Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

سرکاری سرپرستی میں مذہبی انتہاپسند تنظیموں کو ملک پر مسلط کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔الطاف حسین


  سرکاری سرپرستی میں مذہبی انتہاپسند تنظیموں کو ملک پر مسلط کرنے  کی کوششیں کی جارہی ہیں۔الطاف حسین
 Posted on: 11/10/2021

 سرکاری سرپرستی میں مذہبی انتہاپسند تنظیموں کو ملک پر مسلط کرنے
 کی کوششیں کی جارہی ہیں۔الطاف حسین
 پاکستان معاشی طورپرمکمل تباہ ہوچکاہے ، حکومت، فوج، آئی ایس آئی اور اسٹیبلشمنٹ کی سمجھ میں کچھ نہیں آرہاہے کہ ملک کی بقاکیلئے کیاکریں
 فوج نے مذہبی جماعتوں کی سرپرستی کی، جہادی عسکریت پسندتنظیمیں تشکیل دیں
 ہمیں نہ TTP  کے اسلام کی ضرورت ہے نہ TLPکے اسلام کی 
 ہم ''لکم دینکم ولی الدین '' اور '' لااکراہ فی الدین '' پر یقین رکھتے ہیں
 وقت ہی انسان کو سمجھنے ،جانچنے اور پرکھنے کا سب سے بڑاپیمانہ ہوتاہے
 تحریک کے دفاترکھولنے کاحق انہی وفاپرستوں کاہے جنہیں الطاف حسین کا اعتماد حاصل ہوگا
 تحریک سے بے وفائی کرنے والے نائن زیروکے محافظ کیسے ہوسکتے ہیں
وفاپرست ساتھی آپس میں رابطوں کوبڑھائیں، اپنی صفوں کودرست کرلیں
 جرات وہمت کے ساتھ تحریکی کام کوبڑھانے کے لئے کمرکس لیں
 قائدتحریک الطاف حسین کا ایم کیوایم کے کارکنوں سے فون پر خطاب 

