Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

جنوبی پنجاب داعش کی اماج گاہ بنا ہو، پنجاب میں فوج اور رینجرز کے ذریعے آپریشن کیوں نہیں کروایا جارہا؟، ڈاکٹر محمد فاروق ستار


جنوبی پنجاب داعش کی آماجگاہ بنا ہو، پنجاب میں فوج اور رینجرز کے ذریعے آپریشن کیوں نہیں کروایا جارہا؟، ڈاکٹر محمد فاروق ستار
 Posted on: 1/21/2016
جنوبی پنجاب داعش کی آماج گاہ بنا ہو، پنجاب میں فوج اور رینجرز کے ذریعے آپریشن کیوں نہیں کروایا جارہا؟، ڈاکٹر محمد فاروق ستار
چارسدہ یونیورسٹی کا سانحہ نیشنل ایکشن پلان کی ناکامی ہے ،NAPبنانے والوں کے ذہن میں ابہام ہیں،ڈاکٹرفاروق ستار
سانحہ چارسدہ نے آرمی پبلک اسکول سانحہ کی طرح پوری قوم کو غمگین کر دیاہے،محمود شام
جب تک ملک میں مثبت اور وسیع و لبرل سوچ کے حکمران نہیں آئیں گے پاکستان ترقی نہیں کرسکتا،آغا مسعود حسین
پنجاب میں دہشت گردوں کی نرسریوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جارہی،فاضل جمیل
اسلام انسانیت سے محبت اور انسانوں کی جان بچانے کا درس دیتاہے ،آئی ایچ خانزادہ
دہشت گردی کو کو شکست دینے کیلئے نظریاتی محاذپر سب کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا،عامر ضیاء
داعش پنجاب سمیت ملک بھر میں کارروائیاں کر رہی ہے لیکن وفاقی وزیر داخلہ اسمبلی فلور پراسکوجھٹلا رہے ہیں،امین یوسف
سانحہ باچا خان یونیورسٹی چارسدہ کے شہداء کی یاد میں تعزیتی تقریب سے ایم کیوا یم رہنماؤں اور معروف صحافیوں کا خطاب 
کراچی۔۔۔21جنوری2016ء
چارسدہ یونیورسٹی کا سانحہ نیشنل ایکشن پلان NAPکی ناکامی ہے ،نیشنل ایکشن پلان بنانے والوں کے ذہن میں ملک کو دہشت گردی سے پاک کرنے میں مختلف ابہام ہے، نیشنل ایکشن پلان کی روح سے سندھ ، خیبرپختونخوااور بلوچستان میں فوج اور رینجرز سے آپریشن کروائے جارہے ہیں لیکن پنجاب میں آپریشن کیلئے پولیس کواختیارات دئیے جارہے ہیں،سانحہ چارسدہ ملک اور علم دشمن عناصر کی کارروائی ہے ،گزشتہ چند ماہ میں بدھ بیڑ ائیر بیس، جمرود اور کارخانو کوٹ کے بعد خیبر پختونخوا میں ہونیوالا ایک اور واقعہ ہے جو قابل مذمت ہے لیکن روایتی بیانات سے ان عناصر کا قلعہ قمع نہیں کیا جاسکتاجس پر قوم حکومت سے نیشنل ایکشن پلان پر عملدرآمد سے متعلق سوال کرتی ہے۔ان خیالا ت کا اظہار متحدہ قومی موومنٹ کے تحت سانحہ باچا خان یونیورسٹی چارسدہ کے شہداء کی یاد میں منعقد ہ تعزیتی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سینئر ڈپٹی کنوینر ڈاکٹر محمد فاروق ستار نے کیا ۔انہوں نے کہاکہ جناب الطاف حسین نے پہلے طالبان کی ملک میں موجود گی کا انکشاف کیا تو انکا مذاق اُڑایاگیا ، اب داعش کی ملک میں موجود گی سے متعلق بتایا جارہاہے تو حکمران اس پر بھی سنجیدگی سے نوٹس نہیں لے رہے،مہذب جمہوری معاشروں میں اس قسم کے سانحات پر حکموتیں مستعفی ہوجاتی ہیں لیکن ہمارے ملک میں جمہوریت کا نظام نہیں ہے۔