Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

صوبے کے قیام کیلئے مزید قربانی دینی پڑے تو اس کیلئے بھی تیار ہیں، کسی بھی قیمت پر صوبہ ضرور بنائیں گے۔ الطاف حسین


 Posted on: 5/28/2016
صوبے کے قیام کیلئے مزید قربانی دینی پڑے تو اس کیلئے بھی تیار ہیں، کسی بھی قیمت پر صوبہ ضرور بنائیں گے۔ الطاف حسین
20 کروڑ عوام وینٹی لیٹر پر ہیں، گڈ گورننس کیلئے پاکستان میں نئے صوبوں کا قیام آکسیجن کی حیثیت رکھتا ہے
جب لسانی بنیاد پر چار صوبہ ہوسکتے ہیں تو پانجواں کیوں نہیں ہوسکتا؟
آج بھی مہاجروں کے ساتھ ملازمتوں کے معاملے میں ناانصافی کی جاتی ہے ، کوٹہ سسٹم کے نام پر ملازمتوں سے محروم رکھاجاتاہے
عوام بار بارایم کیوایم کومینڈیٹ دے رہے ہیں لیکن اسے تسلیم نہیں کیاجاتا
بلدیاتی انتخابات کاانعقادہوئے چھ ماہ سے زائد ہوچکے ہیں لیکن آج تک میئرڈپٹی میئر،ڈسٹرکٹ چیئرمین کاالیکشن نہیں ہونے دیاگیا
کراچی پورے ملک کوپال رہاہے لیکن آج کراچی پانی بجلی اور دیگر سہولیات سے محروم ہے 
کراچی کے عوام کوان کے حقوق کی جدوجہدسے روکنے کیلئے ایک منظم سازش کے تحت یہاں مذہبی انتہاپسندی کوپروان چڑھایا جارہا ہے 
ظلم وناانصافیوں اورحق تلفیوں کے خاتمے کیلئے سب اپناکردارادا کریں اور ایم کیوایم کے ہاتھ مضبوط کریں
نارتھ ناظم آبادریڈنس کمیٹی کے تحت منعقدہ تقریب کے شرکاء سے ٹیلی فونک خطاب
لندن۔۔۔29، مئی2016ء
متحدہ قومی موومنٹ کے بانی وقائد جناب الطاف حسین نے کہاکہ بانیان پاکستان نے قیام پاکستان کیلئے 20 لاکھوں کا نذرانہ پیش کیااور اب ان کی اولادوں نے بھی فیصلہ کرلیا ہے کہ اگر ان کے انتظامی صوبے کے قیام کیلئے مزید قربانی دینی پڑے تو وہ اس کیلئے بھی تیار ہیں اور کسی بھی قیمت پر صوبہ ضرور بنائیں گے۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان انتہائی نازک صورتحال سے گزررہا ہے اور20 کروڑعوام وینٹی لیٹر پر ہیں لہٰذا ارباب اختیار کو سمجھنا ہوگا کہ پاکستان میں نئے صوبوں کا قیام انتہائی ناگزیر ہے اور ان حالات میں گڈ گورننس کیلئے پاکستان میں نئے صوبوں کا قیام آکسیجن کی حیثیت رکھتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار جناب الطاف حسین نے نارتھ ناظم آبادریڈنس کمیٹی کے تحت منعقدہ تقریب کے شرکاء سے ٹیلی فونک خطاب میں کیا۔ تقریب میں معروف دانشوروں، شعراء ، ادباء، مصنفین، ڈاکٹرز، انجینئرز ، پروفیسرز، لیکچرار، وکلاء ریٹائرڈ ججوں، تاجروں ، صنعتکاروں اور زندگی کے دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے بڑی تعداد میں شرکت کی ۔ اس موقع پر رابطہ کمیٹی کے ارکان اور نامزد مئیروڈپٹی میئرکراچی سمیت حق پرست ارکان قومی وصوبائی اسمبلی بھی موجود تھے ۔ اپنے خطاب میں جناب الطاف حسین نے کہاکہ ایم کیوایم ایک عوامی تحریک ہے جو انسانیت کی فلاح وبہبود اورحقوق کیلئے کوشاں ہے اور اس جدوجہد میں زندگی کے تمام شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو رضاکارانہ طورپر حصہ لینا چاہیے۔ حق وباطل کے درمیان ازل سے لیکر آج تک معرکہ جاری ہے اور جنگ جاری رہے گی۔ انہوں نے کہاکہ امریکہ ، برطانیہ ، مغربی ممالک ، آسٹریلیااور جاپان میں ہرجگہ دوبلاک نظرآئیں گے ۔ ایک بلاک بائیں بازو کا ہے جسے عرف عام میں پروگریسیو، لبرل اورروشن خیال جبکہ دوسرابلاک دائیں بازو کا ہے جسے قدیم تصورات کا حامی کہاجاتا ہے ، آپ کسی خوشحال علاقے میں جائیں تو وہاں آپ کو بائیں بازو کے ترقی پسند اور روشن خیال لوگ نظرآئیں گے جبکہ غریب وپسماندہ علاقے میں دائیں بازو کے دقیانوسی خیالات رکھنے والے نظرآئیں گے جو جرگے میں کسی پیش امام کے فیصلے کو شرعی فیصلہ سمجھتے ہیں ۔
