افغانستان میں شہری آبادی پرپاکستان کے فضائی حملے پاکستان کے خلاف افغانستان کے جوابی ردعمل کاجوازبنیں گے۔الطاف حسین
سویلین آبادی پرحملے دونوں ملکوں میں موجود سخت کشیدگی میں مزید اضافے کاسبب بنیں گے جوصورتحال کوجنگ کی طرف لے جائیں گے۔
افغانستان پر پاکستان کے فضائی حملے پرسوشل میڈیاکے ذریعے ہنگامی خطاب
ایم کیوایم کے بانی وقائد الطا ف حسین کا افغانستان پرفضائی حملوں کی شدیدمذمت، حملوں میں معصوم افغان عورتوں بچوں کی شہادت پر گہرے دکھ اورافسوس کااظہار
لندن30جون 2026
ایم کیوایم (متحدہ قومی موومنٹ) کے بانی وقائدجناب الطاف حسین نے پاکستان کی جانب سے پڑوسی ملک افغانستان کے صوبوں پکتیا، پکتیکااورکنڑ میں سویلین کے گھروں پر فضائی حملوں کی شدیدمذمت کرتے ہوئے ان حملوں میں معصوم افغان عورتوں بچوں کی شہادت پر گہرے دکھ اورافسوس کااظہارکیا ہے۔اورکہاہے کہ افغانستان میں شہری آبادی پر کئے جانے والے یہ حملے افغانستان کی جانب سے پاکستان کے خلاف جوابی ردعمل کاجوازبنیں گے اوردونوں ملکوں کے درمیان پائی جانے والی سخت کشیدگی میں مزید اضافے کاسبب بنیں گے جوصورتحال کوجنگ کی طرف لے جائیں گے۔
افغانستان پر پاکستان کے فضائی حملے پرسوشل میڈیاکے ذریعے آج علی الصبح اپنے ہنگامی خطاب میں جناب الطاف حسین نے دہشت گردوں کی جانب سے کراچی میں رینجرزہیڈکوارٹرپرکئے جانے والے حملے کی شدیدمذمت کرتے ہوئے کہاکہ اس حملے پرپاکستان کو افغانستان سے سخت احتجاج کرناچاہیے تھااوراس معاملے کواقوام متحدہ اورعالمی سطح پر اٹھاناچاہیے تھا۔اور اگرجوابی حملہ کرنا ہی تھا توافغانستان کے فوجی ٹھکانوں یا ان کی فوجی چوکیوں پر ہی حملہ کرکے حساب برابر کرلینا چاہیے تھاتاکہ سویلین آبادی کاجانی نقصان نہ ہوتا،لیکن افسوس کہ پاکستان کی جانب سے افغانستان کے صوبوں پکتیا، پکتیکااورکنڑ میں سویلین کے گھروں پر فضائی حملے کئے گئے جس کے نتیجے میں درجنوں معصوم افغان عورتیں اوربچے شہیدوزخمی ہوئے۔یہ بات صرف افغان حکومت ہی نہیں بلکہ انٹرنیشنل میڈیا اورافغانستان میں متعین اقوام متحدہ کامشن اوراقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے بھی اپنی آفیشل رپورٹ میں یہی بیان کررہے ہیں کہ پاکستان کے فضائی حملوں میں 28سویلین عورتیں اوربچے جاں بحق اور 49زخمی ہوئے ہیں۔آخر ان سویلین معصوم عورتوں اوربچوں نے کسی کاکیابگاڑا تھا؟
جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں، میری ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی، سینٹرل ایگزیکٹوکمیٹی کراچی میں رینجرز ہیڈکوارٹرپر دہشت گردوں کے حملے کی شدیدمذمت کرتے ہیں، اس حملے میں رینجرزاہلکاروں کی شہادت پردلی افسوس کااظہار کرتے ہیں اورشہیدہونے والے رینجرز اہلکاروں کے لواحقین سے دلی تعزیت کا اظہارکرتے ہیں۔ ساتھ ساتھ ہم افغانستان میں کئے جانے والے ان فضائی حملوں کی بھی شدید مذمت کرتے ہیں اوران حملوں میں معصوم عورتوں اوربچوں کی شہادت پردلی افسوس کااظہارکرتے ہیں اور افغان بھائیوں سے ہمدردی اوریکجہتی کااظہارکرتے ہیں۔
