اشرافیہ کے غلام بنے ہوئے ہیں۔ 
پاکستان کا پوراسسٹم آج اس حکمراں اشرافیہ کے ہاتھوں جکڑا ہوا ہے، آج صورتحال یہ ہوچکی ہے کہ حکمراں اشرافیہ میں شامل کوئی جاگیردار، وڈیرہ، سردار یا کوئی سرمایہ دار یااس کے خاندان کاکوئی فردکسی غریب یامڈل کلاس خاندان یااس کے کسی فرد کے ساتھ کوئی ظلم یازیادتی کرے تواس مظلوم کو کہیں انصاف نہیں ملتا، وہ تھانے میں اس کے خلاف مقدمہ درج کرانے جائے توپولیس اس کامقدمہ درج نہیں کرتی اوراگرکہیں کوئی ایف آئی درج ہوبھی جائے تواس میں مظلوم کے ساتھ زیادتی کرنے والے حکمراں اشرافیہ کے فردکے لئے بچ نکلنے کاراستہ بنایا جاتا ہے، حتیٰ کہ اگراس حکمراں اشرافیہ کا جاگیردار، وڈیرہ، سردار یاکوئی سرمایہ داریااس کااوباش بیٹا کسی غریب کوقتل بھی کردے توپولیس اسے گرفتار نہیں کرتی، گرفتارکرلے توعدالت اسے سزانہیں دیتی بلکہ مقتول کے خاندان پر مقدمہ واپس لینے کے لئے دباؤ ڈالا جاتاہے، قرآن کی آیات اوراحادیث کواپنے مفاد کے لئے فروخت کرنے والے ملاؤں کے ذریعے دیت کے نام پر پیسہ لیکر خاموش ہوجانے پرمجبور کیاجاتاہے، قاتل کوپیسہ دیکررہاکرالیا جاتا ہے،وہ وکٹری کا نشان بناکرجیل سے باہر آجاتاہے،اس طرح غریب کے قتل کے بعد انصاف کابھی قتل کیا جاتاہے۔اس کی بے شمار مثالیں موجود ہیں۔ 
بدقسمتی سے پاکستان میں یہ ظالمانہ نظام چل رہاہے اورجواس ظالمانہ نظام کے خلاف آواز اٹھائے اسے غدار و طن، دہشت گرد اورکرمنل قرار دیا جاتا ہے اوردنیا کاہرالزام ا س پر ڈال دیا جاتا ہے۔ جواپنے اصولوں کاسودا کرلے، کمپرومائز کرلے اس کی معافی ہے لیکن جواصولوں کاسودا کرنے سے انکار کردے اورظلم کوظلم کہے تو اس پرمظالم کے پہاڑتوڑے جاتے ہیں، اسی جرم میں الطاف حسین 34برسوں سے جلاوطنی کی زندگی گزار رہا ہے، یہی پاکستان کاالمیہ ہے جس کی وجہ سے پاکستان کے غریب، لوئر مڈل کلاس اورمڈل کلا س عوام ملک میں انصاف کے حصول سے مکمل طورپرمحروم اورمایوس ہوچکے ہیں۔ 
میں سوال کرتاہوں کہ عمران خان کا کیا جرم تھا کہ انہیں اوران کے عمررسیدہ رہنماؤں کو تین برسوں سے جیل میں قیدرکھا ہوا ہے؟ پاکستان میں کونسا صوبہ یاعلاقہ ہے جہاں مظلوم قوموں پر ظلم نہ ہورہاہو؟ مہاجروں پر 1992ء سے آپریشن کے نام پر ظلم ہورہاہے،  بلوچوں کی نسل کشی کی جارہی ہے، پختونوں کا قتل ہورہا ہے، اب کشمیریوں پر بھی ریاستی مظالم ہورہے ہیں۔عوام جب تک اس ظالمانہ نظام کے خلاف نہیں اٹھیں گے اوراس ظلم سے نجات کے لئے جدوجہد نہیں کریں گے وہ مظالم کانشانہ بنتے رہیں گے۔انہیں یہ یاد رکھناچاہیے کہ حقوق کوئی طشتری میں رکھ کرنہیں دیتابلکہ اس کے حصول کے لئے جدوجہد کرنی پڑتی ہے اورقربانیاں دینی پڑتی ہیں۔ میں پی ٹی آئی کے کارکنوں سے بھی کہتاہوں کہ اگران کے لیڈر کمپرومائز کرچکے ہیں اوروہ جراتمندانہ فیصلے نہیں کررہے ہیں توکارکنوں خود گروپ بنا کرمیدان عمل میں آناچاہیے اورملک بھرکی سڑکوں پر احتجاج کرنا چاہیے۔ پاکستان میں اگرچہ بولنے پر پابندی ہے لیکن اگرسب ملکربولیں گے توسب کی مشترکہ آوازیں اورعملی جدوجہد سے ضرور تبدیلی آسکتی ہے۔

الطاف حسین 
ٹک ٹاک پر 427  ویں فکری نشست سے خطاب 
5  جولائی 2026ء 



7/6/2026 12:45:22 PM