Altaf Hussain  English News  Urdu News  Sindhi News  Photo Gallery
International Media Inquiries
+44 20 3371 1290
+1 909 273 6068
[email protected]
 
 Events  Blogs  Fikri Nishist  Study Circle  Songs  Videos Gallery
 Manifesto 2013  Philosophy  Poetry  Online Units  Media Corner  RAIDS/ARRESTS
 About MQM  Social Media  Pakistan Maps  Education  Links  Poll
 Web TV  Feedback  KKF  Contact Us        

اب ہمیں انڈیا واپس نہیں جانا بلکہ یہیں پر ہی رہنا ہے ، الطاف حسین


اب ہمیں انڈیا واپس نہیں جانا بلکہ یہیں پر ہی رہنا ہے ، الطاف حسین
 Posted on: 12/9/2014
اب ہمیں انڈیا واپس نہیں جانا بلکہ یہیں پر ہی رہنا ہے ، الطاف حسین
ہم سے اب دوسری ہجرت نہیں ہونے والی ،اب ہمارا جینا اورمرنا اسی دھرتی سے وابستہ ہے ، الطاف حسین
لندن میں کسی پاکستانی ٹی وی چینل کی جانب سے یوم شہداء کی خبرنشر نہیں کی گئی
پورے ملک میں ایک فرد کی شہادت پر احتجاج کیاجائے تو کہیں سے کوئی فتویٰ نہیں آتا اور ایم کیوایم کے کئی کئی ساتھیوںکی المناک شہادت پر جب عوامی ردعمل کیاجائے تو اسے دہشت گردی سے تعبیرکیاجاتا ہے
فرزند زمین کو ہرچیز معاف ہوتی ہے اور پاکستان بنانے والوں کی اولادوں کو آج 67 سال بعد بھی دل سے پاکستانی نہیں سمجھاجاتا
پاکستان کی سب سے منظم اور مستند جماعت ایم کیوایم کی خبروں کوسرکاری ٹی وی پاکستان ٹیلی ویژن میں ایک فیصد بھی حصہ نہیں ملتا
خدا کیلئے اس تفریق کا خاتمہ کیاجائے، مسلح افواج کے تھنک ٹینک سے اپیل
ایم کیوایم ، سندھ اوراس کے عوام کے حقوق کیلئے جدوجہد کرتی رہی ہے،الطاف حسین
سندھی بھائیوں کے تحفظات کو مدنظررکھتے ہوئے ایم کیوایم، کالاباغ ڈیم کی تعمیر کے آگے دیوار بن گئی،الطاف حسین
ایم کیوایم ،پاکستان کی پہلی جماعت ہے جس نے تعلیم یافتہ رکشہ ڈرائیور،سبزی فروش اور گنے کا رس بیچنے والوں الیکشن میں منتخب کرواکر سنیٹ ،قومی اور صوبائی اسمبلی میں بھیجا، الطاف حسین
حق پرست شہداء کی قربانیوں کی بدولت آج سندھ اسمبلی سے کراچی ، حیدرآباداور نواب شاہ یونیورسٹی کا بل متفقہ طورپرمنظور کرلیا گیا
جناح گراؤنڈ عزیزآباد میں یوم شہداء کے اجتماع سے قائد ایم کیوایم الطاف حسین کا خطاب
لندن۔۔۔9،دسمبر2014ء
متحدہ قومی موومنٹ کے قائد جناب الطاف حسین نے پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ اورتمام سیاسی ومذہبی جماعتوں کے رہنماؤں کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ ہمیں اب انڈیا واپس نہیں جانا بلکہ یہیں پر ہی رہنا ہے ، ہم سے اب دوسری ہجرت نہیں ہونے والی ،اب ہمارا جینا اورمرنا اسی دھرتی سے وابستہ ہے ۔