جناب الطاف حسین نے کہاکہ افغانستان میں ہونے والے ان فضائی حملوں کے جواب میں افغانستان کی جانب سے پاکستان پر حملے ہوسکتے ہیں اوراگر ان جوابی حملوں میں سویلین شہری نشانہ بنتے ہیں توان کے ذمہ داروہی عسکری حکام اورموجودہ حکمراں ہوں گے جنہوں نے افغانستان میں سویلین آبادی پر فضائی حملوں کے احکامات دیے۔
انہوں نے حکومت پاکستان اورعسکری حکام سے کومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ اگرکوئی آپ کے فوجی ٹھکانوں یادفاعی تنصیبات پر حملے کرے توآپ کوپوراحق ہے کہ آپ اپنادفاع کریں اور ان حملوں کا جواب بھی دیں لیکن خداراجوابی حملوں میں سویلین آبادیوں، رہائشی عمارتوں اورمعصوم عورتوں بچوں کونشانہ نہ بنائیں۔
میں افغانستان کی حکومت سے بھی یہ کہوں گاکہ وہ ایسے دہشت گرد عناصر جو افغانستان سے آکر پاکستان پر حملے کرتے ہیں،ان کے خلاف کارروائی کریں یاانہیں اپنے ہاں سے نکالیں۔
جناب الطاف حسین نے کہاکہ پاکستان کے سویلین اورعسکری حکام کوآج یہ سوچناچاہیے کہ وہ افغانی جوکل تک آپ کے انتہائی قریبی دوست تھے وہ آپ کے دشمن کیسے ہوگئے؟ آپ نے توامریکی مفادات کی خاطر روس کوافغانستان سے نکالنے کے لئے افغانی باشندوں کوروس کے خلاف جنگ میں ملوث کیا، انہیں عسکری تربیت دی، انہیں پیسہ، اسلحہ اورہرطرح اشیا فراہم کیں، جہاد کے نام پر عسکری تنظیمیں بنائیں اورپورے پاکستان سے لوگوں کی بھرتیاں کیں اورانہیں روس کے خلاف جنگ کے لئے افغانستان بھیجا، روس کے چلے جانے کے بعد افغانستان میں توآپ کے مجاہدین کی حکومت قائم ہوگئی تھی، پھرآپ نے طالبان بنائے اوران کی مالی،عسکری ہرطرح سے سپورٹ کی،وہاں طالبان کی حکومت قائم ہوگئی،اس قدرسپورٹ کے بعد تو آپ کی افغان بھائیوں سے بہت اچھی دوستی ہونی چاہیے تھی لیکن افغان طالبان سے آپ کی دوستی کے بجائے دشمنی کیوں ہوگئی؟آج آپ کہتے ہیں کہ ہم نے افغانوں پر بہت احسانات کئے ہیں اوران کی مدد کی تھی، اس پر افغان یہ کہتے ہیں کہ کیاانہوں نے پاکستان کے حکمرانوں کودعوت تھی کہ وہ ان کی مدد کریں؟
انہوں نے مزید کہاکہ افغانستان کے ساتھ جنگ وجدل کی پالیسی بنانے والے عسکری حکام کو یہ بات ضرور سامنے رکھناچاہیے کہ افغانستان کی طالبان حکومت نے روس کے ساتھ دفاعی معاہدہ کرلیاہے، اگرچہ اس دفاعی معاہدے پر اچانک اورپلک جھپکتے ہی عمل نہیں ہوجائے گالیکن مستقبل قریب میں افغانستان اس دفاعی معاہدے سے فائدہ ضروراٹھائے گااوراس بات کونظرانداز نہیں کرناچاہیے۔
جناب الطاف حسین نے ارباب اختیار کومخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ بلوچوں کوملک دشمن قراردیکرکئی دہائیوں سے ماررہے ہیں، آپ نے مہاجروں کوماراجنہوں نے پاکستان بنانے کے لئے 20لاکھ جانوں کانذرانہ پیش کیا،آپ نے انہیں انڈین ایجنٹ کہا، آپ نے پشتونوں کومارا،انہیں غدارکہا، وہ پنجابی جوعمران خان کوسپورٹ کرتے ہیں،ان کے خلاف کریک ڈان کیا، انہیں بھی ملک دشمن قراردیا، اب کشمیری رہ گئے تھے، جب انہوں نے اپناحق مانگا تو اب وہ بھی آپ کی نظرمیں غداراورملک دشمن ہوگئے اورآ پ انہیں بھی انڈین ایجنٹ اورغدار قراردیکرماررہے ہیں۔
جناب الطاف حسین نے پاکستان کے حکمرانوں اورعسکری قیادت سے کہاکہ وہ خدارااپنی پالیسیوں پر نظرثانی کریں، عوام کو دیوارسے نہ لگائیں اورایسی پالیسیوں سے گریز کریں جن سے عوام آپ سے اوردورہوجائیں۔
٭٭٭٭٭