کشمیرکشمیریو ں کاہے لہٰذا کشمیر یوں کے حقوق کی آواز کو سازشی ہتھکنڈوں، زہریلے پروپیگنڈوں، گرفتاریوں اور دھونس دھمکیوں کے ذریعے دبانے کی کوشش نہ کی جائے بلکہ ان کے جائزمطالبات پر توجہ دی جائے۔
پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے جس حصے کوآزاد کشمیر کہاجاتاہے وہ تاریخی طورپر ایک آزاد ریاست کشمیر کا حصہ تھا جس کا حکمراں مہاراجہ ہری سنگھ تھا۔ ہندوستان کی تقسیم کے وقت جب تمام پرنسلے اسٹیٹس کو ہندوستان میں شامل رہنے، پاکستان سے الحاق کرنے یاآزاد رہنے کاحق دیا گیا تھا توریاست کشمیر کے مہاراجہ ہری سنگھ نے 26نومبر 1947ء نے انڈین حکومت سے رابطہ کرکے ہندوستان سے کشمیر کا الحاق کرلیا تھا اورالحاق نامے پر دستخط کردیے تھے جس کے بعد ریاست کشمیر انڈیا کا حصہ بن گئی تھی۔ لیکن اس وقت کی حکومت پاکستان نے کشمیرکواپنے ساتھ ملانے کے لئے وہاں قبائلیوں کے لشکربھیجے تھے اور کشمیر کے موجود حصے پرکنٹرول حاصل کرلیا تھا جسے پاکستان نے آزادکشمیر کا نام دیا لیکن انڈیااسے اپنا حصہ قراردیتا ہے۔کشمیری عوام بھی اس تاریخی حقیقت کوبخوبی جانتے ہیں اورانہیں اس بات کونہیں بھولنا چاہیے۔
پاکستان کے حکمرانوں،فوجی جرنیلوں نے کشمیرکواپنی شہ رگ قراردیا اورکشمیرکی آزاد ی کے نام پر78 برسوں تک کشمیر کے عوام کواستعمال کیا، ان کے وسائل پر کنٹرول رکھا اورآزاد کشمیر کواسلام آباد سے چلایا جاتا رہا۔ جب کشمیری عوام نے اپنی ایک جوائنٹ کشمیرعوامی ایکشن کمیٹی بناکر اپنے حق حکمرانی اوردیگر بنیادی حقوق کے لئے متحد ہوکرجدوجہد شروع کی تو حکومت پاکستان کی جانب سے انہیں دبانے کا سلسلہ شروع کردیا گیا، چند ماہ قبل بھی کشمیری نمائندوں سے معاہدے اوروعدے کئے گئے لیکن ان پر عمل نہیں کیا گیا، ان کے ساتھ دھوکہ کیا گیا۔ تنگ آکرکشمیری عوام نے گزشتہ دنوں اپنے حقو ق کے لئے دوبارہ جدوجہد شروع کی، وہ جوق درجوق نکلے،انہوں نے اپنے مثالی اتحاد کا مظاہرہ کیا،لیکن اس بار حکومت نے کشمیریوں کے حقوق کی اس جدوجہد کودبانے کے لئے اوچھے ہتھکنڈے اختیارکرنا شروع کردیے ہیں، کشمیریوں کے پرامن احتجاج کوغیرملکی سازش اوران کے رہنماؤں کوملک دشمن قراردینا شروع کردیا ہے،ان کی آوازسننے کے بجائے ان کے خلاف زہریلی پروپیگنڈہ مہم چلائی جارہی ہے،فوج اورا س کی ایجنسی آئی ایس آئی نے دخل اندازی کرکے کشمیری نمائندوں اوران کے قریبی لوگوں کو ڈرا دھمکا کر، مقدمات بنا کرپرامن جدوجہد سے لاتعلق ہونے پر دباؤ ڈا لنے کاسلسلہ شروع کردیا ہے،انہیں ایک دوسرے کے خلاف بھڑکایا جارہا ہے اورکشمیری عوام کی جدوجہد کوسبوتاژکرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ میں کشمیری عوام سے یکجہتی کا اظہارکرتا ہوں اوران سے کہتا ہوں کہ کشمیری عوام کوان اوچھی حرکتوں اورسازشی ہتھکنڈوں میں آکراپنے اتحاد کونہیں توڑنا چاہیے اوراپنی صفوں میں اتحادبرقرار رکھ کراپنی پرامن جدوجہد جاری رکھنی چاہیے۔
الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 419 ویں فکری نشست سے خطاب
21 جون 2026ء