جناب الطاف حسین نے مہاجراکابرین کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ آپ میرا سرمایہ ہو ،بدقسمتی سے پاکستان میں آپ کی علمیت اور قابلیت سے استفادہ نہیں کیاگیا، قیام پاکستان کے ابتدائی ایام میں جب کوئی انفرااسٹرکچرنہیں تھا تو اس وقت بانیان پاکستان نے اپنی علمیت اور قابلیت کے ذریعہ کاروبارزندگی چلایاتھا لیکن بعد میں یہ صلہ دیا گیا کہ مہاجربیوروکریٹس کو چن چن کران کی ملازمتوں سے برطرف کردیا گیا، کسی نے مہاجروں کو سمندر میں پھینکنے کی بات کی تو کسی نے مہاجروں کو دریابرد کرنے کے اعلان کیے ۔ قومی خزانے میں 60 فیصد حصہ جمع کرانے کے باوجود کراچی اور اس کے شہریوں کو بنیادی حقوق سے محروم رکھاجارہا ہے ، اب ہم یہ بے ایمانی نہیں چلنے دیں گے ۔کراچی پورے ملک کو پال رہا ہے لیکن یہ شہرآج کچرے کے ڈھیرمیں تبدیل ہوگیا ہے ، سیوریج سسٹم کی تباہی کے باعث جگہ جگہ گٹرابل رہے ہیں ،عوام ، پانی اور بجلی کی سہولت سے محروم ہیں لہٰذا مہاجراکابرین آنے والی نسلوں کے بہتر مستقبل کیلئے اپنابھرپورکردارادا کریں۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ بانیان پاکستان نے قیام پاکستان کیلئے 20 لاکھوں کا نذرانہ پیش کیااور اب ان کی اولادوں نے بھی فیصلہ کرلیا ہے کہ اگر ان کے انتظامی صوبے کے قیام کیلئے مزید قربانی دینی پڑے تو وہ تیار ہیں اور کسی بھی قیمت پر اپنے لئے صوبہ ضرور بنائیں گے ۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ اندرون سندھ کے غریب ہاری ، کسان اور محنت کش عوام بھی ظالم جاگیرداروں اوروڈیروں کے ظلم کا شکار ہیں اور وہ باعزت زندگی کیلئے ایم کیوایم کے پرچم تلے متحد ہیں،حق پرست سندھیوں نے بھی سندھ کے شہری عوام کیلئے علیحدہ صوبے کے قیام کی حمایت کی ہے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ آج پاکستان کی آبادی 20 کروڑ سے تجاوز کرگئی ہے لیکن ملک کو صرف چار صوبوں سے چلایاجارہا ہے جبکہ پوری دنیا میں آبادی میں اضافے کے تحت بہتر نظام حکومت کیلئے انتظامی بنیادوں پر نئے نئے صوبے بنائے گئے ہیں ۔پاکستان انتہائی نازک صورتحال سے گزررہا ہے اور20 کروڑعوام وینٹی لیٹر پر ہیں لہٰذا ارباب اختیار کو سمجھنا ہوگا کہ پاکستان میں نئے صوبوں کا قیام انتہائی ناگزیر ہے اور ان حالات میں گڈ گورننس کیلئے پاکستان میں نئے صوبوں کا قیام آکسیجن کی حیثیت رکھتا ہے ۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں نے کل بھی سندھی ساتھیوں سے اپنے خطاب میں کہاتھاکہ سندھ دھرتی ماں کے دوبیٹے ہیں،ایک سندھ ون اوردوسرا سندھ ٹو، ان دونوں بیٹوں پر مشتمل دو علیحدہ علیحدہ انتظامی صوبے بنائے جاسکتے ہیں، سندھ ون ہاریوں ، کسانوں ، غریبوں اورمتوسط طبقہ پر مشتمل ہوگا اور سندھ ٹو وڈیروں جاگیرداروں کاصوبہ ہو۔