Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

نسرین جلیل کی ایم کیوایم اوربانی وقائدالطاف حسین کے بارے میں انتہائی غیرمناسب گفتگو احسان فراموشی اور بدعہدی کی بدترین مثال ہے۔ مصطفےٰ عزیزآبادی


 نسرین جلیل کی ایم کیوایم اوربانی وقائدالطاف حسین کے بارے میں انتہائی غیرمناسب گفتگو احسان فراموشی اور بدعہدی کی بدترین مثال ہے۔ مصطفےٰ عزیزآبادی
 Posted on: 2/17/2026

نسرین جلیل کی ایم کیوایم اوربانی وقائدالطاف حسین کے بارے میں انتہائی غیرمناسب گفتگو احسان فراموشی اور بدعہدی کی بدترین مثال ہے۔ مصطفےٰ عزیزآبادی
نسرین جلیل کی گفتگو سے الطاف بھائی کے کروڑوں چاہنے والوں کے جذبات مجروح ہوئے ہیں 
 ایم کیوایم کے ناقدین بھی نسرین جلیل کی گفتگوکوسخت ناپسند کررہے ہیں اور انہیں لعن طعن کررہے ہیں 
 نسرین جلیل صاحبہ نے ڈاکٹرعمران فاروق شہید کی روپوشی اوران کے پاکستان سے نکلنے کی تفصیلات بیان کرکے قرآن مجید پر اٹھائے گئے اپنے حلف اورقائدتحریک کے اعتمادکی دھجیاں اڑا کر رکھ دیں 
 نسرین جلیل نے ڈاکٹرعمران فاروق کی روپوشی کے نام پر الطاف بھائی کو بلیک میل کیا
 نسرین جلیل صاحبہ 30سال تک ایم کیوایم سے ہرقسم کی مراعات حاصل کرتی رہیں، اگرایم کیوایم بری تھی تووہ 30 سال تک ایم کیوایم میں کیوں رہیں؟ مصطفےٰ عزیزآبادی
 نسرین جلیل اب اپنے حصے کی ذلت ورسوائی کے ساتھ زندگی گزاریں گی۔ شاہد رضا
 نسرین جلیل نے ڈاکٹرعمران فاروق کی روپوشی کارازافشاء کرکے حلف سے غداری کی۔ ریحان عبادت
 ایم کیوایم نے نسرین جلیل کو بہت کچھ دیا تھا لیکن انہوں نے بانی و قائد سے بے وفائی کی۔عاطف شمیم
 جوشخص قرآن پر لئے گئے حلف کوتوڑے وہ حلف کوہی نہیں اپنے ایمان کوبھی زخمی کرتاہے۔ارشدحسین
نسرین جلیل نے چند روزہ مفادات کی خاطر اپنے حلف اورایمان کوبیچ دیا۔ محفوظ حیدری 
نسرین جلیل کے الزامات اور ہرزہ سرائی پر ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی کا وڈیوبریفنگ میں بھرپورجواب 

لندن……17 فروری 2026ء
متحدہ قومی موومنٹ کی رابطہ کمیٹی کے کنوینر مصطفےٰ عزیزآبادی نے ایم کیوایم کے بانی وقائدجناب الطاف حسین کی ذات، ایم کیوایم اور مہاجروں کے بارے میں نسرین جلیل کے الزامات اورایم کیوایم کے شہید کنوینرڈاکٹرعمران فاروق کی روپوشی اوران کے پاکستان سے نکلنے اورلندن پہنچنے کے بارے میں ان کے الزامات اورانکشافات کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ نسرین جلیل صاحبہ نے 8 فروری 2026ء کو کراچی لٹریچر فیسٹیول میں صحافی مظہرعباس کے پوچھے گئے مختلف سوالات کے جوابات میں جو انتہائی غیرمناسب گفتگو کی ہے وہ احسان فراموشی اور بدعہدی کی بدترین مثال ہے۔ ان کی گفتگو سن کرایم کیوایم کے کارکنان اور الطاف بھائی کے کروڑوں چاہنے والوں کے ہی جذبات مجروح نہیں ہوئے بلکہ ایم کیوایم کے ناقدین بھی نسرین جلیل صاحبہ کی گفتگوکوسخت ناپسند کررہے ہیں اور انہیں لعن طعن کررہے ہیں۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار رابطہ کمیٹی کے ارکان کے ہمراہ ایک لائیووڈیوبریفنگ میں کیا۔ وڈیوبریفنگ میں رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر شاہد رضا، ریحان عبادت، عاطف شمیم، رابطہ کمیٹی کے ارکان ارشدحسین اورمحفوظ حیدری بھی شریک تھے جنہوں نے بھی اس موضوع پر اظہارخیال کیا۔ 

