Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

چاہے کتنی ہی سازشیں کیوں نہ کرلی جائیں اللہ تعالیٰ کی تائید اور پرعزم و وفادار کارکنان میرے ساتھ ہیں، مجھے کسی چیز کا خوف نہیں ہے۔ الطاف حسین


چاہے کتنی ہی سازشیں کیوں نہ کرلی جائیں اللہ تعالیٰ کی تائید اور پرعزم و وفادار کارکنان میرے ساتھ ہیں، مجھے کسی چیز کا خوف نہیں ہے۔ الطاف حسین
 Posted on: 3/7/2016 1
چاہے کتنی ہی سازشیں کیوں نہ کرلی جائیں اللہ تعالیٰ کی تائید اور پرعزم و وفادار کارکنان میرے ساتھ ہیں، مجھے کسی چیز کا خوف نہیں ہے۔ الطاف حسین
وفادار کارکنوں کو سلام پیش کرتا ہوں جنہوں نے آگ اور خون کے دریا عبور کئے لیکن حق پرستی کی تحریک کا ساتھ نہیں چھوڑا 
ایم کیو ایم بانیان پاکستان کی تنظیم ہے جنہوں نے پاکستان بنانے کیلئے لاکھوں جانوں کی قربانی دی، اگر مہاجر نہ ہوتے تو پاکستان نہ بنتا
ہم نے مہاجروں کے حقوق کیلئے جدوجہد کا آغاز کیا تو ہم پر ریاستی مظالم کے پہاڑ توڑے گئے، ہمارے ہزاروں کارکنوں کو شہیدکردیا گیا
اس ظلم کو اللہ تعالیٰ دیکھ رہا ہے، جب وہ ظالموں کی رسی کھینچنے پر آتا ہے تو بڑے بڑے فرعون، ہامان اور شداد کی سلطنتیں دھری رہ جاتی ہیں
یہ ڈی سینٹرلائزیشن کی صدی ہے، پاکستان کو بچانے اور مستحکم کرنے کیلئے 20 صوبے بنانا ہوں گے
کراچی صوبے میں تمام قومیتوں کو برابری کی بنیاد پر حقوق حاصل ہوں گے اور ان کے ساتھ کوئی ناانصافی نہیں ہوگی
انشاء اللہ فتح حق پرستوں کا مقدر بنے گی اور حق پرستی کا نظریہ زندہ رہے گا، نائن زیرو پرجمع ہونے والے کارکنوں سے خطاب
کراچی ۔۔۔ 7 مارچ 2016ء
متحدہ قومی موومنٹ جناب الطاف حسین نے کہا ہے کہ ایم کیو ایم بانیان پاکستان کی اولادوں کی تنظیم ہے جنہوں نے پاکستان بنانے کیلئے لاکھوں جانوں کی قربانی دی، اگرمہاجرنہ ہوتے توپاکستان نہ بنتا۔چاہے کتنی ہی سازشیں کیوں نہ کرلی جائیں، ظلم وجبرکاکیساہی ہتھکنڈہ کیوں نہ اختیار کرلیا جائے ،اللہ تعالیٰ کی تائید اور پرعزم ووفادار کارکنان میرے ساتھ ہیں اورمجھے کسی چیز کا خوف نہیں ہے۔ انہوں نے یہ بات آج ایم کیوایم کے مرکزنائن زیروپرجمع ہونے والے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔اس موقع پر کارکنوں کاجوش وخروش قابل دید تھا اور وہ قائد تحریک کے حق میں وقفہ وقفہ سے زوردارنعرے لگاتے رہے۔جناب الطاف حسین نے کہا کہ ،برصغیرکے مسلم اقلیتی صوبوں کے مسلمانوں نے پاکستان بنانے کیلئے 20لاکھ جانوں کانذرانہ پیش کیا،بزرگوں کے سامنے ان کے جوان بیٹوں کوقتل کیاگیا، حاملہ عورتوں کے پیٹ چاک کرکے ان کے بچوں کو نیزوں پراچھالاگیا، ان کے گھربارلوٹ کر جلا دیئے گئے لیکن اسکے باوجود انہوں نے نعرہ لگایا’’ بٹ کے رہے گاہندوستان، لے کے رہیں گے پاکستا ن ‘‘ ۔ اگر مہاجرنہ ہوتے توپاکستان نہ بنتا۔ ایم کیو ایم انہی بانیان پاکستان کی اولادوں کی تنظیم ہے جنہوں نے پاکستان بنایا۔ہم نے مہاجروں کے حقوق کیلئے جدوجہد کا آغاز کیاتوہم پرریاستی مظالم کے پہاڑ توڑے گئے، ہمارے ہزاروں کارکنوں کوشہید کردیا گیا۔ انہوں نے کہاکہ میں نے پہلے بھی کہاتھا اوراب پھریہی کہتاہوں کہ یہ ڈی سینٹرلائزیشن کی صدی ہے اور پاکستان کو بچانے اور مستحکم کرنے کیلئے اب 20 صوبے بناناہوں گے۔انہوں نے کہاکہ میرا تحریک کے کارکنوں ، ذمہ داروں اورمنتخب نمائندوں کو یہی کہنا رہا ہے کہ پاکستان کی ترقی کیلئے کام کریں، عوام کے مسائل حل کریں،اسیروں اورشہیدوں کے لواحقین کی خدمت کریں ۔انہوں نے کہاکہ آج بعض مخالفین کہتے ہیں کہ میں نے خواتین کی توہین کی حالانکہ میں نے اپنے کارکنوں کوہمیشہ خواتین کے احترام کادرس دیا۔