لندن  …  10 نومبر 2021ئ
متحدہ قومی موومنٹ کے قائدجناب الطاف حسین نے کہاکہ فوج نے ہی مذہبی جماعتوں کی سرپرستی کی،مذہبی جہادی عسکریت پسند تنظیمیں تشکیل دیں اور اب سرکاری سرپرستی میں انتہاپسندمذہبی تنظیموں کو ملک پر مسلط کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں اوراس کا سب سے بڑانشانہ کراچی کو بنایاجائے گا اورفوج کی پیداکردہ یہ مذہبی انتہاپسند تنظیمیں ایک مرتبہ پھر اسلام کے نام پر سندھ کے عوام خصوصاًمہاجرعوام کو بیوقوف بنانے کی کوشش کریںگی۔انہوں نے کہاکہ ہمیں نہ TTP کے اسلام کی ضرورت ہے نہ TLPکے اسلام کی ضرورت ہے ، ہم ''لکم دینکم ولی الدین '' اور '' لااکراہ فی الدین '' پر یقین رکھتے ہیں۔ جناب الطاف حسین نے ان خیالات کااظہار ایم کیوایم کے کارکنوں کے اجلاس سے فون پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اپنے خطاب میں انہوں نے پاکستان اور اوورسیزکے کارکنوں کوموجودہ صورتحال کے مختلف پہلوؤں سے آگاہ کیا  جناب الطاف حسین نے کہاکہ پاکستان معاشی طورپرمکمل تباہ ہوچکاہے ، حکومت، فوج، آئی ایس آئی اورسول ،ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی سمجھ میں کچھ نہیں آرہاہے کہ ملک کی بقاکے لئے کیاکریں۔ حکومت نے کل تک کہاتھا کہ تحریک لبیک کوبھارت سے فنڈنگ ہورہی ہے اوروہ دہشت گرد تنظیم ہے لیکن کل حکومت نے تحریک لبیک پر پابندی ختم کردی ہے ،اب اسے دفترقائم کرنے ،سیاست میں حصہ لینے، جلسے جلوس کرنے کی اجازت دیدی گئی، ٹی ایل پی پرسے کالعدم ہونے کاٹیگ ختم کردیاگیا، تحریک لبیک کے دھرنے اورمارچ کے دوران تشدد سے کئی پولیس اہلکار مارے گئے لیکن تحریک لبیک کے تما م گرفتارشدگان کورہاکردیاگیاہے جبکہ ایم کیوایم کے شہیدوں کے لواحقین ، مائیں بہنیں اپنے شہیدوں کی یادگار پر جانے کی کوشش کریں تورینجرزوالے ان پرگنیں تان لیتے ہیں، پولیس والے ان پر لاٹھی چارج کرتے ہیں ،گرفتاریاں کرتے ہیں اورظلم کی ساری حدیں پار کرلیتے ہیں۔ انہوںنے کہاکہ ایک طرف تحریک لبیک پر سے پابندی ختم کردی گئی ہے، دوسری جانب جے یو آئی کی تنظیم انصارالاسلام پر پابندی لگانے کااقدام بھی واپس لے لیاگیاہے اورآج حکومت کی جانب سے اعلان کیاگیاہے کہ تحریک طالبان پاکستان سے بھی حکومت کامعاہدہ ہوگیاہے،جس کے نتیجے میں طالبان نے ایک ماہ کے سیز فائز کااعلان کیاہے ۔ اس ساری صورتحال میں اب ایک اورکالعدم تنظیم سپاہ صحابہ نے بھی حکومت سے مطالبہ کیاہے کہ جب تحریک لبیک اور انصارالاسلام پر سے پابندی ختم کردی گئی ہے توان پر سے بھی پابندی ہٹا دی جائے وگرنہ وہ بھی احتجاج کریںگے۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ طالبان نے پاکستان میںدہشت گردی کا بازارگرم کیا،مسجدوں، امام بارگاہوں، بزرگان دین کے مزارات پر خودکش دھماکے کئے اور ہزاروں بے گناہ شہریوں کاقتل عام کیا۔ اے پی ایس کے بچوںکوشہید کیا، لڑکیوںکے اسکولوںکوتباہ کیا، آج حکومت اور اسٹیبلشمنٹ انہی طالبان سے معاہد ہ کررہی ہے۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ اسٹیبلشمنٹ نے ہی مذہبی جماعتوں کی سرپرستی کی،مذہبی جہادی عسکریت پسند تنظیمیں تشکیل دیں اور اب سرکاری سرپرستی میں انہیں ملک پر مسلط کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں اوراس کا سب سے بڑانشانہ کراچی کوبنایاجائے گاجہاں پہلے بھی ریاست کی سرپرستی میں طالبان اور کالعدم تنظیموںکے دفاترقائم کرائے گئے، انتخابات کے موقع پر بھی ان کو ریاست کی جانب سے سرپرستی فراہم کی گئی اور ایک شدت پسند مذہبی تنظیم کو سندھ اسمبلی میں نشستیں بھی دلوائی گئیں۔ اب فوج کی پیدا کردہ یہ مذہبی انتہاپسند تنظیمیں اسلام کے نام پر سندھ کے عوام کو پھر بیوقوف بنانے کی کوشش کریںگی۔انہوں نے کہاکہ ہمیں نہ TTP کے اسلام کی ضرورت ہے نہ TLPکے اسلام کی ضرورت ہے ، ہم ''لکم دینکم ولی الدین '' اور '' لااکراہ فی الدین '' پر یقین رکھتے ہیں۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ ایم کیوایم کے قیام سے قبل کراچی ، حیدرآباد اورسندھ کے شہری علاقوںکے عوام کوجماعت اسلامی اورجے یوپی اسلام کے نام پر اپنے سیاسی مفادات کیلئے استعمال کرتی تھیں، مہاجروںنے جماعت اسلامی اورجے یوپی کاساتھ دیالیکن ان مذہبی جماعتوں نے کوٹہ سسٹم اور مہاجروں کے ساتھ کی جانے والی انصافیوں اور حق تلفیوں کے خلاف کبھی کوئی آوازبلندنہیں کی ۔ ایم کیوایم سے قبل مہاجروں کی کوئی نمائندہ جماعت نہیں تھی،پاکستان میں مہاجروں کی کوئی آواز نہیں تھی، مہاجروں کی شناخت ا س وقت ہوئی جب 1987 میں پہلی مرتبہ مہاجر نوجوان کراچی اور حیدرآباد کی بلدیات میں پہنچے اور 1988ء میں پہلی مرتبہ قومی اورصوبائی اسمبلیوں میں کرتاپاجامہ پہنے پہنچے تو ملک کے لوگوں نےدیکھاکہ پاکستان میں مہاجرقوم بھی رہتی ہے۔ میں نے برسوں کی جدوجہدکے ذریعے مہاجروں کومتحد کرکے ایک طاقت اور ایم کیوایم کوپاکستان کی تیسری اورسندھ کی دوسری بڑی جماعت بنادیا لیکن تحریک کے غداروں نے میری ساری محنت پر پانی پھیردیا۔ آج مہاجروں کے ساتھ زندگی کے ہرشعبہ میں جومتعصبانہ اورنفرت انگیز سلوک کیاجارہاہے اس نے ماضی کے تمام تعصبات کوپیچھے چھوڑ دیاہے۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ کسی بھی چیز کوجانچنے کے کئی طریقے اور پیمانے ہوتے ہیں، بعض طبی کیفیات کوجانچنے کے لئے مختلف ٹیسٹ کئے جاتے ہیں۔ جس طرح جیولر سونے کی اصلیت کوپرکھنے کے لئے اسے کئی تجربات سے گزارکر بتاتا ہے کہ سوناخالص ہے یانہیں، اسی طرح ہرچیز کو تجربات سے گزارکرہی پرکھا جاتا ہے ۔ اسی طرح انسان کے کردار کو بھی اس کے سلوک اور اعمال سے پرکھاجاتاہے کہ وہ کس کردارکاحامل ہے ، وہ جھوٹاہے یا سچاہے، ایماندار ہے یابے ایمان ہے، باوفاہے یا بے وفا ہے۔لوگ وفاکے عہد کے کرتے ہیں،دعوے کرتے ہیں ، وفا کی قسمیںبھی کھاتے ہیں لیکن کون اپنی وفاپرقائم رہے گا، کون اپنے عہد کو نبھائے گا ، کون سچاہے اس کافیصلہ وقت کرتاہے ، وقت ہی انسان کو سمجھنے ، جانچنے اور پرکھنے کا سب سے بڑاپیمانہ ہوتاہے۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ ہماری تحریک میں بھی ذمہ داریوں پر فائز  لوگ جو سال میں کئی بار قرآن مجید پر ہاتھ رکھ کر وفاداری کی قسمیں کھاتے تھے، وفاداری کا عہد کرتے تھے وہ وقت پڑنے پر اپنی وفاپر قائم نہیں رہ سکے، انہوں نے اپنے عہدکو توڑا اور وفا کا سوداکرلیا۔ انہوں نے کہاکہ 11جون 1978ء کے بعد ہماری تحریک میں شامل افراد کئی بار فوج کے ہاتھوںبکے، انہوںنے کئی بار شہید وں کے لہو کا سودا کیا ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ فوج نے مجھے بھی کئی بار پیشکشیں کیں، مجھے بھی خریدنے کی کوشش کی گئی، مجھے بھی بنگلوں، جائیدادوں اورپیسوں کی پیشکشیں کی گئیں لیکن میں نے اپناسودا نہیں کیا، وہ فوجی جرنیل آج بھی زندہ ہیں جنہوں نے خود میڈیاپر اس بات کی گواہی دی کہ ہم الطاف حسین کے پاس پیسے لیکرگئے لیکن الطاف حسین نے پیسے لینے سے انکار کردیااوراپنے مقصد سے نہیں ہٹا۔اگرمیری جدوجہد اپنے مالی فائدے کیلئے ہوتی اور میں نے اپنے لئے جائیدادیں بنائی ہوتیں توآج میں لوگوں سے مالی عطیات کی اپیلیں نہ کررہاہوتا۔ کارکنان وعوام مجھے کتنا آزماچکے ہیں، اب اورکتناآزمائیںگے، کتنا پرکھیںگے کہ اصلی سونا کون ہے۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ موجودہ صورتحال کودیکھتے ہوئے بہادرآباد والے اب حکومت سے کہہ رہے ہیںکہ تحریک کامرکزاور تنظیم کے دیگر دفاتر ان کے حوالے کئے جائیں ۔ ان لوگوں کاتحریک کے دفاترپر کیاحق بنتاہے ۔ انہوں نے کہاکہ تحریک کے دفاترکھولنے کاحق انہی وفاپرستوں کاہے جنہیں الطاف حسین کا اعتماد حاصل ہوگا، جنہوں آپریشن کے مظالم جھیلے، روپوشی کاسامنا کیا، جیلیں کاٹیں، سختیاں برداشت کیں،نائن زیرو کھولنے کے حقدار اورمحافظ وہی وفاپرست ساتھی ہوسکتے ہیں، تحریک سے بے وفائی اور شہید وں کے لہو کا سوداکرنے والے نائن زیروکے محافظ کیسے ہوسکتے ہیں۔ تحریک کوکمزورکرکے دشمنوں کے ہاتھ مضبوط کرنے والے قوم کے منافق ہیںخواہ وہ پاکستان میں ہوںیاپاکستان سے باہر ہوں۔ جناب الطاف حسین نے کارکنوںسے کہاکہ موجودہ صورتحال میں تحریک کومنظم کرنے کے لئے رابطہ کمیٹی میں اضافہ کیاگیاہے اور سیکٹروں اورزونوں میں تنظیمی کام کومنظم کرنے کے لئے رابطہ کمیٹی کے ارکان کو ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں، تمام وفاپرست ساتھیوں کافرض ہے کہ وہ آپس میں رابطوں کوبڑھائیں، اپنی صفوں کودرست کرلیں اور جرات وہمت کے ساتھ تحریکی کام کوبڑھانے کے لئے کمرکس لیں۔ جناب الطاف حسین نے تمام ترمصائب ومشکلات اورکٹھن حالات کے باوجود ثابت قدمی اورمستقل مزاجی کے ساتھ تحریکی کام کرنے والے تمام وفاپرست ساتھیوںماؤںبہنوں،بزرگوںاوریوتھ کوسلام تحسین پیش کیا اوردعاکی کہ اللہ تعالیٰ آپ کا اورہم سب کاحامی وناصر ہو۔ 

٭٭٭٭٭



11/29/2021 8:38:19 AM