Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

جہاں ظلم وبربریت کاراج ہو،آئین و قانون کے پرخچے اڑادیے جائیں،کیا ایسے ملک کواسلامی یا جمہوری ملک کہا جاسکتا ہے؟


 جہاں ظلم وبربریت کاراج ہو،آئین و قانون کے پرخچے اڑادیے جائیں،کیا ایسے ملک کواسلامی یا جمہوری ملک کہا جاسکتا ہے؟
 Posted on: 10/26/2026

جہاں ظلم وبربریت کاراج ہو،آئین و قانون کے پرخچے اڑادیے جائیں،کیا ایسے ملک کواسلامی یا جمہوری ملک کہا جاسکتا ہے؟
………………………………………………………………………………
پاکستان کانام ” اسلامی جمہوریہ پاکستان“ ہے،اسلام میں انسان کی زندگی اورانسانی حرمت کادرس دیا جاتا ہے، قرآن مجید میں ہے کہ ایک انسان کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے۔ پاکستان میں صورتحال یہ ہے کہ شہریوں کے ساتھ کھلی کھلی زیادتیاں کی جارہی ہیں کہ جس کسی کے گھرپرچھاپہ مارنا ہو، چھاپہ مارو، جس کوبھی گھرسے اٹھانا چاہو اٹھالواوراگروہ گھرپر نہ ملے تو اس کے بھائی، بیٹے یا بزرگ والد کو اٹھالو، چادر و چار دیواری کا تقدس پامال کرو، اس کے گھرکی خواتین کی بے حرمتی کرو۔کیا قرآن مجید کی کسی آیت مبارکہ، کسی حدیث مبارکہ یااسلامی تعلیمات میں کہیں کوئی ایسادرس ہے کہ کسی بھی مطلوبہ شخص کے گھر کے دروازے توڑکرگھرمیں داخل ہو، گھرمیں تلاشی کے نام پر توڑپھوڑکرو،مطلوبہ شخص نہ ملے تواس کے بے گناہ گھر والوں کے ساتھ ایسا ظلم کیا جائے؟ پاکستان کواسلامی ملک کہا جاتا ہے لیکن پاکستان کے تمام شہروں میں اس قسم کی زیادتیوں کے واقعات روز مرہ کامعمول ہیں۔ جہاں بغیروارنٹ گھروں میں چھاپوں کے نام پر یہ زیادتیاں کی جائیں، ظلم وبربریت کاراج قائم ہو، عوامی مینڈیٹ کااحترام نہ کیا جائے، قانون کے پرخچے اڑادیے جائیں، توکیا ایسے ملک کواسلامی یا جمہوری ملک کیسے کہا جاسکتا ہے؟ اگرکوئی ملک اسلامی ہوتو وہاں ریاست کے عام شہری کی بھی اتنی ہی عزت ہوتی ہے جتنی ریاست کے امیرکی ہوتی ہے۔ قانون کی نظرمیں ریاست کاامیراورعام شہری برابرہیں۔
حکمرانوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ریاست کے شہریوں کے حقوق کااحترام کریں، خلیفہ راشد حضرت عمر فاروق  ؓ نے فرمایا تھا کہ ” اگرنہرِ فرات پرکوئی کتا بھی بھوکا ہوتا اس کی ذمہ داری مجھ پر ہے“۔ لیکن ہمارے ملک میں ریاست کے حکمرانوں کا طرزعمل اس کے صریحاً برخلاف ہے۔ ہمارے ہاں انصاف نہیں ہے۔
میرے بڑے بھائی ناصر حسین اوربھتیجے عارف حسین کوپولیس اوررینجرز نے گھرسے گرفتارکر کے تین روز تک تشددکانشانہ بنانے کے بعدکراچی کے علاقے گڈاپ میں لے جا کربیدردی سے دونوں کوشہید کردیا، وہ ایم کیوایم کے کارکن نہیں تھے، ان کاسیاست سے کوئی تعلق نہیں تھا، اسی طرح میرے بہنوئی اسلم ابراہانی کوگرفتارکرکے ان پر تشدد کیا گیا،انہیں کئی ماہ تک اڈیالہ جیل میں رکھ کراذیتیں دی گئیں، انہیں بھی شہید کردیاگیا۔ میرے بھائی اوربھتیجے کا کیا قصورتھا؟ ان کے ماورائے عدالت قتل کی کوئی تحقیقات نہیں ہوئی۔