یہ بات انہوں نے عزیزآباد کے تاریخی جناح گراؤنڈ میں یوم شہدائے حق کے بہت بڑے اجتماع سے ٹیلی فون پر خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اجتماع میں ایم کیوایم کے رہنماؤں ،منتخب عوامی نمائندوں ، ذمہ داروں، کارکنوں اور ہمدردوں کے علاوہ حق پرست شہداء کے لواحقین نے بھی ہزاروں کی تعداد میں شرکت کی۔ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے جناب الطاف حسین نے ایم کیوایم کی 36 سالہ حق پرستانہ جدوجہد کے دوران جام شہادت نوش کرنے والے تمام شہداء کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا۔ انہوں نے شہداء کے لواحقین سے دلی تعزیت وہمدردی کااظہار کرتے ہوئے حق پرست شہداء کے بلنددرجات اور سوگوارلوحقین کیلئے صبرجمیل کی دعا کی ۔ انہوں نے کہاکہ نوجوان نسل کیلئے یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ مہاجراسٹوڈنٹس آرگنائزیشن سے مہاجرقومی موومنٹ اور پھر متحدہ قومی موومنٹ بنانے کی ضرورت کیوں پیش آئی۔ گزشتہ دوبرسوں کے دوران ایم کیوایم کے 379 کارکنان کو شہید کردیا گیا اور ایسا بھی ہوا ہے کہ ایم کیوایم کے تین سے چار کارکنوں کو گرفتارکیاگیا اور تین دن بعد انکی مسخ شدہ لاشیں سڑکوں پر پھینک دی گئیں ۔ انہوں نے کہاکہ موت ،موت ہوتی ہے۔ چاہے کسی بھی مذہب ، مسلک اورعقیدے سے تعلق رکھنے والا اس دنیا سے چلاجائے اس کا سب کو برابر دکھ ہوتا ہے ، سب کے خون کا رنگ ایک ہی جیسا ہوتا ہے اور جان کنی کی تکلیف بھی سب کوایک ہی جیسی ہوتی ہے لیکن اگر کسی کو گرفتاریا اغواء کرکے وحشیانہ تشدد کا نشانہ بناکر بیدردی سے شہید کردیا جائے اور وہ ایم کیوایم سے تعلق رکھتا ہو تو میڈیا پر اس کی خبرسرے سے دی ہی نہیں جاتی اور ایم کیوایم کی پریس ریلیز جاری ہونے کے بعد وہ پریس ریلیز شائع یا نشر کردی جاتی ہے ۔ انہوں نے کہاکہ جون 2014ء میں پاکستان عوامی تحریک کے رہنما علامہ طاہرالقادری کی رہائش گاہ پر پولیس نے فائرنگ کرکے دوخواتین سمیت 12 افراد کو شہید کردیا جس کا ہم سب کو بہت دکھ اور افسوس ہوا، ٹی وی ٹاک شوز میں سانحہ ماڈل ٹاؤن کا تذکرہ کئی دنوں تک ہوتا رہا اور سانحہ ماڈل ٹاؤن کے موضوع پر کئی دنوں تک پروگرامز ہوتے رہے ۔اس ظلم کے خلاف جب پاکستان عوامی تحریک کی جانب س دھرنا دیا جاتا ہے تو ایم کیوایم واحد جماعت تھی جس نے دھرنے کے شرکاء کو چائے ، پانی ، غذائی اجناس اور طبی امداد فراہم کی ۔ گزشتہ روز فیصل آباد میں تحریک انصاف کے ایک کارکن حق نواز کو فائرنگ کرکے شہید کیا گیا تو ایم کیوایم نے فوراً پی ٹی آئی کے رہنماؤں سے تعزیت کی اور ان کے کارکنوں پر ہونے والی دہشت گردی کی مذمت کی ۔ اس ظلم کے خلاف پی ٹی آئی کے کارکنان نے ملک بھر میں جگہ جگہ احتجاج کیا، نعرے بازی کی اور ٹائرجلائے ، ان مناظر کو تمام ٹی وی چینلز نے نشر کیااور پھران واقعات کوٹی وی ٹاک شوز کا موضوع بناکر پروگرام کیے گئے ۔ 
