سچی تحریکوں کوطاقت سے ختم نہیں کیا جاسکتا۔ الطاف حسین
لاہورمیں ایم کیوایم پنجاب کی دعوت افطار سے خطاب
…………………………………………………………
پاکستان میں ایم کیوایم واحد جماعت ہے جس کے خلاف باربارریاستی آپریشن کئے گئے،اس کے قائد الطاف حسین کی تحریر وتقریر پر2015ء میں لاہورہائی کورٹ کے ذریعے پابندی لگادی گئی جو آج تک قائم ہے، ایم کیوایم کے مرکز نائن زیرو سمیت تمام دفاتر seal یا مسمار کردیئے گئے، بعدازاں پاکستان کے مظلوم عوام کی امیدوں کے مرکز نائن زیروکو آگ لگاکر بلڈوز کردیاگیا۔ہمارے ہزاروں ساتھیوں کوشہید کردیا گیا ، سینکڑوں کولاپتہ کیاگیا، سینکڑوں کوگرفتار کرکے جھوٹے مقدمات میں جیل میں ڈال دیا گیالیکن ہم نے ہمت نہیں ہاری اورثابت قدمی کے ساتھ اپنی پرامن جدوجہد جاری رکھی۔اللہ تعالیٰ کافضل وکرم اورہمارے ساتھیوں کی قربانیوں کی بدولت ایم کیوایم آج بھی قائم ہے، اس کے وفاپرست ساتھی آج بھی اپنی تحریک سے جڑے ہوئے ہیں، جس کا ثبوت یہ ہے کہ جس شہر کی ہائی کورٹ نے میری تقریر پر پابندی لگائی آج11 سال بعد اسی شہرمیں وفاپرست کارکنان میری بات سن رہے ہیں، یہ میرے سچے نظریئے کی فتح ہے۔ تمام تر ریاستی مظالم اور پابندیوں کے باوجودایم کیوایم کے وفاپرست کارکنان پنجاب میں بھی موجود ہیں، آج اسٹیبلشمنٹ کو سمجھنا چاہیے کہ سچی تحریکوں کوطاقت سے ختم نہیں کیاجاسکتا۔جبراورپابندیوں سے وفاپرست کارکنان وعوام کو وقتی طورپر دبایاجاسکتا ہے مگرالطاف حسین کے نظریئے اور فکروفلسفہ حقیقت پسندی اورعملیت پسندی کو ختم نہیں کیاجاسکتا۔
آج صوبہ پنجاب کے عوام میں بھی تیزی سے یہ شعور پھیل رہا ہے کہ پاکستان ایک آزاد اور خودمختار ملک نہیں بلکہ غیرملکی طاقتوں کا غلام ہے اور بیرونی آقاؤں کی خوشنودی کے لئے کام کرنے والے چند خاندان ملک کے عوام پر مسلط کردیئے گئے ہیں۔ ن لیگ اور پیپلزپارٹی دونوں جاگیرداروں اوروڈیروں کی جماعتیں ہیں، شریف اورزرداری خاندان نے اقتدارمیں رہ کر ملک اوربیرون ملک جائیدادیں بنائیں جبکہ پاکستان کے 98 فیصد غریب ومظلوم عوام کو دووقت کی روٹی تک میسر نہیں ہے۔
پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے گزشتہ دنوں اپنی تقریر میں قوم کو سادگی اور کفایت شعاری کادرس دیا جبکہ وہ آئی ایم ایف اورورلڈ بنک سے قرضے لیکرملک کے عوام کی حالت بہتربنانے کے بجائے اپنی تجوریاں بھرتے رہے، اگر شریف اور زرداری خاندان کی بیرون ملک دولت پاکستان لائی جائے تو آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کاقرضہ ادا ہوسکتاہے، اس کیلئے جرات وہمت درکارہے اور یہ کام صرف الطاف حسین اور اس کی ایم کیوایم ہی کرسکتی ہے۔
الطاف حسین نے پاکستان کی سیاسی تاریخ میں پہلی مرتبہ انتخابی ٹکٹوں کا نیلام گھر نہیں سجایا بلکہ میرٹ کی بنیادپرغریب ومتوسط طبقے کے تعلیم یافتہ افراد کو منتخب ایوانوں میں بھیجا، ایم کیوایم کاآج بھی یہی مؤقف ہے کہ سونے کاچمچہ منہ میں لیکر پیدا ہونے اور ائیرکنڈیشنڈ گاڑیوں میں سفر کرنے والے پاکستان کے غریب عوام کے مسائل کو نہ تو سمجھ سکتے ہیں اور نہ ہی حل کرسکتے ہیں۔ پاکستان سے جب تک چند خاندانوں کی اجارہ داری کاخاتمہ نہیں ہوگا نہ تو ملک غیرملکی آقاؤں کی غلامی سے نجات حاصل کرسکتا ہے،نہ ترقی وخوشحالی کی راہ پر گامزن ہوسکتا ہے اورنہ ہی عوام کے بنیادی مسائل حل ہوسکتے ہیں۔
میں تمام ترمنفی پروپیگنڈوں اورپابندیوں کے باوجود ثابت قدمی کامظاہرہ کرنے اور حق پرستی کا پیغام عام کرنے پر صوبہ پنجاب کے تمام وفاپرست کارکنان وعوام کو دل کی گہرائیوں سے سلام تحسین اورخراج تحسین پیش کرتاہوں۔
الطاف حسین
ایم کیوایم پنجاب کے زیراہتمام لاہور میں افطار ڈنر کے موقع پر وفاپرست کارکنان سے خطاب
15، مارچ2026ء