انہوں نے کہاکہ سانحہ چارسدہ کے معصوم و بیگناہ طلباء ، اساتذہ اور دیگر شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہاکہ ایک مرتبہ پھر دہشت گردوں نے اپنی بذدلانہ کارروائی کے ذریعے اپناایجنڈا ریاست پر مسلط کرنے کی کوشش کی ہے اور اس قسم کی کارروائی مذہب کی شکل بگاڑنے کے مترادف ہے،نیشنل ایکشن پلان پر گزشتہ ایک برس میں صدق دل سے عمل نہیں کیا گیا۔فاروق ستار نے کہاکہ نیشنل ایکشن پلان ملک دشمن اور دہشت گردوں کیلئے بنایا گیاتھا لیکن سیاسی جماعتوں کو اس کا نشانہ بنایاجارہاہے، سندھ اور پنجاب کے کاؤنٹر ٹیرارزم ڈپارٹمنٹ داعش کے لوگوں کو گرفتار کررہے ہیں،جنوبی پنجاب داعش کی اماج گاہ بنا ہو اہے لیکن کارروائیوں میں سنجیدگی نہیں ہے،انہوں نے سوال کیاکہ پنجاب میں فوج اور رینجرز کے ذریعے آپریشن کیوں نہیں کروایا جارہا،کالعدم تنظیموں کو نہیں روکا جارہالیکن سیاسی جماعتوں کی سرگرمیوں پر پابندی ہے،جناب الطاف حسین ملک میں بین المذاہب اور بین السانی ہم آہنگی کیلئے کوششیں کر رہے ہیں تو انکی تصاویرو تقاریر پر پابندی لگادی ہے۔انہوں نے کہاکہ نیشنل ایکشن پلان کاآڈیٹ کرکے قو م کے سامنے حقائق لائے جائیں اور عوام سے حقائق چھپانے کی روش ختم کی جائے۔اس موقع پر ممتاز صحافی ودانشور محمود شام نے کہاکہ سانحہ چارسدہ نے آرمی پبلک اسکول سانحہ کی طرح پوری قوم کو غمگین کر دیاہے،انہوں نے اس سانحہ کے شہداء کی یاد میں اپنی پر سوز نظم سنا کر شرکاء اجتماع کو آبدیدہ کردیا۔معروف تجزیہ نگار و صحافی آغا مسعود نے کہاکہ ملک بنیاد ی طور سے مختلف اقتصادی اور معاشرتی مسائل کا شکار ہے،ریاست اپنے شہریوں کے ساتھ یکساں سلوک کرنے میں ناکام ہوچکی ہے، ہمسایہ ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم کئے بغیر ملک کے اندرونی حالات کو بہتر نہیں کیا جاسکتاجب تک ملک میں مثبت اور وسیع و لبرل سوچ کے حکمران نہیں آئیں گے پاکستان ترقی نہیں کرسکتا۔انہوں نے کہاکہ سیاسی نظام کی حمایت کے بغیر افواج دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مکمل طریقے سے کامیاب نہیں ہو سکتیں۔صد ر کراچی پریس کلب فاضل جمیل نے کہاکہ دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں ہے پہلے انہوں نے مسجد ، مندر ، امام بارگاہوں ، گرجا گھروں کو نشانہ بنایا اور آج علم کے حصول میں مصروف ہمارے معصوم بچوں کو نشانہ بنایا جارہاہے ،اگر ہم آرمی پبلک اسکول سانحے سے پہلے نیشنل ایکشن پلان بنالیتے تو ایسے سانحا ت نہ ہوتے ،نیشنل ایکشن پلان کی اصل روح پر سنجیدگی سے عمل نہیں کیا جارہا۔انہوں نے کہاکہ پنجاب کے اندر دہشت گردوں کی نرسریوں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی جارہی ۔کراچی پریس کلب کے سیکریٹری جنرل آئی ایچ خانزادہ نے کہاکہ اسلام انسانیت سے محبت اور انسانوں کی جان بچانے کا درس دیتاہے ا سکی تعلیمات کے برعکس کام کرنے والوں کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے،ایم کیوا یم نے دہشت گردی کے خلاف سب کو ایک نکتہ پر متحد کیا ہے اسی اتحاد سے آگے بڑھ کر پاکستان کو محفوظ ملک بنایاجاسکتاہے ۔