Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

فرسودہ جاگیردارانہ نظام اورموروثی سیاست کے خاتمے کیلئےغریبوں کی حکمرانی کاانقلاب لازمی ہے پاکستان 2 فیصدحکمراں اشرافیہ کا نہیں بلکہ 98 فیصد غریبوں، مزدوروں اورمتوسط طبقہ کے عوام کا ہے صوبہ پنجاب کے شہر شیخوپورہ میں اے پی ایم ایس اوکے 48 ویں یوم تاسیس کے اجتماع سے خطاب


 فرسودہ جاگیردارانہ نظام اورموروثی سیاست کے خاتمے کیلئےغریبوں کی حکمرانی کاانقلاب لازمی ہے  پاکستان 2 فیصدحکمراں اشرافیہ کا نہیں بلکہ 98 فیصد غریبوں، مزدوروں اورمتوسط طبقہ کے عوام کا ہے صوبہ پنجاب کے شہر شیخوپورہ میں اے پی ایم ایس اوکے 48 ویں یوم تاسیس کے اجتماع سے خطاب
 Posted on: 6/15/2026

فرسودہ جاگیردارانہ نظام اورموروثی سیاست کے خاتمے کیلئےغریبوں کی حکمرانی کاانقلاب لازمی ہے  پاکستان 2 فیصدحکمراں اشرافیہ کا نہیں بلکہ 98 فیصد غریبوں، مزدوروں اورمتوسط طبقہ کے عوام کا ہے صوبہ پنجاب کے شہر شیخوپورہ میں اے پی ایم ایس اوکے 48 ویں یوم تاسیس کے اجتماع سے خطاب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پاکستان کو انگریزوں کے ایجنٹوں نے دوطبقات میں تقسیم کردیاہے، ایک طبقہ وہ ہے جس کے آباؤاجداد نے 1857 ء کی جنگ آزادی میں حریت پسندوں کا ساتھ دیا اوردوسرا طبقہ وہ ہے جس نے جنگ آزادی کوناکام بنانے اوربرصغیرکے عوام کوغلام بنائے رکھنے کے لئے انگریزوں کا ساتھ دیا، بدقسمتی سے یہی طبقہ آج پاکستان کا مالک ومختار بنابیٹھاہے اورانگریزوں کی پالیسی پر عمل کرتے ہوئے پاکستان سے فرسودہ نظام کی تبدیلی کیلئے اٹھنے والی ہرآواز کو ریاستی طاقت سے دباتاچلاآرہا ہے۔  پنجاب کے عوام کو اسٹیبلشمنٹ اور حکمرانوں نے ہمیشہ یہی تاثر دیا ہے کہ صرف صوبہ پنجاب کے لوگ ہی پاکستان کے وفادار ہیں جبکہ باقی صوبوں کے سندھی، بلوچ، پختون،مہاجر، سرائیکی، کشمیری، گلگتی اوربلتستانی پاکستان کے وفادار نہیں ہیں۔ پنجاب اور سندھ کے جن بڑے بڑے زمیندار خاندانوں نے انگریزوں کا ساتھ دیا تھا، انگریزوں نے انہیں انعام کے طورپاکستان قائم کرکے دیدیا۔ 14، اگست1947ء کو جب پاکستان قائم ہوا تو انہی لوگوں پر مبنی فوج بنائی گئی جو حریت پسندوں کے خلاف انگریزوں کا ساتھ دے رہے تھے۔ پاکستان کا نظام حکومت چلانے کیلئے سیاسی جماعتیں تشکیل دی گئیں اورانہی خاندانوں کوان سیاسی جماعتوں میں ایڈجسٹ کیا گیا۔ پیپلزپارٹی ہو یا مسلم لیگ (ن) ہو، ان جماعتوں نے کبھی ملک کے غریب، لوئرمڈل کلاس اورمڈل کلاس کے تعلیم یافتہ افراد کو ملک کے منتخب ایوانوں میں نہیں بھیجا۔ پاکستان کے 98 فیصد غریب ومتوسط طبقے کے عوام اس موروثی سیاست، وڈیرہ شاہی، فرسودہ جاگیردارانہ نظام اور دوفیصد حکمراں اشرافیہ کے غلام بنادیئے گئے مگرکسی سیاسی جماعت نے ملک پر مسلط فرسودہ جاگیردارانہ اوروڈیرانہ نظام کے خلاف آواز نہیں اٹھائی۔  آل پاکستان متحدہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن، پاکستان کی واحد طلبا تنظیم ہے جس نے عوامی جماعت ایم کیوایم کو جنم دیا جوپاکستان کی واحد سیاسی جماعت ہے جس نے ملک کے فرسودہ جاگیردارانہ نظام،موروثی سیاست اور کرپشن کے نظام کی تبدیلی کیلئے عملی جدوجہد کی۔