اسی طرح ایم کیوایم کے بزرگ رہنماجنہوں نے کراچی یونیورسٹی کے شعبہ فلاسفی کے پروفیسر کی حیثیت سے 40 تک ہزاروں طلبہ کوفلسفہ کی تعلیم دی وہ ایم کیوایم میں شامل ہوئے اور22  اگست 2016ء کے بعد جب انہوں نے مجھ سے لاتعلقی کرنے سے انکارکردیااورایم کیوایم کی نئی رابطہ کمیٹی میں شامل ہوئے توانہیں بھی پہلے گرفتارکرکے کئی ماہ تک قیدمیں رکھا گیا، جب وہ ضمانت پررہا ہوئے تو13جنوری 2018ء کوانہیں اغواکرنے کے بعد تشدد کرکے شہید کردیا گیا اوران کی لاش کراچی کے ساحلی علاقے ابراہیم حیدری میں پھینک دی۔ آخرڈاکٹرحسن ظفر عارف شہید کا کیا قصورتھا؟ 
قرآن مجید میں جگہ جگہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرمارہاہے کہ، اللہ ظلم کوناپسند فرماتا ہے، اللہ ظالموں کے اعمال سے غافل نہیں، ظالموں کاانجام بھیانک ہوگا، ظالموں کی طرف نہ جھکو ورنہ تمہیں بھی دوزخ کی آگ چھولے گی۔ 
اسی طرح نبی آخرالزماں حضرت محمدمصطفےٰ  ﷺ کی مختلف احادیث مبارکہ میں بھی ظلم اورظالموں کی مذمت کی گئی ہے اورایک حدیث میں یہاں تک فرمایاہے کہ ظلم سے بچو کیونکہ ظالم قیامت کے دن تاریکیوں کا باعث بنے گا۔
ہم اپنے آپ کومسلمان کہتے ہیں، قرآن مجید، اللہ کی وحدانیت پرایمان رکھتے ہیں اورحضرت محمدمصطفےٰ  ﷺ کواللہ کاآخری نبی مانتے ہیں لیکن پاکستان میں جوظلم ہورہاہے اسے دیکھ کرخاموش رہتے ہیں، ظلم کو قوم سے چھپانے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن آج کے جدید ڈیجیٹل دور میں آپ کسی بھی جگہ ہونے والے ظلم کو چھپا نہیں سکتے، وہ زمانے گئے جب ظالم وجابر فرعون، شداد، نمرود، ہامان عوام پر ظلم کیا کرتے تھے اورکسی کو پتہ نہیں چلتا تھا۔ آج جگہ جگہ کلوز سرکٹ ٹی وی کیمرے (CCTV) لگے ہوتے ہیں، ہرفرد کے کیمرے والے موبائیل فون ہیں اور جو خبر اخبارات یا ٹی وی چینلز پر شائع یا نشر نہیں ہوتی وہ سوشل میڈیا پر آجاتی ہے۔ 
حال ہی میں بلوچستان میں سیکوریٹی فورسز کے ایک خالی کیمپ پر بلوچ مزاحمت کاروں کے حملے کی خبرآئی اور کہا گیا کہ پاکستانی فوج نے ایک خاتون سمیت 9 حملہ آوروں کو ہلاک کرڈالاجبکہ سوشل میڈیا پر اس واقعے کے حوالے سے وڈیوفلم گردش کررہی ہے جس میں دکھایا گیا ہے کہ مزاحمت کاروں اورفوج کے درمیان فائرنگ ہورہی ہے۔ 
صوبہ پنجاب میں جولوگ موجودہ حکومت کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں ان کے گھروں پر چھاپوں اوراس دوران اہل خانہ سے بدسلوکی کے واقعات کی وڈیوز سامنے آتی رہی ہیں، حکومتی مظالم اوربدسلوکی سے متاثرہ لوگوں کو جہاں موقع ملا وہ امریکہ، کینیڈا، برطانیہ اورمغربی ممالک چلے گئے۔ آج حکومت اور ریاست کے ظالمانہ اقدامات کے باعث لوگوں کے پاس دوہی راستے بچے ہیں کہ وہ یاتو جیل میں قید کردیئے جائیں یاجلاوطن ہوجائیں۔ صوبہ پنجاب اور کشمیر کے لوگوں کی بہت بڑی تعداد اپنی جان بچانے کیلئے ہجرت کرگئے،وہاں انہوں نے امریکہ، کینیڈا، برطانیہ اورمغربی ممالک کے شہریوں کے ساتھ مل کر ریاستی مظالم کے خلاف احتجاجی جلسے جلوس کئے تو ان کی وڈیوبناکر نادرا مظاہرین کاریکارڈ نکالا گیا، پاکستان میں ان کے گھروں پر چھاپے مارے گئے، ان کے اہل خانہ کو ہراساں کیا گیا اور گرفتارکیا گیا۔ قرآن مجید یااحادیث مبارکہ میں کہاں لکھا ہے کہ جومطلوب فرد نہ ملے ا س کے والد یا بھائیوں کو گرفتارکرلیا جائے؟
 خیبرپختونخوا میں دو تہائی اکثریت رکھنے والی منتخب حکومت کے خاتمہ اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی، اسپیکر اسمبلی بابرسلیم سواتی کواغواء کرنے کا عمل کس اسلامی اورجمہوری قوانین کے تحت کیا گیا؟ اس عمل پر اعتراض کرنے والے یوٹیوبرز کی جانب سے کہا جاتا رہا کہ اگروزیراعلیٰ سہیل آفریدی کوبرطرف کرکے صوبے میں گورنرراج یا ایمرجنسی نافذ کی گئی تو قیامت آجائے گی لیکن جب یہ غیرقانونی اورغیرجمہوری عمل کیا گیا تو بلندوبانگ دعوے کرنے والوں کی جانب سے کچھ بھی نہ ہوا۔آخر لوگ اپنے گھروں سے کیوں باہرنہیں نکلے؟ اگرپی ٹی آئی کے کارکنان عمران خان سے محبت کا دعویٰ کرتے ہیں تو انہیں عمران خان کے نظریئے کیلئے قربانی دینے کیلئے تیار رہنا چاہیے۔ 
 الطاف حسین پاکستان کو اس وقت تک اسلامی جمہوریہ پاکستان نہیں کہے گا جب تک ملک کواسلامی اور جمہوری اصولوں کے مطابق نہ چلایاجائے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہ کا قول ہے کہ کفرکی حکومت چل سکتی ہے مگر ظلم کی حکومت نہیں چل سکتی۔ 
پاکستان میں عوام پر اس قدرظلم ہورہا ہے لیکن کسی مفتی، کسی عالم،کسی گدہ نشین یاعلماء کے کسی بھی گروہ نے اس ظلم کے خلاف آواز نہیں اٹھائی، کسی نے ظلم کوظلم نہیں کہا، انہیں اپنے جبہ، عمامے اوردستارکی لاج رکھتے ہوئے ظلم کوظلم کہناچاہیے۔
میں پوچھتا ہوں کہ میرا قصورکیا تھا، میراگناہ یہ ہے کہ میں نے حکمراں اشرافیہ طبقہ کے ظالمانہ جاگیردارانہ، وڈیرانہ سسٹم کے خلاف نہ صرف جہاد کیا بلکہ غریب اورمڈل کلاس نوجوانوں کواسمبلیوں میں بھیج کراس سسٹم کوتوڑا، میں نے پورے ملک سے اس کرپٹ سسٹم کوختم کرنے کی کوشش کی لیکن مجھ پر اورمیری تحریک پر ظلم وستم کے پہاڑ توڑے گئے،اگرمیں اس سسٹم کوبدل دیتا توآج پاکستان ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا ہوتا۔ میں ملک کودوفیصدمراعات یافتہ طبقہ کے قبضہ سے آزادکراناچاہتاہوں۔میں سمجھتاہوں کہ پاکستان کی بقاء اورسلامتی اسی میں ہے کہ ملک کاہرادارہ، ہرشخص اپنے ضمیراورملک کے ٓآئین اورقانون کے سامنے جوابدہ ہو،کوئی قانون سے بالاترنہ ہو۔

الطاف حسین
ٹک ٹاک پر490  ویں فکری نشست سے خطاب
24، اکتوبر2026ء


10/28/2026 1:20:13 PM