مصطفےٰ عزیزآبادی نے کہا کہ نسرین جلیل صاحبہ نے کراچی لٹریچر فیسٹیول کی عوامی تقریب میں میڈیاکے سامنے جہاں اوربہت سی افسوسناک گفتگوکی ہے وہیں انہوں نے ایم کیوایم کے شہید کنوینر، شہید انقلاب ڈاکٹرعمران فاروق کی سات سالہ روپوشی،ان کی پاکستان سے روانگی اور لندن پہنچنے کے بارے میں ایسی تفصیلات بیان کی ہیں جسے سن کر ایم کیوایم کا ہر سچا کارکن نہ صرف سخت حیران ہے بلکہ انتہائی افسردہ بھی ہے کہ تحریک کی بدولت نام اورمقام پانے والے اپنی مفاد پرستانہ سوچ کے تحت اس حد تک بھی گرجائیں گے کہ وہ قرآن پر اٹھائے گئے حلف کوبھی توڑنے سے گریز نہیں کریں گے۔ 
 انہوں نے کہا کہ تحریک کاہر نظریاتی کارکن اس حقیقت سے واقف ہے کہ تحریک میں قسم کھائی جاتی ہے کہ میں آخری سانس تک تحریک کے راز کوراز رکھوں گا…… یا رکھوں گی، چاہے میں تحریک میں رہوں یانہ رہوں۔ تحریک کے راز کوراز رکھنے کے حلف کوتوڑنا……اس راز کوافشاء کرنانہ صرف ایک بڑاگناہ سمجھا جاتا ہے بلکہ سب سے بڑاتحریکی جرم تصورکیاجاتا ہے۔ 
مصطفےٰ عزیزآبادی نے کہاکہ ڈاکٹرعمران فاروق شہید ایم کیوایم کے سینئر رہنما، مہاجرقومی موومنٹ کے سیکریٹری جنرل اورمتحدہ قومی موومنٹ بننے کے بعد رابطہ کمیٹی کے کنوینربھی تھے۔وہ 1992ء کے فوجی آپریشن کے دوران تحریک کی پالیسی کے تحت روپوش تھے، وہ سات سال تک روپوش رہے،پاکستان میں ان کی جان سخت خطرے میں تھی کیونکہ اس وقت کی حکومت نے ڈاکٹرعمران فاروق کی زندہ یامردہ گرفتاری پرسات لاکھ روپے انعام مقررکیا تھا۔وہ اگرمنظر عام پر آتے توانہیں ماردیاجاتا۔انہوں نے قائدتحریک الطاف حسین کی ہدایت پر سات سال سخت روپوشی میں گزارے۔قائدتحریک کی انہیں یہی ہدایت تھی کہ اس طرح روپوشی میں رہناکہ سورج کی کرن تک نہ دیکھ پاؤ……وہ سات سال کی انتہائی سخت روپوشی کے بعد کسی طرح 1999ء میں لندن پہنچ گئے۔
 ڈاکٹرعمران فاروق شہید سات سال تک کہاں روپوش رہے…… کہاں کہاں رہے……کیسے لندن پہنچے …… یہ تفصیل توبانی وقائدجناب الطاف حسین نے کبھی ڈاکٹرعمران فاروق شہید سے نہیں پوچھی……نہ کبھی اس بارے میں کہیں کوئی ذکر کیا ……پھر نسرین جلیل صاحبہ نے کراچی فیسٹیول کی عوامی تقریب میں یہ تفصیل میڈیاکے ذریعے دنیاکے سامنے کیوں آشکارکی؟ 
انہوں نے مزید کہاکہ نسرین جلیل صاحبہ اوران کے شوہرایم اے جلیل صاحب مرحوم نے قرآن مجید پرحلف لیکر قائدتحریک جناب الطاف حسین سے یہ کہا تھاکہ وہ ڈاکٹر عمران فاروق کی روپوشی کے راز کو ہمیشہ راز رکھیں گے جس پر قائد تحریک الطا ف حسین نے اُن پر اعتماد کیا تھالیکن نسرین جلیل صاحبہ نے میڈیاکے سامنے اس کی تفصیلات بیان کرکے اپنے حلف اورقائدتحریک کے اعتمادکی دھجیاں اڑا کر رکھ دیں۔انہوں نے سوال کیاکہ ڈاکٹرعمران فاروق شہید کی روپوشی اوران کے پاکستان سے نکلنے کے حوالے سے تفصیل بیان کرکے کیا نسرین جلیل صاحبہ قرآن مجید پر اٹھائے گئے اپنے حلف کو توڑنے کی مرتکب نہیں ہوئیں؟ 
 انہوں نے نسرین جلیل سے سوال کیاکہ اگرصحافی مظہرعباس صاحب نے آپ سے ڈاکٹرعمران فاروق شہید کی روپوشی اورپاکستان سے نکلنے کے بارے میں سوال پوچھا تھا توبھی آپ کواس کی تفصیل بتانے کی کیاضرورت تھی؟ ڈاکٹرعمران فاروق کی شہادت کے 16سال بعد یہ تفصیل بیان کرنے کے پیچھے آپ کے کیامقاصد کارفرماہیں؟ ایساکرکے آخرآپ کس کوخوش کرناچاہتی ہیں؟آپ نے قائدتحریک جناب الطاف حسین سے لاتعلقی اختیار کرلی تھی،اگرآپ کوتحریک کی کسی پالیسی سے اختلاف تھا توبھی ڈاکٹرعمران فاروق شہید کی روپوشی اوران کے پاکستان سے نکلنے کامعاملہ آپ کے پاس ایک تحریکی راز تھاجسے راز میں رکھنے کاآپ نے حلف اٹھایاتھا،آپ نے اس راز کوافشاء کرکے، اسکی تفصیل میڈیا کے سامنے بیان کرکے اوراپنا حلف توڑکر کیا تحریک اورقوم کوفائدہ پہنچایا ہے؟

