Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

شہید وفا پروفیسر ڈاکٹر حسن ظفر عارف شہید کوسلام


 شہید وفا پروفیسر  ڈاکٹر حسن ظفر عارف شہید کوسلام
 Posted on: 1/13/2026

شہید وفا پروفیسر ڈاکٹر حسن ظفر عارف شہید کوسلام  ڈاکٹرحسن ظفرعارف شہیدکی قربانی تمام وفاپرستوں کے لئے ایک مثال ہے۔  #SaluteToHasanZafarArif وفاکی قسمیں کھانا، حلف اٹھانااورعہد کرلینابہت آسان ہوتاہے لیکن وفاکونبھانا، حلف پر قائم رہنااورعہد کو پوراکرنا بہت مشکل ہوتاہے کیونکہ وفااورعہد پر قائم رہنے کے لئے آگ اورخون کے سمندر سے گزرنا پڑتاہے، مصائب ومشکلات کاسامناکرناپڑتاہے۔ انسان وفاکونبھانے کے لئے بڑے بڑے دعوے کرتا ہے لیکن اس کااصل امتحان اس وقت آتاہے جب وہ اپنی جدوجہد کے دوران وفاپر قائم رہنے کے لئے موت اورزندگی کی آزمائش کاسامنا کرتاہے۔ وفا کی راہ میں اگرانسان حق پرقائم رہے اور جان کی قربانی سے بھی دریغ نہ کرے تووہ رہتی دنیا تک  ظالم کے سامنے ڈٹ جانے کاسمبل بن جاتاہے۔اپنی وفااور عہد پر جان قربان کرنے والے ایسے ہی ایک بزرگ کانام پروفیسرڈاکٹرحسن ظفر عارف شہید ہے۔انہوں نے چالیس سال تک کراچی یونیورسٹی میں لاکھوں طلبہ کوتعلیم دی، وہ ایک استاد ہونے کے ساتھ ساتھ ایک شاعر، ایک ادیب، ایک مترجم بھی تھے، انہوں نے انگریزی، روسی اورکئی زبانوں کی کتابوں کے اردومیں ترجمے کئے۔ وہ عملی جدوجہد کرنے والے انسان تھے۔وہ ہمیشہ ظلم کوظلم کہتے رہے، ہرآزمائش سے گزرے، بزرگی کی عمر میں وہ ایم کیوایم میں شامل ہوئے، جب 2016ء میں ایم کیوایم وہ سینئر لوگ جنہوں نے ایم کیوایم کے نام سے سب کچھ حاصل کیامگروہ غداری کرکے اسی ایم کیوایم کو دفن کرنے نکل آئے، جنہوں نے 22 اگست  2016 ء کو40سال، 30 سال، 25سال تک ایم کیوایم میں رہنے کے بعد ایک ہی رات میں اپناپراناتعلق اوروفاکاعہد توڑکر قائد کو چھوڑ گئےاورایم کیوایم پاکستان بنالی، ایسے وقت میں پروفیسر ڈاکٹرحسن ظفرعارف اپنی وفا پر قائم رہے، وہ 22  اگست 2016 ء کے بعد الطاف حسین کی رابطہ کمیٹی میں ڈپٹی کنوینر بنے اورغداروں کامقابلہ کرتے ہوئے تحریک کے کام کوجاری رکھا۔اس کی پاداش میں انہیں گرفتارکرکے قید میں ازیتیں دی گئیں، جھوٹے مقدمات میں جیل میں اسیر رکھاگیا لیکن وہ ثابت قدم رہے، انہوں نے رہائی کے بعدبھی تحریک کاکام جاری رکھا، انہیں ایجنسیوں کی جانب سے دھمکیاں دی گئیں لیکن وہ نہ ڈرے اورکام کرتے رہے۔ وہ 13 جنوری 2018ء کوساتھیوں سے یہ کہہ کرنکلے کہ ان کی بیٹی کل لندن جارہی ہے میں آج رات کاکھانا اس کے ساتھ کھاؤں گا، گھرجاتے ہوئے انہیں راستے سے اغواکرلیاگیا، انہیں رات بھر تشدد کانشانہ بنایاگیا، انہوں نے اپنی وفاداری تبدیل کرنے سے انکارکیا تو انہیں سفاکانہ تشددکا نشانہ بناکرشہید کردیاگیا اوران کی تشددزدہ لاش کراچی کے ساحلی علاقے ابراہیم حیدری کے ایک ویران مقام پر پھینک دی۔ ڈاکٹرحسن ظفرعارف شہید آخری سانس تک اپنی وفاپر قائم رہے۔ اسی لئے انہیں شہیدِوفا کالقب دیا گیا۔ڈاکٹرحسن ظفرعارف شہید اتنے بڑے بزرگ اوراستاد تھے لیکن ان کے سفاکانہ قتل پر پوراملک خاموش رہا، کسی نے اس ظلم کوظلم نہیں کہا، اس لئے کہ وہ ایم کیوایم کے ڈپٹی کنوینر تھے، وہ مہاجر تھے۔ انہوں نے کسی کے ساتھ تعصب نہیں کیابلکہ تعصب اورنفرت کانشانہ انہیں بنایاگیا۔  ڈاکٹرحسن ظفرعارف شہیدکی قربانی تمام وفاپرستوں کےلئے ایک مثال ہے، ان کی قربانیاں کبھی فراموش نہیں کی جائیں گی۔ میں ڈاکٹرحسن ظفرعارف شہیدکوسلام عقیدت پیش کرتاہوں۔  اللہ تعالیٰ ڈاکٹرحسن ظفرعارف شہیدکی قربانی کوقبول فرمائے، انہیں شہدائے بدر، شہدائےاحد، شہدائے کربلا کے درمیان جگہ عطافرمائے۔  آج ڈاکٹرحسن ظفرعارف شہید کی آٹھویں برسی ہے، میں اس موقع پر تمام وفاپرستوں سے کہتاہوں کہ وہ ڈاکٹرحسن ظفرعارف شہیدکوخراج عقیدت پیش کرنے کے لئے قرآن خوانی وفاتحہ خوانی کریں۔  الطا ف حسین  12 جنوری 2026ء

1/19/2026 12:05:50 AM