Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

تعصب الطاف حسین نے کیا یا الطاف حسین کے ساتھ تعصب کیاجاتارہا ہے؟


تعصب الطاف حسین نے کیا یا الطاف حسین کے ساتھ تعصب کیاجاتارہا ہے؟
 Posted on: 1/4/2026 1

تعصب الطاف حسین نے کیا یا الطاف حسین کے ساتھ تعصب کیاجاتارہا ہے؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ضرورت انسان کو محنت مشقت کے کام کرنے پر مجبور کرتی ہے، انسان سرچھپانے کیلئے گھر تعمیرکراتا ہے اور اس دوران گھرکی تعمیرمیں استعمال ہونے والی سیمنٹ، بجری، اینٹ، سریا اوردیگر اشیاء کو چوری ہونے سے بچانے کیلئے دن رات ان کی حفاظت کرتا ہے۔ جب مختلف مراحل سے گزرکر مکان تیار ہوجائے اور کوئی اس مکان پر قبضہ کرلے تو گھرکے مالک کے کیاجذبات ہوں گے؟ Indigenous باشندے: "Indigenous" ان قدیم باشندوں کوکہاجاتا ہے جو نسل درنسل کسی علاقے میں رہتے چلے آرہے ہوں۔ یعنی دیسی، مقامی، فطری، ملکی، وطنی یااصل باشندہ جونسل درنسل کسی خطے، ملک اورعلاقے میں رہتا چلاآرہا ہو۔  ہجرت کی تاریخ: 1947ء میں قیام پاکستان کے بعدہندوستان سے انسانی تاریخ کی سب سے بڑی ہجرت ہوئی لیکن ہجرت کی داستانیں نصاب کا حصہ نہیں بنائی گئیں، پاکستان صوبہ پنجاب، صوبہ سرحد، صوبہ بلوچستان اورصوبہ سندھ میں بنا۔یہاں نسل درنسل رہنے والوں کو اپنا گھربنانے کی ضرورت نہیں تھی لیکن 1947ء میں ہندوستان سے اپنے گھر بارچھوڑکر پاکستان ہجرت کرنے والے مہاجروں کواپنا مکان بنانا پڑا۔ مہاجرخانہ بدوش نہیں تھے اورانہوں نے ہندوستان کے جن علاقوں سے ہجرت کی تھی وہاں ان کے بڑے بڑے گھر تھے، جاگیریں، جائیدادیں، حویلیاں اورمکانات تھے۔ جب ہندوستان میں ایک سازش کے تحت فسادات کرائے تھے تو سینکڑوں ہزاروں سال سے برصغیرکے مسلم اقلیتی صوبوں میں رہنے والے مسلمانوں نے پاکستان کیلئے اپنے گھربارچھوڑدیئے۔ لوگ کہتے ہیں کہ جن علاقوں میں فسادات پھوٹ پڑے وہاں ہندوؤں کو یہ اجازت دی گئی کہ آپ جس گھرپر چاہیں قبضہ کرلیں، مرد، عورتوں اوربچوں کو قتل کردیں حتیٰ کہ حاملہ خواتین کے پیٹ چاک کرکے نوزائیدہ بچوں تک کا قتل کرڈالیں۔ یہ تاریخی حقائق ہیں کہ جب مہاجروں کے لٹے پٹے قافلے ہندوستان سے پنجاب پہنچے تو وہاں کے لوگوں کو یہ سبق پڑھایاگیا کہ مہاجروں کے قافلوں سے کہاجائے کہ یہ پاکستان نہیں ہے، پاکستان آگے ہے، اس طرح چلتے چلتے مہاجروں کی اکثریت سندھ میں آباد ہوگئی۔ مہاجرگھرانے جو کئی کمروں پر مشتمل حویلیوں میں رہا کرتے تھے ہجرت کے بعد انہیں جھگیوں میں زندگی گزارنی پڑی اور پھر آہستہ آہستہ آبادیاں بنائی گئیں اور مہاجروں کو مکانوں میں منتقل کیاگیا۔  2004ء میں،میں نے انڈیامیں ہندوستان ٹائمز کے زیراہتمام منعقد کی جانے والی انٹرنیشنل کانفرنس میں شرکت کی اور وہاں اپنی تقریر میں کہاتھا کہ”برصغیرکی تقسیم انسانی تاریخ کی سب سے بڑی غلطی ہے“۔ میں آج بھی اپنی اس بات پر قائم ہوں کہ برصغیرکی تقسیم بھیانک تھی اس کے نتیجے میں ہونے والی اتنی بڑی ہجرت کہیں نہیں ہوئی۔   دوقومی نظریہ یاایک دھوکہ: برصغیرکے مسلمانوں کو پہلا دھوکہ یہ دیا گیا کہ مسلمان اور ہندو الگ الگ قومیں ہیں،وہ ایک ساتھ نہیں رہ سکتے لہٰذا برصغیر کے دس کروڑمسلمانوں کے لئے ایک الگ وطن ہوناچاہیے۔ اب میرا سوال ہے کہ کیاپاکستان، ہندوستان کے تمام مسلمانوں کا وطن بن سکا؟کیادوقومی نظریئے کے تحت وجود میں آنے والا پاکستان برصغیرکے 10 کروڑ مسلمانوں کا مسکن بن سکا؟ اگرنہیں بن سکاتو کیادوقومی نظریہ باطل ثابت نہیں ہوگیا؟ اگر برصغیرمیں دوقومیں ہی تھیں اوردوقومی نظریہ کی بنیاد پر پاکستان قائم کیاگیاتھا تو پھر1971ء میں بنگالی قوم دنیا کے نقشے پرکیسے ابھرکرسامنے آگئی؟ اگر دوقومی نظریہ درست تھا تو باقاعدہ ایک آرڈیننس کے تحت 1953ء میں یہ قانون کیوں نکالاگیا کہ اب ہندوستان کا کوئی مسلمان پاکستان نہیں آسکتا؟ اس آرڈیننس کے تحت ہندوستان کے مسلمانوں پر پاکستان کی سرحدیں بند کرنے کے عمل سے کیادوقومی نظریہ دھوکہ اورفراڈ ثابت نہیں ہوا؟  میں اس موضوع پر ہزاروں لیکچر دے چکاہوں اور میں تمام مؤرخین، تاریخ دانوں اور دانشوروں کوچیلنچ کرتاہوں کہ وہ دوقومی نظریہ پر مجھ سے مباحثہ کرلیں۔ میں نے جب بھی کوئی مذہبی مسئلہ بیان کیاتومیں تمام علمائے کرام کوچیلنج کرتا رہاہوں کہ اگرمیری بات غلط ہے تو دلائل سے ثابت کریں اگر وہ مجھے غلط ثابت کردیں تومیں ان کی شاگردی اختیارکرلوں گا۔ ایم کیوایم اورالطاف حسین سے نفرت کیوں؟  1978ء سے میرا یہی مؤقف ہے کہ پاکستان دوفیصہ اشرافیہ کا نہیں ہے بلکہ 98 فیصدغریب عوام کا ملک ہے، یہاں چند خاندان حکمرانی کیوں کررہے ہیں؟ منتخب ایوانوں میں دوفیصد اشرافیہ قابض ہے اور ان میں غریبوں کو نمائندگی کی کیوں نہیں دی جاتی۔ شروع دن سے ہی میری فلاسفی ہے کہ پاکستان سے فرسودہ جاگیردارانہ، وڈیرانہ اور سردارانہ نظام ختم کیاجائے اور ملک میں سچی جمہوریت نافذ کی جائے کیونکہ جب تک پاکستان سے کرپٹ اور فرسودہ فیوڈل سسٹم ختم نہیں کیاجائے گا تب تک پاکستان غیرملکی بھیک اورخیرات پر چلتا رہے گا اور کبھی بھی اپنے پیروں پر کھڑانہیں ہوگا۔ایک مقام آئے گا جب پاکستان دیوالیہ ہوجائے گا۔  میری باتیں سخت ضرور ہوتی ہیں لیکن سچائی پر مبنی ہوتی ہیں اور سچ ہمیشہ کڑوا ہوتا ہے۔کیایہ سچ نہیں کہ پاکستان کے سادہ لوح عوام کو یہ بھی دھوکہ دیاجاتاہے کہ پاکستان اللہ تعالیٰ نے بنایاتھا اور پاکستان تاقیامت قائم رہے گا۔ ایسی باتیں کرنے والے جواب دیں کہ 1947ء میں قائم ہونے والا پاکستان تاقیامت کہاں قائم رہا؟ کیا پاکستان اپنے قیام کے محض 25 سال بعد 1971ء میں دولخت نہیں ہوا؟  