مصطفےٰ عزیزآبادی نے کہاکہ نسرین جلیل صاحبہ نے جب اتنا اہم راز آشکارکر دیاہے تو ہم بھی انہیں آئینہ دکھانے اور ان سے کچھ سوالات کرنے کاحق رکھتے ہیں۔ ان میں اگراخلاقی جرات ہے تووہ قوم کوان سوالوں کے جواب دیں۔انہوں نے سوال کیاکہ کیانسرین جلیل صاحبہ ڈاکٹرعمران فاروق شہید کی روپوشی کے دوران اپنے شوہر ایم اے جلیل صاحب مرحوم کے ساتھ لندن آکر قائدتحریک الطاف حسین سے یہ نہیں کہتی تھیں کہ انہوں نے ڈاکٹرعمران فاروق کو کہیں رکھاہواہے،ڈاکٹر صاحب کے لئے اتنے پیسوں کی ضرورت ہے؟
 قائدتحریک نے تحریکی اصول پر عمل کرتے ہوئے کبھی نسرین جلیل صاحبہ سے سوال تک نہیں کیاکہ انہیں کس مقصد کے لئے پیسے درکار ہیں؟ کس کوپیسے دینے ہیں؟ کہاں دینے ہیں؟ کیونکہ یہ اعتماد کا معاملہ ہوتاہے۔ نسرین جلیل صاحبہ نے قائدتحریک سے جب بھی جتنی رقم مانگی،قائدنے بغیرکسی سوال کے انہیں ہرمرتبہ منہ مانگی رقم دی۔ یوں سمجھ لیں کہ انہوں نے ڈاکٹرصاحب کی روپوشی کے نام پر الطاف بھائی سے ایک طرح کا بھتہ وصول کیا۔
انہوں نے کہا کہ کیونکہ ڈاکٹرعمران فاروق روپوشی میں تھے، ان کی جان کوخطرہ تھا اورقائدتحریک الطاف حسین اپنے اس عزیزترین ساتھی کی ہرقیمت پرسلامتی چاہتے تھے ……انہیں محفوظ دیکھناچاہتے تھے……لہٰذا نسرین جلیل صاحبہ نے ڈاکٹر عمران فاروق کی روپوشی کوقائدتحریک الطاف حسین کی کمزوری بناکرانہیں ایک طرح سے بلیک میل کیا۔ حتیٰ کہ ایک موقع پرانہوں نے ڈیفنس میں اپنے گھر کومورگیج یاloan سے چھڑانے کے لئے قائدتحریک الطاف حسین سے برطانوی پاؤنڈ میں ایک بھاری رقم تک بطور قرض لی تھی۔ کیانسرین جلیل صاحبہ اس بات سے انکارکریں گی؟…… اگروہ سچی ہیں تواسی طرح میڈیاکے سامنے اپنے بچوں کے سرپرہاتھ رکھ کرقسم کھاکربتائیں کہ انہوں نے قائدتحریک سے رقم لی تھی یانہیں؟ یہ کھلی سچائی ہے کہ نسرین جلیل صاحبہ نے شہید انقلاب ڈاکٹر عمران فاروق کوروپوشی کی جگہ فراہم کرنے کا پورا معاوضہ بمعہ سودوصول کیا۔اس کے باوجود وہ لالچ اورمفادپرستی میں اتنی اندھی ہوچکی ہیں کہ اپنے حلف سے روگردانی کرکے اورتحریکی رازافشاء کرکے وہ تحریک اورقوم سے کھلی دشمنی پر اترآئی ہیں۔ اس عمل کوبے شرمی نہ کہاجائے تو پھر کیاکہاجائے؟ 