معروف صحا فی و تجزیہ کار عامر ضیاء نے کہاکہ فوج عسکر ی محاذ پر انتہاء پسندوں کے خلاف نبر آزما ہے لیکن اس سوچ کو شکست دینے کیلئے ہمراہ سیاسی جماعتوں ، علماء کرام اور میڈیا کو نظریاتی محاذپر ان انتہاء پسندوں کے خلاف اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔پاکستان یونین آف جرنلٹس کے صدر امین یوسف نے کہاکہ کراچی میں آپریشن کیاجارہاہے لیکن ان صوبوں میں کارروائیاں نہیں کی جارہیں جہاں ان دہشت گردوں کی نرسریاں موجود ہیں ، داعش پنجاب سمیت ملک بھر میں چاکنگ اور کارروائیاں کر رہی ہے لیکن وفاقی وزیر داخلہ اسمبلی کے فلور پر کھڑے ہوکر کہتے ہیں کہ ملک میں داعش کا کوئی وجود نہیں ہے ۔انہوں نے کہاکہ جناب الطا ف حسین اس دہشت گردی کے خلا ف بر سر پیکا ر ہیں اور ہم اس جنگ میں انکے ساتھ شریک ہیں۔معروف قلمکار و ممتاز دانشوررضوان صدیقی نے کہاکہ پاکستان بنانے کیلئے جن لوگوں نے قربانیاں دی تھیں آج ان پر عرصہ حیا ت تنگ کر دیا گیا ہے،اس قسم کے واقعات روز مرہ کا معمول بن چکے ہیں لیکن ایسا لگتاہے کہ حکومت کے پاس انکی روک تھام کیلئے کوئی منظم پالیسی نہیں ہے،کراچی آپریشن اور ضرب عضب کو پنجاب تک بڑھا دینا چاہئے اور اپنی افواج کے ہاتھوں کو مضبوط کرنا چاہئے۔ہندؤں برادری کے رہنما وجے مہاراج نے کہاکہ دہشت گرد انسانیت کے دشمن ہیں اور دین کا نام لیکر انسانیت کا قتل عام کر رہے ہیں ،پاکستان انتہاء پسندی کے عفریت میں گرفتار ہے جس کے خاتمے کیلئے پوری قوم کو اپنا کردار اداکرنا ہوگا۔کراچی یونین آف جرنلسٹ کے سیکریٹری واجد انصاری نے کہاکہ دہشت گردوں کے خاتمے کیلئے ضرب عضب سے قبل بھی کئی آپریشنز کئے گئے ہیں لیکن ہم ان میں کامیاب نہیں ہوسکے ہیں جس کی واحد وجہ ان دہشت گردوں کے حمایتوں اور مددگاروں کے خلاف کارروائیوں کا فقدان ہے ۔انہوں نے تقریب کے انعقاد پر جناب الطاف حسین اور ایم کیو ایم کے کارکنان کو سلام پیش کیا ۔ مسیح برادری کے رہنما پاسٹر انور جاوید شیفرڈ نے کہاکہ جناب الطاف حسین قوم کو دہشت گردی کے عفریت سے پیشگی اطلاع دیتے ہیں اور انہیں اس عفریت سے لڑنے کی ہمت دیتے ہیں جس کی پاداش میں ٹیلی ویژن اور اخبارات میں انکی تقاریر و تصاویر کی اشاعت پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ممتاز اہل تشیع عالم دین سید علی کرار نقوی نے کہاکہ ایم کیو ایم ملک کے تمام مظلومو ں کی پہچان ہے اور اسی لئے یہ مظلوموں کے ساتھ ہونیوالے ظلم کے خلاف آواز بلند کرتی ہے۔کراچی پریس کلب کے سابق صدر امتیاز فاران نے کہاکہ ایم کیوا یم کے قائد اور اس کے کارکنان کو سلام تحسین ہے ہمیشہ اس قسم کے سانحات کے خلاف سب سے پہلے آواز بلندکی ہے ، یہ وقت ایسے افسوسناک سانحات کی مذمت کا نہیں بلکہ اس میں ملوث دہشت گردوں اورا نکے حمایتوں کی مرمت کا وقت ہے ، افواج پاکستان دہشت گردی کیخلاف جنگ میں قربانیا ں پیش کر رہی ہیں لیکن اس جنگ کو جیتنے کیلئے علماء کرام اور سیاسی جماعتوں کو بھی اپنا کردار اداکرنا ہوگا۔تقریب کے اختتام پر معروف قوال و ثناء خواں امجد صابری نے شہداء کیلئے خصوصی دعا کرائی۔

English Viewers










تصاویر

9/25/2016 3:49:12 AM