انسانی حقوق کی ممتاز وکیل ایمان مزاری ایڈوکیٹ اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ ایڈوکیٹ کی گرفتاری کے احکامات قابل مذمت ہیں
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ کی جانب سے انسانی حقوق کی ممتاز وکیل و سماجی کارکن ایمان مزاری ایڈوکیٹ اور ان کے شوہر ہادی علی چٹھہ ایڈوکیٹ کی گرفتاری کے احکامات تشویشناک ہیں۔
اختلافِ رائے کو جرم بنا دینا اور اظہارِ رائے کی آزادی کو دبانے کیلئے PECA جیسے قوانین کو انتقامی کارروائیوں کے لئے استعمال کیاجا رہا ہے جو نہ صرف جمہوری اقدار کے منافی ہے بلکہ آئینِ پاکستان میں درج بنیادی حقوق، منصفانہ سماعت (Fair Trial)اور قانونی تقاضوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
کسی بھی شہری کو قانون کے مطابق اپنے دفاع کا پورا حق حاصل ہے اور کارروائی کے دوران اسے حقِ صفائی، وکیل تک رسائی، شفافیت اور مناسب قانونی طریقہ کار کو نظر انداز کرنا انصاف کے تقاضوں سے متصادم ہے۔میں یہ مطالبہ کرتاہوں کہ ایمان مزاری اور ایڈووکیٹ اور ہادی علی چٹھہ ایڈوکیٹ کومنصفانہ سماعت اور مکمل قانونی تحفظ فراہم کیا جائے اورانہیں انتقام کا نشانہ بنانے کاسلسلہ بند کیاجائے۔