مصطفےٰ عزیزآبادی نے کہاکہ نسرین جلیل صاحبہ 30سال تک تحریک سے ہرقسم کی مراعات حاصل کرتی رہیں، وہ سینیٹررہیں، سینیٹ کی اسٹینڈنگ کمیٹی کی چیئرمین رہیں،وفاقی وزیرکے برابرمراعات لیتی رہیں،کراچی کی ڈپٹی میئر رہیں،ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی کی ڈپٹی کنوینر رہیں۔ان کے شوہرایم اے جلیل صاحب مرحوم دومرتبہ ایم کیوایم کی جانب سے صوبائی وزیراورایم کیوایم کی مرکزی رابطہ کمیٹی کے رکن رہے۔ اُس وقت تو ان کے لئے ایم کیوایم سب سے اچھی تھی اوروہ قائد تحریک الطاف حسین کی تعریفیں کرتے نہیں تھکتی تھیں لیکن آج وہ قائدتحریک الطاف حسین کے خلاف ہرزہ سرائی کر رہی ہیں،وہ 30سال تک جس ایم کیوایم سے ہرطرح کی مراعات حاصل کرتی رہیں آج اسی ایم کیوایم کی سیاست کو مہاجروں کے لئے نقصان دہ قراردے رہی ہیں۔ اگرایسا ہی تھا تووہ 30سال تک ایم کیوایم میں کیوں رہیں؟انہیں 22  اگست 2016ء کے دس سال بعد یہ خیال کیوں آیا ہے؟  آج انہیں یہ ساری چیزیں بری لگنے لگی ہیں اورجن ساتھیوں کوڈاکٹرعمران فاروق شہیدکی روپوشی کے بارے میں راز معلوم نہ تھے،انہوں نے یہ راز ان کارکنوں کے سامنے بھی افشاء کردیے۔
انہوں نے نسرین جلیل صاحبہ سے سوال کیا کہ آپ قوم کواس بات کاجواب دیں کہ جب آپ نے 22  اگست 2016ء کے بعد قائدتحریک الطاف حسین سے لاتعلقی اختیارکرلی تھی تو آپ جن غداروں کے سا تھ شامل ہوئیں، آپ نے یہی باتیں ان غداروں کے ساتھ مل کرکسی پریس کانفرنس میں کیوں نہیں بتائیں؟ اگرآپ یہی باتیں ان غداروں کے ساتھ ملکر بتاتیں تووہ آپ کی بیان کردہ باتوں کی تصدیق یا تردید کرتے۔ آپ 2016ء کے بعد دس سال تک ایم کیوایم کے نام پر مزے کیوں اڑاتی رہیں؟   
مصطفےٰ عزیزآبادی نے کہاکہ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ نسرین جلیل صاحبہ کی یہ گفتگوبدعہدی، قرآن پر دیے گئے حلف سے انحراف اور اے پی ایم ایس او، ایم کیوایم اور متحدہ کے یوم تاسیس اورقائدتحریک الطاف حسین کی سالگرہ کے موقع پر کئے گئے تجدیدعہدِ وفا کوتوڑنے اور احسان فراموشی کی بدترین مثال ہے۔ نسرین جلیل صاحبہ نے تحریکی راز افشاء کرکے، اپنے حلف سے روگردانی اوربدعہدی کرکے عمرکے اس حصہ میں جوذلت ورسوائی کمائی ہے،اس کی کوئی مثال نہیں ملتی۔ اپنے اس عمل پر وہ تحریک کے سچے وفاپرست کارکنوں اورعوام کی نظروں میں ہمیشہ حقارت سے دیکھی جاتی رہیں گی۔ 
 مصطفےٰ عزیزآبادی نے تحریک کے تمام وفاپرست ساتھیوں سے کہا کہ وہ اپنے آپ کونظریاتی اور روحانی طور پر اتنامضبوط کریں کہ کسی بھی جانب سے کیاجانے والاکوئی بھی منفی پروپیگنڈہ آپ کی نظریاتی پختگی، سوچ وفکر اوربانی وقائد تحریک جناب الطاف حسین پرآپ کے یقین واعتماد کو متزلزل نہ کرسکے ……آپ کے تحریکی ایمان کوکمزورنہ کرسکے۔ آپ کوچاہیے کہ آپ مفادپرستی میں پڑنے اور گمراہی کی راہ پر چلنے کے بجائے ہمیشہ وفاپرستی کی راہ پرچلتے رہیں اورتحریک سے کئے گئے اپنے عہدپرقائم رہتے ہوئے تحریک کے ہر رازکو ہمیشہ رازمیں رکھیں۔ 
بسااوقات تحریک میں شامل بعض افراد حالات کے جبرسے گھبراکر…… یاتھک ہارکر……یا کسی بھی مجبوری کی بنا پر غیرفعال ہوجاتے ہیں یا کسی اورجماعت میں شامل ہوجاتے ہیں ……تب بھی تحریک میں لئے گئے حلف کاتقاضہ ہے کہ وہ اپنی قسم پر قائم رہیں اور اپنے عہد کونہ توڑیں۔ انہوں نے دعاکی کہ خداہم سب کوتحریک سے کئے گئے اپنے اپنے عہدوفاپر قائم رہنے کی توفیق عطافرمائے اورہماراخاتمہ وفاپرست کی حیثیت سے ہو۔ آمین۔ 
رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینر شاہدرضانے کہاکہ بعض لوگوں کو تحریک سے سب کچھ ملنے کے باوجودعزت راس نہیں آتی اوروہ اپنے اعمال کی وجہ سے ذلت ورسوائی کاسامناکرتے ہیں۔ نسرین جلیل بھی انہی میں سے ایک ہیں اب وہ اپنے حصے کی ذلت ورسوائی کے ساتھ زندگی گزاریں گی۔ شاہد رضانے مصطفےٰ کمال کے بیان کی بھی شدیدمذمت کی اوراسے گٹرکہہ کرمخاطب کرتے ہوئے کہاکہ یہ گٹرجس نے کھولاتھاانہی کوچاہیے کہ وہ اس کوبند کریں۔ 
رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینرریحان عبادت نے کہاکہ نسرین جلیل نے ڈاکٹرعمران فاروق شہید کی روپوشی کے راز کو راز میں رکھنے کاحلف اٹھایاتھااوریہ راز ان کے پاس ایک امانت تھالیکن انہوں نے اس کی تفصیلات کوبیان کرکے اپنے حلف سے غداری کی ہے جس پر آج ایم کیوایم کے کارکنان اوردوسرے لوگ بھی ان کولعنت ملامت کررہے ہیں۔ دوسروں کوبھی اس بات سے سبق سیکھنا چاہیے۔ 

