Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

جناب الطاف حسین کی تحریر ، تقریر اور تصویر پرعائد پابندی کے خلاف جاری بھوک ہڑتا ل کے دوسرے روز سیاسی ، مذہبی ، سماجی شخصیات اور این جی اوز کے نمائندوں کی بھوک ہڑتالی کیمپ آمد ، جناب الطاف حسین سے یکجہتی کااظہار


جناب الطاف حسین کی تحریر ، تقریر اور تصویر پرعائد پابندی کے خلاف جاری بھوک ہڑتا ل کے دوسرے روز سیاسی ، مذہبی ، سماجی شخصیات اور این جی اوز کے نمائندوں کی بھوک ہڑتالی کیمپ آمد ، جناب الطاف حسین سے یکجہتی کااظہار
 Posted on: 2/20/2016
جناب الطاف حسین کی تحریر ، تقریر اور تصویر پرعائد پابندی کے خلاف جاری بھوک ہڑتا ل کے دوسرے روز سیاسی ، مذہبی ، سماجی شخصیات اور این جی اوز کے نمائندوں کی بھوک ہڑتالی کیمپ آمد ، جناب الطاف حسین سے یکجہتی کااظہار
21ویں صدی ، اظہار رائے کی صدی ہے اس میں پابندی زیب نہیں دیتی ،محمودشام
پورے ملک میں مردم شماری فوج کی نگرانی ہونی چاہئے،الحاق محمد رفیق نقشبندی
یہ ہر انسان کا حق ہے کہ وہ کسی کی رائے کو قبول یا مستردکرے لیکن اس کیلئے اظہار رائے کی آزادی دینا ضروری ہے ، سوشل ورکرز ہیومن پیس رائٹس شیما کرمانی 
شہر کا ہر فرد اظہار رائے کی آزادی کیلئے آواز بلند کرے اور ہم سب کواس آواز سے آوا زملانی چاہئے، نامور شاعر و ادیب عارف شفیق 
آئین کاآرٹیکل 19واضح اور فطری طو رپر یہ آگاہ کرتا ہے کہ کسی بھی شہری یا سیاسی لیڈر کی تقریر ، تصویر اور تحریر پر پابندی نہیں لگائی جاسکتی، کراچی بار اور ہائی کورٹ بار کے وفود کے سربراہ محمد جیوانی 
پاکستان کے دستور میں جو بنیادی حقوق شہریوں کیلئے متعین کئے ہیں اس میں کسی کو کمی کرنے کا حق حاصل 
نہیں ہے ، این جی او پائلر کے نمائندے کرامت حسین ،ڈاکٹر امجد علی
کراچی ۔۔۔20، فروری 2016ء 
کراچی پریس کلب کے باہر جاری4روزہ بھوک ہڑتال کے دوسرے روز قائد تحریک الطاف حسین کی تحریر ، تقریر او ر تصویر پرعائد غیر جمہوری پابندی کے خلاف مختلف سیاسی ، سماجی ، مذہبی ، تاجر ، صنعتکار شخصیات اور مختلف این جی اوز اور اداروں کے وفود کی بھوک ہڑتالی کیمپ پر آمد کا سلسلہ بڑی تعداد میں جاری رہا ۔ بھوک ہڑتالی کیمپ پر آنے والے مختلف وفود نے جناب الطاف حسین سے تحریر ، تقریر اور تصویر پر عائد پابندی پر مکمل یکجہتی کااظہار کیا اور بھوک ہڑتالی کیمپ میں باقاعدہ بیٹھ کرجناب الطاف حسین پر عائد پابندی کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا ۔ بھوک ہڑتالی کیمپ کے دوسر ے روزجناب الطاف حسین پر پابندی کے خلاف اظہار یکجہتی کرنے والے برصغیر کے بڑے دانشور ، مفکر اور شاعر محمود شام ،کراچی آرٹس کونسل کے صدرسیداعجازشاہ، ہیومن پیس رائٹس کی شیما کرمانی ، نامور شاعرمیں کراچی بار اور ہائی کورٹ کے وفود ، این جی او پائلر کے نمائندے کرامت علی ، امجد علی ،کراچی بار ایسوسی ایشن کی ارکان سرینہ رفیق اور سعید ہ زبیدہ شاہ ، سابق صوبائی وزیر فوزیہ لاری،سینئرنائب امیرمرکزی جمیعت اہلحدیث مولانامرتضیٰ خان رحمانی ،الحاق محمد رفیق نقشبندی جنرل سیکریٹری نظام مصطفی اوردیگرنے شرکت کی۔ اس موقع پربھوک ہڑتالی کیمپ میں میڈیا کے سامنے اظہار کرتے خیال کرتے ہوئے محمود شام میں نے کل بھی عرض کیا تھا 21ویں صدی ، اظہار رائے کی صدی ہے اس میں پابندی زیب نہیں دیتی ، آج کے دور خواہ کسی جرنیل یا آمر جمہوری حکومت نے لگایا ہو ۔پریس کلب ایک لبریٹ ایریا ہے ، جہاں پر تحریکیں چلتی ہیں ۔جمہوریت کی روح ہے اختلاف رائے ہے ، میں آج بھی حاضر ہوا ہوں کل بھی یہاں حاضر ہوا تھا ، ایک شاعر، پاکستانی کی حیثیت سے اظہار یکجہتی کیلئے آیاد ہوں ۔ایک انگریز دانشور نے کہا تھا کہ کسی کے اظہار رائے پر کوئی پابندی نہیں ہونی چاہئے اور اسی اظہار یکجہتی کیلئے میں یہاں تشریف لایا ہوں ۔محمدرفیق نقشبندی نے کہا کہ میں اپنی پارٹی کی سربراہ حاجی محمد حنیف طیب کی جانب سے اظہار یکجہتی کیلئے یہاں آیا ہوں۔انہوں نے کہا کہ ملک میں جمہوریت ہے ، جمہوری ملک میں کسی کو اظہار رائے پر کوئی پابندی نہیں ہونی چاہئے ، متحدہ قومی موومنٹ کے قائد جناب الطاف حسین کی تقاریر ، تصاویر اور اظہار پر پابندی سراسر غلط ہے حکمرانوں کو چاہئے کہ پرامن لوگوں کو ان کا پورا حق دیا جائے اور جناب الطاف حسین کی تقاریر اور تصاویر پر سے فوری پابندی ہٹائی جائے۔ہم یہاں ان ان سے بھرپور تعاون کیلئے آئے ہیں ۔انہوں نے کہا متحدہ قومی موومنٹ کے قائد جناب الطاف حسین سے منسوب کیے جانے جملے حکمران طبقہ کے لوگ اوسابق ر زرداری صاحب نے کہا ہے کیا وجہ سے ہے کہ ان کے خلاف کوئی کاروائی اب تک عمل میں نہیں آیں ،حکمرانوں کے اس عمل سے ایسا لگتا ہے کہ کہیں نہ کہیں تعصب کا عنصر ہے اس تعصب کو دور کرنے کیلئے وزیراعظم پاکستان نوازشریف ، چیف آف آرمی اسٹاف جنرل راحیل شریف اپنا عمل منصفانہ بنائیں اور یہی عمل پورے قوم کو متحد رکھ سکتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ 1998ء میں ملک میں مردم شماری ہوئی تھی آج 17سال ہوگئے لیکن مردم شماری ہونے جارہی ہے ، ہم یہ چاہتے ہیں کہ پورے ملک میں مردم شماری فوج کی نگرانی ہونی چاہئے ہم سمجھتے ہیں کہ اس کی کسی قسم کی کوئی کوتاہی نہ برتی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ سندھ شہری آبادی میں اضافہ ہوا ہے ۔ مردم شماری کا نتیجہ آئیں گے سندھ کے شہری علاقوں کے حلقہ میں اضافہ ہوگا ،مردم شماری کی جائے سندھ کی آبادی چار سے پانچ گناہ زیادہ ہوگا ۔ہمارے شہر کی حقیقی نمائندگی جو ہے متحدہ قومی موومنٹ پاس ہے ۔میئر اور ڈپٹی میئر کے انتخابات ملتوی کیے جارہے ہیں وہ بھی سازش کا حصہ ہے ۔