Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

فوج کے جرنیلوں اور کورکمانڈروں سے درخواست ہےکہ سندھ سیکریٹریٹ کادورہ کرکے دیکھیں کہ وہاں کتنے مہاجر افسران ہیں اور خود بتائیں کہ مہاجروں کے ساتھ ظلم ہورہا ہے یا نہیں؟


فوج کے جرنیلوں اور کورکمانڈروں سے درخواست ہےکہ سندھ سیکریٹریٹ کادورہ کرکے دیکھیں کہ وہاں کتنے مہاجر افسران ہیں اور خود بتائیں کہ مہاجروں کے ساتھ ظلم ہورہا ہے یا نہیں؟
 Posted on: 11/30/2025

 فوج کے جرنیلوں اورکورکمانڈر وں سے درخواست ہے کہ سندھ سیکریٹریٹ کادورہ کر کے دیکھیں کہ وہاں کتنے مہاجرافسران ہیں اور خود بتائیں کہ مہاجروں کے ساتھ ظلم ہورہا ہے یا نہیں؟
…………………………………

یہ قانون قدرت ہے کہ محبت سے محبت جنم لیتی ہے اورنفرت سے نفرت جنم لیتی ہے ، عصبیت سے عصبیت پیدا ہوتی ہے، تعصب سے تعصب پیدا ہوتا ہے، لسانیت سے لسانیت جنم لیتی ہے اورنسل پرستی سے نسل پرستی جنم لیتی ہے، ظلم سے ظلم جنم لیتا ہے، نفرت سے محبت کا جنم لینا قانون قدرت کے خلاف ہے۔ 
پاکستان بنانے والے مہاجروں کے ساتھ زندگی کے ہرشعبے میں تعصب برتا گیا، ہم پرلسانی سیاست کا الزام لگایا جاتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ مہاجروں کے ساتھ لسانیت کی بنیاد پرمتعصبانہ سلوک کیا گیا ۔ جنرل ایوب خان کے زمانے میں سول سروسز سے مہاجربیوروکریٹس کوچن چن کرنکالا گیا، پھرجنرل یحییٰ خان اور ذوالفقار علی بھٹوکے زمانے میں بھی بیوروکریسی سے مہاجروں کونکالا گیا، ذوالفقارعلی بھٹوکے دورحکومت میں دیہی اور شہری کی بنیاد پر کوٹہ سسٹم نافذ کرکے کراچی ، حیدرآباد، سکھرکے شہریوں پر سرکاری ملازمتوں کے لئے پابندی عائد کردی گئی اورسرکاری اشتہارات میں باقاعدہ یہ لکھا ہوتا کہ کراچی ، حیدرآباد اورسکھرسے تعلق رکھنے والے ملازمتوں کیلئے درخواست نہ دیں۔ کیا کراچی، حیدرآباد اور سکھر کے شہری انسان نہیں؟ کیا وہ پاکستانی نہیں؟
 میں کراچی یونیورسٹی میں داخلہ لینے گیا تووہاں پنجابی ، پختون، سندھی ،بلوچ،کشمیری تمام قومیتوں کے طلبہ کی تنظیمیں پہلے سے موجود تھیں جواپنی قومیت، اپنی زبان اورشناخت کی بات کررہی تھیں، یہ دیکھ کر میرا یہ سوچنا فطری تھا کہ ہماری لسانی شناخت کیا ہے؟ ہماری قوم کیاہے؟ ہم کس لسانیت سے اپنارشتہ جوڑیں۔ لوگ کہتے ہیں کہ آپ سندھ میں رہتے ہیں توسندھی بن کررہیں لیکن ہمیں سندھی بھی تسلیم نہیں کیا گیا، ہمیں تلیر، مکڑ، مٹروااورطرح طرح کے توہین آمیز ناموں سے پکارا گیا،اس نفرت ، عصبیت اور متعصبانہ سلوک کے نتیجے میں ہم نے مہاجرشناخت اپنالی اوراپنے آپ کومہاجرکہلانا شروع کردیا تو سب کواس مہاجرشناخت سے چڑہوگئی۔ اب ہم سے کہا جاتا ہے کہ آپ خود کومہاجرنہ کہلائیں۔ کیایہ انصاف ہے کہ آپ اپنی شناخت پرتو فخرکریں اورمجھ سے میری شناخت چھینیں، یہ کیسے ہوسکتاہے؟