جناب الطاف حسین نے کہاکہ آج 9،دسمبر ہے اور ایم کیوایم ہرسال حق پرست شہداء کی یاد میں اس تاریخ کو یوم شہدائے حق مناتی ہے ، شہداء کے ایصال ثواب کیلئے قرآن خوانی وفاتحہ خوانی کی جاتی ہے اور شہداء کو سلام عقیدت پیش کیاجاتا ہے ، ایم کیوایم کے تمام رہنماؤں کی تقاریر ختم ہوجاتی ہیں لیکن لندن میں کسی پاکستانی ٹی وی چینل کی جانب سے یوم شہداء کی خبرنشر نہیں کی گئی ۔ پورے ملک میں ایک فرد کی شہادت پر احتجاج کیاجائے تو کہیں سے کوئی فتویٰ نہیں آتا اور ایم کیوایم کے کئی کئی ساتھیوں کی المناک شہادت پر جب عوامی ردعمل کیاجائے تو اسے دہشت گردی سے تعبیر کرکے ایک ہنگامہ کھڑا کردیا جاتا ہے ۔ کل ہی ایک خاتون رپورٹر کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا ، ایک ٹی وی چینل کی ڈی ایس این جی کو تباہ کردیا گیا ،ڈنڈے برساکر دکانوں کو زبردستی بند کرایا گیا لیکن اس صورتحال پر کوئی تبصرہ نہیں کیاجاتا۔اگرایسا ردعمل ایم کیوایم کی ہدایت کے بغیرعوام کی جانب سے ازخودکیاجائے تو اس کا الزام ایم کیوایم اور الطاف حسین پر عائد کردیا جاتا ہے ۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ یہ فرزندزمین ہونے اورنہ ہونے کا فرق ہے ۔ فرزند زمین کو ہرچیز معاف ہوتی ہے اور 20 لاکھ جانوں کا نذرانہ پیش کرکے پاکستان بنانے والوں کی اولادوں کو آج 67 سال بعد بھی دل سے پاکستانی نہیں سمجھاجاتا، اگر میں اس پراحتجاج کرتا ہوں تو اسے عصبیت اور تعصب قراردیا جاتا ہے ۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ آج بھی بہت سے لوگ گواہی دیں گے کہ 1977 ء میں تحریک نظام مصطفی کے دوران پاک فوج کے افسران کے احکامات کے مطابق مظاہرین پر براہ راست گولیاں چلائی گئیں لیکن جب یہ مظاہرہ لاہور میں اسمبلی کے سامنے ہوا تو فوجی افسران اور جوانوں نے مظاہرین پر گولیاں چلانے سے انکارکردیا اور اپنی پیٹیاں اتاردیں کہ ہم اپنے بھائیوں پر گولیاں نہیں چلائیں گے ۔ ان حقائق کے باوجود ہم سے کہاجاتا ہے کہ ہم ایک قوم اور پاکستانیت کی بات کریں ۔ انہوں نے کہاکہ یہ کہاں کا انصاف ہے کہ پاکستان کی سب سے منظم اور مستند جماعت ایم کیوایم کی خبروں کوسرکاری ٹی وی پاکستان ٹیلی ویژن میں ایک فیصد بھی حصہ نہیں ملتا، آج 67 سال گزرگئے چاہے پیپلزپارٹی یا مسلم لیگ کی حکومت ہو یا فوجی 