ایم کیوایم نے عوام کو شعوردیاکہ پاکستان دوصرف فیصد جاگیرداروں، وڈیروں اورزمینداروں کا نہیں بلکہ 98 فیصد غریب ومتوسط طبقے کے کروڑوں عوا م کا ہے اورپاکستان میں صحیح جمہوریت اسی وقت آسکتی ہے جب ہم غریب ومتوسط طبقے کے تعلیم یافتہ افراد کو ملک کے منتخب ایوانوں میں بھیجیں گے، ایم کیوایم نے محض نظام کی تبدیلی کانعرہ ہی نہیں لگایا بلکہ عملی طورپر غریب ومتوسط طبقے کے تعلیم یافتہ افراد کو منتخب ایوانوں میں بھیج کرناممکن کوممکن کردکھایا۔  پاکستان کی ہرسیاسی ومذہبی جماعت کا سربراہ بلدیاتی، صوبائی، قومی اورسینیٹ کے انتخابات میں حصہ لیتا رہا ہے جبکہ الطاف حسین پاکستان کا واحد سیاسی رہنما ہے جوپاکستان کافرسودہ نظام بدلنے کیلئے میدان سیاست میں آیا، الطاف حسین نے اپنی ذات یا اپنے خاندان کے مفادات کے بجائے عوام کے اجتماعی مفادات کیلئے تحریک کی بنیاد رکھی، الطاف حسین نے نہ تو خود الیکشن لڑا اور نہ اپنے بہن بھائیوں کو لڑایا، غریب ومتوسط طبقے کے تعلیم یافتہ کارکنوں کو مئیرز، ڈپٹی مئیرز،ایم پی اے، ایم این اے اورسینیٹر بناکر منتخب ایوانوں میں بھیجا۔ ایم کیوایم نے ملک میں برسوں سے قائم اسٹیٹس کو کوچیلنج کیا اسی لئے اس نظام کی محافظ قوتوں نے ایم کیوایم کوبرداشت نہیں کیا، اسے ریاستی طاقت سے کچلنے کے لئے ریاستی آپریشن کیا، ملک سے فرسودہ جاگیردارانہ نظام کے خلاف عملی جدوجہد کی پاداش میں جہاں تحریک کے ہزاروں کارکنوں کو شہیدکیاگیا وہیں الطاف حسین کے بڑے بھائی ناصر حسین، بھتیجے عارف حسین اور بہنوئی اسلم ابراہانی بھی شہیدوں میں شامل ہیں۔ایم کیوایم کے خلاف مظالم پنجاب میں بھی کئے گئے  اور پنجاب سے ایم کیوایم کی ایک محنتی کارکن طاہرہ آصف جو قومی اسمبلی کی رکن تھیں، انہیں نوازشریف کے دور میں لاہورمیں گولیاں مارکر شہید کردیا گیا۔ ایم کیوایم نے پنجاب کے علاوہ کراچی میں بھی میرٹ کی بنیادپر متعدد پنجابیوں، سندھیوں، بلوچوں، پختونوں، گلگتیوں، بلتستانیوں اورکشمیریوں کو منتخب ایوانوں کارکن بنایا۔ فرسودہ جاگیردارانہ نظام اورموروثی سیاست کے خلاف میری عملی جدوجہد کے باعث اسٹیبلشمنٹ میری جان لینے کے درپے ہوگئی،مجھ پر متعدد قاتلانہ حملے کیے گئے اورجب کراچی میں مجھ پرقاتلانہ حملے کیلئے ہینڈ گرنیڈاستعمال کیے گئے تو میں ساتھیوں کے مشورے سے کچھ دنوں کیلئے لندن چلاآیا اور اس کے کچھ ماہ بعد ایم کیوایم کے خلاف فوجی آپریشن شروع کردیاگیااورحقیقی کے نام سے گروپ بناکرمہاجروں کے اتحاد کو کمزورکرنے کی کوشش کی گئی۔ میں 34 برسوں سے جلاوطنی کی زندگی گزاررہا ہوں اورجلاوطنی میں رہتے ہوئے پاکستان کے غریب عوام کے حقوق کی جدوجہد میں دن رات مصروف ہوں۔ بدقسمتی سے پاکستان دوفیصد حکمراں اشرافیہ کا ملک بن کررہ گیا ہے اورغریب عوام غلاموں کی طرح زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔پاکستان میں دہرا نظام رائج ہے، ملک کے 98 فیصد غریب عوام اردوبولتے اورپڑھتے ہیں لیکن پاکستان کاعدالتی نظام اورپورا نظام حکومت انگریزی زبان میں چلایاجارہا ہے۔ دہرے تعلیمی نظام کے باعث ایچی سن اورگرائمر اسکولوں میں صرف دولت مندخاندانوں کے بچے ہی تعلیم حاصل کرسکتے ہیں اور ان اسکولوں میں غریبوں کے بچوں کو داخلہ نہیں دیا جاتا۔ انگریزی زبان میں تعلیم حاصل کرنے والے جاگیرداروں اورجرنیلوں کی اولادیں ہی اقتدارکے ایوانوں میں پہنچتی ہیں جبکہ پاکستان کے غریب عوام 79 سال سے محنت مشقت ہی کررہے ہیں۔ انہیں پانی، گیس، بجلی اورصحت وصفائی کی سہولیات میسر نہیں ہیں اوروہ کئی کئی گھنٹوں لوڈشیڈنگ کی باوجود گیس،بجلی کے بھاری بل اداکرنے پر مجبورہیں۔ الطاف حسین آج بھی وہی بات کررہا ہے جو 48 سال قبل کیاکرتا تھا،عمران خان جب میدان سیاست میں آئے تو انہیں فوج کی سپورٹ حاصل تھی، 2018ء میں عمران خان وزیراعظم بنے انہیں احساس ہوا کہ پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ اوربیوروکریسی ہی ملک کی اصل بیماری ہے۔ آج عمران خان بھی وہی بات کررہے ہیں جو الطاف حسین 48 سال سے کرتاچلاآرہا ہے، جب عمران خان نے نظام کی تبدیلی کی بات کی توپاکستان کو لوٹنے والوں نے انہیں بھی نہیں چھوڑا اوروہ تین برسوں سے قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کررہے ہیں۔ اس سے ثابت ہوا کہ جوفرسودہ نظام کے خلاف آوازاٹھائے گا اس کامقدر جلاوطنی،شہادت یا جیل کی قیدہوگی۔  پنجاب کے نوجوانوں کیلئے میرا پیغام ہے کہ پاکستان انگریزوں کے ایجنٹ چند مخصوص خاندانوں کا نہیں بلکہ 98 فیصد غریب ومتوسط طبقے کے عوام کاپاکستان ہے لہٰذا پاکستان کے اصل مالک ومختار اور ملک کو چلانے والے بھی غریب مزدور، ہاری، کسان اورمحنت کش ہی ہونے چاہئیں۔ ہمیں انگریزوں کی غلامی کا طوق اتارپھینکنا ہوگا،  ہمیں ایساتعلیمی نظام تشکیل دینا ہوگا جس میں غریبوں کے بچے بھی اعلیٰ تعلیم حاصل کرسکیں، ہماراعدالتی نظام بھی ایسا ہوناچاہیے جس میں عوام کوسستااورفوری انصاف میسرہو،جس میں کوئی غریب بھی مہنگے وکیل کی فیس نہ ہونے کے باعث سپریم کورٹ میں اپنا مقدمہ خودلڑکرانصاف حاصل کرسکے۔  میں سمجھتاہوں کہ 2 فیصد کرپٹ جاگیرداروں اورلٹیروں سے نجات میں ہی پاکستان کی سلامتی و بقاء ہے، جب تک ملک کو ان چوروں اورڈاکوؤں سے آزاد نہیں کرایا جائے گا اس وقت تک ہمیں آزادی کاپھل نہیں مل سکتا۔ اگرپاکستان کے مظلوم عوام فرسودہ جاگیردارانہ نظام کو بدلنے کیلئے میدان عمل میں نہیں آئے تو 98 فیصد غریب ومتوسط طبقے کے عوام نسل درنسل محنت مزدوری ہی کرتے رہیں گے،ان کی حالت کبھی نہیں بدلے گی اورملک کانظام حکومت کبھی ان کے ہاتھ میں نہیں آئے گا، ملک سے فرسودہ جاگیردارانہ نظام اورموروثی سیاست کے خاتمے کیلئے غریبوں کی حکمرانی کاانقلاب لازمی ہے۔ ایم کیوایم ملک میں غریبوں کاانقلاب برپاکرناچاہتی تھی اسی لئے ایم کیوایم کے خلاف فوجی آپریشن کرکے اسے کوختم کرنے کی کوشش کی گئی،ایم کیوایم کے خلاف زہریلے پروپیگنڈے کئے گئے لیکن ظلم وجبرسے ایم کیوایم کوختم نہیں کیاجاسکا، ایم کیوایم کے چاہنے والے پنجاب سمیت پورے ملک میں موجود ہیں۔ غداری کے سرٹیفکیٹ دیکر اور بہتان تراشی کرکے پنجاب کے عوام کو بہت بے وقوف بنالیا لیکن اب منفی پروپیگنڈوں اورجھوٹے الزامات لگاکر پنجاب کے نوجوانوں کو الطاف حسین سے متنفرنہیں کیاجاسکتا۔  میں ایم کیوایم پنجاب کے وفاپرست کارکنوں کو رات دن محنت کرنے اورتحریک کاپیغام پھیلانے پر زبردست خراج تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے آج اے پی ایم ایس او کا یوم تاسیس مناکر ثابت کردیا کہ پنجاب میں کل بھی ایم کیوایم کے سچے نظریاتی ساتھی موجود تھے اور تمام ترمشکلات کے باوجود آج بھی موجود ہیں اور انہوں نے تحریک کے مشن کو جاری رکھا ہواہے۔ انشااللہ یہ جدوجہد رنگ لائے گی اورایک وقت آئے گاجب پورا پنجاب ایم کیوایم کے پرچموں سے سجا ہوگا۔ الطاف حسین 15، جون2026ء

6/16/2026 1:02:49 PM