Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

قائد تحریک جناب الطاف حسین کی تحریر، تقریر اور تصویر پر عائد غیر جمہوری پابندی کیخلاف اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں ایم کیوایم کے اراکین قومی اسمبلی اور سینٹرز کا زبردست احتجاجی مظاہرہ


قائد تحریک جناب الطاف حسین کی تحریر، تقریر اور تصویر پر عائد غیر جمہوری پابندی کیخلاف اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں ایم کیوایم کے اراکین قومی اسمبلی اور سینٹرز کا زبردست احتجاجی مظاہرہ
 Posted on: 2/25/2016
قائد تحریک جناب الطاف حسین کی تحریر، تقریر اور تصویر پر عائد غیر جمہوری پابندی کیخلاف اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں ایم کیوایم کے اراکین قومی اسمبلی اور سینٹرز کا زبردست احتجاجی مظاہرہ 
اراکین قومی اسمبلی اور سینیٹرز کا جناب الطاف حسین کے اظہار رائے پر عائد غیر جمہوری پابندی فی الفور ہٹانے کا مطالبہ
احتجاجی مظاہرے میں اراکین قومی اسمبلی اور سینیٹرز کے پرجوش نعروں سے پارلیمنٹ ہاؤس ہاؤس کی فضائیں گونج اٹھی
جناب الطاف حسین پر پابندی پارلیمنٹ اور آئین کے تقدس کی بحالی کا معاملہ ہے، ڈاکٹر فاروق ستار
کالعدم جماعتیں جن پر پابندی ہے ان کے انٹرویودھڑلے سے شائع اورنشر ہوتے ہیں، ڈاکٹر فاروق ستار
جناب الطاف حسین کا ٹوٹل بلیک آؤٹ پاکستان کے عوام ، جمہوریت اور استحکام کو راس نہیں آئے گا ، ڈاکٹر فاروق ستار
احتجاجی مظاہرے کے بعد ڈاکٹر فاروق ستار کی میڈیا کے نمائندوں کو پریس بریفنگ
اسلام آباد۔۔۔25، فروری 2016ء 
ایم کیوایم کے قائد جناب الطاف حسین کی تحریر ،تقریر اور تصویر پر عائد غیرجمہوری پابندی کیخلاف جمعرات کی صبح اسلام آباد میں پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے ایم کیوایم کے اراکین قومی اسمبلی اور سینیٹرز نے زبردست احتجاج مظاہرہ کیا اور جناب الطاف حسین کے اظہار رائے پر عائد غیر جمہوری پابندی فی الفور ہٹانے کا مطالبہ کیا ۔احتجاجی مظاہرے میں ایم کیوایم کی رابطہ کمیٹی کے سینئر ڈپٹی کنوینر و قومی اسمبلی میں ایم کیوایم کے پارلیمانی لیڈر ڈاکٹر فاروق ستار ،ڈپٹی کنوینر و سینیٹر محترمہ نسرین جلیل ،اراکین قومی اسمبلی کنور نوید جمیل ، سفیان یوسف، اقبال محمد علی،عبد الوسیم، سلمان مجاہد بلوچ، حق پرست مولانا تنویر الحق تھانوی، سینیٹر بیرسٹر محمد علی سیف، میاں عتیق ، خوش بخت شجاعت اور دیگر اراکین قومی اسمبلی اور سینیٹرز، پنجاب کمیٹی اور آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی میں ایم کیوایم کے پارلیمانی لیڈر طاہر کھوکھر بھی شریک ہوئے۔ حق پرست اراکین سینیٹر اور قومی اسمبلی صبح 11بجے پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے جمع ہوگئے جنہوں نے اپنے ہاتھوں میں پلے کارڈز اٹھا رکھے تھے ، پلے کارڈز پر قائد تحریک جناب الطاف حسین کی زباں بندی ختم کرنے اور اظہار رائے کی آزادی بحال کرنے پر مشتمل نعرے اور مطالبات جلی حروف میں تحریر تھے ۔احتجاجی مظاہرے میں حق پرست سینیٹر و اراکین قومی اسمبلی نے جناب الطاف حسین کے اظہار رائے کی پابندی کے خلاف پرجوش نعرے بازی جس کے باعث پارلیمنٹ ہاؤس اور ارد گرد کی فضائیں جناب الطاف حسین پر عائد پابندی کے خاتمہ کے مطالبات پر مبنی نعروں سے گونج اٹھی۔ احتجاجی مظاہرے کے بعد میڈیا کے نمائندوں کو پریس بریفنگ دیتے ہوئے ڈاکٹر فاروق ستار نے کہا کہ پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے ہمارے پرامن احتجاج کا مقصد میڈیا پر قائدتحریک جناب الطاف حسین پر عائدپابندی کے خلاف اظہار یکجہتی ہے ہم یہ سمجھتے ہیں کہ قائد تحریک جناب الطاف حسین کے ساتھ اور جناب الطاف حسین کے چاہنے ، ماننے ، سننے ، دیکھنے اور پڑھنے والوں کے ساتھ ناانصافی ہورہی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ جناب الطاف حسین پر عائد پابندی سے ہم سمجھتے ہیں کہ یہ آئین کے آرٹیکل 19کی صحیح انٹر پٹیشن نہیں ہے کیونکہ عدلیہ نے یہ انٹرپٹیشن کی ہے تو ہم بھی 25سالوں سے قانون سازی اور آئین سازی کے عمل میں شامل ہیں اور ہم یہ اچھی طرح سمجھتے ہیں کہ آرٹیکل 19کی اسپرٹ کیا ہے ۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ آئین کا آرٹیکل 19ہر پاکستانی شہری کوبولنے ، سننے ، دیکھنے اور لکھنے کا بنیادی حق دیتا ہے اور جناب الطاف حسین کے بولنے اور ہمارے سننے دیکھنے اور پڑھنے پر ہی پابندی نہیں ہے بلکہ دراصل یہ پابندی تومیڈیا پر ہے۔ انہوں نے کہاکہ میڈیا پر دیگر سیاسی جماعتوں کے رہنما ء جناب الطاف حسین سے زیادہ زیادہ سخت بیانات دیں ، الطاف حسین کی تقاریر سے زیادہ سخت تقاریر کریں ، الطاف حسین کے بیانات سے زیادہ اور تمام حدود سے تجاوز کریں تو ان کی تصویر ، تقریر اورنہ تحریر پر پابندی لگائی جاتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ مان لیاجائے کہ لاہور کی عدلیہ نے اپنی جانب سے آرٹیکل 19کی ابتدائی تفتیش کرکے بولنے پر پابندی لگا دی لیکن تصویر پر پابندی لگانے کا کیا جواز ہے ؟۔انہوں نے کہاکہ جمہوریت میں یہ کب ہوا کہ کسی کے بولنے اور تصویر پر پابندی لگا دی جائے ۔ جناب الطاف حسین پر پابندی پارلیمنٹ اور آئین کے تقدس کی بحالی کا معاملہ بھی ہے ، چنانچہ پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں اور ان کے رہنما سمیت اسپیکرقومی اسمبلی ، چیئرمین سینیٹ ، وفاقی حکومت اور صوبائی حکومتوں پر بھی یہ لازم ہے کہ اشتعال انگریز، نفرت پر مبنی اور توہین آمیز بات کی جائے تو اس حوالے سے قوانین ہیں ، ان قوانین کے تحت مقدمہ چلا کر یہ طے بھی ہوتا ہے کہ کسی شخص نے ان قوانین کو توڑا ہے تو اس پر بھی سزا میں بولنے ، سننے ، دیکھنے اور لکھنے پر پابندی نہیں ہے اور جناب الطاف حسین پر پابندی آئین اور جمہوریت کی روح کے منافی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ جناب الطا ف حسین پر الزام ثابت نہیں ہوا اور صرف الزام پر سزا اور تاریخ میں توسیع کرنا ناانصافی ہے جبکہ سپریم کورٹ رولنگ دے چکی ہے کہ یہ آرڈر 15دن کا ہوتا ہے لیکن اس میں کتنی مرتبہ 15دن کی توسیع ہوگی ۔انہوں نے کہا کہ ایم کیوایم پاکستان کی منتخب سیاسی جماعت ہے اور انتخابی قوانین میں رجسٹرڈ ہیں اور کالعدم جماعت نہیں ہے یہاں تو کالعدم جماعتیں جن پر پابندی ہے ان کے انٹرویودھڑلے سے شائع اورنشر ہوتے ہیں اور جس جماعت پر پابندی نہیں جس نے حال ہی میں ایک نیا مینڈیٹ بلدیاتی انتخابات میں لیا ہے اس جماعت کے قائد پر پابندی عائد کردی گئی ہے جس سے کروڑوں عوام کی دل آزاری ہورہی ہے ۔ڈاکٹر فاروق ستار نے وزیراعظم نواز شریف اور وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات پرویز رشید سے گزارش کی کہ وہ جلد از جلد لاہور ہائیکورٹ میں اپنا موقف پیش کریں تاکہ بغیر وجہ کے جناب الطاف حسین پر پابندی میں جو توسیع ہورہی یہ سلسلہ ختم ہوسکے اور اس کے ذریعے حکومت کی پوزیشن بھی واضح ہوسکے وہ کوئی مقدمہ بنانا چاہتی ہے نہ آواز بندکرنا چاہتی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ جب اس معاملہ کا حل موجود ہے تواس پر عمل درآمد کیاجائے نہ کہ جناب الطاف حسین کا ٹوٹل بلیک آؤٹ کیاجائے یہ بلیک آؤٹ پاکستان کے عوام ، جمہوریت اور استحکام کو راس نہیں آئے گا اور اس سے ملک میں بے چینی پیدا ہورہی ہے اور اس وقت ہمیں قومی ہم آہنگی یکجہتی کی ضرورت ہے۔


10/1/2016 3:38:42 PM