حکومت ہو پی ٹی وی کی جانب سے ایم کیوایم کی خبریں نشرنہیں کی جاتیں کیونکہ ہمیں پاکستان نہیں سمجھا جاتا۔جناب الطاف حسین نے مسلح افواج کے تھنک ٹینک کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ خدا کیلئے اس تفریق کا خاتمہ کیاجائے اور سب کو انصاف فراہم کرنے کیلئے اقدامات کیے جائیں ۔ 67 سال سے حیدرآباد کے عوام شہری یونیورسٹی کے قیام کامطالبہ کررہے ہیں اور سابقہ وزیرتعلیم اعلانیہ حیدرآباد یونیورسٹی کے قیام کی مخالفت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ حیدرآباد یونیورسٹی ان کی لاش پر بنے گی ۔دوسری طرف سندھی دانشوراوراکابرین کہتے ہیں کہ اردوبولنے والے خود کومہاجرنہ کہیں اور سندھی بنیں تو ہم ان سے سوال کرتے ہیں کہ کیاحیدرآباد شہر سندھ کا حصہ نہیں ہے ؟ اس شہر میں یونیورسٹی کے قیام کی مخالفت پر احتجاج کیوں نہیں کیاجاتا؟انہوں نے کہاکہ ایم کیوایم ، سندھ اوراس کے عوام کے حقوق کیلئے جدوجہد کرتی رہی ہے،جب این ایف سی ایوارڈ میں سندھ کو اس کا جائز حصہ نہیں دیا گیا تو ایم کیوایم کے نمائندوں نے اس پر دستخط کرنے سے انکارکردیا تھا اور سندھی بھائیوں کے تحفظات کو مدنظررکھتے ہوئے ایم کیوایم، کالاباغ ڈیم کی تعمیر کے آگے دیوار بن گئی،اس کے باوجود اردوبولنے والوں کو سندھی نہیں سمجھاجاتا۔جناب الطاف حسین نے پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ اورتمام سیاسی ومذہبی جماعتوں کے رہنماؤں کو مخاطب کرتے ہوئے کہاکہ ہمیں اب انڈیا واپس نہیں جانا بلکہ یہیں پر ہی رہنا ہے ، آپ ہمیں مارمار کراورلاشیں گراگرا کرہماری آزمائش کرتے رہیں اور ایک ایک کرکے سب کوماردیں وہ علیحدہ بات ہے لیکن ہم سے اب دوسری ہجرت نہیں ہونے والی ،اب ہمارا جینا اورمرنا اسی دھرتی سے وابستہ ہے ۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں 25 سال سے جلاوطن ہوں، اپنے ساتھیوں اور شہداء کے لواحقین سے دورہوں، میرا بھی دل چاہتا ہے کہ میں اپنے لوگوں کے درمیان آؤں اور شہداء قبرستان جاکر شہداء کے ایصال ثواب کیلئے فاتحہ خوانی کروں۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ ٹیلی ویژن پر آکر بڑے بڑے تجزیہ نگار جھوٹ بولتے ہیں کہ پی ٹی آئی پہلی جماعت ہے جس نے غریبوں کو شعور دیا،کوئی یہ سچا تبصرہ نہیں کرتا کہ ایم کیوایم ،پاکستان کی پہلی جماعت ہے جس نے غریبوں کے حقوق کی بات نہیں کی بلکہ غریب لیکن تعلیم یافتہ رکشہ ڈرائیور،سبزی فروش اور گنے کا رس بیچنے والوں الیکشن میں منتخب کرواکر سنیٹ ،قومی اور صوبائی اسمبلی میں جاگیرداروں، وڈیروں اور بڑے بڑے سرمایہ داروں کے برابربٹھایا۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ حق
پرست شہداء کی قربانیوں کی بدولت آج سندھ اسمبلی سے کراچی ، حیدرآباداور نواب شاہ یونیورسٹی کا بل متفقہ طورپرمنظور کرلیا گیا۔
