امریکہ کے ہاتھوں ایران کے بحری جہاز کی تباہی کاواقعہ قابل مذمت
انڈیاایرانی بحری جہاز پر حملے سے اپنے آپ کواس سے بری الذمہ قرارنہیں دے سکتا
………………………………………………………………………………………
میں امریکی آبدوز کے حملے میں ایران کے بحری جہاز کی تباہی اور80 سے زائد ایرانی فوجی افسران واہلکاروں کی ہلاکتوں کے واقعہ کی شدیدمذمت کرتاہوں۔ یہ بحری جہاز بھارت کی میزبانی میں ہونے والی بحری جنگی مشقوں Navel Exercise Milan 2026 میں شریک تھا۔یہ بحری مشقیں انڈیا کے سمندری علاقے وشاکاپٹنم (Visakhapatnam)میں ہوئی تھیں جس میں انڈیا کے ساتھ ساتھ ایران، رشیا، چائنا، سری لنکا اوراومان شامل تھے اورانڈیا ان بحری مشقوں کامیزبان تھا۔
جنگی مشقو ں کے بعدجب تمام بحری جنگی جہاز اپنے اپنے ممالک روانہ ہوئے تو اس دوران 28فروری 2026ء کو امریکہ اوراسرائیل نے ایران پر بلاجواز اوربلااشتعال تابڑ توڑجارحانہ حملے شروع کردیے جن میں اسکولوں کی تقریباً200 معصوم طالبات کے ساتھ ساتھ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای سمیت 40اہم حکمراں اورفوجی شخصیات شہید کردی گئیں۔
انڈیا کواچھی طرح معلوم تھاکہ اس کی میزبانی میں ہونے والی بحری مشقوں میں قریبی ہمسایہ ملک ایران کا بحری جنگی جہاز IRIS DENA بھی شریک تھاجو بحری مشقوں کے بعد اپنی منزل کی طرف روانہ ہوچکا تھا۔ ایران پراسرائیل اورامریکہ کے جارحانہ حملوں کے بعد انڈیا کا یہ فرض بنتا تھا کہ وہ ہنگامی بنیادوں پر امریکہ اوراسرائیل کومتنبہ کرتاکہ انڈیا کی میزبانی میں بحری مشقوں میں حصہ لینے والا ایران کابحری جہاز IRIS DENA اپنے ملک روانہ ہوچکاہے لہٰذا اسے اس کی منزل ایران پہنچنے تک کسی قسم کا نقصان نہ پہنچایا جائے کیونکہ وہ ہماری بحری مشقوں میں ایک مہمان ملک کی حیثیت سے شریک ہوا تھا جبکہ انڈیا اس کی میزبانی کررہاتھا۔ لیکن افسوس کہ جنگ شروع ہونے کے کئی روز بعد بھی بھارت نے اسرائیل اور امریکہ کو اس بارے میں آگاہ نہیں کیا۔
بحیثیت میزبان یہ انڈیا کا تہذیبی، معاشرتی، اخلاقی اورانسانی فرض بنتا تھا کہ وہ امریکہ اوراسرائیل کوبتاتا کہ ہماری میزبانی میں بحری مشقوں میں حصہ لینے والا ہماراقریبی ہمسایہ ملک ایران کابحری جہاز بحری مشقوں کے بعد واپس ایران روانہ ہوگیا ہے اور اُس کواُس کی منزل پر پہنچنے تک کسی قسم کا نقصان نہ پہنچایاجائے کیونکہ اگر اس مہمان ایرانی جہازپرحملہ کیا گیا تواسے میزبان انڈیاپر حملہ تصور کیا جائے گا مگرافسوس کہ انڈیانے ایسانہ کرکے مجرمانہ لاپرواہی کامظاہرہ کیا۔ ایرانی بحری جہاز پر حملے او راس میں سوار 80سے زائد نیوی کے افسران اوراہلکاروں کی ہلاکتوں کی ذمہ داری جہاں امریکہ پر عائد ہوتی ہے وہاں انڈیا بھی اپنے آپ کواس سے بری الذمہ قرارنہیں دے سکتا۔ انٹرنیشنل واٹرمیں کسی بھی ملک کے بحری جہاز پر حملہ عالمی قوانین اورقواعدوضوابط کی بھی سنگین خلاف ورزی ہے۔
میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتاہوں کہ امریکہ کے ہاتھوں ایران کے بحری جہاز کی تباہی اور ایرانی بحریہ کے 80سے زائد افسران واہلکاروں کی ہلاکتوں کی تحقیقات کے لئے فی الفور ایک کمیشن تشکیل دیکر تحقیقات کاآغاز کیاجائے اورتحقیقات کے حقائق پوری دنیا کے سامنے لائے جائیں۔
الطاف حسین
لندن
5 مارچ 2026ء