سندھ ون صوبہ صرف مہاجروں کانہیں بلکہ سندھی،پنجابی ، پختون ، بلوچ،سرائیکی ، ہزارے وال سمیت تمام قومیتوں کا ہوگا ، یہاں تمام قومیتوں ، برادریوں اورتمام مذاہب اورعقائدکے لوگ بھائیوں کی طرح مل کررہیں گے ،یہاں جوحق مہاجروں کاہوگاوہی حق تمام قومیتوں اور برادریوں کاہوگا۔انہوں نے کہاکہ ہم سندھی بھائیوں کویقین دلاتے ہیں کہ یہاں کوئی جاگیرداری اور وڈیرا شاہی نہیں ہوگی، کوئی وڈیراکسی سندھی بہن بیٹی کو کاری قراردیکرقتل نہیں کرسکے گااورکسی غریب ہاری یاکسان کے ساتھ غلاموں جیساسلوک نہیں کرسکے گا۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ ہم جب صوبہ کے قیام کی بات کرتے ہیں توکہاجاتاہے کہ صوبہ کامطالبہ انتظامی بنیادپرتوکیاجاسکتاہے لیکن لسانی بنیادپرنہیں کیاجاسکتا۔انہوں نے سوال کیاکہ جب سندھیوں کیلئے صوبہ سندھ ہوسکتاہے، پنجابیوں کیلئے صوبہ پنجاب ہوسکتاہے ، بلوچوں کیلئے صوبہ بلوچستان ہوسکتاہے اورپختونوں کیلئے صوبہ پختونخوا ہوسکتاہے تو مہاجر صوبہ کیوں نہیں ہوسکتا؟جب لسانی بنیادپرچارصوبہ ہوسکتے ہیں توپانجواں کیوں نہیں ہوسکتا؟جناب الطاف حسین نے کہاکہ آج بھی مہاجروں کے ساتھ ملازمتوں کے معاملے میں ناانصافی کی جاتی ہے ، کوٹہ سسٹم کے نام پر آج بھی سندھ کے شہری علاقوں خصوصاً مہاجروں کوملازمتوں سے محروم رکھاجاتاہے،آج بھی ایسے لوگ بڑی تعدادمیں موجودہیں جنہوں نے پبلک سروس کمیشن کے امتحانات میں پوزیشن حاصل کی لیکن انٹرویومیں ان سے پوچھاگیاکہ آپ پیچھے سے کہاں سے ہیں،آپ کے باپ داداکہاں پیداہوئے ، جب انہوں نے بتایاکہ وہ توہندوستان میں پیداہوئے تھے توہجرت کرکے پاکستان میں آئے تھے تو انہیں مہاجرکہہ کرانٹرویومیں فیل کردیاگیااورملازمت سے محروم رکھاگیا۔ ناانصافیوں کایہ سلسلہ آج بھی جاری ہے ۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ عوام بار بارایم کیوایم کومینڈیٹ دے رہے ہیں لیکن اسے تسلیم نہیں کیاجاتا، بلدیاتی انتخابات کاانعقادہوئے چھ ماہ سے زائد ہوچکے ہیں لیکن آج تک میئرڈپٹی میئر،ڈسٹرکٹ چیئرمین کاالیکشن نہیں ہونے دیاگیااوراس میں مسلسل طرح طرح کی رکاوٹیں کھڑی کی جارہی ہیں، آخرہم عوام کی خدمت کریں توکس طرح کریں؟کراچی پورے ملک کوپال رہاہے لیکن آج کراچی پانی بجلی اوردیگرسہولیات سے محروم ہے ،کراچی کے عوام کوان کے حقوق کی جدوجہدسے روکنے کیلئے ایک منظم سازش کے تحت یہاں مذہبی انتہاپسندی کوپروان چڑھایاجارہاہے ،کراچی کے اطراف میں ہزاروں مدرسے قائم کردیئے گئے ہیں جہاں کراچی کاکوئی ایک بھی بچہ نہیں پڑھتابلکہ سب باہرسے لائے گئے ہیں،کراچی کے عوام کوشیعہ سنی کی بنیادپرتقسیم کرنے کیلئے یہاں ماضی میں شیعہ سنی فسادات کرائے جاتے تھے لیکن میں نے برسوں جدوجہدکرکے اس سلسلے کورکوایااورآج اللہ تعالیٰ کاکرم ہے کہ کوئی شیعہ سنی فسادنہیں ہوتا۔انہوں نے کہاکہ جب بلوچستان،شمالی علاقہ جات میں اہل تشیع افرادکابڑے پیمانے پرقتل ہواتوایسے میں واحدمیں تھاجس نے آگے بڑھ کراس ظلم کے خلاف آواز بلند کی۔انہوں نے اجتماع کے شرکاء کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ اتحادمیں بڑی طاقت ہوتی ہے لہٰذاجوظلم وناانصافیاں اورحق تلفیاں ہورہی ہیں ان کے خاتمے کیلئے آپ بھی اپناکردارادا کریں اور ایم کیوایم کے ہاتھ مضبوط کریں۔

9/26/2016 5:29:44 AM