مہاجر اپنے حقوق کی بات کریں توحقوق دینے کے بجائے ان پرنفرت اور تقسیم کی بات کرنے کا بہتان لگایا جاتا ہے۔نفرت اور تقسیم کی بنیاد توبھٹونے کوٹہ سسٹم کی شکل میں رکھ دی تھی ۔ میں تمام پنجابی، پختون ، بلوچ ، سرائیکی ، کشمیری اورتمام غیرسندھیوں سے کہتاہوں کہ وہ سندھ سیکریٹریٹ جاکردیکھیں، انہیں وہاں ایک بھی مہاجر افسر نظرنہیں آئے گا۔پھروہ خود فیصلہ کریں کہ مہاجرنفرت کی بات کررہے ہیں یاان کے ساتھ نفرت کی جارہی ہے۔ پھر کہتے ہیں کہ سندھی بن جاؤ، آپ ایک ہاتھ سے تالی بجانا چاہتے ہیں۔
 پاکستان کی فوج نے کتنے مارشل لاء لگائے لیکن کوئی بھی جرنیل کوٹہ سسٹم اور مہاجروں کے ساتھ کی جانے والی ناانصافیوں کوکیوں ختم نہیں کراسکا؟ فوج کے جرنیلوں اورکورکمانڈروں سے میری درخواست ہے کہ آپ ایک وفد کی شکل میں سندھ سیکریٹریٹ کا دورہ کریں،دیکھیں کہ وہاں کتنے مہاجرافسران ہیں اور خود بتائیں کہ مہاجروں کے ساتھ ظلم ہورہا ہے یانہیں؟آپ خود دیکھیں کہ کراچی میں کمشنر، ڈپٹی کمشنر،ڈی آئی جی، ایس ایس پیز، ایس پیز اور ایس ایچ اوزمیں سے کتنے مہاجر ہیں۔اسی طرح دیگرصوبائی محکموں میں کتنے افسران مہاجر ہیں اورخود فیصلہ کریں کہ مہاجروں کے ساتھ حق تلفیاں ہورہی ہیں یانہیں؟ 
میں تومتحدہ قومی موومنٹ کانظریہ لیکرسندھ کے ہاریوں، پورے ملک سے غریب کسانوں ، مزدوروں ، محنت کشوں اورتمام مظلوموں کے حقوق کے لئے نکلا تھا لیکن پورے ملک میں میرے راستے بند کردیے گئے۔ میں جاگیردارانہ نظام کے خلا ف تھا، آج بھی ہوں،میں کہتاہوں کہ آپ غریب ہاریوں ، کسانوں کے بچوں کوتعلیم دیں لیکن سندھ کے ظالم جاگیرداراندرون سندھ اسکول نہیں کھلنے دیتے، جب ایم کیوایم کوموقع ملا اوروہ 1990ء میں سندھ میں مخلوط حکومت میں آئی تو اس نے دیہی سندھ میں نئے اسکول قائم کرنے کے ساتھ ساتھ ان اسکولوں کوبھی وڈیروں سے واگزارکرایا جنہیں وڈیروں نے بھینسوں کے باڑوں اوراپنی اوطاقوں میں تبدیل کردیا تھا لیکن جب ایم کیوایم حکومت سے باہر آئی تو سندھ کے وڈیروں نے ان اسکولوں کودوبارہ بھینسوں کے باڑوں اوراوطاقوں میں تبدیل کردیا۔
 الطاف حسین غریب سندھی، بلوچ، پشتون، پنجابی ، سرائیکی، کشمیری، گلگتی  بلتستانی ا ورہرمظلوم کاساتھی ہے۔ الطاف حسین صرف مہاجروں کے لئے نہیں بلکہ تمام مظلوم قوموں کیلئے مساوی حقوق چاہتا ہے ۔
میں مسلح افواج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر، تمام کورکمانڈرز اورآپریشنل کمانڈروں سے کہتاہوں کہ پاکستان کواس وقت محبت کی ضرورت ہے، مظلوم قوموں کے زخمو ں پرمرہم رکھنے کی ضرورت ہے ۔ خدا کے لئے سب کے ساتھ انصاف کیجئے، تمام لاپتہ افرادکوبازیاب کیجئے، الطاف حسین کے فارمولے پر عمل کیجئے،ملک سے جاگیردارانہ نظام اورکرپشن کا نظام ختم کردیں، یہ پاکستان اپنے پیروں پر کبھی کھڑا  نہیں ہوگااگرملک سے فرسودہ جاگیردارانہ ، وڈیرانہ اور سردارانہ نظام کا خاتمہ نہیں ہوگا۔ 

الطاف حسین
ٹک ٹاک پر 354 ویں فکری نشست سے خطاب
29  نومبر 2025ئ



11/30/2025 2:56:47 PM