مجھے اسپتال میں اطلاع ملی کہ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں امام بارگاہ خدیجتہ الکبریٰ میں ایک خودکش حملہ ہوا جس پر مجھے بہت افسوس ہے۔ میں دعا کرتا ہوں کہ جولوگ اس خودکش حملے میں جاں بحق ہوئے اللہ تعالیٰ انہیں شہادت کا درجہ عطاکرے اورجوزخمی ہیں انہیں صحت کاملہ عطافرمائے۔
یہاں ایک بات قابل غور ہے کہ میں گزشتہ پچاس سالوں سے پاکستان کے حکمرانوں، اسٹیبلشمنٹ اورسیاسی ومذہبی جماعتوں سے یہی مطالبہ کرتارہا کہ امریکہ اورروس کی جنگ میں پاکستان کوملوث نہ کریں، بیرونی قوتوں کے مفاد کے لئے طالبان نہ بنائیں، انہیں ٹریننگ نہ دیں، اسلحہ نہ دیں، پیسہ نہ دیں، ان کی سرپرستی نہ کریں، کل کو یہی طالبان پاکستان کے لئے فرینکسٹائن مونسٹربن جائیں گے۔ افسوس کہ میری باتوں پر توجہ نہ دی گئی، آج میری کہی ہوئی ایک ایک بات سچ ثابت ہورہی ہے اوریہ مونسٹربن گئے ہیں اورہمیں ہی کھارہے ہیں۔ آج حکمراں، اسٹیبلشمنٹ انہیں ” فتنہ الخوارج“ کانام دے رہی ہے۔ کل تک آپ انہیں کھانا پینا، کپڑا، اسلحہ فراہم کرتے تھے اورانہیں اسلام کے مجاہد کہتے تھے آج وہ فتنہ الخوارج ہوگئے ہیں۔
کاش کہ میری بات پہلے سن لی جاتی،اس پر توجہ دی جاتی توآج پاکستان کویہ دن نہ دیکھنا پڑتے۔
میں تمام حکمرانوں اوراسٹیبلشمنٹ سے گزارش کرتاہوں کہ اب بھی وقت ہے کہ ہم آئندہ کی پالیسیاں اس طرح کی بنائیں کہ جس میں ہم خدارا مذہب کوبیچ میں نہ لائیں اورمعصوم عوام کومذہب کے نام پربیوقوف نہ بنائیں۔ میں مؤدبانہ گزارش کررہاہوں کہ خدارا مذہب کواپنے ذاتی یاگروہی مفادات کے لئے استعمال نہ کریں، اس میں نہ پاکستان کی بھلائی ہے، نہ اسلام کی کوئی خدمت ہے۔ ہم پہلے ہی انہی مذہبی گتھیوں اورالجھنوں میں الجھ کراس طرح رہ گئے ہیں کہ آج ہماری داد فریاد سننے والاکوئی نہیں ہے اورہمارے معصوم وبے گناہ لوگ مارے جارہے ہیں۔
میں دعا کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ پاکستان کے حکمرانوں اوراسٹیبلشمنٹ کو پاکستان کے مفادمیں سوچنے سمجھنے کی طاقت عطافرمائے اورہم پاکستان کودوسرے ممالک کے مفادات کی جنگ کا ایندھن نہ بنائیں ……ایندھن نہ بنائیں ……ایندھن نہ بنائیں۔
الطاف حسین
ترلائی خودکش حملے پر اسپتال سے بیان
6 فروری 2026ء