میں نے کارکنوں کوغروروگھمنڈ اورتکبرمیں مبتلا نہ ہونے کادرس دیا ۔ جناب الطاف حسین نے کہا کہ صوبہ پنجاب میں غریب مزارعے ، ہاری ، کسان ، اپنے زمینداروں کے غلام تصور کئے جاتے ہیں ، اگر کوئی زمیندار ان ہاری کسانوں سے ناراض ہوجائے تو ان کے گھر کی خواتین کا برہنہ جلوس نکال دیتا ہے، اسی طرح صوبہ سندھ کے وڈیرے اور جاگیردار ، خواتین کو کاری قرار دیکر انہیں قتل کردیتے ہیں جبکہ صوبہ خیبرپختونخواہ میں غیرت کے نام پر خواتین اور مردوں کو قتل کردیا جاتا ہے ، سوات میں ایک شادی کی تقریب میں خواتین کو تالیاں بجانے اور لڑکوں کو روایتی رقص کرنے کی پاداش میں پھانسی دے دی گئی ، صوبہ بلوچستان میں خواتین کو اظہار رائے کی آزادی حاصل نہیں ہے ، بلوچستان میں غیرت کے نام پر پانچ خواتین کو زندہ دفن کردیا گیا اس پر سینیٹ کے ایوان میں ایک سینیٹر کھلم کھلا اقرار کرتا ہے کہ یہ ہماری ثقافت کا حصہ ہے لیکن اس کے خلاف کوئی ایکشن نہیں لیا گیا ، نہ ہی خواتین کو زندہ دفن کرنے پر اسٹیبلشمنٹ، سیکورٹی ایجنسیاں ، رینجرز اور حکومت حرکت میں نہیں آئی۔ انہوں نے کہا کہ اس ظلم کو اللہ تعالیٰ دیکھ رہا ہے، اللہ تعالیٰ جب ظالموں کی رسی کھینچنے پر آتا ہے تو بڑے بڑے فرعون ، ہامان اور شداد کی سلطنتیں دھری کی دھری رہ جاتی ہیں۔ جناب الطاف حسین نے کہا کہ ایم کیو ایم کے حق پرستانہ فکر و فلسفہ سے متاثر ہوکر پختون ، سندھی ، بلوچ ، پنجابی، سرائیکی، کشمیری، ہزاروال اور دیگر قومیتوں کے افراد نے ایم کیو ایم میں شمولیت اختیار کی تو خیبرپختونخواہ، پنجاب اور بلوچستان کے لیڈران ان سے ناراض ہونے لگے اور انہوں نے ایم کیو ایم کے کارکنوں کو خوف زدہ کرنے کیلئے انکے خلاف جھوٹے مقدمات بنانا شروع کردیئے لیکن ظلم و جبر کا کوئی بھی ہتھکنڈہ حق پرست کارکنان کو ایم کیو ایم اور الطاف حسین سے دور نہیں کرسکا۔ جناب الطاف حسین نے پاکستان کی تمام قومیتوں، مسالک، عقائد اور مذاہب سے تعلق رکھنے والوں کو یقین دلایا کہ نیے صوبے میں انہیں برابری کی بنیاد پر حقوق حاصل ہوں گے اور ان کے ساتھ کوئی ناانصافی نہیں ہوگی ۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کو مضبوط و مستحکم بنانے کیلئے ملک میں 20نئے صوبوں کے قیام کا مطالبہ سراسر جائز اور سائنٹفک ہے، اگر پاکستان میں مزید 20صوبے بن گئے تو ملک و قوم پر مسلط فرسودہ جاگیردارانہ نظام خود بخود ختم ہوجائے گا۔جناب الطاف حسین نے ایم کیو ایم کے کارکنوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے آگ اور خون کے انگنت دریا عبور کئے پھر بھی حق پرستی کی تحریک کا ساتھ نہیں چھوڑا اور میں ببانگ دہل کہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی تائید اور پرعزم ووفادار کارکنان میرے ساتھ ہیں اور مجھے کسی چیز کا خوف نہیں ہے۔ رابطہ کمیٹی کے سچے اور بہادر اراکین اور پرعزم جیالے بزرگ ، مائیں ، بہنیں اور تحریکی ساتھی، الطاف حسین کا فخر ہیں جن پر الطاف حسین کو بہت ناز ہے جو اتنے کٹھن اور مشکل حالات میں بھی ثابت قدمی کا مظاہرہ کررہے ہیں، اسٹیبلشمنٹ اور سندھ حکومت کی ایماء پر آپ کے خلاف جھوٹے مقدمات بنائے جارہے ہیں لیکن انشاء اللہ فتح حق پرستوں کا مقدر بنے گی اور حق پرستی کا نظریہ زندہ رہے گا ۔جناب الطاف حسین نے ایم کیو ایم کے تمام ذمہ داروں اور کارکنوں کو تاکید کی کہ وہ چوکس رہیں ، حالات پر کڑی نظر رکھیں اور اپنی صفوں میں اتحاد برقرار رکھیں انشاء اللہ تحریک کے خلاف سازشیں کرنے والوں کو ماضی کی طرح ذلت و رسوائی کا سامنا کرنا پڑے گا ۔

9/28/2016 10:19:08 PM