جب کراچی کے عوام نے متحدہ کے نمائندوں کو منتخب کیا ہے کیا وجہ ہے کہ ان کو اختیاارات کیوں نہیں دیے جارہے ہیں ۔دیگر مہذب ممالک کی طرح کراچی کو اختیارات دیئے جائیں ۔ہیو من پیس رائٹس کی سوشل ورکر شیما کرمانی نے کہا کہ میں سمجھتی ہوں کے اظہار رائے کی اجازت ہر انسان کیلئے بہت ضروری ہے ، ہمیں یہ بات کرنی چاہئے کہ ہر انسان کو اپنی رائے دینے کی آزادی ہے ، یہ ہر انسان کا حق ہے کہ وہ کسی کی رائے کو قبول کرے یا مسترد کرے لیکن اس کیلئے اظہار رائے کی آزادی ضروری ہے ۔ نامور شاعر اور کالم نگار عارف شفیق نے کہا کہ آج فیض احمد فیض اور حبیب جالب زندہ ہوتے تو وہ اظہار رائے کی آزادی پر پابندی پر کیا کہتے ، ادیب و شعراء نے ہمیشہ سچ وحق کیلئے آواز اٹھائی ہے ، یہ پابندیاں لگتی رہیں گی اور اس شہر کا ہر فرد اظہار آزادی کیلئے آواز بلند کرے اور ہم سب کو آواز سے آوا زملانی چاہئے ۔ کراچی بار اور ہائی کورٹ بار کے نامور وکلاء کے وفود کے سربراہ محمد جیوانی نے کہاکہ آئین کاآرٹیکل 19واضح اور فطری طو رپر یہ آگاہ کرتا ہے کہ کسی بھی شہری یا سیاسی لیڈر کی تقریر ، تصویر اور تحریر پر پابندی نہیں لگائی جاسکتی ہم عدالتی کی سطح پر کوشش کررہے ہیں اور انشاء اللہ تعالیٰ جناب الطا ف حسین پر اظہار رائے کی آزادی کا فیصلہ حق میں ہوگا ۔معروف این جی پاکستان لیبر ایجوکیشن ریسرچ کے نمائندے کرامت حسین اور ڈاکٹر امجد علی نے کہاکہ ہمارا دارہ مزدوروں اور تمام شہریوں کے حقوق کی جدوجہد میں ہمیشہ پیش پیش رہا ہے ، پاکستان کے دستور میں جو بنیادی حقوق شہریوں کیلئے متعین کئے ہیں اس میں کسی کو کمی کرنے کا حق حاصل نہیں ہے ۔ انہوں نے کہاکہ ریاستی اداروں کے ذریعے کسی پر پابندی لگانے کی ہر شخص کو مخالفت کرنی چاہئے ، یہ حق کسی کو نہیں حاصل کہ وہ پابندی لگا دے اور بلیک آؤٹ کرادے یہ تمام چیزیں جمہوریت کی نفی اورجمہوریت کی جڑیں کمزور کرنے کے مترادف ہے ۔کراچی بار 2016کی منتخب اراکین سرینہ رفیق اور سعید ہ زبیدہ شاہ نے کہا کہ ایم کیوایم پاکستان کی بہت بڑی جماعت ہے اور اس جماعت کے کارکنان و عوام کے جذبات اور احساسات کااحترام کرنا چاہئے ۔ انہوں نے کہاکہ ایم کیوایم کے قائد پر اظہار آزادی کی پابندی عائد نہیں کرنی چاہئے اس عمل سے لوگوں کے جذبات سے کھیلاجارہا ہے ، جناب الطاف حسین پر پابندی کو فی الفور اٹھایا جائے ۔ انہوں نے کہاکہ ایم کیوایم نے ہمیشہ بنیادی حقوق کیلئے جدوجہد کی ہے اور ایم کیوایم جیسی مقبول جماعت کے قائد پر کراچی بار ایسوسی ایشن کے ارکان نے کہا کہ الطاف حسین کی تقاریر ، تصاویر اور بیانات انسانی حقوق ک خلاف ورزی ہے ، اظہار رائے پر پابندی نہیں لگنی چاہئے ، اظہار رائے سب کا بنیادی حق ہے الطاف حسین کے خلاف عائد پابندی کو جلد سے جلد ہٹائی جانی چاہئے ، ہم شرکاء سے اظہار یکجہتی کرنے کیلئے یہاں آئے ہیں 









تصاویر

9/28/2016 8:36:11 PM