Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

ایم کیوایم کے خلاف 1992ء کے فوجی آپریشن کے دوران ڈھائے گئے بھیانک مظالم کی کہانی ……الطاف حسین کی زبانی


 ایم کیوایم کے خلاف 1992ء کے فوجی آپریشن کے دوران ڈھائے گئے  بھیانک مظالم کی کہانی ……الطاف حسین کی زبانی
 Posted on: 6/22/2026

ایم کیوایم کے خلاف 1992ء کے فوجی آپریشن کے دوران ڈھائے گئے
 بھیانک مظالم کی کہانی ……الطاف حسین کی زبانی

ایم کیوایم کے خلاف 1992ء کے فوجی آپریشن کے نام پر جتنا ظلم کراچی،حیدرآباد،سکھراورسندھ کے دیگر شہری علاقوں میں ایم کیوایم کے کارکنوں، اس کے ہمدردوں اورعام مہاجروں پرکیا گیا، پاکستان کی تاریخ میں اس کی کوئی مثال نہیں ملتی، سوائے بلوچستان کے ایساظلم پاکستان کے کسی بھی علاقے یا کسی بھی قوم پرنہیں ڈھایاگیا۔ 
ایم کیوایم کے خلاف 19جون 1992ء کوشروع کئے گئے فوجی آپریشن میں ایم کیوایم کے ہزاروں کارکنوں اورہمدردوں کوشہید کیا گیا، یہ آپریشن آج تک جاری ہے۔ آج ملک کے مختلف حصوں میں بھی اپنا حق مانگنے پر مختلف قوموں کے خلاف فوجی آپریشن کئے جارہے ہیں جس کی وجہ سے آج پورے پاکستان میں ان غیرآئینی وغیرقانونی اقدامات کے خلاف کہیں کہیں مزاحمت تو کہیں کہیں احتجاجی مظاہرے کئے جارہے ہیں اورکہیں کہیں خاموشی ہے لیکن وہاں بھی عوام ان یزیدی مظالم کے خلاف دلوں میں نفرتیں لئے بیٹھے ہیں۔  
بلوچستان واحد صوبہ ہے جہاں غیور بلوچ عوام کئی دہائیوں سے ریاستی مظالم کے خلاف مزاحمت کررہے ہیں اورہرطرح کی قربانیاں دے رہے ہیں، لیکن خیبرپختونخوا، پنجاب، سندھ،کشمیر، گلگت  بلتستان اور دیگر علاقوں کے عوام اپنا حق مانگنے والوں کے خلاف فوج اوراس کی ایجنسیوں کے ایکشن کے بارے میں کیاسوچتے ہیں۔ پشتونوں میں ایک تنظیم پشتون تحفظ موومنٹ بنی لیکن اس کی آوازکوبھی دبادیا گیا، وہاں اتنا ظلم ہوالیکن افسوس کہ اپنے حق کے لئے اٹھنے والے پشتون خاموش ہوگئے۔ اپنے حق کے لئے آزاد کشمیر کے غیورعوام نے اپنے حق کے لئے میدان عمل میں آکر جدوجہدشروع کی لیکن ایک سازش کے تحت کشمیری قیادت کے خلاف بھی پروپیگنڈے کرکے کشمیری عوام میں بھ نااتفاقیاں پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ 
ایم کیوایم کے خلاف بحیثیت جماعت اورمہاجروں کے خلاف بحیثیت قوم 19جون1992ء کو جو فوجی آپریشن کیا گیا وہ آج تک جاری ہے، اس دوران ہزاروں کارکنان ماورائے عدالت قتل کئے گئے، لاپتہ اوراسیرکئے گئے او ر34سال گزرجانے کے باوجود یہ آپریشن آج بھی جاری ہے۔
ملک کے دیگرصوبوں خصوصاًپنجاب کے لوگوں کوایم کیوایم پر لگائے جانے والے جھوٹے اور من گھڑت الزامات تویادہیں لیکن فوجی آپریشن کے دوران فوج ا وراس کی ایجنسیوں نے ایم کیوایم کے رہنماؤں، کارکنوں اور اس کوسپورٹ کرنے والے مہاجرعوام پر جوبھیانک مظالم ڈھائے اس کے حقائق اورسچی داستانیں معلوم نہیں ہیں اوراگرانہیں بتائی بھی جائیں تب بھی بہت سے لوگ الزامات کے اسیررہتے ہیں۔ 
