Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

فوج کو ایسا مقدس ادارہ بنادیا گیا ہے کہ اس کی شان میں گستاخی ناقابل معافی قرار دیدی گئی ہے۔ الطاف حسین


فوج کو ایسا مقدس ادارہ بنادیا گیا ہے کہ اس کی شان میں گستاخی ناقابل معافی قرار دیدی گئی ہے۔ الطاف حسین
 Posted on: 8/21/2016
فوج کو ایسا مقدس ادارہ بنادیا گیا ہے کہ اس کی شان میں گستاخی ناقابل معافی قرار دیدی گئی ہے۔ الطاف حسین
فوج اور رینجرز کو اپنی حدود میں رہ کر کام کرنا چاہیے اور سویلین حکومت کو اس کے دائرہ اختیار میں کام کرنے دیا جائے
حکومت سندھ ایم کیوایم کے خلاف آپریشن میں پولیس کو حصہ دار نہ بنائے اور پولیس کے ہاتھوں ہونے والی گرفتاریاں اور چھاپے بند کروائے۔ الطاف حسین 
ہمیں سندھ کیلئے ر ینجرزکی ضرورت نہیں ہے، ہم اپنے صوبے میں امن وامان کے مسئلے سے خود ہی نمٹ لیں گے، الطاف حسین
ایک طرف گریٹر پختونستان یا ’’افغانیہ ‘‘ وجود میں آرہا ہے، دوسری جانب ’’گریٹر بلوچستان‘‘ کی آوازیں اٹھ رہی ہیں۔ الطاف حسین
صوبہ سندھ ’’گریٹرپنجاب‘‘ کی کالونی بنالیا جائے گا، سندھ دھرتی کے ایک ایک فرد کو اس پر غور کرنا چاہیے۔ الطاف حسین
پیپلزپارٹی کے رہنماؤں کی جانب سے کراچی پریس کلب پر ایم کیوایم کے بھوک ہڑتالی کیمپ کے دورے کے موقع پر گفتگو
ہم سب اس دھرتی کے بیٹے ہیں اور ہمیں اس دھرتی کی بہتری اور پاکستان کی سلامتی کے لئے ملکرکوشش کرنا چاہیے۔ نثار کھوڑو
ہم آج یہاں اسلئے آئے ہیں تاکہ ہم مل کر بیٹھیں اور بہتری کے لئے کوئی راہ نکالیں۔ نثار کھوڑو
آپ کوئی ٹیم بنادیجئے جو وزیراعلیٰ سندھ کے ساتھ گفتگو کرکے مسئلے کا کوئی حل نکالیں۔ نثار کھوڑو کی قائد تحریک الطاف حسین سے درخواست
قائد تحریک الطاف حسین کی نثارکھوڑو کی تجویز پر آمادگی کا اظہار، رابطہ کمیٹی کو بات چیت کیلئے ٹیم تشکیل د ینے کی ہدایت
لندن ۔۔۔ 21 اگست 2016ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائدجناب الطاف حسین نے کہاہے کہ پاکستان میں بدقسمتی سے فوج کوایسامقدس ادارہ بنادیاگیاہے کہ اس کی شان میں گستاخی ناقابل معافی قراردیدی گئی ہے ۔ فوج اوررینجرزکواپنی حدودمیں رہ کرکام کرناچاہیے اورسویلین حکومت کواس کے دائرہ اختیار میں کام کرنے دیاجائے ۔ انہوں نے یہ بات اتوارکی شام پیپلزپارٹی کے رہنماؤں کی جانب سے کراچی پریس کلب پر ایم کیوایم کے تادم مرگ بھوک ہڑتالی کیمپ کے دورے کے موقع پر گفتگوکرتے ہوئے کہی۔ پیپلزپارٹی کے وفدمیں سینئررہنمانثارکھوڑو، راشدربانی ، سعیدغنی، مرتضیٰ وہاب، نجمی عالم، حبیب الدین جنیدی اوروقارمہدی شامل تھے۔اس موقع پر سندھ اسمبلی میں اپوزیشن لیڈرخواجہ اظہارالحسن اور رابطہ کمیٹی کے ارکان اورقومی وصوبائی اسمبلی کے ارکان بھی موجود تھے ۔ جناب الطاف حسین نے بھوک ہڑتالی کیمپ کے دورے پر پیپلز پارٹی کے رہنماؤں کاشکریہ اداکیا۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان میں ہمیشہ ہی فوج کابلاواسطہ یابلواسطہ تسلط رہاہے ،ذوالفقارعلی بھٹوجس نے پاکستان کو آئین دیا،جو 1971ء میں بھار تی فوج کے سامنے ہتھیارڈالنے والے ایک لاکھ پاکستانی فوجیوں کووطن واپس لایالیکن اس کا صلہ یہ دیا گیا کہ ایک انتہائی کمزوراورمتنازعہ مقدمہ میں عدالت سے پھانسی دلوادی گئی ، بھٹوکی پھانسی کاوہ فیصلہ غلط تھا لیکن وہ غلط فیصلہ کرنے والوں سے آج تک کوئی حساب نہیں لیاگیا۔جب بھٹوکوپھانسی دی گئی اس وقت بینظیر بھٹوبہت کم عمرتھیں، انہیں بھی گرفتار کیا گیا اور جیل میں ان کے ساتھ ظالمانہ سلوک کیاگیا۔بینظیرشہیدکواپنی والدہ کے ساتھ ملک چھوڑناپڑا ،جس وقت بھٹوکے گلے میں پھانسی کا پھندا ڈالاجارہا تھا اس وقت پیپلزپارٹی کے بڑے بڑے رہنماؤں کے گلے میں شادی کے ہارڈالے جارہے تھے، پیپلزپارٹی کے کارکنوں کو پھانسیاں دی گئیں، کوڑے مارے گئے، جب بینظیر بھٹو شہیدنے اپنے والدکے خواب کی تکمیل کیلئے جدوجہدکی توان کے شوہرآصف زرداری کو کرپشن کے مقدمے میں گیارہ سال کیلئے جیل میں ڈال دیا گیا اور پھر بی بی کوبھی راولپنڈی کے بھرے بازارمیں شہیدکردیاگیامگران کے قاتل آج تک آزاد ہیں۔انہوں نے کہاکہ ذوالفقارعلی بھٹوکوبھی فوجی اسٹیبلشمنٹ نے قتل کیا، بی بی کوبھی اسٹیبلشمنٹ نے شہیدکیا، مرتضیٰ بھٹو اور شاہنواز بھٹو کو بھی اسٹیبلشمنٹ نے قتل کیالیکن آج تک قاتلوں کوسزانہیں دی گئی ۔ انہوں نے کہاکہ پیپلزپارٹی کی قیادت کوسمجھناہوگاکہ ذوالفقارعلی بھٹو، بینظیربھٹو، شاہنوازبھٹواور مرتضیٰ بھٹو کے بعدکہیں ایسانہ ہوکہ کل آصف زرداری اوربلاول کانمبر آجائے ۔ جناب الطاف حسین نے کہا کہ انگریزوں کی ’’ لڑاؤ اورحکومت کرو ‘‘ کی پالیسی کے تحت سندھ میں اردو بولنے والوں اورسندھیوں کوآپس میں لڑایا گیا، انہیں ایک دوسرے کے خلاف بھڑکایا گیا اور ایک دوسرے کادشمن بنایاگیا،ان کے درمیان دوریاں پیداکی گئیں جوآج تک قائم ہیں۔ انہوں نے کہاکہ پیپلزپارٹی نے رینجرزکوکراچی میں آپریشن کی اجازت دی تاکہ مہاجرمرتے رہیں اورایم کیوایم کوکچلاجاتا رہے۔ کراچی آپریشن کے دوران کرپشن کے الزام میں ڈاکٹرعاصم کوگرفتارکرکے ان پر بے شمارجھوٹے مقدمات بنادیے گئے کیونکہ وہ مہاجر ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا پنجاب میں سارے آب زم زم سے نہائے ہوئے ہیں؟قوم کوبتایاگیاتھاکہ کالعدم تنظیموں کے جیٹ بلیک دہشت گردوں کے خلاف آپریشن ہوگا لیکن ان کے بجائے آپریشن صرف ایم کیوایم کے خلاف شروع کیاگیا جوآج تک جاری ہے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ اسٹیبلشمنٹ رینجرز کے ذریعے ایم کیوایم کے خلاف جوزیادتیاں کررہی ہے، حکومت سندھ اس میں پولیس کوحصہ دارنہ بنائے اورپولیس کے ہاتھوں ہونے والی گرفتاریاں اورچھاپے بندکروائے ، حکومت سندھ کوسمجھناچاہیے کہ آپریشن میں پولیس کوشریک کرناہمیں اورپیپلزپارٹی کولڑانے کی سازش ہے۔ جناب الطاف حسین نے پیپلزپارٹی کے رہنماؤں کومخاطب کرتے ہوئے کہاکہ ہمیں سندھ میں ایک ساتھ رہناہے، اگرہم اس ظلم کے خلاف نہ بولے توہم اورآپ غلام بنے رہیں گے،سندھ دھرتی ماں رورہی ہے، ہمیں اس کے حق کیلئے آواز اٹھانا ہوگی، اس کیلئے قربانی دینا ہوگی، ہمیں ملکروفاق سے بات کرناہوگی کہ ہمیں سندھ کیلئے ر ینجرزکی ضرورت نہیں ہے ، ہم اپنے صوبے میں امن وامان کے مسئلے سے خود ہی نمٹ لیں گے، وفاق اس سلسلے میں سندھ پرکوئی دباؤ نہ ڈالے اوراگروفاق اسی طرح سندھ پر دباؤڈالتارہے گاتوسندھ اپنی خودمختاری کیلئے آوازاٹھانے پرمجبورہوگا۔انہوں نے کہاکہ سندھ پاکستان کوچلاتاہے، پاکستان والوں کوسندھ کو اپنا غلام سمجھنے کے بجائے سندھ کااحسان مند ہونا چاہیے۔
جناب الطاف حسین نے ملکی وبین الاقوامی صورتحال پر اپناتجزیہ پیش کرتے ہوئے کہاکہ اس وقت پوری دنیاجغرافیائی لحاظ سے ری اسٹرکچرنگ کی طرف جارہی ہے، مستقبل میں نئے ممالک ابھریں گے، عراق ٹکڑوں میں بٹنے جارہاہے، پاکستان دنیامیں تنہاہوتاجارہاہے جبکہ خطے میں انڈیا، افغانستان، ایران سمیت کسی بھی ملک کے ساتھ پاکستان کے تعلقات اچھے نہیں ہیں۔چائناسے تعلقات پوری دنیا کو قابونہیں کرسکتے۔اس وقت پاکستان کے اطراف میں صورتحال سنگین ہوتی جارہی ہے۔ایک طرف گریٹرپختونستان یا’’افغانیہ ‘‘ وجودمیں آرہا ہے، جس کاصرف اعلان ہوناباقی ہے، دوسری جانب ’’ گریٹر بلوچستان‘‘ کی آوازیں اٹھ رہی ہیں۔ایسی صورتحال میں صوبہ سندھ ’’ گریٹرپنجاب ‘‘ کی کالونی بنا لیاجائے گا۔سندھ دھرتی کے ایک ایک فردکواس پر غورکرنا چاہیے۔ 
اس موقع پر پیپلزپارٹی کے رہنمانثارکھوڑو نے جناب الطا ف حسین سے گفتگوکرتے ہوئے کہاکہ مظلوم لوگوں کے لئے آپ نے بڑی جدوجہد کی ہے اور قربانیاں دی ہیں، ہم ان کااحترام کرتے ہیں، سندھ میں رہنے والے کوئی بھی زبان بولتے ہوں وہ سب سندھی ہیں، ہم سب اس دھرتی کے بیٹے ہیں اور ہمیں اس دھرتی کی بہتری اورپاکستان کی سلامتی کے لئے ملکرکوشش کرناچاہیے۔ہم آج یہاں اسلئے آئے ہیں تاکہ ہم مل کربیٹھیں اور بہتری کے لئے کوئی راہ نکالیں۔ انہوں نے جناب الطاف حسین سے درخواست کی کہ آپ ایم کیوایم کے ارکان کی کوئی ٹیم بنادیجئے جووزیراعلیٰ سندھ اورحکومت کے ارکان کے ساتھ مل کربیٹھیں اورگفتگوکرکے مسئلے کاکوئی حل نکالیں۔ جناب الطاف حسین نے نثار کھوڑو کی تجویزپرآمادگی ظاہر کرتے ہوئے رابطہ کمیٹی کوہدایت کی کہ وہ ایم کیوایم کے ارکان پر ٹیم تشکیل دیں اورکھل کربات کریں۔


تصاویر

12/3/2016 9:59:42 PM