میری باتوں پرہمدردی سے غورکرنے کے بجائے ناقدین یہی کہتے ہیں کہ الطاف حسین نے22 اگست2016ء کو پاکستان مردہ باد کیوں کہہ دیاتھالیکن کوئی اس بات کاذکرنہیں کرتاکہ میں نے اسی رات اپنی غلطی کااحساس کرکے پوری قوم کے نام معافی نامہ لکھا، میں جنرل راحیل شریف اور جنرل قمرجاوید باجوہ کو بھی خطوط لکھ کرمعافی مانگی جوکہ ریکارڈ پر موجود ہیں لیکن میری معافی کوقبول نہیں کیا۔   عمران خان کی حمایت: میں گزشتہ ڈھائی برسوں سے تحریک انصاف کے بانی عمران خان کی حمایت میں آواز اٹھارہا ہوں، جس طرح میں نے کھل کرہرموقع پر عمران خان کی حمایت کی ہے اس طرح پاکستان کے کسی لیڈر نے آوازنہیں اٹھائی لیکن کیا میرے اس جذبے کو پی ٹی آئی کے لیڈروں کی جانب سے کبھی سراہاگیا؟ کیا پی ٹی آئی کے کسی لیڈر نے یہ کہاکہ الطاف حسین، عمران خان نے قومی اسمبلی کے فلور پرآپ کو ڈرون حملے میں قتل کرنے کی بات لیکن آپ پھربھی عمران خان کی حمایت کرکے اعلیٰ ظرفی کامظاہرہ کررہے ہیں۔   متعصب اینکرزکاکردار: بیرون ملک مقیم اینکرپرسنز، یوٹیوبرز اوروی لاگرز PTI کے کارکنوں کو بے وقوف بناکر کہتے رہے کہ عمران خان دوہفتے میں رہا ہونے والا ہے۔کیا ان میں سے کسی ایک نے بھی کہاکہ الطاف حسین مشکل وقت میں عمران خان کی حمایت کررہے ہیں اوریہ بڑے ظرف کی بات ہے؟  گزشتہ روز میں نے ان جلاوطن اینکرپرسنز اور یوٹیوبرز کے پروگرام دیکھے جس میں کہہ رہے تھے کہ ہم توفوج کے حامی ہیں، فوج ہماری ہے، پاکستان ہمارا ملک ہے اورہم نے توفوج کے خلاف کچھ نہیں کہا پھربھی ہمیں دودومرتبہ عمرقید کی سزا سنادی گئی ہے،آخرہم نے کیا کیا ہے؟ یہ یوٹیوبرز اپنے اوپراورپی ٹی آئی پرلگائے گئے الزامات پرکہتے ہیں کہ یہ الزامات غلط ہیں کیونکہ فوج نے لگائے ہیں لیکن فوج نے الطاف حسین اورایم کیوایم پر جوبھتہ خوری اور دہشت گردی کے الزامات لگائے وہ درست ہیں اورایم کیوایم والوں نے کچھ تو کیاہوگا۔ اب 9 مئی کے کیس میں ان یوٹیوبرز کو دہشت گردی کے الزامات میں عمرقید کی سزا سنائی گئی جس پراگر میں یہ کہوں کہ فوج نے غلط الزامات نہیں لگائے اوران یوٹیوبرز نے ”کچھ تو کیاہوگا“تو انہیں کیسا لگے گا؟ آج یہ رورہے ہیں کہ ہماری بہن کوہراساں کیاجارہاہے لیکن ان لوگوں نے کبھی یہ نہیں کہاکہ الطاف حسین کے بڑے بزرگ بھائی ناصرحسین اور28 سالہ بھتیجے عارف حسین کو گرفتارکرکے تین روز تک وحشیانہ تشدد کانشانہ بناکر قتل کردیاگیا، کلہاڑی سے وار کرکے بھتیجے کے سرکے دوٹکڑے کردیے تھے جوظلم ہے۔یہ یوٹیوبرز یہ کیوں نہیں کہتے کہ مہاجرنوجوانوں کو ماورائے عدالت قتل کیاگیااور ظلم کی انتہاء یہ ہے کہ مہاجرخواتین کو ان کے جنازے اٹھانے پڑے؟ اسکے بجائے یہ کہاجاتارہا کہ الطاف حسین نے کچھ تو کیاہوگا۔  بات صرف تعصب اورعصبیت کی ہے، ہم سے کہاجاتاہے کہ لسانیت کی سیاست نہ کریں لیکن الطاف حسین کے ساتھ تعصب اس لئے کیاجاتاہے کہ وہ مہاجرہے۔ ایم کیوایم اورالطاف حسین پر جھوٹے اورمن گھڑت الزامات کو خوب اچھالاجاتا ہے لیکن قوم کوایم کیوایم کے فلاحی پروگراموں کاذکرنہیں کیاجاتا۔ عوام کوکبھی نہیں بتایاجاتا کہ ایم کیوایم ملک کی واحد جماعت ہے جس نے تین روز تک مفت بازار لگاکربلاامتیاز وتفریق غریب عوام کی مدد کی۔ کراچی میں ہفتہ صفائی منایاجس میں الطاف حسین نے اپنے کارکنوں کے ساتھ مل کر پورے شہر کی صفائی کی، کچرے کے ڈھیر ختم کئے، فٹ پاتھوں پر رنگ وروغن کرکے شہرکوصاف ستھرا کیا۔ کوئی ایک جماعت کا نام بتایا جائے جس نے اس طرح کاعمل کیاہو؟ قوم کو کبھی بتایانہیں جاتا کہ غریبوں کروروزگارفراہم کرنے کیلئے ایم کیوایم نے سستے پھلوں کے اسٹال لگواکر دیئے، غریب بچیوں کی شادیاں کرائیں اورانہیں جہیز فراہم کیا، جب کشمیرمیں قیامت خیز زلزلہ آیا تو ایم کیوایم نے چھ ماہ تک امدادی سرگرمیاں جاری رکھیں، آزادکشمیر میں سہیلی سرکار کے مقام پر اسپتال لگایا،کیاکشمیرمیں مہاجررہتے تھے؟ ایم کیوایم نے لاہوراورملتان میں ایمبولینس سروس شروع کی۔ پنجاب میں سیلاب آیا تو ایم کیوایم نے امدادی کیمپ لگایا۔ان تمام ترفلاحی سرگرمیوں کے باوجود غریب پنجابیوں، پختونوں، بلوچوں اورسندھیوں کو یہی بتایاجاتارہاہے کہ ایم کیوایم دہشت گرد تنظیم ہے۔ میراسوال یہ ہے کہ کیا دہشت گرد تنظیمیں یہ فلاحی کام کرتی ہیں؟   اصل بات یہ ہے کہ جھوٹے الزامات اورمنفی پروپیگنڈے کرکے مجھے پنجابی، بلوچ، پختون، سرائیکی،کشمیری بھائیوں تک نہیں پہنچنے دیاگیاتاکہ میرا پیغام پاکستان کے غریب اورمظلوم عوام تک نہ پہنچ سکے،ایک منظم سازشی منصوبے کے تحت الطاف حسین اور ایم کیوایم کے مثبت اقدامات چھپائے جاتے رہے۔ میں پوچھتاہوں کہ تعصب الطاف حسین نے کیا یا الطاف حسین کے ساتھ تعصب کیاجاتارہا ہے؟ آج اگرامریکہ اورمغربی ممالک کی پالیسی یہ ہے کہ پاکستان کے حکمرانوں کی حمایت کی جائے،اس بنیادپروہ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کی یہ طاقت ہمیشہ رہے گی تو فرعون، نمرود، شداد اور ہامان بھی یہ سمجھتے تھے کہ وہی خدا ہیں اور ان کی سلطنت ہمیشہ قائم رہے گی لیکن ان کی سلطنتیں قائم نہیں رہیں، تاریخ میں ایسے سینکڑوں واقعات رقم ہیں۔یہ تاریخی کلیہ ہے کہ وقت اور حالات کے ساتھ ساتھ اپنے اپنے مفادات کے لئے طاقتوں کی ترجیحات بدلتی رہتی ہیں۔ میں نفرت او رتعصب کاخاتمہ چاہتاہوں۔ سب اپنی اپنی نسلی یالسانی شناخت پر قائم رہیں لیکن اس بنیادپر کسی سے نفرت اورتعصب نہ کریں، سب ہم وطنوں کی طرح رہیں۔انڈیا میں سینکڑوں زبانیں بولنے والے رہتے ہیں لیکن وہ اپنی نسلی اورلسانی شناخت کے باوجود اپنے انڈین ہونے پر فخر محسوس کرتے ہیں میں چاہتا تھااورآج بھی چاہتا ہوں کہ اسی طرح پاکستان کے عوام بھی اپنی علاقائی، نسلی اورلسانی شناخت کے باوجود اپنے پاکستانی ہونے پر فخر محسوس کریں اورسب کے ساتھ مساوی سلوک کیاجائے۔ الطاف حسین ٹک ٹاک پر 372 ویں فکری نشست سے خطاب 3، جنوری 2026ء

1/7/2026 3:49:55 PM