Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

اگرگلگت بلتستان کے الیکشن کے نتائج 8 فروری 2024ء کی طرح آئے تو ناانصافیوں اوردھاندلیوں کا یہ عمل گلگت بلتستان میں نیشنلزم کوپروان چڑھائے گا


 Posted on: 6/5/2026 1

 اگرگلگت  بلتستان کے الیکشن کے نتائج 8 فروری 2024ء کی طرح آئے تو ناانصافیوں اوردھاندلیوں کا یہ عمل گلگت  بلتستان میں نیشنلزم کوپروان چڑھائے گا

7، جون 2026ء کوگلگت  بلتستان میں ہونے والے انتخابات میں پیپلزپارٹی، مسلم لیگ (ن) اور پاکستان تحریک انصاف لے رہی ہے، حکومت پاکستان کے تحت الیکشن کمیشن آف پاکستان ان انتخابات کا انتظام کررہا ہے لیکن اہم سوال یہ ہے کہ کیا گلگت اور بلتستان کے علاقے پاکستان کے جغرافیے میں آتے ہیں؟اور کیاگلگت  بلتستان، پاکستان کا پانچواں صوبہ ہے؟ہرگز نہیں۔ گلگت،  بلتستان اور پاکستان کے زیرانتظام کشمیر متنازع علاقے ہیں۔ 
حکومت پاکستان اورسپریم کورٹ نے8،فروری2024ء کے عام الیکشن میں PTI کے ساتھ ظلم وجبر اور زیادتی کی اور بلے کاانتخابی نشان چھینا، اب گلگت  بلتستان میں وہی تاریخ کیوں دہرائی جارہی ہے؟جب مسلم لیگ (ن) اورپیپلزپارٹی کو گلگت  بلتستان کے انتخابات میں حصہ لینے کی کھلی آزادی ہے تو PTI کو پی پی پی اور ن لیگ کی طرح انتخابات میں حصہ لینے کی اجازت کیوں نہیں دی گئی؟پیپلزپارٹی اپنے انتخابی نشان ”تیر“ اور ن لیگ اپنے انتخابی نشان”شیر“ کے ساتھ انتخابات میں حصہ لے رہی ہے پھر ان انتخابات میں بھی PTI کے امیدواروں کو انتخابی نشان ”بلا“ کیوں لینے نہیں دیاگیا؟ اس عمل کو دیکھ کر کیایہ کہاجاسکتا ہے کہ گلگت  بلتستان میں آزادانہ، ایماندارانہ اور شفاف طریقے سے انتخابات کرائے جارہے ہیں؟ 8، فروری 2024ء کے انتخابات میں تحریک انصاف کو ایک پارٹی کے طورپر حصے لینے سے روکا گیا، پی ٹی آئی کے تمام لوگوں نے آزادامیدوار کی حیثیت سے اُن انتخابات میں حصہ لیا تھا اورتمام امیدواروں کے علیحدہ علیحدہ انتخابی نشان تھے اسی طرح گلگت بلتستان کے الیکشن میں بھی PTI کو ایک جماعت کی حیثیت سے حصہ لینے کی اجازت نہیں دی گئی۔ اگرکوئی یہ کہتا ہے کہ یہ انتخابات صاف اور شفاف طریقے سے کرائے جارہے ہیں اورPTI آزاد امیدواروں کو سپورٹ کررہی ہے تو جس طرح لاڑکانہ ذوالفقارعلی بھٹو مرحوم کی جاگیر ہے توکیاپورا ملک ان کی جاگیرہے کہ بلاول زرداری، آصفہ زرداری اور پیپلزپارٹی کے تمام لیڈروں کو گلگت  بلتستان میں آنے کیلئے NOC دی گئی، اسی طرح میاں نوازشریف اورن لیگ کے تمام لیڈروں کو بھی گلگت  بلتستان میں آنے کیلئے NOC دی گئی لیکن PTI کے ماسوائے ایک دو لوگوں کے دیگر تمام لیڈروں کو گلگت  بلتستان آنے نہیں دیا گیا آخرکیوں؟ یہ ظلم اور زیادتی کیوں کی گئی؟
ہوناتویہ چاہیے تھا کہ عمران خان کورہاکیاجاتااوروہ خود گلگت  بلتستان جاتے اورنوازشریف اوربلاول زرداری کی طرح اپنامنشوراورمقاصد بیان کرتے لیکن ایسا نہ کیاگیا اورپیپلزپارٹی اورمسلم لیگ کوآزادی دیکر اورپی ٹی آئی کے پیروں میں بیڑیاں ڈالی گئی ہیں۔ میں مطالبہ کرتاہوں کہ پی ٹی آئی کے پارلیمنٹرین کوبھی گلگت  بلتستان میں داخل ہونے کا این او سی جاری کیاجائے،انہیں یہ آزادی دی جائے کہ وہ الیکشن کومانیٹرکرسکیں، پولنگ اسٹیشنزپر جاسکیں اور انتخابات میں تعاون کرسکیں۔
میں گلگت  بلتستان کے غیور، بہادر، پیار کرنے والے اورمہمان نواز عوام سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ پیپلزپارٹی اورمسلم لیگ ن کی موروثی سیاست اورچند خاندانوں کی حکمرانی ختم کرنے کے لئے7جون کوگھروں سے نکلیں اورعمران خان کی تحریک انصاف کے حمایت یافتہ امیدواروں کوووٹ دیکرکامیاب بنائیں۔ میں یہ متنبہ کرتاہوں کہ اگر 8 فروری 2024ء کی طرح گلگت  بلتستان کے الیکشن کے نتائج آئے توناانصافیوں اوردھاندلیوں کا یہ عمل گلگت  بلتستان میں نیشنلزم کوپروان چڑھائے گا۔ 

الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 412ویں فکری نشست سے خطاب
5، جون2026ء



6/6/2026 9:36:04 PM