ایم کیوایم ایک جمہوریت پسنداورقانون کے تحت جدوجہد کرنے والی امن پسند جماعت ہے لیکن اس کے خلاف آپریشن کاجوازپیش کرنے کے لئے من گھڑت اور جھوٹے الزامات تیار کئے گئے، 1992ء میں ہم پرفوج کشی کی گئی،ہمارے بے گناہ کارکنوں کوپکڑ پکڑ کرماورائے عدالت قتل کیاگیا، انہیں فوجی سیف ہاؤسز میں لیجا کرسفاکانہ تشدد کرکے صرف قتل ہی نہیں کیا گیا بلکہ شدید نفرت کااظہار کرتے ہوئے ہمارے نوجوانوں کے جسموں سے کھالیں اتاری گئیں، ان کی آنکھیں نکالی گئیں،ان کے جسموں کو استری سے جلایا گیا، ان کے جسموں کی چربی نکالی گئی،ان کی لاشوں کومسخ کیا گیا اورپھران کی مسخ شدہ لاشیں سڑکوں پر پھینکی گئیں اور کہا گیا کہ یہ مقابلے میں مارے گئے ہیں۔ایک ایک دن میں،ایک ایک واقعہ میں کئی کئی مہاجرنوجوانوں کوگرفتارکرکے پولیس مقابلوں کے نام پر ماورائے عدالت قتل کیاگیا، ہمارے نوجوانوں کے ماورائے عدالت قتل کے واقعات اس بڑے پیمانے پرہوئے کہ ایک ایک گھرسے تین تین جنازے نوجوانوں کے جنازے اٹھے۔ایم کیوایم کے بہت سے کارکنان جوجیلوں میں قید تھے،انہیں ہتھکڑیاں لگے جیلوں سے نکالاگیا اور باہر لیجا کرقریب سے گولیاں مارکرشہید کردیاگیا اور کہا گیا کہ یہ پولیس سے مقابلہ کرتے ہوئے مارے گئے۔ جبکہ ان شہید کارکنوں کے ہاتھوں میں ہتھکڑیاں بندھی ہوئی تھیں۔ کیاپنجاب میں کسی سیاسی جماعت کے خلاف ایسا بھیانک آپریشن کیا گیا؟ 
19جون 1992ء کے آپریشن کے دوران گرفتارکرکے لاپتہ کئے گئے ایم کیوایم کے کئی کارکنان آج تک لاپتہ ہیں، بہت سے لاپتہ کارکنوں کو مارکراسلام آباد کی مارگلہ کی پہاڑیوں میں دفنادیا گیا، اس حوالے سے سابق وزیرداخلہ اور مسلم لیگ ق کے بزرگ رہنماچوہدری شجاعت حسین کابیان ریکارڈ پر موجودہے۔ کیا پنجاب یاخیبرپختونخوا میں کسی بھی سیاسی جماعت کے کارکنوں پر ایساظلم ہوا ہے؟ 
92ء کے آپریشن کے دوران فلاحی ادارے ایدھی فاؤنڈیشن کے سربراہ عبدالستارایدھی کابھی یہ بیان ریکارڈ پر موجود ہے جس میں انہو ں نے بتایاکہ انہوں نے 400سے زیادہ مسخ شدہ لاشوں کودفنایا۔ ہماری معصوم بہنوں کوبھی گرفتارکرکے کئی کئی مہینوں تک لاپتہ رکھا گیا، انہیں فوج کے سیف ہاؤسز میں قید رکھ کر انہیں درندگی کا نشانہ بنایا گیا۔ نائن زیروکی پڑوسی ایک 20سالہ مہاجربہن رئیس فاطمہ کو گرفتار کرکے اسلام آباد میں کئی ماہ تک ایک سیف ہاؤسز میں رکھ کرتشدد کا نشانہ بنایا گیا، ایم کیوایم کے کارکن فاروق پٹنی کوجب ساتھیوں سمیت گھرسے گرفتارکیا گیا تو ساتھ میں اس کی حاملہ بیوی شاذیہ فاروق کوبھی گرفتارکرلیاگیا، فاروق پٹنی اوراس کے ساتھیوں کولیجاکرسفاکی سے گولیاں مارکرشہید کردیاگیا جب کہ اس کی اہلیہ شاذیہ فاروق کوکئی ماہ تک فوج کے سیف ہاؤس او راڈیالہ جیل میں رکھ کرتشدد کیا گیا، اس کے ہاں بیٹی کی ولادت تک قید میں ہوئی۔کیا ایسا ظلم پنجاب یاخیبرپختونخوا میں کسی پارٹی پرڈھایا گیا؟ 
فوجی آپریشن کے دوران یہ بھی ہواکہ فوج اورپیراملٹری رینجرز نے کر اچی کے پورے پورے علاقوں کے محاصرے کرکے گھروں سے نوجوانوں اوربزرگوں کوگرفتارکرکے،ان کی قمیضیں اتارکر،آنکھوں پر باندھ کر24، 24 گھنٹوں تک میدانوں میں بٹھایااور اس دوران گھروں میں لوٹ مار کی گئی اور ماؤں بہنوں سے بہیمانہ سلوک کیا گیا۔ کیافوج نے پنجاب کے کسی ایک علاقے میں بھی کسی کمیونٹی کے خلاف ایساظلم کیا؟ 
آپریشن کے دوران ہم پر تویہ ظلم تک ڈھایا گیا کہ ہمارے کئی شہید کارکنوں کے جنازوں میں نوجوانوں اور بزرگوں کوشرکت نہیں دی گئی جس کی وجہ سے ہماری ماؤں بہنوں نے اپنے شہیدوں کے جنازے خود اٹھائے، خود ان کی نمازجنازہ پڑھائی اورانہیں لیجاکردفنایا۔ کیا پنجاب یاملک کے کسی اورعلاقے میں کہیں ایساکوئی ظلم کیاگیا؟ 