رابطہ کمیٹی کے ڈپٹی کنوینرعاطف شمیم نے اس موقع پر اظہارخیال کرتے ہوئے کہاکہ نسرین جلیل نے 22  اگست 2016کے بعد اپناحلف توڑا، جوایک بار اپناحلف توڑدے وہ باربارکرتاہے اور اپنی وفا کا سودا کرتاہے،نسرین جلیل کوسوچناچاہیے تھاکہ انہیں تحریک نے کیا کچھ دیا تھا لیکن انہوں نے تحریک اوربانی وقائد سے بے وفائی کی۔

رابطہ کمیٹی کے رکن ارشدحسین نے اظہارخیال کرتے ہوئے کہاکہ قائدتحریک الطاف حسین ایک نظریہ ہیں اور نسرین جلیل ان کے بارے میں کارکنوں کودرس دیاکرتی تھیں،آج وہ قائدتحریک الطاف حسین کے خلاف ہرزہ سرائی کررہی ہیں۔ جوشخص قرآن مجیدپرہاتھ رکھ کرلئے گئے حلف کوتوڑے وہ صرف حلف کوہی نہیں بلکہ اپنے ایمان کوبھی زخمی کرتاہے۔ حلف کی حرمت کوپامال کرنااپنے کردار کی دیوار کوگراناہے۔ راز امانت ہوتاہے اورراز کو افشاکرناامانت میں خیانت کرناہوتاہے۔ 

رابطہ کمیٹی کے رکن محفوظ حیدری نے اس موقع پر اظہارخیال کرتے ہوئے کہاکہ حلف کوتوڑنا نہیں بلکہ اس پر قائم رہا جاتاہے، نسرین جلیل نے تو تحریک میں بہت کچھ مراعات حاصل کی تھیں، لیکن انہوں نے چند روزہ مفادات کی خاطر اپنے حلف اورایمان کوبیچ دیا۔ انہیں اس پر شرمسار ہونا چاہیے ۔ 

٭٭٭٭٭



2/22/2026 6:28:42 PM