جناب الطاف حسین نے کہاکہ ہم نے پیپلزپارٹی کاساتھ دیا، زرداری کی حمایت میں کراچی میں ایک ملین کاجلوس نکالالیکن انہی کے دورمیں ایک ایسے متعصب شخص کووزیرداخلہ بنایاگیا جس نے ٹی وی پربیٹھ کر ایم کیوایم کومغلظات دیں،مہاجروں کوبھوکے ننگے کہا،پیپلزامن کمیٹی کے نام سے جرائم پیشہ عناصر پرمشتمل گروپ کواپنے بچے کہا، جنہوں نے مہاجروں کوگاڑیوں سے اتاراتارکرشناختی کارڈچیک کرکے بیدری سے قتل کیا، انہیں اپنے ٹارچرسیلوں میں لیجاکر ذبح کیا، ان کے ساتھ جنسی زیادتی کی اورپھراس کی وڈیوجاری کی۔ کیابھائی بننے کایہ طریقہ ہوتاہے۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ میراجرم یہ ہے کہ میں نے غریب ومتوسط طبقہ کی قیادت کانظریہ پیش کیااورملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ رکشہ والے، گنے کی مشین والے غریب ومتوسط طبقہ کے افرادکواسمبلی میں بھیجا اورجاگیرداروں اوروڈیروں کے برابرمیں بٹھایا۔آج غریب سندھیوں، بلوچوں، پنجابیوں، پختونوں،سرائیکیوں،کشمیریوں، گلگتی بلتستانیوں سمیت تمام زبانیں بولنے والے غریبوں کی واحدجماعت ایم کیوایم ہے۔انہوں نے کہاکہ جاگیردارانہ وڈیرانہ نظام کاخاتمہ صرف اورصرف متحدہ قومی موومنٹ ہی کرسکتی ہے ، اس کے علاوہ کوئی اورجماعت یہ کام نہیں کرسکتی۔ جناب الطاف حسین نے کہاکہ میں نے نئے انتظامی یونٹس قائم کرنے کی بات کی تواس پر طرح طرح کے اعتراضات کئے گئے اورایک طوفان کھڑاکردیاگیاجبکہ سرکاردوعالمؐ کا ارشاد ہے کہ جب شہرکی آبادی بڑھنے لگے تونئے نئے شہرتعمیرکرو۔ پوری دنیا میں بھی یہی اصول ہے۔ دنیاکے تمام ممالک کاجائزہ لیاجائے توہرملک کے قیام کے وقت جتنے صوبے تھے آج وہاں آبادی میں اضافے کے ساتھ کئی صوبے بن چکے ہیں، جہاں چارصوبے تھے وہاں آج چالیس صوبے بن چکے ہیں لیکن پاکستان دنیاکاواحدملک ہے کہ اس کے آج بھی صرف چارصوبے ہیں، پنجاب 10کروڑ کی آبادی والا صوبہ ہے اوراسے صرف ایک چیف منسٹرچلارہاہے، سندھ پانچ کروڑسے زائد کی آبادی والاصوبہ ہے ، اس کا ایک چیف منسٹر چلا رہاہے۔وقت آگیاہے کہ بڑھتی ہوئی آبادی کے پیش نظرملک کانظم ونسق بہتراندازمیں چلانے کیلئے پورے ملک میں انتظامی بنیادوں پر نئے صوبے قائم کئے جائیں ۔ انہوں نے کہاکہ ماضی میں بھی ایم کیوایم کے رہنماؤں،منتخب نمائندوں اورکارکنوں کوقتل کیاجاتارہااورموجودہ دورحکومت میں بھی یہ سلسلہ جاری ہے ۔لاہورمیں ایم کیوایم کی رکن قومی اسمبلی محترمہ طاہرہ آصف کوجون کے مہینے میں شہیدکردیاگیاجن کے قاتل آج تک نہیں پکڑے گئے ، گزشتہ ہفتہ ایم کیویم کی رابطہ کمیٹی کے معاون غازی صلاح الدین کے بھائی کوحیدرآبادمیں شہیدکردیاگیا۔ انہوں نے محترمہ طاہرہ آصف شہیدکے لواحقین اور غازی صلاح الدین سے تعزیت کی ۔ جناب الطا ف حسین نے کراچی ، حیدرآباداورنوابشاہ میں یونیورسٹی کے قیام کابل سندھ اسمبلی سے منظورہونے پر گورنرسندھ ڈاکٹرعشرت العباد، وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ ، سابق صدرآصف زرداری ،بحریہ ٹاؤن کے سربراہ ملک ریاض اورتمام ارکان اسمبلی کاشکریہ اداکیا۔ انہوں نے کہاکہ ضروری نہیں کہ اتحاد ہی کیاجائے ، ہم بھا ئی بھائی بنکربھی رہ سکتے۔انہوں نے سندھی ارکان اسمبلی سے کہاکہ وہ سندھی بن کرنہ سوچیں،اسی طرح مہاجر ارکان مہاجربن کرنہ سوچیں بلکہ سندھی بنکرسوچیں۔انہوں نے یونیورسٹی کے قیام کابل منظورہونے پر حیدرآبادکے عوام کوخصوصی مبارکباد پیش کی اور کہا کہ جویونیورسٹی بن رہی ہے اس میں الطاف حسین ،ڈاکٹرخالدمقبول صدیقی، ڈاکٹرفاروق ستاریازونل کمیٹی کے ارکان کے رشتہ داروں کی بنیادپریاسفارش پر داخلے نہیں ہوں گے بلکہ داخلے صرف اورصرف میرٹ پرہوں گے۔انہوں نے وزیراعلیٰ سندھ سیدقائم علی شاہ سے مطالبہ کیاکہ کراچی میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج کویونیورسٹی کادیدیاجائے۔جناب الطاف حسین نے کہاکہ ایم کیوایم پاکستان کی تیسری بڑی جماعت ہے جس کے قومی اسمبلی میں 25، سینیٹ میں 7 ، سندھ اسمبلی میں 51 اورآزادکشمیراسمبلی میں دوارکان ہیں لیکن پی ٹی وی ملک کی اتنی بڑی جماعت کوکوریج نہیں دیتا،اس تعصب کاخاتمہ کیاجائے اورایم کیوایم کوبھی پی ٹی وی پر اس کاجائزحصہ دیاجائے۔ انہوں نے کہاکہ تحریک انصاف کے سربراہ عمر ان خان نے سول نافرمانی کااعلان کیااورلوگوں سے بجلی اور گیس کے بل ادانہ کرنے کی اپیل کی توکسی کواعتراض نہیں ہوا۔ کہیں ایسانہ کہ ہم بھی یہ کہہ دیں کہ لوگ ٹی وی لائسنس کی فیس ادانہ کریں توپھراس پر اعتراض نہیں ہوناچاہیے۔ہم بھی اپنے لوگوں سے کہیں گے کہ ہرجلسے میں ٹی وی کے بل لاکرجلائیں اوراس طرح اپنے دل کی جلن پر پانی ڈالیں۔جناب الطا ف حسین نے رابطہ کمیٹی کوہدایت کی کہ وہ جلدسے جلد 20سے 25سال تک کے نوجوانوں کاکنونشن جناح گراؤنڈمیں منعقدکریں تاکہ میں انہیں بتاؤں کہ جب آپ نوکری کیلئے جائیں گے توآپ سے بھی آپ کے باپ داداکی جائے پیدائش پوچھی جائے گی۔جناب الطاف حسین نے عوام سے کہاکہ وہ ایم کیو ایم میں گروپ بندی کے پروپیگنڈوں میں نہ آئیں، ایم کیوایم یاتورہے گی یا ختم ہوجائے گی لیکن اس میں گروپ نہیں بنیں گے اورجوگروپ بندی کی کوشش کریں گے ان پر اللہ تعالیٰ کاعذاب نازل ہوگا۔ انہوں نے حاظرین کوخوشخبری سناتے ہوئے کہاکہ محمودآبادسے سینکڑوں پنجابیوں اورپختونوں کاایک بڑا گروپ جلدہی ایم کیوایم میں شامل ہونے والاہے ۔ جناب الطاف حسین نے تحریک کے تمام شہداء کوسیلوٹ پیش کیااوردعاکی کہ اللہ تعالیٰ شہیدوں کے درجات بلندکرے۔ انہوں نے دعاکی کہ اللہ تعالیٰ سب کی جائز مرادوں کوپوراکرے،بیماروں کوصحتیابی دے اورملک میں غریب ومتوسط طبقہ کاانقلاب برپاکرے ۔ 
تصاویر
English Viewers
YoumeShuhadaMQM#
وڈیو حصہ ایک
وڈیو حصہ دوئم
وڈیو




12/2/2016 1:48:15 PM