میرے 72سالہ بڑے بھائی ناصر حسین اور28سالہ بھتیجے عارف حسین،جن کاایم کیوایم یاکسی بھی سیاسی جماعت سے کوئی تعلق نہیں تھا،انہیں بھی آپریشن کے دوران5دسمبر 1995ء کو گھرسے گرفتار کرکے تین روز تک تشددکا نشانہ بنانے کے بعد سفاکی سے قتل کردیا گیا، میرے بہنوئی اسلم ابراہانی کو گرفتارکرکے کئی ماہ تک اڈیالہ جیل میں قیدرکھ کرتشدد کیا گیا، پی ٹی آئی کے کتنے رہنما ؤں کے بھائی بھتیجے یا بہنوئی کوگرفتارکرکے شہید کیا گیا؟ پاکستان کے کسی ایک لیڈرکانام بتائیں کہ جس کے گھرکوفوج نے پہلے سیل کیاہو، پھراس کوآگ لگادی گئی ہواور پھر بلڈوز کردیاگیا ہو؟ 
ہماری رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینراورجامعہ کراچی کے بزرگ استاد اور فلسفہ کے سینئر پروفیسر ڈاکٹرحسن ظفر عارف کو پیراملٹری رینجرز نے ایم کیوایم سے وابستگی کی بنیاد پر انہیں پہلے ایم کیوایم چھوڑنے کے لئے دھمکیاں دیں اورپھر13جنوری 2018ء کوانہیں گرفتارکرنے کے بعد سفاکانہ تشدد کا نشانہ بناکر ماورائے عدالت قتل کردیاگیا۔
آپریشن کے دوران ایم کیوایم کے دفاترسے، گھروں کی ٹنکیوں سے بے تحاشہ اسلحہ برآمدکرنے کے ڈرامے رچائے گئے، فوج اورپیراملٹری رینجرز کے افسران نے گرفتارشدگان کی رہائی کے نام پر شہریوں سے لاکھوں روپے وصول کئے۔ افسوس کہ ایم کیوایم کے خلاف آپریشن کے نام پر اس قدر بھیانک مظالم ڈھائے گئے لیکن آج تک اس کے بارے میں ایسی کوئی کتاب مرتب نہ کی جاسکی جسے پڑھ کرلوگ ان مظالم کی تفصیلات جان سکتے۔
ہمارے خلاف یہ ظالمانہ آپریشن 34سال گزرجانے کے باوجود اب بھی اسی طرح جاری ہے،11جون کواے ایم ایس او کے 48 ویں یوم تاسیس پرکیک کاٹنے کے لئے کراچی میں ایک کمرے میں جمع ہونے والے ایم کیوایم کی لیگل ایڈ کمیٹی کے سینئررکن ادریس علوی ایڈوکیٹ، سلمان ایڈوکیٹ، سینئر صحافی تحسین عباسی، ان کے 15سالہ بیٹے سمیت 11بزرگوں کوگرفتارکرکے ان پر دہشت گردی کامقدمہ بنادیا گیا ہے۔ کیا ایک کمرے کے اندریوم تاسیس منانا جرم ہے؟ ہمارے بے گناہ کارکنوں کوگرفتارکرکے لاپتہ کیا جارہاہے۔ ایم کیوایم کے سابق رکن قومی اسمبلی نثارپنہور اوران کے بیٹے محسن پنہور، سینئرفوٹوجرنلسٹ فیصل مجیب اور کراچی کے دیگرساتھیوں کے ساتھ ساتھ گزشتہ ماہ حیدر آباد میں عدالت کے باہرسے گرفتارکئے گئے کارکنان اب تک لاپتہ ہیں۔ 
یہ بڑاظلم وستم ہے کہ جن کے بزرگوں نے قیام پاکستان کے لئے لاکھوں جانوں کانذرانہ پیش  کیا، اپنا سب کچھ پاکستان کی خاطرقربان کیا، ان کی اولادوں پراپناحق مانگنے کے لئے جدوجہد کرنے پراس طرح کے بھیانک مظالم ڈھائے گئے۔اگرکسی کو آپریشن کے دوران ایم کیوایم کے سینکڑوں ہزاروں کارکنوں کے ماورائے عدالت قتل پر شک ہے تووہ کراچی کے یاسین آباد قبرستان جاکرخود دیکھ سکتا ہے۔ میری تمام سیاسی ومذہبی جماعتوں کوبھی یہ دعوت ہے کہ وہ کراچی میں کیمپ لگاکر ایم کیوایم کے لاپتہ کارکنوں کے اہل خانہ سے ملکر خود ان سے تفصیلات معلوم کرسکتے ہیں۔ 

الطاف حسین 
1992ء کے فوجی آپریشن کے 34سال ہونے پر ٹک ٹاک پر 419 ویں فکری نشست سے خطاب
21جون 2026ء



6/22/2026 11:41:41 AM